
علامہ اقبال کے ایک فارسی قطعہ کا منظوم اردو ترجمہلفظی اردو ترجمہ : اویس جعفری
منظوم اردو ترجمہ : احمد علی برقی اعظمی
شبے پیشِ خد ا بگریستم زا ر
مسلماناں چرا زارند و خوارم
ند ا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندا رند
لغت
بگریستم زار = میں زار زار رویا ، بڑے عجز کے ساتھ آہ و زاری کی۔ چرا = کیوں۔ زارند = کمزور ہیں، ناتواں، رسوا و بد نام ہیں۔ نمی دانی = تو نہیں جانتا۔ محبوبے = کوئی محبوب۔ ندارند = نہیں رکھتے۔
ایک رات میں نے مناجات کی اور بارگاہِ اِلہٰی میں زار و قطار رویا اور یہ سوال کیا کہ یا اللہ مسلماں اتنے زار و نزار اور عاجز و خوار، ذلیل و رسوا کیوں ہو رہے ہیں۔ نِدا آئی کہ تو نہیں جانتا کہ اِن لو گوں کے پاس دل تو ہے، مگر اس دل میں بسنے والا کوئی محبوب نہیں۔ اِن لو گوں کے دل محبوبِ حقیقی کی یاد سے غافل ہیں، وہ جس مقصد کے لِیے پیدا کِیے گئے ہیں وہ فراموش کر چکے ہیں۔منظوم اردو ترجمہ: فارسی قطعہ علامہ اقبال
ایک شب پیشِ خدا روتے ہوئے زار و قطار
میں نے پوچھا قومِ مسلم کا ہے کیوں یہ حالِ زار
یہ ندا آئی نہیں ہے کیا تجھے معلوم یہ
اِن کا دل محبوب سے ان کے نہیں ہے ہمکنار
تو خود فرما مرا این بہ کہ آں بہ ۔۔۔۔ واہبیشک عشق محبوب کی شدت کا تقاضہ یہی ہے ۔کہ مکتب و کارواں سے بے نیاز ہوکر کوچہ محبوب کی راہ لی جاءے
From: Owais Jafrey <jafr...@gmail.com>
To: Aligarh_...@yahoogroups.com; Owais Jafrey <jafr...@gmail.com>
Sent: Monday, September 24, 2012 9:38 PM
Subject: [Aligarh Urdu Club] Re: عشقِ رسول صلیٰ اللہ علیہِ وسلم اور اقبال: : : : : :: : : : : : :ارمغانِ حجاز : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : لالہ ِ طور
مر ا تنہا ئی و آ ہ و فغا ں بہ
سوئے یثرب سفر بے کارواں بہ
کجا مکتب، کجا میخانہ ءِ شوق
تو خود فرما مرا اِیں بہ کہ آن بہ
لغتمرا = مجھ کو، میرے لئیے۔ بہ = بہتر، اچھا۔ سوے یثرب = مدینہ منورہ کی جانب۔ میخانہ ءِ شوق = عشق کا میکدہ۔ تو خود فرما = آپ ہی فرمائیے۔
مجھے خلوت و تنہائی چاہیے، اور آہ و فغاں، نالہ وفریاد ہی میرے لئیے مناسب ہے، مدینہ منورہ کی سمت بغیر کسی کارواں کے ہی سفر کرنا بہتر ہے۔ کہاں مکتب و مدرسہ اور میکدہ ءِ شوق اور آپ کے عشق کا خمار۔ آپ خود ہی فرما دیجے کہ ان دونوں میں میرے لئیے کون سی چیز بہترہے، مدرسہ ءِ دنیا یا میخانہ ِ محبت۔
گہے ا فتم گہے مستا نہ خیز م
چہ خوں بے تیغ و شمشیرے بریزم
نگا ہے ا لتفا تے بر سرِ با م
کہ من با عصر خویش اندر ستیزم
لغتگہے = کبھی۔ خیزم = اْٹھتا ہوں۔ بریزم = میں گرتا ہوں۔ بر لبِ بام = ،چھت کے کنارے آکر۔ با عصرِ خویش = اپنے زمانہ سے۔ اندر ستیزم = جنگ کر رہا ہوں، حالتِ جنگ میں ہوں۔
مِن کبھی گِر پڑتا وں ، اور کبھی مستانہ وار اْٹھ کھڑا ہو تا ہوں، تاکہ تلوار سے خوں ریزی کروں،یہ کیسا خون ہے جو میں تلوارکے بغیر بہا رہا ہوں، میں اہلِ زمانہ کے خلاف جہاد کررہا ہوں۔ یا رسول اللہ ، اللہ کے واسطے لبِ بام آکر ایک نظر لطف و کرم سے نواز دیجے، التفات کیجے اور دستگیری فرمائیے۔ کیونکہ میں اپنے زمانہ کے خلاف بر سرِپیکار ہوں،جنگ کر رہا ہوں۔
شبے پیشِ خد ا بگریستم زا رمسلماناں چرا زارند و خوارم
ند ا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندا رندلغتبگریستم زار = میں زار زار رویا ، بڑے عجز کے ساتھ آہ و زاری کی۔ چرا = کیوں۔ زارند = کمزور ہیں، ناتواں، رسوا و بد نام ہیں۔ نمی دانی = تو نہیں جانتا۔ محبوبے = کوئی محبوب۔ ندارند = نہیں رکھتے۔
ایک رات میں نے مناجات کی اور بارگاہِ اِلہٰی میں زار و قطار رویا اور یہ سوال کیا کہ یا اللہ مسلماں اتنے زار و نزار اور عاجز و خوار، ذلیل و رسوا کیوں ہو رہے ہیں۔ نِدا آئی کہ تو نہیں جانتا کہ اِن لو گوں کے پاس دل تو ہے، مگر اس دل میں بسنے والا کوئی محبوب نہیں۔ اِن لو گوں کے دل محبوبِ حقیقی کی یاد سے غافل ہیں، وہ جس مقصد کے لِیے پیدا کِیے گئے ہیں وہ فراموش کر چکے ہیں۔
بآں بالے کہ بخشیدی پرید مبسوزِ نغمہ ہا ئے خود تپیدممسلمانےکہ مرگ ازوے بلرزدجہا ں گرید م و اورا ند ید ملغتبہ = ساتھ، سے۔ آں = اْس ۔ = با ل = پر، بازو۔ بَآں بالے = اْن پروں سے۔ بخشیدی = جو آپ نے بخشے ہیں، عطاکئیے ہیں۔ پریدم = میں اْڑتا رہا۔ سوز = گرمی ، حرارت۔ بسوزِ نغمہ ہائے خود = اپنے نغموں کے سوز سے، اپنے اشعارکی گرمی اور حرارت سے۔ تپیدم = ممیں تڑپتا رہا، میں مضطرب رہا۔ ازوے = اس سے، جس سے۔ بلرزد = کانپے، لرزے، خوف کھائے۔ گردیدم = مِین پھرا، گھوما، چکر لگایا۔ سارے جہاں میں تلاش کیا۔
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہِ وسلم، آپ نے جو بال وپر، جو بازو مجھے عطا فرما ئے تھے، اْ ن ہی کے ذریعہ مِین نے پرواز کی۔ اپنے پر سوز نغموں اور حرارت سے لبریز اشعار سے خود ہی تڑپتا رہا۔ آیسا مسلمان کہ موت بھی اس کے مقابل ہو تو لرز جائے، میں نے ساری دنیا چھان ڈالی، سارے جہان میں تلاش کیا، مگر ایسے مسلمان کو کہیں نہ پایا۔
ہنوز ایں چرخِ نیلی کج خرام استہنوز ایں کارواں دور از مقام است
زِ کا رِ بے نظامِ ا و چہ گو یم
تو می دانی کہ ملت بے امام است
لغتچرخ ِ نیلی = نیلے رنگ کا آسمان۔ چرخ = آسمان۔ کج =، ٹیڑھا۔ خرام = چال ۔ کج خرام = ٹیڑھی چال چلنے والا۔ کار = کام، معاملات۔ کارے بے نظام = اس کے بےنظام کام سے، اس کی غیر منظم زندگی سے۔ تو دانی = تو جانتا ہے، تجھے معلوم ہے، دانستن = جاننا۔ ملّت = ملّتِ اسلامیہ۔
یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہِ وسلم، یہ ٹیڑھی چال چلنے والا آسمان ابھی تک ہماری مخالفت پر اَڑا ہوا ہے، ابھی تک اْمّتِ مسلمہ اپنی منزل سے دور ہے، مِیں اس کاروان ِ ملّت کی ابتری اور زبوں حالی اور بد نظمی کا آپ سے کیا حال بیان کروں، ہمارے آقا آپ کو تو خود معلوم ہے کی اس قوم کا کو ئی قائد اورراہنما نہیں ہے۔
شبِ ہندی غلا ما ں را سحر نیستبا یں خا ک آفتا بے را گزر نیست
بما کن غوشہ ءِ چشمے کہ درشرق
مسلما نے ز ما بیچا رہ تر نیست
لغتبایں خاک = اس خاک پر، اس سر زمیں میں۔ آفتابے = کسی سورج کا۔ بما= ہم پر، ہماری طرف۔ گوشہ ءِ چشمے = ایک نظرِ کرم، گوشہ = کونہ، چشم = آنکھ ۔۔ زِما = ہم سے، ہم ہندی مسلمانوں سے۔ بیچارہ تر = زیادہ بے بس ، زیادہ مجبور۔
ہدوستان کے غلام مسلمانوں کی رات ختم ہو کر صبح طلوع ہونے کے آثارنظر نہیں آتے۔ اِس سر زمین پر سورج کا بھی گزر نہیں معلوم ہو تا۔ یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہِ وسلم ہمارے حالِ زار پر ذرا نظر کرم فرمائیے کیونکہ مشرق کی اقوام میں ہم ہندی مسلمانوں سے زیادہ بے بس اور بے چارہ دوسری کو ئی قوم نہیں۔
--مسلماں آں فقیرے کج کلاہےرمید از سینہ ءِ اْو سوزِ آہے
د لش نا لد، چرا نالد؟ ند ا ند
نگاہے یا رسول اللہ، نگا ہے
لغتفقیر = درویش، کج = ٹیڑھی۔ فقیرِ کج کلاہے =سر پر ٹیڑھی ٹوپی پہننے والا فقیر، ایسا فقیر یا درویش جس کی فقیری میں شاہانہ تمکنت پائی جائے، فقیری میں بادشاہی کرنے والا فقیر۔ رمید = رم کر گیا، بھاگ گیا، نکل گیا۔ رمیدن = بھاگ جانا، نکل جانا۔ نالد= فریاد کرتا ہے، روتا ہے۔ نالیدن = فریاد کرنا، رونا، نالہ کرنا۔ چرا = کیوں۔ نداند = نہیں جانتا۔ دانستن = جاننا۔ نگاہے = ایک کرم کی نگاہ، ایک نظرِ ِ التفات۔
مسلمان وہ فقیر ہے، جس میں اب بھی کج کلاہی کی آن بان باقی ہے، وہ اب بھی شاہانہ تمکنت رکھتا ہے۔ اس کے سینے سے اب بھی عشق و محبت کی آہ نکلتی ہے۔ اس کا دِل رو رہا ہے، کیوں رورہا ہے اسے مطلق معلوم نہیں۔ یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم، اس پر ایک نگاہِ کرم اور نظرِ التفات ڈالیے تاکہ اس کے دل کی گرہ کھل جائے۔ اگر حضور انور کی نطرِ کرم ہو جائے تو آج بھی بے نوا مسلمان "سوزِ آہ" اور عشق کی بدولت دین و دنا سب کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ سورۃ الرعد کی آیت نمبر ۲۹ میں ارشاد ہوا۔۔۔ جو یقین لائے اور عملِ صالح کِیے، ان کے لئیے دونوں جہانوں میں خوش حالی اور اچھا ٹھکانہ ہے۔
حکیما ں را بہا کمتر نہا د ندبنا داں جلوہ ءِ مستانہ دا د ند
چہ خوش بختےچہ خرّم روزگارے
د رِسلطاں بہ درویشے کشادند
لغتبہا = قیمت، قدرو منزلت۔ کمتر= بہت کم۔ نہادند = لگائی، نہادن = رکھنا،متعین کرنا۔ جلوہ = تجلی، روشنی، نور، جھلک۔ جلوہ ءِ مستانہ= وہ جلوہ جو دیکھنے والے کو مست و بےخود کردے، جس میں مستی کی کیفیت پائی جائے۔ دادن = دینا، دادند = انھوں نے دیا، کارکنانِ قضا و قدر نے عطا کیا۔ بہ درویش = ایک درویش کو، ایک فقیر کو۔ کشادن = کھولنا، کشادند = انھوں نے کھولا، در کشادن =، دروازہ کھولنا، اندر آنے کی اجازت دینا، اِذنِ باریابی بخشنا۔
کار کنانِ قضا و قدر نےداناوں کی بہت کم قیمت لگائی یا حکیموں و دانشمندوں کو کو ئی حیثیت نہیں دی، اور ایک نادان کے حصہ میں جلوہءِ مستانہ آگیا۔ کیسی خوش قسمتی کی بات ہے اور کیسا مبارک وقت ہے کہ ایک فقیرِ بے نوا کو شہنشاہ [نبیِ کریم صلیٰ اللہ علیہِ وسلم] کے آستانے پر حاضری میسر آئی۔
ممکن ہے کہ اشارہ اس طرف ہو کہ حکیم و فلسفی ہمیشہ ظن و تخمین میں مبتلا رہتے ہیں، جیسا کہ سورہ النجم کی آیت ۲۸ میں ارشاد ہے: وَ اِنَّ الَّظَنَ لَا یْغنیِ مِنَ الحَقَِّ شَیئاً = "اور بے شک حق کی بات میں ظن کچھ بھی کام نہ آئے"۔ مانگنے والا دانا ہو یا نادان، جو کچھ مانگتا ہے اللہ دیتا ہے۔ سورۃ ابراہیم آیت ۳۴ میں ارشادہوا : وَ ا تٰکْم مِِّن کّْلِ مَا سَاَلتْمْوہْ۔ = "اور جو جو چیز تم نے مانگی، تم کو ہر چیز عطا کی"۔ یہ کس قدر خوش نصیبی کی بات ہے کہ سلطان [ اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ] کے در پر ایک فقیر کو رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
بیا ا ے ہم نفس با ہم بنا لیممن و تو کشتہِ شا نِ جما لیم
دو حرفے بر مرا دِ دل بگو یم
بپائے خواجہ چشماں را بما لیم
لغت
نالہ = فریاد، آہ وزاری۔ بنالیم = ہم روئیں، آہ و فریاد کریں۔ کشتہ = شکار، مارے ہوئے، محبت میں گرفتا ر، قتیل، فدائی، فریفتہ۔ شانِ جمال = حسن و جمال، خوبصورتی۔ ایم = ہم ہیں۔ بگو ئیم = ہم کہیں۔ بپائے = پیروں پر، قدموں پر۔ آقا = آقا ئے دو جہاں، نبی کریم صلیٰ اللہ علیہِ وسلم۔
اے میرے ہمدم اے میرے دوست،آ ہم دونوں مل کر آہ و فریاد کریں، روئیں۔ مین اور تو دونوں حضور کے جمالِ دِل ارا کے شہید ہیں۔ آ، دِل کی آرزو کے مطابق کچھ باتیں کر لیں، اور اپنے آقا کے قدموں پرفرطِ عقیدت اور شدتِ عشق و محبت سے اپنی آنکھیں ملیں اور دلی کی حسرتیں نکالیں۔
غمِ را ہی نشا ط آمیز تر کن
فغانش را جنوں انگیز تر کن
بگیر اے سارباں راہِ درازے
مرا سوزِ جد ا ئی تیز تر کن
لغت
غمِ راہی = مسافر کا غم، یعنی میرا دردِ محبت۔ غم = عشق، محبت، ہجر و فراق کا غم، درد۔ راہی = راہرو، مسافر، اپنی ذات کی طرف اشارہ ے۔ نشاط آمیز تر = زیادہ نشاط آمیز، زیادہ خوشی وشادمانی سے بھر پور۔ آمیز = مِلا ہوا۔ فغانش = اس کی فریاد۔ جنوں انگیز= زیادہ جنوں پیدا کرنے والی، زیادہ دیوانہ بنانے والی۔ جنوں = وحشت، سودا، محبت کا دیوانگی کی حد تک بڑھا ہوا ہونا۔ انگیز = پیدا کرنا، ابھارنا، اکسانا۔ بگیر = تو اختیار کر،پکڑ لے۔
اے ساربان ، مسافر کے دل میں جو سوزو غم ہے، اس میں اور زیادہ خوشی اور سوزِ غم بھردے۔ اس کے نالہ و فغان کو اور زیادہ جنوں میں ترقی کا سبسب بنا۔ اے ساربان، حرم کی جانب اور محبوب کی منزل کی سمت اور لمبےراستہ سے ہو کر چل، میرے جدائی کے سوزو تپش کو اور زیادہ بھڑکا۔
کارواں کی باگ ڈور ساربان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور منزل پر جلد پہنچنے کی توقعات اس کی ذات سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی کا محبوب رخصت ہو رہا ہو تو اس سے کہا جاتا ہے کہ " اے سارباں آہستہ راں کارام جانم می رود" یعنی اے سارباں ذرا آہستہ چل، میرا آرامِ جان رخصت ہو رہا ہے، دم بھر اسے اور دیکھ لوں۔ لیکن اقبال سفر کو ایک نئے زاویہ سے دیکھتے ہیں، وہ سفر کو تیزی کے کٹ جانے کےمتمنی نہیں ہیں۔ دوسرے لوگ منزل کو قریب آتے دیکھتے ہیں تو ان کی آتشِ شوق اور تیز ہو جاتی ہے،لیکن اقبال اس کے با لکل برعکس بات کر تے ہیں۔ وہ سارباں سے ایسی راہ ا ختیار کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں جو دور تر ہو۔ ظاہر ہے کہ جب سارباں راہِ دراز اختیار کریگا، تو راہرو منزلِ مقصود پر دیر سے پہنچے گا اور منزل پر پہنچنے کا شوق بھی تیز تر ہوگا۔۔ اس شوق کی تیزی کو اقبال نے شوقِ جدائی سے تعبیر کیاہے۔ یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے، لیکن اقبال نے اس نکتہ کو اپنے فلسفہِ حیات سے وابستہ کیا ہے ۔ وہ زندگی کو ایک سفر سمجھتے ہیں جو کہیں ختم نہیں ہوتا۔ اقبال کے نزدیک سفرِ شوق کی یہ تیزی اور منزل پر پہنچنے کی انتہائی بیتابی منزل پر پہنچ جانے سے کہیں زیادہ اہم ہے، تا کہ کاروانِ حیات چلتا رہے اور زندگی کی سر گرمیا ں جاری اور تازہ رہیں۔ غرض اقبال کا مقصود زندگی کی تگ و دو کوجاری رکھنا ہے۔ آپ ے یہ شعر تو سنا ہی ہوگا۔تو ا سے پیما نہِ امروز و فرد ا سے نہ نا پ
جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زند گیگہے شعرِ عراقی را بخوانم
گہے جامی زند آتش بجا نم
ندانم گر چہ آہنگِ عرب را
شریکِ نغمہ ہائے ساربا نملغت
شعرِ عراقی = فارسی کے مشہور شاعر، فخر الد ین عراقی کے اشعار جن کا ۷۶۶ھ ، ۱۳۶۴ میں انتقال ہوا ۔ بخوانم = پڑھتا ہوں۔ گہے = کبھی۔ جامی = فارسی کے مشہور شاعر، مولانا نور الدین عبد الرحمٰن جامی، جن کا انتقال ۸۹۸ ھ ۱۴۹۲ میں ہوا۔ آتش بجانم= مجھے آتش بجاں کر دیتا ہے، میری روح میں آگ لگا دیتا ہے۔ آ ہنگِ عرب = عربی لب و لہجہ۔ ساربان = شتر بان، وہ شخص جو اونٹوں کو ہانکتا ہوا حدی یا نغمے گا تا ہے اور کارواں کے آگے آگے ہوتا ہے۔
میں کبھی عراقی کے عاشقانہ اشعار پڑھتا ہوں، اور کبھی جامی کا کلام میری روح میں محبت کی آگ بھڑ کا دیتا ہے۔ اگر چہ میں عرب کے لب و لہجہ اور آہنگ سے واقف نہیں ہوں ، مگر پھر بھی ساربان کے پْر شوق نغموں میں شریک ہوں۔ یہ اس کاراونِ شوق کا ذکر ہے جو حَرم کی طرف رواں دواں ہے۔ مشتاقِ دید ہے اور جس کے لب پر نغمہ ہائے عشق و محبت ہیں۔
میں سابقہ دو قطعات میں "چہ خوش صحرا "کی وضاحت کرنا بھول گیا تھا۔ اِس سے اقبال کی مراد ریگ زارِ عرب کی وہ وسعت و پہنائی ہے جس سےگزرکر کا روانِ عشّاق مکّہ معظمہ اور "آں خنک شہرے" اس ٹھنڈے اور خوشگوارشہریعنی مدینۃ النّبی کاراستہ اختیار کرتے ہیں۔
آج کا قطعہ ملاحظہ ہو۔امیرِ کارواں، آں آعجمی کیست
سرودِ اْ و بہ آ ہنگِ عرب نیست
زند آ ں نغمہ کز سیرا بی ِ اْ و
خنک دل در بیابانے تواں زیست
لغت
آعجمی = عجمی، عجم کا رہنے والا، غیر عرب۔ کیست = کون ہے۔ سرود = نغمہ، گیت، راگ، موسیقی۔ اْو = اسکا۔ بہ = مطابق۔ آہنگِ عرب = عرب لہجے کے مطابق۔ زند = گاتا ہے، راگ اَلاپتا ہے، نغمہ سرا ہوتا ہے۔ کہ از = کہ اس سے۔ سیرابی = شادابی، تازگی، شگفتگی۔ خنک دل = خوش دل، خوش دلی سے،ٹھنڈے دِل کے ساتھ۔، ایک خوشگوار کیفیت کے ساتھ۔۔ در = اندر۔ بیابانے = کسی بیابان یا صحرا یا غیر آباد جگہ میں۔ تواں زیست = زندہ رہا جاسکتا ہے، زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
اےسالارِ کارواں، [یہ خطاب نبیِ کریم صلیٰ اللہ علیہِ وسلم کی ذاتِ اقدس سے ہے]۔ یہ عجمی کون شخص ہے۔ [یہاں اقبال اپنی ذات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں]اِس کا لب و لہجہ اور آہنگ عرب جیسا نہیں ہےلیکن یہ عجمی ہونے کے با وجود بھی ایسے ترو تازہ اور شاداب و کیفیت آ گیں نغمے گا رہا ہےکہ ایک ویران و بیابان مقام میں بھی اس کے نغموں سے دل کو زندگی اور طراوت حاصل ہوتی ہے، ہورہی ہے۔
چہ خوش صحرا کہ شامش صبح خند است
شبش کو تا ہ و ر و زِ ا و بلند ا ست
قد م ا ے ر ا ہر و آ ہستہ تر نہ
چو ما ہر ذ رّہءِ اْ و د ر د مند ا ست
یہ قطعہ کل کے قطعہ سے پیوستہ ہے۔لغت
شامش = اس کی شام۔ صبح خند = صبح کا مذاق اْڑانے والی، صبح کی طرح مسکرانے والی،رشکِ سحر۔ شبش = اس کی رات۔ روزِاْو = اس کا دن۔ بلند = طویل، دراز، لمبا۔ نہ = تو رکھ، نہادن بمعنی رکھنا۔ چو ما = ہماری طرح، ہمارے جیسا۔ ہر ذرہءِ اْو = اس کا ہر ذرّہ۔
کس قدر خوشگوار اور اچھا ہے وہ صحرا کہ جس کی شام صبح پر ہنس رہی ہے یا صبح کی طرح مسکرا رہی ہے، جس کی رات چھوٹی اور جس کا دن لمبا ہے۔ اے مسافر، قدم ذرا آہستہ رکھ، کیونکہ اس صحرا کا ہر ذرہ بھی ہماری طرح درد مند ہے۔
چہ خوش صحرا کہ دروے کارواں ہا
د رو دِ ے خو ا ند و محمل بر ا ند
بہ ریگِ گر مِ ا و آ و ر سجو د ے
جبیں را سو ز تا د ا غے بما ند
لغت
دروے = اس میں
درودے = درودشریف، سلام، دعا، رسولِ اکرم کے حق میں رحمت کی دعا
خواند = پڑھتے ہیں
محمل = اونٹنی،سواری
براند = چلاتاہے، ہاںکتا ہے
بہ ریگِ گرمِ او = اس کی گرم ریت پر
آور = لا، کر
داغے = سجدےکانشان
وہ صحرا کیا ہی خوب اور اچھا ہے ، جس میں قافلے درود پڑھتے ہوے اپنی اونٹنیوں کو ہانکتے جاتے ہیں، تو اس کی گرم ریت پر سجدہ کر اور اپنی پیشانی کو جلا تاکہ اس پر سجدے کا نشان باقی رہ جائے۔
۔۔۔۔[امید ہے کہ انشا اللہ لغت کی شمولیت اشعار کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو گی]۔
اویس جعفری
چہ پرسی ا ز مقا ما تِ نوا یم
ند یما ں کم شنا سد از کجا یم
کشادم رختِ خودرااندریں دشت
کہ ا ند ر خلو تش تنہا سرا یم
کیا پوچھتے ہو کہ یرے نغموں اور نالوں کا مقام کیا ہے۔ دوست یہ بھی نہیں سمجھتے کہ میں کہاں سے آیا ہوں، یعنی میرا اصل مرکز کیا ہے۔ اس صحرا میں اس لئیے میں نے ڈیرا جمایا ہےکہ میں یہاں خلوت میں بیٹھ کر اکیلا نغمہ سرائی کیا کروں۔
ارمغانِ حجاز۔۔ اقبال کی آخری تصنیف ہے، جو ۱۹۳۸ کے اواخر میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں جو رباعیات اور قطعات درج ہیں ان کا عنوان ہے "حضور رسالت" ۔ان میں سے یہ قطعہ ملاحظہ ہوجو اقبال کے زیارتِ مدینہ کا آئینہ دار ہے۔
بہ ا ین پیری رہِ یثرب گر فتم
نو ا خو ا ں ا ز سرورِ عا شقا نہ
چوں آن مرغے کہ درصحراسرِشام
کشا ید پر بہ فکرِ آ شیا نہ
اس بڑھاپے اورضعف کے عالم میں میں نے یثرب کا سفر اختیار کیا ہے۔عاشقانہ نغمے گاتا ہوا گرم رفتا ر ہوں۔ میری مثال اس پرندہ کی طرح ہے جو شام کے وقت صحرا میں اپنے گھونسلے پر اترنے کے لئیے پر کھولتا ہے۔
اقبال اور عشقِ رسول صلیٰ اللہ علیہِ وسلم
اقبال سراپا محبتِ نبی سے سرشار تھے، اس لئیے عقیدت و محبت، نذر و نیاز، شوقِ دید ِ یثرب، دعا و مناجات اور ذوق و شوق کے مضامین کلام میں کثرت سے جا بجا نظر آتے ہیں۔ رسول ِ کریم صلیٰ اللہ وسلم کی ذاتِ اقدس موجبِ تخلیقِ کائنات بھی ہے اور فریاد رسِ عالم بھی۔ اس لئیے ہم دیکھتے ہیں کہ اقبال جب ملت کی زبوں حالی کی فریاد دربارِ نبوی میں پیش کرتے ہیں، تو انھیں سے دستگیری اور چارہ گری کی درخواست بھی کرتے ہیں۔ اقبال کو حجازِ مقدس اور روضہ ءِ اطہر کی زیارت کا بڑا اشتیاق تھا، ان کے منتخب اشعار ان کی اس دلی کیفیت کے ترجمان بھی ہیں اور حضور اقدس سے ان کی عقیدت ومحبت کی تشریح بھی کرتے ہیں۔ ترانہءِ ملی٘ میں کہتے ہیں
سالا رِ کا روا ں ہے میرِ حجاز ا پنا
اس نام سے ہے باقی آرام ِ جاں ہمارا
ہَوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبال
ا ڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے
شفا خانہ ءِ حجاز کی تعمیر کا حال سن کر یہ شعر کہا
اوروں کو دیں حضور یہ پیغامِ زند گی
میں موت ڈہونڈ تا ہوں زمینِ حجاز میں
اور یہ شعر
خاک ہثرب از دو عالم خوش تر است
اے خنک شہرے کہ آ نجا د لبر است
میرے لئیے مد ینۃ النبی کی خاک د ونوں عالم سےزیادہ بہتر اورعزیز ہے، اس لئیے کہ اس شہر میں میرے محبوب و دلبر جلوہ فرما ہیں ۔
جاری ہے
اویس جعفری
دلدادگانِ اقبال ۔۔۔ السّلام علیکم
لالہ طور کے ۱۶۳قطعات معہ ترجمہ آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ اب میں اقبال کے کچھ اشعار عشقِ رسول صلیٰ اللہ علیہِ وسلم کے ضمن میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، مگر اس سے قبل مولانا روم کے وہ چند اشعار ملاحظہ فرما ئیے جو شاعرِ مشرق نے "اسرار خودی" کی پیشانی پر تحریر کِیے ہیں۔
د ی شیخ با چرا غ ہم گشت گر دِ شہر
کز دام و دد ملولم ا انسانم آ رزو ست
زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گر فت
شیرِ خد ا و رستمِ دستا نم آرز و ست
گفتم کہ یا فت می نشو د جْستہ ایم ما
گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزوست
کل شیخ چرا غ لیکر شہر میں گھوم رہا تھا [اورکہتا تھا] کہ میں درندوں اور چوپایوں سے سخت نا لاں ہوں اور انسان دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں اور ان کے ساتھیوں سے بیزار ہو چکا ہوں۔ مِیں ایسے لوگوں کی تلاش میں ہوں جو شیرِ خدا ہوں اور رستم کی سی قوت رکھتے ہوں،[ یہاں روحانی اورجسمانی دونوں قوتیں مراد ہیں۔] میں نے کہا کہ ایسے لوگ نایاب ہیں ، ہم بہت تلاش کر چکے ہیں، اس نے کہا جو نہیں ملتا میں اسی کی تلاش میں ہوں۔ غالباً اشارہ یہ ہے کہ مثنوی "اسرار خودی" کا مطالعہ شیرِ خدا اور رستم جیسے انسان پیدا کرسکیگا"۔
لا لہ طور کا آخری قطعہ
قطعہ ۱۶۳
گریزآخرزِعقل ذ و فسنوں کرد
دلِ خود کام را ازعشق خوں کرد
ز اقبال ِ فلک پیما چہ پر سی
حکیمِ نکتہ دانِ ما جنوں کرد
با آلا خر اقبال نے عقلِ چالاک کو چھوڑ دیا، اور اپنے خود سر دل کو عشق سے رام کر لیا۔ اقبالِ فلک پیما کے بارے میں کیا پوچھتا ہے، ہمارے اس نکتہ داں فلسفی نے ، عقل کی نہیں بلکہ جنوں کی باتیں کی ہیں۔
قطعہ ۱۶۲
مرا ذوقِ سخن خوں در جگر کرد
غبا رِ را ہ را مشتِ شرر کرد
بگفتا رِ محبت لب کشود م
بیاں ایں راز را پوشیدہ تر کرد
ذوقِ سخن نے میرے جگر کو خوں کردیا ہے۔جو غبارِ راہ تھا اس نے میری خاک کو شرر بنادیا ہے۔محبت کو بیان کرنے کے لئیے میں نے اپنے لب کھولے، مگر بیان نے اس راز کو اور پوشیدہ کر دیا۔
قطعہ ۱۶۱
ہنوز از بندِ آب وگِل نہ رستی
تو گوئی رومی و افغانیم من
من اول آدمِ بے رنگ و بویم
ازان پس حندی و تو را نیم من
تو ابھی تک آب و گِل کے بندھن سے آزاد نہیں ہو سکا ہے، تو کہتا ہے کہ میں "رومی" ہوں میں "افغانی" ہوں۔ سب سے پہلے تو میں بے رنگو بو اور صرف "انسان" ہوں اور اس کے بعد ہندی یا تورانی ہوں۔
قطعہ۱۶۰
بہرد ل عشق رنگِ تا زہ بر کرد
گہے با سنگ گہ با شیشہ سر کرد
ترا ا زخو د ربود و چشمِ تر د ا د
مرا با خو یشتن نزد یک تر کرد
ہر دل میں عشق نئے رنگ سے ظاہر ہوتا ہے، کبھی یہ پتھر سے موافقت کر تا ہے اور کبھی شیشے سے۔ تجھے اس نے اپنےآپ کو بھلا دیا اور رونا سکھا دیا، اور مجھے اس نے اپنے آپ سے نزدیک تر کر دیا۔
قطعہ ۱۵۹
بحرف اند ر نگیری لا مکا ں را
درونِ خود نگرا یں نکتہ پیداست
بہ تن جا ں آ نچنا ں دارد نشیمن
کہ نتواں گفت اِینجا نیست آنجاست
لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جاسکتا، اگر تو اپنے اندر دیکھے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔ ہمارے بدن کےاندر جان نے اس طرح نشیمن بنا یا ہوا ہے کہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ جان اِ س جگہ ہےاور اْس جگہ نہیں۔
-
قطعہ ۱۵۸
رگِ مسلم زِ سوزِ من تپید است
زِ چشمش اشکِ بیتابم چکید استہنو ز ا ز محشرِ جا نم ند ا ند
جہاں را با نگاہِ من ند ید است
میرے سوز سے مسلماں کی رگوں میں خون تپ رہا ہے اور اس کی آنکھ سے میرے بیتاب آنسو ٹپک رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک وہ اس محشر کو نہیں سمجھا جو میری جان میں برپا ہے اور اس نے اس جہاں کو میری نگاہ سےنہیں دیکھا ۔
قطعہ ۱۵۷
بساطم خالی از مرغِ کبا ب است
نہ در جامم مئے آئینہ تا ب است
غزا لِ من خو رد برگِ گیا ہے
ولے خونِ دلِ او مشکنا ب است
میر ا دستر خوان مرغ کے کباب سے خالی ہے، اور میرے جام میں قیمتی شراب بھی نہیں ہے۔ میرا غزال گھاس کے پتّے کھاتا ہے، مگر اس کے دل کا خون مْشکِ نافہ کے خون کی مانند خوشبو دار ہے۔
قطعہ ۱۵۶
تو می گوئ کہ من ہستم، خدا نیست
جہا نِ آ ب و گِل را ا نتہا نیست
ہنوز ا یں را ز بر من نا کشود استکہ چشمم آ نچہ بیند ہست یا نیست
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے،اور یہ کہ دنیا کبھی نہ ختم ہونے والی ہے اور لا انتہا ہے۔ مگر مجھ پر اب تک یہ راز نہیں کھلا کہ میری آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، وہ ہے بھی یا نہیں۔ [ہر مشہود، یعنی دیکھی والی شہ کے لئیے دیکھنے والے کا ہونا ضروری ہے]۔
قطعہ ۱۵۵
جہا نِ رنگ و بو فہمید نی ہست
دریں وادی بسے گْل چیدنی ہست
ولےچشم ا ز درونِ خود نہ بند یکہ درجانِ تو چیزے دید نی ہست
بلاشبہ یہ جہانِ رنگ و بو اس بات کا متقاضی ہے کہ ا سے سمجھا جائے، اس وادی میں ایسے بہت سے پھول ہیں جو اس قابل ہیں کہ انھیں چن لیاجئے۔ لیکن تجھے اپنے باطن سے آنکھ بند نہیں کرنی چا ۃیے، تیرے اندر اور بھی قابلِ دید چیز موجود ہے۔
قطعہ ۱۵۴مشو نو مید ازیں مشتِ غبارے
پر یشا ں جلوہءِ نا پا ید ا ر ے
چو فطرت می تراشد پیکرے را
تمامش می کند در روز گا رے
اس مشتِ غبار انسان سے نا امید نہ ہو، اس کا جلوہ ءِ نا پائیداراس لئیے پریشاں ہےکہ فطرت جب کوئی پیکر تراشتی ہے تو اسے قرن ہا قرن میں مکمل کر تی ہے۔
قطعہ ۱۵۳
بگو شم آ مد ا ز خا کِ مزا ر ے
کہ درزیرِزمیں ہم می تواں زیستنفس د ا رد و لیکن جا ں ند ا ر د
کَسے کو بر مرا دِ دیگرا ں نیست
خاکِ مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی کہ قبر کے اندربھی زندہ رہا جاسکتا ہے، لیکن وہ شخص جو دوسروں کی خواہش کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے، اس کے اندر سانس ہے مگر جان نہیں۔
قطعہ ۱۵۲
بجانِ من کہ جا ں نقشِ تن ا نگیخت
ہوا ئے جلوہ ا یں گْل را دو رو کرد
ہزا را ں شیوہ د ا رد جا نِ بیتا ب
بدن گر دد چو با یک شیوہ خو کرد
میں اپنی جان کی قسم کھاتا ہوں کہ روح ہی نے جسم کو پیدا کیا ہے، نظا رے کے شوق میں اس نے پھول کو دو رخ والا بنادیا [گْلِ دو رو ایک ایسا پھول ہوتا ہے جو اندر سے سرخ اور باہر سے زرد ہو تا ہے]۔۔۔[حواسِ بدنی ہی کے ذریعہ اس دنیا کو دیکھا جا سکتا ہے]۔ جانِ بیتاب کے ہزاروں رنگ ہیں، مگر جب اس نے ایک رنگ اختیار کیا تو بدن بن گیا۔ ایک اور جگہ اقبال نے اسی خیال کو اس طرح ادا کیا ہے۔
ا رتبا طِ حرف و معنی، ا ختلا طِ جا ن و تن
جس طرح اخگرقباپوش اپنےخاکسترمیں ہے
Subject: : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : : لالہ ِ طور- - -151
قطعہ ۱۵۱
میا نِ لا لہ و گل آ شیا ں گیر
زِ مرغِ نغمہ خواں درسِ فغاں گیر
ا گر ا ز نا توا نی گشتہِ پیر
نصیبے ا ز شبابِ ا یں جہاں گیر
پھولوں کے درمیان اپنا آشیانہ بنا، اور نغمہ پرندوں سے آہ و فغان سیکھ۔ اگر تو کمزوری کے سبسب بوڑھا ہو چکا ہے، تو اس جہانِ ترو تازگی اور عالم کے شباب سے ترو تازگی حا صل کر۔
قطعہ ۱۵۰
قبا ئے زند گا نی چا ک تا کے؟
چوموراں درآشیاں درخاک تا کے؟
بہ پر وا ز آ، و شا ہینی بیا مو ز
تلا شِ د ا نہ در خا شا ک تا کے؟
تو کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھّے گا؟ کب تک چیوںٹیوں کی طرح خاک میں گھر بنا ئے گا؟ پرواز میں آ، اور شاہینی سیکھ، چیونٹی ک طرح کب تک مٹی میں اپنا رزق تلاش کرتا رہیگا۔
قطعہ ۱۴۹
رَمیدی اَ ز خداوندانِ ا فرنگ
ولے برگوروگنبد سجدہ پاشی
بہ لالائی چْناں عادت گرفتی
زِ سنگِ راہ مو لائے تراشی
تو فرنگی خداوں سے تو بھاگتا ہے، لیکن قبروں اور مزاروں پر سجدہ کرتا ہے۔ تو نے ایسی ہندوانہ عادت اختیار کرلی ہے کہ راستہ کے پتھر سے اپنا خدا تراشتا ہے[یہ حقیقی خدا تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے]۔
قطعہ ۱۴۸
مگو کارِ جہاں نا استوار است
ہر آنِ ما ابد را پردہ دا ر است
بگیر امروز را محکم کہ فردا
ہنوزا ندرضمیرِ روزگا ر است
یہ بات نہ کہو کہ دنیا کے کام میں پائیداری نہیں ہے، ہمارے حال کے ہر لمحہ کے اندر اَبد، اور مستقبل پو شیدہ ہے۔ آج پر اپنی گرفت سخت اور محکم رکھو، کیونکہ آنے والا "کل" "آج" کے ضمیر میں پو شیدہ ہے۔۔۔ کل کا انجام آج کے عمل پر منحصر ہے۔
قطعہ ۱۴۷
عجم بحر یست نا پید ا کنا ر ے
کہ درو ے گوہرِالماس رنگ ا ست
و لیکن من نہ دانم کشتیءِ خو یش
بدریائے کہ موجش بےنہنگ است
عجم ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اس کے اندر قیمتی سفید موتی ہیں، لیکن میں ایسے سمندرمیں اپنی کشتی نہیں ڈالتا، جس کی موجوں میں نہنگ نہ ہوں۔
قطعہ ۱۴۶
خیا لم کہ گْل از فردوس چیند
چو مضمو نِ غریبِ آ فر یند
دلم درسینہ می لرزد چوبرگے
کہ بروے قطرہءِ شبنم نشیند
میرا تخیّل جو جنّت سے پھول چنتا ہے، جب وہکوئی نیا مضمون پیدا کرتا ہے، تو میرے سینے میں میرا دل اس پھول کی پتّی کی طرح لرزنے لگت ہے، جس پر شبنم کا قطرہ ٹپک پڑا ہو۔
قطعہ ۱۴۵
زِ شاخ آ رزو بر خوردہ ام من
بہ رازِ زندگی پَے بردہ ام من
بترس ازباغباں اے ناوک انداز
کہ پیغا مِ بہا رآ و رد ہ ام من
میں نے شاخِ آرزو کا پھل کھایا ہے، میں نے زندگی کے راز کو پالیا ہے۔ اے شکاری باغباں سے ڈر، کیونکہ میں بہار کا پیغام لانے والا ہوں۔ [اللہ تعا لیٰ یہ برداشت نہیں کرینگے کہ مجھے شکار کیا جائے]۔
قطعہ ۱۴۴
خرد کر پاس را زرّینہ سازد
کمالش سنگ را آ ئینہ سازد
نوائے شاعرِ جا د و نگارے
ز نیشِ زندگی نو شینہ سازد
عقل معمولی کپڑے کواطلس بنا دیتی ہے، اور اس کا کمال پتھّر کو آینہ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ لیکن شاعرِ جادو نگار کا گیت زندگی کے زہر کو شہد بنا دیتا ہے۔
قطعہ ۱۴۳
مرا مثلِ نسیم آ وا رہ کردند
دلم مانندِ گل صد پارہ کردند
نگاہم را کہ پید ا ہم نہ بیند
شہیدِ لذّ تِ نظّا رہ کرد ند
مجھے نسیم کی مانند آزاد بنایا گیا ہے، اور میرے دل کو پھول کی طرح سو جگہ سے چاک کیا گیا ہے۔ میری نگاہ جو ظاہر کو بھی پوری طرح نہیں دیکھ سکتی، اسے حقیقت کے نظارہ سے سرفراز کیا گیا ہے۔
قطعہ ۱۴۲
زِ جانِ بے قرار آتش کشادم
دِلے درسینہءِ مشرق کشادم
گِلِ ا و شعلہ زا رِنالہءِ من
چو برق اندر نہا دِ او فتادم
میں نے اپنی بے قرار جان سے آگ کا دہانہ کھول دیا ہے، اور میں نے مشرق کے سینے میں نیا دل رکھ دیا ہے۔ سر زمینِ مشرق کی خاک میرے نالہ سے شعلہ زار بن گئی ہے، اور میں اس کے ضمیر پر برق کی مانند گرا ہوں۔
قطعہ ۱۴۱
عجم ا ز نغمہ ام آتش بجاں ا ست
صدائے من درائے کارواں ا ست
حدی را تیز تر خوا نم چو عرفی
کہ رہ خوابیدہ و محمل گراں است
میرے نغمے سے عجم کے دل میں آگ بھڑک اٹھی ہے اور میری آواز درائے کارواں بن گئی ہے۔ میں بھی عرفی شیرازی کی مانند حدی کی لے کوتیزکر رہا ہوں، کیونکہ راستہ لمبا ہے اور محمل گراں۔
قطعہ ۱۴۰
عجم ازنغمہ ہائے من جواں شد
زِسود ا یم متا عِ ا و گرا ں شد
ہجومےبود رہ گم کردہ دردشت
زِ آ وا زِد را یم کا روا ں شد
عجم میرے نغموںسے جواں ہوگیا [اس میں زندگی کی نئی روح دوڑ گئی ہے] میرے جزبِ دروں سے اس کی متاع قیمتی بن گئی ہے۔ مسلمان ایک ہجوم کی مانند تھے جو جنگل میں راستہ بھول کر پھر رہا ہو،میری آواز نے درا کا کام کیا اور وہ اب منزل کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
قطعہ ۱۳۹
نوا مستانہ در محفل زدم من
شرارِ زندگی بر گِل زدم من
دل از نورِ خرد کردم ضیا گر
خرد را بر عیارِ دل زدم من
میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی، اور اس سے مِٹی یعنی خاکی انسان پر زندگی کا شرر ڈالا۔ میں نے دل کو عقل کے نور سے روشنی دی اور عقل کے لئے دل کو معیار بنا یا۔۔۔ کیا سورۃ الزمر کی آیت ۲۲ کا اس شعر میں حوالہ نظر آتا ہےجس کا قریب ترین ترجمہ ہے؟ " سو جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئیے کھول دیا اور وہ اپنے پروردگار کے نور پر ہے، کیا وہ شخص اور اہلِ قساوت برابرہیں؟ سو جن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر سے متائژنہیں ہوتے ان کے لئیے بڑی خرابی ہے، یہ لوگ کھْلی گمرہی میں ہیں"۔
قطعہ ۱۳۸
مرا ا ز پرد ہ سا زِ آ گہی نیست
ولے د ا نم نوا ئے زند گی چیست
سرود م آ نچنا ں د ر شا خسا را ںگل ازمرغِ چمن پرسد کہ ایں چیست
میں پردہِ ساز یعنی اسرارِ کائنات سے تو با خبر نہیں ہوں، مگر یہ جانتا ہوں کہ نغمہءِ حیات کیا ہے۔ میں درختوں پر بیٹھ کر اس طرح نغمہ سرا ہوا کہ باغ کے پھول پرندے سے یہ پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ [جسکا نغمہ تمہارے را گ سے مختلف ہے]۔
قطعہ ۱۳۷
زپیشِ من جہانِ رنگ وبورفت
زمین و آسمان و چار سو رفت
تو رفتی اے دل ازہنگا مہءِ او؟
و یا ا ز خَلوت آبا دِ تو او رفت
میرے سامنے یہ جہانِ رنگ و بو باقی نہیں، نہ زمین ہے نہ آسمان، نہ چار سو۔ اے دل ، تو اس جہان کے ہنگامہ سے کنارہ کش ہو گیا ہے، یا جہان خود تیرے خَلوت آباد سے نکل گیا ہے۔
قطعہ ۱۳۶
ربودی دل زِچاکِ سینہءِ من
بغا رت برد ہِ گنجینہ ءِ من
متا عِ آرزویم با کہ د ا د ی؟
چہ کردی با غمِ دیرینہ ءِ من
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے میرا دل لوٹ لیا، اور میرا قیمتی خزانہ لے گئے۔ میری آرزو کا سامان کسے د ید یا؟ میرے غم ِ دیرینہ کے ساتھ کیا کیا؟
قطعہ ۱۳۵
سکندر رفت و شمشیر و علم رفت
خرا جِ شہر و گنجِ کان و یم رفتامم را ا ز شہا ں پا ئیند ہ تر داں
نمی بینی ک اِیراں ماند و جم رفت
سکندر گیا اور اس کے ساتھ اس کی شمشیر و عَلَم بھی گئے، شہروں سے وصول کیا ہوا خراج، کان سے نکالا ہوا خزانہ، سمندر سے حاصل کئیے موتی سب گئَے، قوموں کو بادشاہوں سے زیادہ پائیندہ سمجھ، کیا تو دیکھتا نہیں کہ ایران باقی ہے اور جمشید جا چکا ہے؟
قطعہ ۱۳۴
زمیں خاکِ د رِ میخا نہ ءِ ما
فلک یک گرد شِ پیمانہ ءِ ما
حدیثِ سوزو سازِما درازاست
جہاں د یبا چہءِ ا فسانہ ءِ ما
زمین میرے میخانہءِ اَ لَست کے دروازے کی خاک ہے، اور یہ چرخِ گردوں میرے جام کی ایک گردش ہے۔ میرے سوزو ساز کہانی بہت طویل ہے، یہ جہاں تو میرے افسانے کی صرف تمہید ہے۔
قطعہ ۱۳۳
ضمیرکن فکاں غیر از تو کس نیست
نشانِ بے نشاں غیر از تو کس نیست
قد م بے با ک تر نہِ د ر رہِ ز یستبہ پہنا ے جہاں گیر از تو کس نیست
جہان ِ ہست و بود کا ضمیر --- پوشیدہ و مستور معنی --- صرف تو ہے اور کوئی نہیں، صرف توہی --- سطحی علم و نظر رکھنے والوں کے نزدیک --- "بے نشاں" ذات یعنی اللہ تعالیٰ کا نشان ہے۔ راہِ حیات میں دلیرانہ قدم رکھ، اس جہان کی وسعتوں میں تیرے سوا اور کو ئی نہیں۔
قطعہ ۱۳۲
زمیں را را زد ا نِ آسماں گیر
مکاں را شرحِ رمزِلامکاں گیر
پرد ہرذرّہ سوئےمنزلِ دوست
نشانِ راہ ا ز ریگِ رواں گیر
زمین کو آسمان کا راز داں سمجھ، اور مکاں کو لا مکاں کے معنی کی شرح خیال کر۔ ہر ذرہ منزلِ دوست کی جانب اڑا جا رہا ہے، تو راستے کے نشان ریگِ رواں کے ذروں سے پوچھ۔ ۔
قطعہ ۱۳۱
بہ شبنم غنچہءِ نو رستہ می گفت
نگاِہِ ما چمن زا د ا ں رسا نیست
دراں پہنا کہ صد خورشید دا ر د
تمیزِ پست و با لا ہست یا نیست؟
نئی کھلی ہوئی کلی نےشبنم سے کہا ، کہ ہم چمن میں پیدا ہونے والوں کی نگاہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی، تو جو آسمان سے آتی ہے ہمیں ذرا یہ تو بتا کہ اس بیکراں وسعت میں جہاں سینکڑوں سورج ہیں، کیا وہا ں پست و بالا کا فرق ہے یا نہیں ؟
۱۳۰قطعہ
ترا شیدم صنم بر صورتِ خویش
بشکلِ خو د خد ا را نقش بستم
مرا ازخود بروں رفتن محال استبہر رنگے کہ ہستم خو د پرستم
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں، اور اپنا معبوداپنی ہی صورت پربنا تا ہوں۔ میرے لیے اپنی ذات سے باہر نکلنا مشکل ہے، ہررنگ میں اپنی ہی پرشتش کر تا ہوں۔
قطعہ ۱۲۹
چو نرگس ایں چمن نا دیدہ مگزر
چو بو د ر غنچہ ءِ پیچیدہ مگزر
ترا حق دیدہءِ روشن ترے دا د
خرد بیدا ر و د ل خوا بیدہ مگزر
نرگس کی طرح اس چمن کو بغیر دیکھے ہیاں سے نہ گزر، تو اس خوشبو کی مانند نہ ہو جو پیچیدہ غنچہ ہی میں قید رہ جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تجھے ان سے زیادہ روشن آنکھ عطا کی ہے، تو دنیا میں بیدار عقل اور خوابیدہ دل کے ساتھ زندگی بسر نہ کر۔ صرف عقل ہی کو سب کچھ نہ سمجھ، دلِ بیدار بھی حاصل کر۔
قطعہ ۱۲۸
زِ من گو صوفیانِ با صفا را
خد ا جو یا نِ معنی آ شنا را
غلا مِ ہمتِ آ ں خو د پرستم
کہ با نورِ خودی بیند خدا را
میری طرف سے اْن صوفیان ِ باصفاسے جا کہوجو اللہ تعا لیٰ کے متلاشی اور حقیقت آشنا ہیں کہ میں ایسے خود پرست شخص کی ہمت کو داد دیتا اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جواپنی خودی کے نور سے اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے۔
قطعہ ۱۲۷
تو اے دل تا نشینی در کنا رم
ز تشریفِ شہاں خوشتر گلیمم
درونِ سینہ ام باشی پس ازمرگ
من از دستِ تو در امید و بیمم
اے دل، جب تک تو میرے پہلو میں ہے، میری گدڑی شاہوں کے لباس سے بہتر ہے۔ کیا تو مرنے کے بعد بھی میرے سینے میں رہیگا؟ میں اس خیا ل پر امید و بیم میں مبتلا ہوں۔
قطعہ ۱۲۶
چہ غم داری، حیات ِ دل زِدم نیست
کہ د ل د ر حلقہءِ بود و عد م نیست
مخور ا ے کم نظر ا ند یشہءِ مرگ
اگر دم رفت دل با قی ست غم نیست
غم کی کو ئی بات نہیں، دل کی زندگی صرف ساںس کے ساتھ وابستہ نہیں، دل تو "ہے" اور "نہیں" کے حلقہ سے باہر ہے۔ اے کم نظر موت کی فکر نہ کر، اگر دم نکل بھی گیا تو دل بہر حال باقی رہیگا ، رنجیدہ نہ ہو۔ [کیا اقبال کا اشارہ سورۃ الشعراء کی آیات ۸۸-۸۹ کی جانب ہے جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے"جس دن کہ نہ مال کام آئیگا اور نہ اولاد، مگر ہاں جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے ۔۔۔ گویا پاک د ل ہی آخرت میں کام آ سکےگا"۔
قطعہ ۱۲۵
اگر آگاہی از کیف و کم خویش
یمے تعمیر کن از شبنمِ خویش
د لا د ریو زہ ءِ مہتا ب تا کے
شبِ خود رابرافروزازدمِ خویش
اگر تو اپنی صلاحیتوں سے واقف ہے تو اپنی شبنم کو سمندر میں تبدیل کر۔ اے دل، چاند سے کب تک بھیک مانگے گا، اپنی رات کو اپنی آہ سے روشن کر۔ دوسروں کی محتاج سے گریز کر اور اللہ کے فضل سے اپنے اند ر قدرت و صلاحیت پیدا کر۔
قطعہ۱۲۴
بخود نا زم گد اے بے نیازم
تپم، سوزم، گدازم، نے نوازم
ترا ا ز نغمہ د رآ تش نشاندم
سکند ر فطرتم، آ ئینہ سا زم
میں ایک بے نیاز فقیر ہوں اور آپنے آپ پر نازکرتا ہوں، تڑپنا، جلنا، اور نے نوازی کرنا میرا کام ہے۔ میں اپنے آتشیں نغموں سے تجھے آگ میں ڈالدیتا ہوں، پھر تجھے میں آئینے میں تبدیل کردیتا ہوں، کیوںکہ میں سکندر فطرت ہوں۔
قطعہ ۱۲۳
درونم جلوہِ افکا ر ا یں چیست
برونِ من ہمہ اسرار ایں چیست
بفرما اے حکیمِ نکتہ پرد ا ز
بدن آسودہ جاں سیّار ایں چیست
میرے اندر افکا ر کی ایک جلوہ گاہ ہے،یہ کیا؟ اور میری ذات کے باہر راز ہی راز ہے، یہ کیا؟ اے حکیم نکتہ بیں یہتوبتاکہ بدندنیا میں قید ہے اور روح آسمانوں کی سیاحت میں مصروف۔ یہ کیا ماجرا ہے؟
قطعہ ۱۲۲
بہ پہنائے ازل پرمی کشود م
زِ بندِ آب و گِل بیگا نہ بود م
بچشمِ تو بہاَئے من بلند است
کہ آ ورد ی ببا زارِ وجود م
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے، میں پانی اور مِٹِی کے بندھن سے آزاد تھا[اللہ رب العزت] آپ کی نظر میں میری قیمت بہت زیادہ تھی اسی لئیے آپ نےمجھے پیدا فرمایا ار بازارِ وجود میں لے آ ئے۔
--
قطعہ۱۲۱
ہزارا ں سا ل با فطرت نشستم
با و پیوستم و از خو د گسستم
ولیکن سرگشتم ایں دوحرف است
ترا شید م ، پریستید م ، شکستم
میں ہزاروں سال فطرت کے ساتھ وابستہ رہا ہوں۔ میں نے اپنی ذات سے تعلق منقطع کر لیا اور فطرت کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ لیا۔ لیکن میری تمام سر گزشت ان دوحرفوں میں سما ئی ہوئی ہےکہ میں نےتصورات کے بت تراشے، ان کی پرستش کی اور پھر انھیں توڑ ڈالا۔
علامہ اقبال اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ہمارے صوفیہ کی کتابوں میں ایک عجیب و غریب بحث موجود ہے کہ گسستن اچھا ہے یا پیوستن، اور صوفیہ کا اس میں اختلاف ہے۔اسلامی تصوف کا دارو مدار گسستن پر ہے اور تصوفِ وجودیہ کا پیوستن اور فنا پر۔۔۔۔ فطرت نے مجھے پیدا کیا، مجھے اپنا یا اور پھر مجھے توڑ دیا۔ کیا سورۃ الروم کی آیت نمبر ۱۱ میں اس کی طرف اشارہ ہے؟: اللہ تبارک و تعالیِٰ پہلی باربناتا ہے، پھر اس کودہرائیگا، اور پھر اسی کی طرف
لوٹا ئےجا وگے۔
قطعہ ۱۲۰
جہاں ہا روید از مشتِ گِلِ من
بیا سر مایہ گیر از حاصل ِ من
غلط کردی رہِ سر منزلِ دوست
دمے گم شو بصحراے دلِ من
میرے بدن کی خاک کئی جہان پیدا ہوتے ہیں، آ تو بھی میرےکھیت کے حاصل سے کچھ فائدہ حاصل کر۔ تو حقیقی دوست یعنی اللہ رب العزت کی منزل کا راستہ بھلا بیٹھاہے آ اور میرے دل کے دشت میں ایک لمحہ کے لئیے گْم ہو جا تاکہ تجھے راہنمائی حاصل ہو سکے۔
ہ
قطعہ ۱۱۹
حکیماں گر چہ صد پیکرشکستند
مقیمِ سو منا تِ بو د و ہستند
چساں افرشتہ و یزد ا ں بگیرند
ہنو ز آ د م بفترا کے نہ بستند
فلسفی اگر چہ تصورات کے صد ہا پیکر توڑ چکےہیں، لیکن وہ ابھی تک "ہے" اور "تھا" کے سومنات میں کھڑے ہیں۔ وہ فرشتے اور یزداں کو اپنے فکر کی گرفت میں کیسے لا سکتے ہیں، جبکہ وہ ابھی تک آدم کو اپنے فتراک میں نہیں باندھ سکے۔ [وہ جب آدم کی حقییقت سے نا آشنا ہیں تو وہ بھلا یزداں کی حقیقت کو کیا سمجھ پائیں گے]۔
Rabi-al-Thani 27, 1433
قطعہ ۱۱۸
مر نج ا ز برہمن ا ے و ا عظِ شہر
گراز ما سجدہءِ پیشِ بتاں خوا ست
خدائے ما کہ خود صورت گری کرد
بتے را سجدہ ءِ از قد سیاں خواست
اے واعظِ شہر برہمن سے برگشتہ نہ ہو، اگروہ بتوں کے سامنے سجدہ کرنے کے لئیے کہتا ہے۔ میرے خدا نے خود آدم کی صورت بنائی اور فرشتوں کو اس بت کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔[وہ بت نہیں تھا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی تھی اور پھر فرشتوں سے اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا]۔
Muharram 25, 1433
آج کا قطعہ
۱۱۷
د وا مِ ما زِ سوزِ نا تما م ست
چوما ہی جز تپش برما حرام است
مجو ساحل کہ در آغوشِ سا حل
تپیدِ یک د م و مرگِ دوام است
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام اور ہمیشگی قائم ہے۔ مچھلی کے مانند ہم سوائے تپش کے اور کچھ نہیں رکھتے۔ساحل تلاش نہ کر کیونکہ ساحل کی آغوش میں ایک لمحہ کی تڑپ اور پھر ہمیشہ کی موت ہے۔
Muharram 23-24 آج کے دو قطعات ۱۱۵ جہاں یک نغمہ زارِ آ رزوے بم و زیرش زِ تارِ آ رزوے بچشمم ہر چہ ہست و بود باشد دمے ا ز ر و زگا رِ آرزوے یہ دنیا بس آرزو کانغمہ زار ہے، یعنی یہاں ہر طرف آرزوءوں کے نغمے اْبھررہے ہیں۔ اس جہاں کا بم و زیر آرزو کے تا ر سے وابستہ ہے۔جو کچھ ہے، تھا یا ہوگا ۔۔ماضی ، حال، مستقبل، وہ میری نگاہ میں ہے، وہ در اصل زمانِآرزو کا ایک لمحہ ہے۔ ۱۱۶ د لِ من بے قرا رِ آ رزو ے د رونِ سینہءِ من آ رزوے سخن اے ہنشیں ازمن چہ خواہی کہ من با خویش د ا رم گفتگو ے میرا دل آرزو سے بے قرار ہے، اور میرے سینہ میں ہاو ہو کا ہنگامہ بپا ہے۔اے میرے ہمنشیں تو مجھ سے ہمکلامی کی توقع نہ رکھ،میں تو ہر وقت اپنے آپ سے گفتگو میں مصروف و مشغول رہتا ہوں۔ Muharram 20-22, 1433آج کے تین قطعات۱۱۲دلِ من راز دانِ جسم و جان استنہ پنداری اجل بر من گران استچہ غم گریک جہاں گم شد زِ چشممہنوز اندر ضمیرم صد جہان استجسم اور جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہوا ہے، یہ مت سمجھ کہ میں موت سے ڈرتا ہوں۔ اگر میری آنکھ سے ایک جہاں گم ہوا تو کیا غم، ابھی میرے ضمیر کے اندر سینکڑوں جہان چھپے ہوے ہیں۔۱۱۳گلِ رعنا چو من درمشکلے ہستگر فتا رِ طلسمِ محفلے ہستزبا نِ برگ او گویا نکر د ندولے در سینہ ءِ چاکش دلے ہستگلِ رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے۔ وہ بھی میری طرح محفل کے جادو میں گرفتا ر ہے۔ ا س کے پتوں کی زبان کو گو یائی عطانہیں ہوءی، مگر اس کے سینہ ءِ چاک کے اندر دل موجود ہے۔۱۱۴مزاج ِ لالہ ءِ خود رو شناسمبشاخ اندر گلاں را بو شناسمازان دارد مرا مرغِ چمن دوستمقام ِ نغمہ ہا ئے ا و شنا سممیں لالہ ءِ خود رو کا مزاج پہچانتا ہوں۔ وہ پھول جو شاخ کے اندر ہیں، میں ان کی خوشبو محسوس کر تا ہوں۔ باغ کا پرندہ مجھے اس لئیے دوست رکھتا ہے، کیو نکہ میں اس کے نغموں کے مقام کو پہچانتا ہوں۔Muharram 17-19, 1433آج کے تین قطعاتقطعہ۱۰۹فروغِ ا و بہ بزمِ باغ و راغ ا ستگل از صہبائے او روشن ایاغ استشبِ کس در جہاں تاریک نگازشتکہ در ہر دل زِ داغِ او چراغ استاللہ تبارک و تعا لیٰ کا نور باغ و راغ میں پھیلا ہوا ے، مٹی کایہ بدن اس کی محبت کی شراب سے روشن ہے۔ اللہ تعا لیٰ نے اس دنیامیں کسی شخص کے جہان کو تاریک نہیں چھوڑا، ہر دل کے اندر اللہ کی محبت کے داغ کا چراغ روشن ہے۔قطعہ۱۱۰زِ خاکِ نر گسستاں غنچہءِ رستکہ خواب از چشمِ او شبنم فروشستخدی ا ز بے خودی آمد پد ید ا رجہاں دریافت آخر آنچہ می جْستدنیا کی خاک سے نرگس کی کلی پیدا ہوئی، پھر اس کی آنکھ سے شبنم کا اثر دھویا، بے خودی سے خودی ظاہر ہوئِ۔جہاں نےبالاخر وہ چیز پالی جس کی وہ تلاش میں تھا۔ یہ اشارہ پیدائیش ِ آدم ٰ'ع' کی طرف ہےقطعہ۱۱۱جہاں کز خود ندارد دستگا ہےبکو ئے آرزو می جّست راہےزِ آغوشِ عدم دزدیدہ بگریختگرفت ا ند ر دلِ آ د م پنا ہےجہاں جو اپنے اندر کہیں پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ آرزو کے کوچہ کی تلاش میں تھا۔ وہ عدم کی آغوش سے چھپ کر بھاگ نکلا،اور اس نے آدم کے دل کے اندر پناہ لی۔Muharram 16, 1433 آج کا قطعہ ۱۰۸ دلا، رمزِ حیات ا ز غنچہ در یا ب حقیقت در مجازش بے حجاب است زِخا کِ تیرہ می رو ید و لیکن نگا ہش بر شعاعِ آ فتا ب ا ست اے دل، زندگی کا راز کلی سے سمجھ، اس کے مجاز میں حقیقت بے نقاب ہے۔ کلی کالی مٹّی میں پیدا ہوتی ہے، لیکن اس کی نظر سورج کی شعاع پررہتی ہے۔ [دل سینے کے اندرہوتاہے، مگر اس کی زندگی اللہ تبارک و تعالیٰ کےساتھ تعلق سے وابستہ ہے]۔ Muharram 15, 1433 آج کا قطعہ ۱۰۷ زِ آغازِ خودی کس را خبر نیست خودی در حلقہءِ شام و سحر نیست زِ خضر ا یں نکتہءِ نا د ر شنید م کہ بحر از موجِ خود دیرینہ تر نیست خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں، خودی شام و سحر کے حلقےمیں نہیں سماتی۔ میں نے یہ نادر نکتہ خضر 'ع' سے سنا ہے کہ بحر اپنی موج سے قدیم تر نہیں۔ یعنی خودی انسان کےساتھ ہی پیدا ہوتی ہے۔ اقبال اپنے ایک خط میں خودی کے متعلق یوں لکھتے ہیں۔۔۔"اس خودی سے مراد تشخّصِ ذات یا احساسِ نفس مراد نہیں، ہماری زبان میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئیے، جہاں تک مجھے علم ہے کوءی ایسا لفظ نہیں جو شعر میں کام دے سکے۔تشخّص یا تعیّن وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جن کا یہ مفہوم ہے، مگر یہ دونوں الفاظ شعر کےلئیے مو زوں نہیں۔انا یا انانیت بھی ایسے ہی الفاظ ہیں۔۔۔۔" Muharram 14, 1433 آج کا قطعہ ۱۰۶ میانِ آ ب و گل خَلوت گزید م زِ افلا طون و فارا بی برید م نہ کردم از کسے دریوزہءِ چشم جہا ں را جز بچشمِ خود ند ید م مِیں نے اس آب و گل کے جہاں میں خلوت و تنہائی اختیا ر کی اور افلا طون و فارابی سے علحدہ رہا ہوں، مِین نے کسی کی آنکھ سے دیکھنے کی بھیک نہیں مانگی، او دنیا کو صرف اور صرف اپنی ہی آنکھ سے دیکھا ہے۔ Muharram 13, 1433 آج کے دو قطعات ۱۰۴ بمنزل رہروِ دل در نسازد بآب و آتش و گِل در نسازد نہ پنداری کہ در تن آرمید است کہ ایں دریا بساحل در نسازد دل ایک ایسا مسافر ہے جو منزل کوناپسند کرتا ہے، اسے یہ بدن جو چار عناصر: پانی ،آگ، ہوا اور مٹّی سے بنا ہے پسند نہیں۔ یہ نہ جانیے کہ دل بدن کے اندرخوش ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا دریا ہے جو ساحل کے اندر نہیں سماتا۔ ۱۰۵ بیا با شاہدِ فطرت نظر باز چرادرگوشۃءِ خلوت نشینی ترا حق داد چشمِ پاک بینے کہ از نورش نگاہے آفرینی آ،اور حسنِ فطرت پر نگاہ ڈال، تو ایک گوشے میں تنہا اور خلوت گزیں کیوں بیٹھا ہے۔ اللہ تبارک و تعا لیٰ تجھے چشمِ پاک بیں عطا فرمائِ ہے،تا کہ تو اس کے نورِ نگاہ سے حسنِ فطرت سے لطف اندوز ہونے کا ذوق پیدا کرے۔ Muharram 12, 1433 آج کے دو قطعا ت ۱۰۲ چسا ں اے آ فتا بِ آسما ں گرد با یں دوری بچشمِ من در آئی بخاکی واصل و از خاکداں دور تو اے مژگاں گْسِل آخر کجائی اے فلک پر گردش کرنے والے آفتاب، تو اس قدردوری کا با وجود میری آنکھ میں کسطرح سماجاتا ہے۔ تو آدمِ خاکی سے واصل بھی ہے اور اِس خاکداں، یعنی دنیا سے دور بھی ہے، تو جسے دیکھنے سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، آخر کہاں ہے؟ ۱۰۳ ترش از تیشہءِخود جادہءِ خویش براہِ دیگراں رفتن عذ ا ب است گر ا ز دست تو کارِ نا د ر آید گناہے ہم اگرباشد ثوا ب است اپنے لئیے اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا دوسروں کے بنائے ہوے راستے پر چلنا عذاب ہے، اگر تیرے ہاتھ سے کوئی غیر معمولی و نادر کام ہو جائے تو اگر وہ گناہ بھی ہے تب بھی تجھےاس کا ثواب ملجائیگا۔ دوسروں کے بتائے ہوے راستہ پر چلنا اور اندھی تقلید کرنابھی غفلت اور موت کی نشانی ہے۔ Muharram 9, 1433 آج کا قطعہ ۱۰۱ جہانِ ما کہ جز انگا رہِ نیست اسیرِ انقلابِ صبح و شام است ز سوہا نِ قضا ہموا ر گر د د ہنوز ایں پیکرِ ِ گِل نا تمام است ہمارا یہ جہاں جو صرف نقشِ نا تمام ہے،یہ صبح و شام کی تبدیلیِ کا اسیر ہے۔ قضا کی سان اسے ہموار کرتی ہے، ورنہ ا بھی تک مٹی کا یہ پیکر نا مکمل ہے۔ ہے دنیا سر بسر نا قص ہما ری ہے صبح شام کے پھندے میں قیدی قضا کی سان اسے کردے گی ہموار ابھی ہے نا مکمل جسمِ خا کی [سید احمد ایثار ] Muharram 8, 1433 آج کا قطعہ ۱۰۰ چودرجنّت خرامیدم پس از مرگ بچشمِ ا یں زمین و آسما ں بود شکے باجانِ حیرانم در آویخت جہاں بود آں کہ تصویرِ جہاں بود وفات پانے کے بعد جب میں جنّت میں ٹہل رہا تھا، تو مجھے اْس زمین و آسماں کا خیال آیا، میری جان حیران ہوکر اس شک میں مبتلا ہو گئی کہ وہ جہان تھا کہ جہا ن کی تصویر تھی۔ Muharram 7, 1433 آج کا قطعہ ۹۹ چساں زا ید تمنّا د ر د لِ ما؟ چساں سوزد چراغِ منزلِ ما؟ بچشمِ ما کہ می بیند؟ چہ بیند؟ چساں گنجید دل اند رگلِ ما؟ ہمارے دل میں تمنّا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ ہماری منزل کا چراغِ تمنّا ہمارے اندر کسطرح روشن ہوتا ہے؟ میری آنکھ سے کون دیکھتا ہے اور کیا دیکھتا ہے؟ دل جو کہ لا محدود ہے، میرے بدن کے اندر کسطرح سما یا ہوا ہے؟ Muharram 6, 1433 AH آج کا قطعہ ۹۸ تو گوئی طائرِ ما زیرِدام ا ست پریدن بر پر وبالش حرام ا ست زِتن بر جستہ تر شد معنئی جاں فسا نِ خنجرِ ما ا ز نیا م ا ست تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہِ روح جال کے نیچے ہے، اور اس کے پر و بال کے لئیے پرواز نا ممکن ہے۔ روح کی معنویت تن کی وجہ سے بلند ترہو گئی ہے، ہما را نیامِ بدن ہمارے خنجرِ روح کے لءیے سان کا کام کرتا ہے۔ با الفاظِ دیگر عمل بدن کرتا ہے اور عروج و ترقی روح کو حاصل ہوتی ہے۔ Muharram 5, 1433 AH آج کا قطعہ ۹۷ ندانم بادہ ام من یا ساغرم من گہر د ر د ا منم یا گو ہرم من چناں بینم چو برد ل دیدہ بندم کہ جانم دیگراست ودیگرم من میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں، میں نہیں جانتا کہ میرے دامن میں موتی ہے یا میں خود ہی موتی ہوں۔ جب میں اپنے اوپر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یوں دِ کھائی دیتا ہے کہ میری جان کوئی دوسری چیز ہے اور میں کچھ اور ہوں۔ اپنے دلپرنگاہ رکھنا اور اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا اندازہ کرنا بہت بڑی آگاہی ہے اور انھیں بروئیے کار لانا اور ان کا مثبت استعمال بڑی کامیابی ہے۔ Muharram 4,1433 AH آج کا قطعہ ۹۶ دلِ بیباک را ضرغام رنگ است د لِ تر سندہ را آ ہو پلنگ است اگر بیمے نداری بحرصحراست اگرترسی بہر موجش نہنگ است دلِ بیباک کے لئیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے اور خوفزدہ دل کے لئیے ہرن بھی چیتا ہے۔اگر تیرے اندر خوف نہیں ہے تو تیرے لئیے سمندر بھی صحرا ہے، اور اگر تو خوفزدہ ہے تو سمندر کی ہر موج میں تجھے مگر مچھ نظر آءیگا۔۔ Muharram 3, 1433 ۹۵ تو می گوئی کہ آدم خاک زاد است اسیرِ عا لمِ کون و فسا د ا ست ولے فطرت زِاعجا زے کہ دارد بنا ئے بحر بر جو یش نہا د است تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے اور وہ اس جہان کا قیدی ہے جہاں ہر طرفتنہ و فساد برپا ہے، مگر فطرت نے اس سمندر کی بنیاد آدم کی ندی پر رکّھی ہے۔ بجا، انسان ہے مٹی کا پیکر بہ مجبوری بگڑ تا ہے سنور کر مگر اعجازِ فطرت د ید نی ہے کہ ہے بنیا دِ دریا آبِ جو پر [ مترجم ۔۔ سید احمد ایثار] Muharram 2, 1433 AH آج کے دو قطعا ت ۹۳ نہ من مرکبِ ختلی سو ا ر م نہ ا ز وا بستگا نِ شہر یا رم مرااے ہمنشیں دولت ہمیں بس چو کاوم سینہ را لعلے برآرم نہ میں اعلیٰ نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں، اور نہ بادشاہ کا مصاحب ہوں۔ اے میرے ساتھ بیٹھنے والے، میرے ہمنشیں، میرے لئے صرف یہی دولت کافی ہے کہ جب میں اپنا سینہ کھودتا ہوں، تو اس میں سے لعل نکال لیتا ہوں۔ غالب کا یہ شعر ملاحظہ ہو سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جْو یا ہو ں جوا ہر کے جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معد ن کو ۹۴ کمالِ زندگی خوا ہی ؟ بیا مو ز کشادن چشمِ و جز برخود نہ بستن فرو برد ن جہاں را چوں د مِ آب طلسمِ ز یر و با لا د ر شکستن اگر تو زندگی کا کمال چاہتا ہے، تو میری یہ بات سن لے، آنکھ کھول کر رکھ اور صرف اپنے آپ پر نظر رکھ۔ کمالِ زندگی یہ ہے کہ ساری کائنات کو پانی کے ایک گھونٹ کی طرح پیجانا اوراس کے پست و بلندکے طلسم کو توڑ دینا۔ Zulhijja 28, 1432 AH آج کا قطعہ ۹۲ سخن درد و غم آ رد و غم بہ مرا ا یں نا لہ ہاے دمبد م بہ سکندررا زِعیشِ من خبر نیست نوا ے دلکشے ا ز ملکِ جم بہ شاعری درد و غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم بہے اچھا ہے۔ مجھے یہ ہر وقت کا نالہ و فریاد بہت خوب لگتا ہے۔ سکند ر بھلا میرے عیش کو کیا جانے، ایک دلکش نوا جمشید کی بادشاہت ے بہتر ہے۔ Zulhijjah 27,1432 AH آج کاقطعہ ۹۱ بیا اے عشق، اے رمز ِ دِ لِ ما بیا اے کشتِ ما، اے حاصلِ ما کہن گشتند ا یں خا کی نہاد اں د گر آ د م بنا کن ا ز گِلِ ما اے عشق،اے ہمارے دل کے راز، آ، اے ہماری کھیتی،اے ہمارے حاصل، آکہ یہ آدم ِ خاکی پرانا ہو چکا ہے، آ، اور ہماری مٹی سے نیا آدم بنا۔۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعا لیٰ سے عشق تقویٰ کے حصول میں ممدو و معاون ہوتا ہے سورۃ الحج کی آیت ۳۲ کاترجمہ ہے: اور جو شخص شعا ئرِ الہٰی کا احترام کرتا ہےاس کا طریقِ عمل، قلب کے لئے تقویٰ کا نتیجہ ہے۔۔۔ تقویٰ در اصل ضمیر کے اس احساس کا نام ہے جس کی بنا پر ہر کام میں اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی شدید رغبت اوراس سے مخالفت سے شدید نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا تقویٰ جو اقبال کی زبان میں عشق ہے، ایک ایسی صفت ہے جو پہلے دل سے تعلق رکھتی ہے اور پھر تمام اعضاء سے۔۔۔اور اسی صفت سے وہ بیداری پیدا ہوتی ہے جو انسان کو عملِ پیہم کے لئیے آمادہ کرتی ہے۔ٰ Fآج کے تین قطعات ۸۸ چہ پرسی از کجایم چیستم من بخود پیچیدہ ا م تا زیستم من دریں دریا چوموجِ بیقرا رم اگر برخود نہ پیچم نیستم من تومجھ سے کیا پوچھتاہے کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ میں اپنے گرد گردش کرتا ہوں اور اسی لئیے زندہ ہوں ۔ میں اس دریائے کائنات میں ایک بیتاب و بیقرار موج کی مانندہوں اگر اپنے آپ سے وابستہ نہ رہوں اور اس پیچ و تاب سے کنارہ کش ہو جائوں تو میری زندگی ہی ختم ہو جائے۔ حرکت و عمل ِ پیہم زندگی کے لئےبے حد ضروری ہے۔ موج جب تک دریا میں ہے وہ موج ہے ، جب دریا سے باہر آتی ہے تو وہ نیست و نابود ہو جاتی ہے۔ ۸۹ بچند یں جلوہ د رزیرِ نقا بی نگا ہِ شو ق ما را بر نتا بی دوی درخونِ ما چوں مستیِ مے ولے بیگا نہ خوئی، د یر یا بی اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں اس تمام تر جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں [اللہ تعالیٰ کی نشانیاں کائنات میں ہر طرف جلوہ گرہیں] مگراس تمام جلوہ سامانیوں کے باوجود آپ نظرنہیں آتے، شاید آپ ہماری نگاہِ شوق کی تاب نہیں لاسکتے۔آپ کا عشق ہماری رگ و پے میں،ہمارے خون میں شراب کی مستی [ مئہِ عرفاں ] کی مانند سرایت کئیے ہو ئےہے، مگر آپ بیگانہ خو، بے نیاز ہیں اور بہت دیر سے ملتے ہیں۔ ۹۰ دل از منزل تہی کن، پا برہ دار نگہ را پاک مثلِ مہر و مہ دار متاعِ عقل و دیں بادیگراں بخش غمِ عشق اربدست افتد نگہ دار مستقل سفر میں رہ اور قید ِ مقام سے گزر۔ منزل کا خیال ترک کر، اور دائمی سفر اختیار کر۔ البتّہ دورانِ سفر اپنی نظر کو سورج اور چاند کی طرح پاک و صاف رکھ ۔ عقل و دیں کا سرمایہ دوسروں کو بخش دے ، ہاں غمِ عشق ہاتھ آجائے تو اسے سنبھال کررکھ۔ ۔ آج کا قطعہ ۸۷ کسے کو دردِ پنہا نے نہ دارد تنے دا رد ولے جانے نہ دارد اگر جانے ہوس داری طلب کن تب و تا بِ کہ پا یا نے ند ا رد جو شخص عشق کا پنہاں درد نہیں رکلھتا، وہ بدن تو رکھتا ہے مگر اس کا بدن بے جان ہے۔ اگر تو جان کی خواہش رکھتاہے تو اللہ تبارک و تعلیٰ سے ایسی تڑپ اور تب وتاب طلب کرجو لا محدود ہو, بے پناہ ہو۔ یہاں عشق سے مراد عشقِ حقیقی ہے۔ قرآن ِ پاک میں سورہ البقرہ کی آیۃ ۱۶۵ میں ارشادہے "حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھکر آللہ کو محبوب رکھتےہیں۔" "عشق کے بارے میں صوفیا کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے: یہ عشق شرابِ حیات ہے۔ یہ وجد کی اس حالت تک لے جاتا ہےجو اللہ تعا لیٰ کے قرب سے میسر آتی ہے۔ یہ سچّاعشق ہے جو تمام خود غرضانہ مقاصد سے مبّرا ہوتا ہے۔ ان عاشقوں میں سے ایک سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں کے ارادے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ وہ اپنے محبوب کے پاس سے آیا ہے اور محبوب کی طرف جا رہا یے۔جب پوچھاگیاکہ اسے کس کی تلاش ہے توجواب ملا کہ اسےاپنے محبوب کی تلاش ہے،جب اس سے استفسار کیا گیا کہ اس نے کیا پہن رکھا ہے تواس نے جواباً کہا کی اس نے محبوب کی ردا سے اپنے آپ کو ڈھانپ رکھا ہے اوراس کا چہرہ اس لئیے زرد ہے کیونکہ وہ اپنے محبوب سے جداہے۔جب آخر میں اس سے پوچھا گیا کہ وہ کب تک محبوب کے نام کی تکرارجاری رکھے گا ،تو اس نے جواب دیا کہ جب تک وہ اپنے محبوب کا چہرہ نہیں دیکھ لیتا ، وہ اس کے نام کا ورد جاری رکحے گا۔" Margaret Smith, Readingsfrom the Mystics of Islam اسی ضمن میں حضرت خواجہ فرید الدین عطّار نے بھی تین پروانوں کی حکایت بیان کی ہے جس میں یکے بعد دیگرے دو پروانوں کی کم ہمتی سے متائثر ہو کر تیسرے پروانے نے شمع کی لو میں جل کر خود کو شمع میں جذب کر لیا یعنی خود شمع ہو گیا۔ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی تا کس نہ گویم بعد ازیں من د یگرم تو د یگری میں تو ہو گیا اور تو میں ہوگیا، میں جسم بن گیا اورتومیری جان بن گیا۔ تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ کہ سکے تو اور میں جدا جدا ہیں۔ آج کا قطعہ ۸۶ چہ گویم نکتہءِ زشت و نکو چیست زباں لرزد کہ معنی پیچدار ا ست بروں ا زشاخ بینی خا ر وگْل را درونِ او نہ گل پید ا نہ خا ر است میں کیا کہوں ، کسطرح کہوں کہ نیکی اور بدی کیا ہے، اس کے معنی چونکہ پیچدار ہیں اس لئیے میری زبان لرزتی ہے۔شاخ کے باہر کانٹے بھی نظرآتے ہیں اور پھول بھی۔ مگر شاخ کے اندر نہ پھول ہے اور نہ کانٹے۔ اصل حقیقت تو صرف عمل ہے۔ سورۃ العصر میں ارشادِ باری ہے: " زمانے کی قسم، انسان در حقیقت بہت خسارے میں ہے، سوائےاْن لوگوں کےجوایمان لائے اور نیک اعما ل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے"۔ ایک اور جگہ اقبال فرماتے ہیں: عمل سے ز ند گی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے آج کا قطعہ ۸۵ دلِ من، اے دلِ من، اے دلِ من یمِ من، کشتیِ من، سا حل من چو شبنم برسرِ خا کم چکید ی؟ و یا چوں غنچہ رستی از گل ِمن میرے دل،اے میرے دل، اے میرے دل، اے میرے سمندر،اے میری کشتی اے میرے ساحل۔۔۔کیا تو میرے خاک ِ بدنپر شبنمکی طرح تپکا تھا؟ یا میری مٹی کے اندر سے غنچے کی طرح پیدا ہوا۔ Subject: [Aligarh Urdu Club] لالہ ِ طور 85 آج کا قطعہ ۸۴ نہاں د ر سینہ ءِ ما عا لمے ہست بخاکِ ما دلے، د ردلِ غمے ہست ازاں صہبا کہ جانِ ما بر افروخت ہنوز ا ند ر سبو ئے ما نمے ہست ہمارے سینے کے اندر ایک جہاں پو شیدہ ہے۔ ہماری خاک یعنی بدن کے اندر دل ہے اور دل کے اندر غم ہے۔ وہ شراب [ اسلام ] جس نے ہماری جان کو منور کردیا تھا، اس شراب کی نمی ابھی ہمارے سبو میں موجود ہے۔ سورۃ 'ق' آیت ۳۷ میں ارشادِباری تعالیٰ ہے:۔۔۔۔" اس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے،ہراس شخس کے لئیےجو دل رکھتا ہو یاجوتوجہ سے بات کوسنے۔" آج کا قطعہ ۸۳ نہ ا فغا نیم و نے ترک و تتاریم چمن زادیم و از یک شاخساریم تمیز ِرنگ وبو بر ما حرام است کہ ما پروردہءِ یک نو بہا ر یم نہ ہم افغان ہیں، نہ ترک ہیں اور نہ تاتاری ہیں۔ ہم سب ایک ہی چمن کے پالے ہوئے اورایک ہی گلشن کے پروردہ ہیں اور ایک ہی شاخ سے وابستہ و پیوستہ ہیں۔ ہم پر رنگ ونسل و بو کا امتیاز حرام ہے، اس لئیے کہ ہماری پرورش ایک ہی فصل گل کی مرہونِ منت ہے۔ اقبال اسلام کو بہار ِ نو سے تشبیح دیتے ہیں ۔ سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱۳ میں اللہ تبارک و تعا لیٰ فرماتے ہیں " اے لو گو ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور برادریاں بنائیں تا کہ تم ایک دوسرےکوپہچانو۔ " آج کا قطعہ ۸۲ تواے کودک منش خودرا ادب کن مسلما ن زا د ہءِ؟ ترک ِ نسب کن برنگ ِ احمر و خون ورگ وپوست عرب نا زد ا گر، ترکِ عرب کن تیری عادت میں بہت بچپنا ہے،ادب سیکھ، تو مسلمان کی اولاد ہے، اپنے نسب پر ناز کرناچھوڑ۔ اگر عرب بھی اپنے نسب، اپے سرخ رنگ، خون اور رگ وپوست پر ناز کرے تو اسے بھی نظرانداز کر اور اس سے بھی ترک تعلق اختیار کر۔ کل کا قرض اورآج کا قطعہ ۸۰ ترا د ردِ یکی د ر سینہ پیچد جہان ِ رنگ و بو را آ فرید ی دگر ازعشق بیبا کم چہ رنجی کہ خود ایں ہائے ہو را آفریدی آللہ تعالیٰ سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے سینہ میں تنہائی کا درد پیچ وتاب کھا رہا تھا ، چنانچہ آپ نے یہ جہانِ رنگ و بو تخلیق فرمایا۔ اب ہمارا عشقِ بیباک آپ کی خاطر پر کیوں نا گوار ہے۔ رب العزت آپ ہی نے تو خود یہ ہنگامہبر پا کیا ہے۔ ۸۱ کراجوئی چرادر پیچ وتابی؟ کہ او پیداست تو زیرِ نقابی تلاشِ اوکنی جز خود نہ بینی تلاشِ خود کنی،جز او نیابی یہا ں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے مخاطب ہیں، کہتے ہیں کہ آپ کسے ڈ ہونڈ رہے ہیں کیوں پیچ و تاب میں ہیں انسان تو ظاہر ہے مگر آپ زیر ِ نقاب ہیں۔ اس کی تلاش کرینگے تو اپنے سوا اور کچھ نظر نہیں آئیگا، اور اپنی تلاش کرینگے تو اس کے کسی اور کو نہیں پائینگے۔ Subject: [Aligarh Urdu Club] Re: لالہ ِ طور آج کا قطعہ ۷۹ نفس آشفتہ موجےاز یمِ اوست نئے ما نغمہءِ ما از دمِ اوست لبِ جوئےابد چوں سبزہ رْستیم رگِ ما ریشہءِما از نم ِ اوست ہماری سانس اللہ تبارک و تعالیٰ کے بحر ِ نا پیدا کنار سے اْٹھی ہوئی ایک موج ہے۔ ہماری نے اور ہمارا نغمہ اس کے دم قدم سے ہے۔ ہم ابد کی ندی کے کنارے سبزے کی ماننداْگے ہیں اور ہمارا رگ و ریشہ اسی ابدیت کی نمی کی وجہ سے ہے۔ آج کا قطعہ ۷۸ نوا د ر سا زِ جا ں ا ز زخمہِ تو چساں درجانی و از جاں برونی؟ چراغم با تو سوزم، بے تو میرم تو اے بیچونِ من بے من چگونی اللہ تبارک و تعالیٰ سے عرض کر رہے ہیں کہ میرے ساز ِجاں میں آپ کی مضراب سے نوا پیدا ہورہی ہے۔آپ میری جان کے اندر بھی ہیں اور باہر بھی ۔ مِیں ایک چراغ ہوں اور اس چراغ میں آپ کی ذات سے وابستگی کی وجہ سے روشنی پیداہوتی ہے اور آپ کے تعلق و وابستگی کے بغیر میری روشی بجھ جاتی ہے۔ اس سے قبل قطعہ نمبر۷۱ میں آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ اسکے مضمون میں بھی اِسی خیال کی جھلک نظر آتی ہے تو خور شیدی و من سیّارءِ تو سرا پا نو رم ا ز نظّا رہ ءِ تو زِ آغوشِ تو د ورم، نا تما مم تو قرآنی و من سیپا رہ ءِ تو اللہ تبارک و تعالیٰ آپ میرے سورج ہیں اور میں آپ کے گرد چکر لگانے والا سیّا رہ ہوں۔ آپ کے نظّارے سے میں سراپا نور بن گیا ہوں،آپ سے دور ہوں تو میں نامکمل ہوں اور آپ کی قربت میری تکمیل کرتی ہے۔ آپ قرآن ہیں اور میں اپ کاسیپارہ ہوں۔ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.comhttp://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/ -- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/-- M. Owais Jafrey owaisjafrey.blogspot.com http://alaqreba.com/
--
M. Owais Jafrey
owaisjafrey.blogspot.com
http://alaqreba.com/
--
M. Owais Jafrey
owaisjafrey.blogspot.com
http://alaqreba.com/
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
www.alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Thanks & Regards
Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
--
Twitter: @owaisjafrey
Tumblr: owaisjafrey.tumblr.com
alaqreba.com
owaisjafrey.blogspot.com
__._,_.___Disclaimer: Views expressed in the postings are those of the authors. Aligarh Urdu Club does not endorse views expressed by forum members.
***Copyright notice***
Aligarh Urdu Club/Deedahwar and its content is copyright of Aligarh Urdu Club, Deedahwar or authors - © Aligarh Urdu Club and Deedahwar 2004-2010. All rights reserved.
Any redistribution or reproduction of part or all of the contents in any form requires permission from editor of
Deedahwar (http://www.deedahwar.net) or owner of Aligarh Urdu Club; or respective authors other than the following:
• you may print or download to a local hard disk extracts for your personal and non-commercial use only
• you may copy the content to individual third parties, including published or online magazines, journals, books and for their personal use, but only if you acknowledge the Aligarh Urdu Club and/or Deedahwar as the source of the material
You may not, except with our express written permission, distribute or commercially exploit the content. Nor may you transmit it or store it in any other website or other form of electronic retrieval system.
Aligarh Urdu Club
http://www.deedahwar.net.![]()
__,_._,___