Fwd: AAJ_KAL

0 views
Skip to first unread message

Nadeem Siddiqui

unread,
Feb 20, 2015, 3:39:04 PM2/20/15
to
>
Date: 2015-02-20 21:30 GMT+05:30
Subject: Fwd: Taza AAJ_KAL

janab 
mera  taza culomn 
munsalik hai
NadeemS
یوم مادری زبان پر کیشو بھائی اور میورانڈی کا تذکرہ
ا ±ردو کے نامسلم پرستاروں کی ایک لمبی فہرست ہے اور ان میں ایسے بھی چند نہیں خاصی تعداد میں گزرے ہیں جنہوں نے ا ±ردو کو مالا مال کرنے میں اپنا بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ ہم اپنے عہد پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو تلوک چند محروم،جگن ناتھ آزاد، لبھو رام جوش ملسیانی،برج موہن دتاتریہ کیفی ،کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، رگھوپتی سہائے فراق ، کالیداس گپتا رضا،بال مکند عرش ملسیانی جیسے نجانے کتنے نام ہیں جو ا ±ردو د ±نیا میں اپنے کام سے مشہور ہیں اور پھرپنڈت آنند موہن گلزار زتشی، خوشبیر سنگھ شاد،جینت پرمارسے لے کر ہمارے شہر کے راجیش ریڈی تک ابھی بھی اپنے فکروفن سے زبان ِ ا ±ردو میں شعر وادب کی ز ±لفیں سنوار رہے ہیں۔ ا ±ردو زبان کا وہ کون پڑھا لکھا انسان ہوگا جوانھیں نہ جانتا ہو۔ جن حضرات کے اخیر میں نام لئے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو پچاس برس کی عمر سے کم ہو۔
 اب آئیے ہم اپنی( مسلمانوں کی )طرف بھی نظرڈالتے ہیں۔ مہاراشٹر میں بالخصوص ممبئی اور اطراف و جوانب میں ا ±ردو میڈیم اسکولوں کی کتنی تعداد ہے کون نہیں جانتا، کالجوں ہی میںنہیں ا ±ردو پڑھائی جاتی ہے بلکہ یونیورسٹیوں میں بھی شعبہ ¿ ا ±ردو قائم ہیں ایک بڑی تعداد میں ا ±ردو کے اساتذہ ان درسگاہوں میں موٹی موٹی تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں۔ مگر ان اساتذہ کی اولادوں کے بارے میں یہ معلوم کرنا چاہیں کہ ان کے بچے کس میڈیم کے اِسکول میں پڑھ رہے ہیں۔؟
 جو ہمارا مشاہدہ ہے ا ±س کی روشنی میں عرض ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ان اساتذہ کے بچوں میں شاید ہی دو چار فیصد بچے ایسے ہونگے جو ا ±ردو میڈیم میں پڑھ رہے ہوں۔ ورنہ تو انگریزی میڈیم کی ایک آندھی ہے جس میں امیر غریب ،سب ا ±ڑ رہے ہیں بلکہ اس ا ±ڑان پر فخر بھی کر رہے ہیں۔ ہم ا ±ردو کی نئی نسل سے جب بھی گفتگو کرتے ہیں تو ایک شدید احساس جاگتا ہے کہ ا ±ردو کا حسن اس کی شیرینی اسکے تلفظ اور اس کی اِملے میں چھپی ہوئی ہے اور نئی نسل کے اکثر لوگ اس نزاکت سے بے بہرہ ملتے ہیں۔ ان میں جو چند شاعر اور چند ادیب یا ا ±ستاد ہیں ان میں بھی۔۔۔عجب۔۔۔ مل جاتے ہیں اور رہے بعض اچھے لوگ!۔۔۔ 
 اوراستثنیٰ توہر شعبے میں ہوتا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ استثنیٰ معیار نہیں ہوتا۔!!
۔۔۔ ہمارے دیرینہ رفیق کار سید محمد عباس نے ایک بار اپنی عمر سے کہیں بڑے ایک گجراتی جین مہاشے سے ملایا کہ یہ کیشو بھائی ہیں۔ ایک مدت پنجاب میں رہ چکے ہیں جہاں ان کو ا ±ردو والوں کی صحبت میسر رہی اور انہی میں سے کسی شاعر و ادیب سے ا ±نہوں نے ا ±ردو پڑھ لی۔ ا ±ردو زبان کا ایک اعجاز ہی کہا جائے گا کہ اس زبان سے واقعی دِل چسپی رکھنے والا شعرو ادب کی کشش کی طرف راغب نہ ہو تو تعجب کی بات ہوگی۔ کیشو بھائی جب ا ±ردوا دب کی طرف آئے تو زبان ان کی خود بخود نکھرنے لگی اور اعلیٰ ا ±ردو ہی نہیں فارسی زبان سے بھی آشنائی ہوگئی اب اگر ان سے آپ ملاقات کریں تویہ مہاشے ایسی شستہ ا ±ردو میں گفتگو کرتے ملیں گے کہ آپ کو شبہ ہوگا کہ آپ کسی جین کیشو بھائی سے بات کررہے ہیں۔ ا ±ردو کے کلاسک شعرا کے انھیں اتنے شعر یاد ہیں اور دورانِ گفتگو بر محل اشعار یوں پڑھتے ہیں کہ تھوڑی دیر کیلئے آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ پچاس برس قبل کے زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دورِ گزشتہ میں ایسوں کا ملنا ہر گز تعجب خیز نہیں تھا اور ا ±ن کا یوں تذکرہ بھی ہرگز نہیں ہوتا۔
 خیر یہ کیشو بھائی تو معمر شخص ہیں اس عمر کے لوگوں میں اپنی سنسکرتی، اپنی تہذیب اور اپنی بھاشا، ساہتیہ یا اپنی زبان وادب سے دِلچسپی کا عمل ممکن ہے مگر یہ جو کارپوریٹ دَور کی نئی نسل ہے اس میں جب کوئی کیشو بھائی جیسا مل جاتا ہے تو ہم جیسو ں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ 
 گزشتہ اتوار۱۵ فروری کی شام سولاپور میں وہاں کی ایک تنظیم ’ ا ±ردو کانفرنس‘ نے ’ ا ±ردو دوست ایوارڈ‘ کے سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا اور مذکورہ ایوارڈ ایک جواں سال ا ±ردو دا ں’ مَی ±ور انڈی‘ کو دیا جانا تھا۔ میور کےنام کا آخری لفظ ’انڈی‘ دراصل اس کے گاو ¿ں کا نام ہے بعض علاقوں کے لوگ اپنے دیار کے نام ہی کو اپنا سَرنیم بنالیتے ہیں میور نے بھی کچھ یوں ہی کیا۔۔۔ میور کو سولاپور کی خاتون میئر ، ہمارے برادر اور ا ±ردو کےایک اچھے شاعر شاہد لطیف کے ہاتھوںا ±ردو دوست ایوارڈ تفویض کیا گیا۔ اس عمل کے بعد میور نے اظہارِ تشکر کے طور پر جو تقریر کی ا ±س سے ہم پر اس کی ا ±ردو دانی کے جوہر کھلے۔
 ہمارے کئی مراٹھی دوست ہیں اور ان میں سے بعض ا ±ردو دوست بھی ہیں مگر جب وہ ا ±ردو بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو عموماً ا ±ن کا مراٹھی تلفظ اور مخرج آڑے آتا ہے۔ بالخصوص وہ Z (زیڈ) ذ،ز، ض،ظ وغیرہ کا صحیح تلفظ ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں مگر میور کی تقریر میںایسا نہیں ہوا بلکہ اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے تو عرض ہے کہ وہ پوری شائستگی کے ساتھ شستہ ا ±ردو بول رہا تھا۔ بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ اسے عربی کی ش ±د ب ±د بھی ہے اور وہ شعر و شاعری یا ادب ہی کا ذوق نہیں رکھتابلکہ بتانے والوں نے تو یہ بھی بتایا کہ اس کے گھر میں امام بخاری کی شرح(احادیث) فتح الباری اور شرح ِابو داو ¿د بذل المجہود جیسی کتابیں بھی ہیں۔ یہ سن کر ہمارا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
 تقریب کے دوسرے دن میور سے کوئی دو گھنٹے کی ایک تفصیلی ملاقات ہوئی اس ملاقات کا موضوع صرف اور صرف زبان ہی رہا اس طرح وہ اور کھلا اور ا ±ردوکا ا ±س کاذوق بھی نمایاں ہوا۔ جواں سال میور انڈی فردِ واحد ہے مگر ہمارے گھروں میں ہمارے دور قریب بھی ایسا کوئی جوان نہیں یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ نہ تو شاعر و ادیب ہے اورنہ ہی ا ±ردو کا مدرس۔
 جب یہ کالم آپ پڑھ رہے ہونگے تو ا ±س دِن تمام د ±نیا میں’ یوم مادری زبان‘ منایا جارہا ہے۔ اس دن ذرا ہم اپنی مادری زبان کے تعلق سے صرف اتنا ہی سوچ لیں کیا اس زبان(ا ±ردو) کا ہم پر کچھ حق ہے ؟ اورہمارے ہاں میور انڈی جیسے جوان کیوں نہیں ملتے۔؟

NadeemSiddiqui

Firoz Hashmi

unread,
Feb 21, 2015, 11:50:07 AM2/21/15
to BAZMe...@googlegroups.com
شکریہ ندیم صدیقی صاحب
تحریر اچھی ہے۔ ہر انسان اپنی سمجھ کا بہتر استعمال کرنا جانتا ہے۔
زندگی میں بڑا ضروری ہے
یہ سمجھنا کہ کیا ضروری ہے
آپ کے ذریعہ بھیجی گئی تحریر پڑھنے میں دشواری ہو رہی تھی اس لیے اسے دوبارہ یہاں نستعلیق خط میں بھیج رہا ہوں۔ اس امید پر کہ مادری زبان سے کیسے ہمدردی کی جائے اور اسے کیسے عمل میں لایا جائے، غور کیا جائے گا۔
فیروزہاشمی
یوم مادری زبان پر کیشو بھائی اور میورانڈی کا تذکرہ
اُردو کے نامسلم پرستاروں کی ایک لمبی فہرست ہے اور ان میں ایسے بھی چند نہیں خاصی تعداد میں گزرے ہیں جنہوں نے اُردو کو مالا مال کرنے میں اپنا بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ ہم اپنے عہد پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو تلوک چند محروم،جگن ناتھ آزاد، لبھو رام جوش ملسیانی،برج موہن دتاتریہ کیفی ،کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، رگھوپتی سہائے فراق ، کالیداس گپتا رضا،بال مکند عرش ملسیانی جیسے نجانے کتنے نام ہیں جواُردو  دُنیا میں اپنے کام سے مشہور ہیں اور پھرپنڈت آنند موہن گلزار زتشی، خوشبیر سنگھ شاد،جینت پرمارسے لے کر ہمارے شہر کے راجیش ریڈی تک ابھی بھی اپنے فکروفن سے زبان اُردو میں شعر وادب کی ز ُلفیں سنوار رہے ہیں۔ اُردو  زبان کا وہ کون پڑھا لکھا انسان ہوگا جوانھیں نہ جانتا ہو۔ جن حضرات کے اخیر میں نام لئے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو پچاس برس کی عمر سے کم ہو۔
 اب آئیے ہم اپنی( مسلمانوں کی )طرف بھی نظرڈالتے ہیں۔ مہاراشٹر میں بالخصوص ممبئی اور اطراف و جوانب میںاُردو میڈیم اسکولوں کی کتنی تعداد ہے کون نہیں جانتا، کالجوں ہی میںنہیں ا ُردو پڑھائی جاتی ہے بلکہ یونیورسٹیوں میں بھی شعبۂ ا ُردو قائم ہیں ایک بڑی تعداد میںاُردو کے اساتذہ ان درسگاہوں میں موٹی موٹی تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں۔ مگر ان اساتذہ کی اولادوں کے بارے میں یہ معلوم کرنا چاہیں کہ ان کے بچے کس میڈیم کے اِسکول میں پڑھ رہے ہیں۔؟
 جو ہمارا مشاہدہ ہے ا ُس کی روشنی میں عرض ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ان اساتذہ کے بچوں میں شاید ہی دو چار فیصد بچے ایسے ہونگے جو ا ُردو میڈیم میں پڑھ رہے ہوں۔ ورنہ تو انگریزی میڈیم کی ایک آندھی ہے جس میں امیر غریب ،سب  اُڑ رہے ہیں بلکہ اس اُڑان پر فخر بھی کر رہے ہیں۔ ہم اُردو کی نئی نسل سے جب بھی گفتگو کرتے ہیں تو ایک شدید احساس جاگتا ہے کہ ا اُردو کا حسن اس کی شیرینی اسکے تلفظ اور اس کی اِملے میں چھپی ہوئی ہے اور نئی نسل کے اکثر لوگ اس نزاکت سے بے بہرہ ملتے ہیں۔ ان میں جو چند شاعر اور چند ادیب یا اُستاد ہیں ان میں بھی۔۔۔عجب۔۔۔ مل جاتے ہیں اور رہے بعض اچھے لوگ!۔۔۔ 
 اوراستثنیٰ توہر شعبے میں ہوتا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ استثنیٰ معیار نہیں ہوتا۔!!
۔۔۔ ہمارے دیرینہ رفیق کار سید محمد عباس نے ایک بار اپنی عمر سے کہیں بڑے ایک گجراتی جین مہاشے سے ملایا کہ یہ کیشو بھائی ہیں۔ ایک مدت پنجاب میں رہ چکے ہیں جہاں ان کو اُردو والوں کی صحبت میسر رہی اور انہی میں سے کسی شاعر و ادیب سے اُنہوں نے اُردو پڑھ لی۔ اُردو زبان کا ایک اعجاز ہی کہا جائے گا کہ اس زبان سے واقعی دِل چسپی رکھنے والا شعرو ادب کی کشش کی طرف راغب نہ ہو تو تعجب کی بات ہوگی۔ کیشو بھائی جب اُردوا دب کی طرف آئے تو زبان ان کی خود بخود نکھرنے لگی اور اعلیٰ اُردو ہی نہیں فارسی زبان سے بھی آشنائی ہوگئی اب اگر ان سے آپ ملاقات کریں تویہ مہاشے ایسی شستہ  اُردو میں گفتگو کرتے ملیں گے کہ آپ کو شبہ ہوگا کہ آپ کسی جین کیشو بھائی سے بات کررہے ہیں۔ اُردو کے کلاسک شعرا کے انھیں اتنے شعر یاد ہیں اور دورانِ گفتگو بر محل اشعار یوں پڑھتے ہیں کہ تھوڑی دیر کیلئے آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ پچاس برس قبل کے زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دورِ گزشتہ میں ایسوں کا ملنا ہر گز تعجب خیز نہیں تھا اور اُن کا یوں تذکرہ بھی ہرگز نہیں ہوتا۔
 خیر یہ کیشو بھائی تو معمر شخص ہیں اس عمر کے لوگوں میں اپنی سنسکرتی، اپنی تہذیب اور اپنی بھاشا، ساہتیہ یا اپنی زبان وادب سے دِلچسپی کا عمل ممکن ہے مگر یہ جو کارپوریٹ دَور کی نئی نسل ہے اس میں جب کوئی کیشو بھائی جیسا مل جاتا ہے تو ہم جیسو ں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ 
 گزشتہ اتوار۱۵ فروری کی شام سولاپور میں وہاں کی ایک تنظیم ’ اُردو کانفرنس‘ نے اُردو دوست ایوارڈ‘ کے سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا اور مذکورہ ایوارڈ ایک جواں سال اُردو دا ں’ مَیُور انڈی‘ کو دیا جانا تھا۔ میور کےنام کا آخری لفظ ’انڈی‘ دراصل اس کے گاؤں کا نام ہے بعض علاقوں کے لوگ اپنے دیار کے نام ہی کو اپنا سَرنیم بنالیتے ہیں میور نے بھی کچھ یوں ہی کیا۔۔۔ میور کو سولاپور کی خاتون میئر ، ہمارے برادر اور اُردو کےایک اچھے شاعر شاہد لطیف کے ہاتھوںاُردو دوست ایوارڈ تفویض کیا گیا۔ اس عمل کے بعد میور نے اظہارِ تشکر کے طور پر جو تقریر کی اُس سے ہم پر اس کی اُردو دانی کے جوہر کھلے۔
 ہمارے کئی مراٹھی دوست ہیں اور ان میں سے بعض اُردو دوست بھی ہیں مگر جب و ہ اُردو بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو عموماً اُن کا مراٹھی تلفظ اور مخرج آڑے آتا ہے۔ بالخصوص وہ Z (زیڈ) ذ،ز، ض،ظ وغیرہ کا صحیح تلفظ ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں مگر میور کی تقریر میںایسا نہیں ہوا بلکہ اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے تو عرض ہے کہ وہ پوری شائستگی کے ساتھ شستہ اُردو بول رہا تھا۔ بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ اسے عربی کی شُد بُد بھی ہے اور وہ شعر و شاعری یا ادب ہی کا ذوق نہیں رکھتابلکہ بتانے والوں نے تو یہ بھی بتایا کہ اس کے گھر میں امام بخاری کی شرح(احادیث) فتح الباری اور شرح ِابو داؤد بذل المجہود جیسی کتابیں بھی ہیں۔ یہ سن کر ہمارا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
 تقریب کے دوسرے دن میور سے کوئی دو گھنٹے کی ایک تفصیلی ملاقات ہوئی اس ملاقات کا موضوع صرف اور صرف زبان ہی رہا اس طرح وہ اور کھلا اوراُردوکا اُس کاذوق بھی نمایاں ہوا۔ جواں سال میور انڈی فردِ واحد ہے مگر ہمارے گھروں میں ہمارے دور قریب بھی ایسا کوئی جوان نہیں یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ نہ تو شاعر و ادیب ہے اورنہ ہی اُردو کا مدرس۔
 جب یہ کالم آپ پڑھ رہے ہونگے تو اُس دِن تمام دُنیا میں’ یوم مادری زبان‘ منایا جارہا ہے۔ اس دن ذرا ہم اپنی مادری زبان کے تعلق سے صرف اتنا ہی سوچ لیں کیا اس زبان(اُردو) کا ہم پر کچھ حق ہے ؟ اورہمارے ہاں میور انڈی جیسے جوان کیوں نہیں ملتے۔؟

--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
http://www.urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_Duniya.html
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.



--
(Dr.) Mohammad Firoz Alam 
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages