رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری اردو شاعری کی عبقری شخصیت ہیں۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں دانش ور اور ناقد بھی تھے۔ اس کے علاوہ ان کی برجستگی کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اپنی باتیں بہت ہی بیباکانہ انداز میں کہتے تھے۔
فراق کی حاضر جوابی کے کئی واقعات مشہور ہیں۔ ایک بار ایک مشاعرے میں ان کے پڑھ چکنے کے بعد کسی نوجوان شاعر کا نام پکارا گیا۔ اس نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا کہ فراق صاحب کے بعد میں کیسے اپنا کلام سنا سکتا ہوں، یہ آداب کی خلاف ورزی ہے۔
فراق نے آواز لگائی، ’میاں صاحب زادے، اگر میرے بعد پیدا ہو سکتے تو شعر بھی پڑھ سکتے ہو۔‘

فراق عالمی ادب کے زبردست عالم تھے اور ادبی معاملات پر ان کی نگاہ بہت گہری تھی۔ بلونت سنگھ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا:
” ادب زندگی کے واقعات کی مصوری نہیں ہے ان بلند مقاصد کی مصور ی ہے جن کا تعلق دنیا سے غلط نظام، بے انصافی، ظلم اورجہالت کو دورکرنا ہے۔ یہ کام بہت اہم ہے اور بڑے بڑے لیڈر انہیں انجام دیتے ہیں، عظیم ادیب سیاسی لیڈروں کا حاشیہ بردار نہیں ہو تا۔ وہ ادب کے ذریعہ سے وہی نتائج پیدا کرنا نہیں چاہتا جو سیاسی جدو جہد سے گاندھی اور لینن پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ادیب تحریکِ سیاست کا رضا کار نہیں ہے۔ ادیب کا صرف ایک کام ہے جب اور لوگ اور ان کی کوششیں دنیا کو سب کچھ دے چکیں تو ان کے بعد یا ان سے علیٰحدہ رہ کر ادیب دنیا کو وہ چیزیں دے جو رامائن، مہابھارت، ایلیئڈ اور اوڈیسی کے شعرا یا دیگر مشاہیر شعر و ادب دنیا کو دے سکے۔ میں کسی بڑے فن کار کے مقابلے کسی دوسرے بڑے آدمی کو جگہ دینے کو تیا رنہیں ہوں۔“
اردو چینل۔ صفحہ۔17
فراق گورکھپوری کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہی بہت دانش وارانہ نکات ہیں۔ انہیں صرف فکاہیہ باتیں کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرح سے ان میں بھی ان کی ذہانت جھانکتی نظر آتی ہے۔
ایک بار لکھنئو میں سیمنار میں بہت ہی گرما گرم بحث ہو رہی تھی۔ موضوع تھا ”ادب میں فحاشی“۔ فراق صاحب سب کی باتوں کو خاموشی سے سن رہے تھے یکا یک انہوں نے سوال کر دیا ’آخر یہ فحاشی ہے کیا؟‘ اس پر کسی نے جواب دیا، ’فحاشی وہ کام ہے جو چھپ کر کیا جائے‘۔ اس پر فراق صاحب نے بہت معصومیت سے سوال کیا ”جیسے میں پیشاب کرتا ہوں ؟“ ان کی معصومانہ بات پر سبھی ہنسنے لگے اور فضا کا بوجھل پن ختم ہو گیا۔
فراق صاحب لال قلعے کے مشاعرے میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لے گئے۔ مشاعرے سے قبل مرکزی وزیر رفیع احمد قدوائی کے گھر پر دعوت تھی۔ فراق صاحب ذرا پہلے پہنچ گئے، وہ دروازے پر اپنی چھڑی لیے ہوئے ٹہل رہے تھے کہ مجروح سلطان پوری، سردار جعفری اور ساحر لدھیانوی ایک ساتھ کار سے اترے اور لپک کر فراق صاحب سے ملے۔ فراق صاحب نے بھی پوری گرمجوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، ’ارے مجروح!‘ پھر سردار جعفری کی جانب مڑے اور ان کی بھی خیر و عافیت پوچھی اس کے بعد ساحر کی جانب آئے اور کہا ’ارے ساحر آج کل تو تم آثارِ قدیمہ کی بہت اچھی شاعری کر رہے ہو۔ تاج محل پر کیا خوب لکھا ہے۔
اک شہنشاہ نے دولت کا سہا را لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میرے محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
ایسا کرو کہ اب جامع مسجد پر بھی لکھ ڈالو:
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی عبادت کا اڑایا ہے مذاق
میرے اللہ کہیں اور ملا کر مجھ سے‘
اس کے بعد سب ہنسنے لگے۔
فراق صاحب اردو زبان کے بہت بڑے وکیل تھے۔ لیکن جب ان کے شعری مجموعے ”گل نغمہ“ پر گیان پیٹھ ایوارڈ ملا تو وہ ہندی زبان کی وکالت کرنے لگے اور کچھ اردو کے خلاف بھی بیان دے دیے۔ ایوارڈ کے موقع پر جو مشاعرہ تھا اس میں نازش پرتاپ گڑھی نے اپنی مشہور نظم ”قلم بچائے رہو شاعرو، قلم کارو“ سنائی اور جب اس مصرعے پر پہنچے، ’قلم خریدنے نکلے ہیں اہل دولت بھی‘تو انہیں خوب خوب داد مل رہی تھی۔
اچانک فراق صاحب نے سوال کر دیا، ’نازش صاحب قلم کتنے میں خریدا جاتا ہے؟‘ نازش نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ایک لاکھ میں ۔۔۔ ( اس زمانے میں گیان پیٹھ ایوارڈ کی رقم ایک لاکھ تھی) اس پر مشاعرے کے اناؤنسر ملک زادہ منظور احمد فراق صاحب سے سرگوشی کرتے ہوئے کچھ کہنے لگے تو انہوں نے جھنجھلا کر کہا لیکن وہ مولوی تو پالا مار لے گیا۔
لیکن تمام تر بذلہ سنجی کے باوجود فراق اندر سے بہت ہی ٹوٹے بکھرے اور مایوس انسان تھے۔ ان کی عمر کا آخری دور بے حد کربناک گزرا۔ آخری زمانے میں وہ اپنے بڑے سے گھر میں تنہا خاموش بیٹھے ہوئے سگریٹ پیا کرتے تھے:
اب اکثر چپ چپ ہی رہے ہیں، یوں ہی کبھی لب کھولیں ہیں
پہلے فراق کو دیکھا ہوتا، اب تو بہت کم بولیں ہیں
ایک شام نوکر بازار گیا ہوا تھا، ایک غنڈہ موقع غنیمت سمجھ کر دبے پاؤں گھر میں گھس آیا اس نے چاقو نکال کر فراق صاحب کے سینے پر رکھ دیا اور رقم کا طلبگار ہوا۔ فراق اس کو چپ چاپ دیکھتے رہے۔ پھر بولے ” اگر تم جان لینا چاہتے ہو تو میں کچھ نہیں کہنا چاہتا اگر روپیہ چاہتے ہو تو وہ میرے پاس نہیں ہے۔ نوکر بازار گیا ہوا ہے، بیٹھ جاؤ، ابھی آجائے گا تو تمہیں روپیہ دلا دوں گا۔” حملہ آور بیٹھ گیا، فراق نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر بولے، ”اچھا ہوا تم آگئے ۔۔۔ میں بڑی تنہائی محسوس کر رہا تھا۔“
فراق گورکھپوری کی ولادت 28 اگست 1896ءکو گورکھپورکے ایک کائستھ خاندان میں ہوئی تھی اور ان کی وفات تین مارچ سنہ 1982ء کو دہلی میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی 86 برس کی عمر بڑے درد و کرب میں گزاری اگرچہ اسی دوران انھوں نے اردو ادب کو وہ کچھ دیا کہ ان کی حیثیت لیجنڈ کی سی ہو گئی ہے۔

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو میں آڈیو اور ویڈیوکے لیے دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
کمپیوٹر پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To unsubscribe please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
فراق گورکھپوری کی آواز میں چند رباعیات
کلک کیجئے
http://bhatkallys.org/components/com_wsaudio/player.php?path=audio/Firaq/Rubaiat_Qitaat.rm

A Rare Collection of Audio And Video
By : Abdul Mateen Muniri
Email : ammu...@gmail.com
Skype ID : ammuniri
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"