38 views
Skip to first unread message

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 10, 2016, 6:38:51 AM11/10/16
to bazme...@googlegroups.com

حیرت کا نشہ !! ...

زبیر حسن شیخ

جادوگری ایک قدیم کھیل ہے جس کا استعمال باطل طاقتیں ہر دور میں کرتی آئی ہیں -  جادو کا اصل مقصد حیرت زدہ کرنا ہے اور اس نفسیاتی حربے سے ناظرین کے ہوش و حواس گم کرنا ہے .... بڑے بزرگ فرما گئے کہ " ہے تحیر کو ثبات کہاں -  بچپن سے جوانی تک اور بڑھاپے سے بستر مرگ تک انسان ان جادوگروں اور مداریوں کے کمال و کرتب سے محظوظ ہوتا آیا ہے-   چند لوگ حیرت میں مبتلا ہو کر ایسے کرتب و کمال کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور انکے پیچھے چھپی مکاریوں اور ہاتھ کے سحر اور زبان کے زہر کو سمجھ نہیں پاتے -  لیکن آج کل جادو کی خاصیت یہ ہے کہ مجمع کو مسلسل حیرت کے نشے میں مبتلا  رکھا جاتا ہے ....اور ایسے جادوگر خود کو جمہورا کہہ کر بلواتے ہیں ...یہ جمہورا جادوگر حیرت انگیز کرتب و کمال دکھا کر ناظرین کی ایک کثیر تعداد کو حیرت کے نشے میں مبتلا رکھتے ہیں...  اس میں ان دیکھی دولت کا اورعیش و عشرت کا نشہ بھی گھول دیا جاتا ہے......

الغرض  پچھلے چند گھنٹوں میں ایسے ہی دو جمہورا مداریوں کا کرتب دیکھنے کا اتفاق ہوا-     ان میں ایک تو مسلسل کئی سالوں سے کرتب دکھا رہا تھا، نگر نگر گھومتا اور کرتب دکھاتا -  بلکل وہی انداز، وہی بیان بازی، وہی ساحری اور وہی سامری، وہی بات بات پر مسحور کن تقاریر سے مجمع کو مد ہوش کرنا -  وہی چیخ پکار... ججمان قدردان، میرے بھائیوں اور بہنوں، اب اس  پٹارے سے خون میں لت پت  بچہ نکلے گا،  جس کا قتل  پٹارے کے اندر ہی کر دیا گیا ہے ....کوئی ثبوت نہیں... کوئی  قتل نہیں  ہوا..... بس خون ہی خون  نظر آتا ہے  ... ایسے کئی کرتب میں نے  پہلے دکھائے ہیں- اور جادو یہ ہے کہ  آپ مجھے قاتل ثابت نہیں کرسکتے......... مجمع دم بخود ہوجاتا ہے اور خون میں تڑپتا بچہ دیکھ کر خاموش رہتا ہے..... اسے حیرت کا نشہ ہے-  وہ حیرت میں اسقدر اور اتنی بار مسلسل مبتلا کیا گیا ہے کہ اب اسے اس میں سرور آتا ہے..

 کہتے ہیں جمہورا جادوگروں کا نشہ سارے عالم پر چھایا ہے-   اس کھیل کے بعد جمہورا کچھ مذاق مستی اور لعن طعن سے لوگوں کا دل بہلاتا ہے...اپنے پرایوں اور دشمنوں کو ذلیل کر اور انکے عیب بیان کر عوام کا دل لبھاتا ہے ... پھر انکی نفسیات کے مد نظر تقریر شروع کرتا ہے... میرے دوست ، میرے بھا ئی.. یہ میری بہن، غریب عورت، یہ سجن حالات کا مارا، وہ انسان دوسرے مداریوں سے لٹا ہوا، یہ بچہ روتا ہوا..... وہ ہرا کپڑا پہنا سجن .... اے بھا ئی تجھے کیا تکلیف ہے.... چپل کیوں الٹی رکھ کر کھڑا ہے... کیا بڑبڑا رہا ہے.. کیا پڑھ رہا ہے.. میرا منتر خراب کر رہا ہے.... بھسم کردونگا ..... جھوٹا سمجھتا ہے مجھے .... نکل میرے علاقہ سے ...... بھائیوں اور بہنوں ایسے ہی لوگ ہیں جو رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں... ہمارے رنگ میں .... انہیں یہاں سے نکال دینا چاہیے..... او دور کھڑے بھیا... آپ نہیں وہ .. وہ بھائی جو زعفرانی کپڑے میں ہیں.... آگے آئیے..آگے بڑھیے... .. یہ کھیل آپ جیسوں کا کھیل آپ جیسوں کے لئے اور آپ جیسوں کے ذریعہ ہی کھیلا جائے گا....سام دام دنڈ بھید کا جادو ہے یہ ......آپ  اپنے ہاتھ صاف کرلیجیے ... بلکہ دھو لیجیے....... آپ نے کچھ نہیں کیا ہے.....ایک ہی سر میں سر ملائیے ..... تو ججمان قدردان، مہربان.... اب دیکھئے کھیل اور کھیل کی دھار ...... اے بہن.. غریب بہن .. تو بھی آگے آجا .. جمہورا تجھے بھی مالا مال کردیگا....... تیرا حق دلائے گا .... تیرے خاوند سے دلا ئے گا...... ارے او ہرے کپڑے والے تو اب تک گیا نہیں..... گھور گھور کر دیکھ رہا ہے ....... او  لال کپڑے والے صاحب آپ آگے کیسے آ گئے....پیچھے ہٹو..... ابکی بار .....بار بار... لگا تار..اے جوان قدردان ....پڑھنے جاتا ہے نا .... تو بھی آگے آ.. تجھے ابھی چاند کی سیر کراتا ہوں.. اتنی دیر میں جا کر آجائے گا جتنی دیر میں رکشا سے گھر جا کر آتا ہے... ابھی سکھاتا ہوں تیس فیصد کو صد فیصد کیسے کرتا ہے جمہورا...گنتی کا کھیل ہے گنتی کا .....تو بڑا ہو کر بہت بڑا بنے گا.. کامیاب ہوگا.... دیس کا بھلا کریگا....او پیلے چہرے والے، او سجن جو کتابیں بغل میں دبائے ہوئے ہیں...... او سفید ایپرن والے صاحب.... .او موبائیل والے.... او تری مورتی والے .. او  لال فیتہ  والے...... ابھی تمہاری خوشیوں کا کوئی ٹھکانا نہیں رہے گا .. تم سب کے اکاونٹ میں ایسا نلکا لگا کر بتاوں گا کہ پیسہ پانی کی طرح آئے گا... پچھلی بار جادو سے میں نے تم جیسے کروڑوں کا اکاونٹ کھول کر بتا دیا تھا....بتا دیا تھا نا ؟ ہاں بتا دیا تھا ...اب پیسہ آئیگا .... صاف و شفاف پیسہ ....اس میں کوئی کالا میل نہ ہوگا ..باہر سے   نہیں اندر سے ہی آئیگا ...کوئی رشوت خوری نہیں ... کوئی  پیسہ نہیں لے گا  اور چاہے جو لے لے ......کوئی اپنے آپ کو غریب نہیں کہے گا  ..... او وڈا پاؤں کھانے والے، آپ کے وڈا پاؤں کو ابھی برگر اور پتزا میں تبدیل کردونگا..... او لکشمی کے پجاریوں... آج لکشمی تمارے جیبوں میں ہوگی...او  کونے میں کھڑے سفید کپڑے میں بڑے بھا ئی... دلدار ، مالدار ... عزت دار.. بھا ئی آپ آگے آئیے ..... آپ کی آنکھوں میں عجیب چمک ہے...آپکے کپڑوں اور چہرے کی چمک دمک بتا رہی ہے کہ آپ سوریہ ونشی ہو..آپ کی جیب میں روزگار ،  آپکی جیب میں اخراجات.. اور آپ ہی کی جیب میں سرمایہ ہے ...ارے او بتھیار بند  بھیا،   آپ انکے پیچھے رہیں نا .... کیسے آگے آگئے.... انکی حفاظت کریں ... خبردار ..... انکی کوئی پاکٹ مارے گا تو ابھی پتا چل جائیگا اور جمہورا کا جادو اسے فورا ہتھکڑی میں جکڑ دیگا ..... بس بس یہیں پر رہیے ..... اور او گندے کپڑے والے چل ہٹ ذرا پیچھے کو... تو یہاں کہاں آگیا... ہزاروں سال سے اسی حالت میں رہ رہا ہے،  اور رو رہا ہے ...اور آج بھی تو روئے گا،  بلکہ کل بھی .... تو بھائیوں اور بہنوں .... اومیرے دلدار... جمہورا کے بانی ...کیا بولتا ہے نی... مفت میں یہ بات کرا تا  ہے نی... آپ کے کیا کہنے.... آپ کا ساتھ کا فی ہے....... آپ مسکرا رہے ہیں..... بہت خوب..... آپ کی مسکراہٹوں کا یہ جادو سب جانتے ہیں........ بھائیوں اور بہنوں ....... دیکھیے انہیں ....یہ ہی میرے جادو کی اصل چھڑی ہیں... پورے دیس کو  مفت میں بات کرا رہا ہے نی.. اب بات کرنے کا پیسہ نہیں لگتا ہے نی.....اور اب آگے دیکھیے...... ارے بھا ئی آپ آگے آنا... اپنی جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکالنا...اور آپ بھی بھیا.... اور آپ بھی مائی. .. آپ بھی بابو مشا ئے... او تمہی پن دادا.....  ..  اوئے تسی یار سسرئیے  کال  آپ بھی.....بھائی سا، حکم ،    ماں سا تم بھی .... اوئے بچن کے منہ بولے اور او سلمان کے دل والے ، او رجنی کی مورت والے .....تم سب  اس جادو سے بچ نہیں سکتے...سب پانچ سو کا نوٹ نکالنا اور او بھا ئی نیلے رنگ کے کپڑے والے.... آپ ہزار کا نوٹ نکالنا اور اپنے تمام ساتھیوں سے بھی کہو کے وہ بھی نکالے... آپکے نوٹوں سے پسینے کو بو آرہی ہے..... آپ بھی پیلے کپڑے والے بھا ئی....ارے بھا ئی زعفرانی  آپ نہیں .. آپ کیوں نکال رہے ہو.. آپ تو کب کا نکال چکے ہیں.... یہ دیکھو بھائیوں  اور بہنوں ... ان نوٹوں کو ابھی جمہورا جلا دیگا .. اور اس کی راکھ سے دو ہزار کا نوٹ نکالے گا.... ارے او ہرے کپڑے والے.. یہ منہ ہی منہ کیا بڑبڑا رہا ہے...تیرا امتحان ہوں میں... ارے تھمبورا ... او کمبورا اسے اٹھا کر اندر ڈال دے اور نہیں مانے تو اسکا انکاؤنٹر کر ....... یہ کھیل خراب کرنے آیا ہے...... اور لال کپڑے والے صاحب ... کیا مسخزی اڑا رہے ہو....بہت بولتے ہو...خاموش رہو ... ابھی بتاتا ہوں ...... تو  دیکھو.. ججمان قدردان تم سب کے نوٹ اب اس ٹپ ٹاپ میں سفید کپڑا پہنے ... مسکرانے والے  صاحب کی جیب میں پہنچ جائیں گے.. اور آپ کے اپنے نوٹ آپکی جیب میں .......  یہ دیکھو چلے گئے... تالیاں..... تالیاں ...... چلو تھمبورا اور کھمبورایک راونڈ لگا..... ججمان قدردان، مہربان ...جمہورا  بنتی کرتا ہے... دان مانگتا ہے..... دل کھول کر دیجئے .... اس ڈبے میں ڈالیے.. ٹھپا لگاکر ڈالیے.... جمہورا پر  لگائیے ...... ہاتھ مت روکئے... چل اے نتھو .. چل ر ے مادھو.. گننا شروع کر..... تو پھر قدردان مہربان.... وہی ہوا جو میں نے کہا تھا....میرا جادو  چل گیا .. وہ دیکھو وہ مسکرانے والے صاحب.... اب اور بھی مسکرا رہے ہیں .... وہ دیکھو وہ رونے والے، سب رونا بھول کر حیرت میں ہیں ..... اسے کہتےہیں جادو.. غریبوں کے آنسو ختم.. اچھے دن شروع..... وہ دیکھو لال کپڑے والا غصہ چھوڑ حیرت میں ہے ..... وہ دیکھو نیلے کپڑے والے حیرت میں ہیں .. انکی کچھ سمجھ میں نہیں آیا.. جمہورا کے جادو کا یہی کمال ہے.... ارے ہرے کپڑے والے تو ابھی تک گیا نہیں .. اور یہ کیا اپنی برادری کو بھی اکھٹا کر لے آیا... چل ٹھیک ہے حیرت کا نشہ تجھے بھی ہے... ..پیارے بھائیوں اور بہنوں ... سب پیسے کا کھیل ہے.... سب جادو ہے .. سب حیرت ہے..ہر جگہ حیرت ہے ....... پڑوسی جمہورا  ہو یا  بازو کی  پڑوسن جمہورن ..... یا سات سمندر پا ر والی پڑوسن .. سب جادوگر ہیں.... حیرت کا کھیل ہے.. نیا جادو ہے بھائیوں اور بہنوں .....روتےکو،  پریشان کو، برباد کو ، آباد کو،، بیمار کو، بے روزگار کو، عالم کو جاہل کو....  اندھے کو اور بینا کو .. سب کو حیرت میں ڈال دو.. انہیں حیرت کا نشہ چڑھا دو .... تو بھائیوں اور بہنوں اب میرے ہمزاد جمہورا کا دور سات سمندر پار سے جادو دیکھو.....  چل رے نتھو اب سفید چادر لگا ... یہ دیکھو فلم شروع ہوگئی.... بنا بجلی اور بنا کسی چیز کے اس سفید چادر کو دیکھو.... یہ ہمارے سفید چادر والے ساتھیوں کا جادو ہے... اے لڑکے چادر کے پیچھے کیوں جھانک رہا ہے.. یہ ویکی پیڈیا والا لگتا ہے........ار ے کھمبورا اس کو پکڑ .... یہ پیچھے کا حال نہ جان پائے.. سارا جادو خراب کردیگا....ارے بھائی زی چادر والے آگے آجا... اور اوئے تو این ڈی ٹی چادر والے پیچھے جا.... تو بھائیوں.... اب میرا بھائی جمہورا جادو دکھائے گا..... سات سمندر پار سے دکھائے گا..... ابے نتھو سفید چادر سیدھی کر .... یہ دیکھو یہ بولا.. یہ جیتا .. . نمس س س تے ما ئی فرینڈ...اب کی بار ہماری سرکار...آگئی .. میرا بھی جادو چل گیا.... سب حیرت میں ......وہاں بھی حیرت کا اور یہاں بھی حیرت کا نشہ....گنتی کا جادو ہے اور جادو کی گنتی ہے مائی فیلو  سیٹیزن   ...عظیم امریکہ اور بھی عظیم ہوگیا ...... تم سب امریکی عظیم  ہو گئے.. اور جو نہیں ہونا چاہتے ہیں وہ  جائینگے .... .. سب رونے بلکنے والے ... سب بھوکے .. سب بے گھر.. سب پڑھے لکھے.... سب درد سے کراہنے والے .....تم  سب حیرت میں  ہو .. حیرت کے نشے میں ہو  ... یہ جمہورا کا جادو ہے.. حیرت کا نشہ  ہے..... 

Imran Haq

unread,
Nov 10, 2016, 7:08:49 PM11/10/16
to BAZMe...@googlegroups.com, Zubair H Shaikh
Very good Zubair Sahab.  If you are familiar with, your tahreer reminded me (somewhat) of Madaari in sixties near Firdous Cinema in Karachi.
 
Regards,
-Imran



From: Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Thursday, November 10, 2016 5:38 AM
Subject: [بزم قلم:53387]

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 11, 2016, 5:56:34 AM11/11/16
to BAZMe...@googlegroups.com
جزاک اللہ عمران صاحب۔ ساٹھ کی دہائی میں ایسے مداری کراچی کا فردوس سینما ہو یا بمبئی کا ایروز، دہلی کا کرول باغ ہو یا لاہور کا موچی دروازہ، لانڈھی ہو یا انارکلی بازار، یا نریمان پوائنٹ ہو یاکناٹ پیلیس، ہر جگہ نظر آتے تھے- اب انکی جگہ بر صغیر میں عالمی شہرت یافتہ بڑے بڑے مداری اور جادوگر آگئے ہیں۔  اور اب تو یہ امریکہ میں بھی پائے جاتے ہیں- تماشہ بین بھی تو بڑے ہو گئےہیں- 
خاکسار
زبیر

Sent from my iPhone

Imran Haq

unread,
Nov 11, 2016, 8:46:03 AM11/11/16
to BAZMe...@googlegroups.com, Zubair H. Shaikh
آپنے بالکل درست فرمایا   سیاست کے مداری تو ہر جگہ پاۓ جاتے ہیں   مغرب کے تمام کھیل ڈ ھکے چھپے ہوا کرتے تھے 
اور غریب ملکوں کی عوام کو ہمارے رہنماؤں کے ساتھ مل کر خوب دھوکہ  دیا کرتے تھے   آجکی دنیا میں انٹرنیٹ نے سب کچھ 
اجاگر کردیا 

عمران 
 
-Imran Haq



From: Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Friday, November 11, 2016 4:56 AM
Subject: Re: [بزم قلم:53397]

Nadeem Siddiqui

unread,
Nov 11, 2016, 1:06:42 PM11/11/16
to

 روزنامہ ’’ ممبئی اردو نیوز‘‘ کا تازہ کالم ’’ شب و روز

ہم اپنی  خواہش کے زیرِ اثر ہیں یا دانش کے!!
 انگریزی زبان کاایک لفظ ہےPerformance جس کا اس دَور میں بڑا غلغلہ ہے۔ جسے دیکھو  وہ  اپنے پرفارمنس پر توجہ مرکوز کیے ہوئےہے۔ ایک دَور تھا کہ عالِم، شاعر، ادیب، اُستاد یا فنکار اپنی توجہ علم، شعر و ادب یا فن پر مرکوز رکھتا تھا اب اسکے برعکس وہی صورت ِ حال ہے   جواوپر  بیان کی گئی ہے۔ ایسا نہیں کہ دورِ گزشتہ میںپرفارمنس کا وجود نہیں تھا مگر جس صورت میں اب عام  ہے ایسا  پرفارمنس بہر حال نہیں تھا  اور اچھے لوگ تو اسے بہ نظرِ استحسان  دیکھتے  ہی نہیںتھے اب شاید’ اچھے لوگ‘ ہی نہیں رہے یا ہمارے ہاں فہم کا فقدان ہے،آپ چاہیں تو کہہ لیں کہ۔۔۔’ آخری  بات ہی صحیح ہے۔‘
 دورِ گزشتہ  کے  مشاعروں کے بعض ممتاز شعرا کاکچھ تذکرہ  ہو جائے، مثلاً نذیر  بنارسی،  دِل لکھنوی،  عالَم فتح پوری، شمسی مینائی، انور مرزا پوری، رازؔ الہ آبادی وغیرہ کے اسمائے گرامی ذہن میں اُبھر آئے۔ یہ لوگ اپنے دَور کے مشاعروں کے کامیاب ترین کردار تھے۔ انہیں  بہت  زمانہ ابھی نہیں گزرا مگر ہمارا خیال ہے کہ جو  لوگ اب  مشاعرے کا ذوق رکھتے ہیں وہ ان شعرا سے ناواقف ہیں، ہاں کچھ لوگ ان کے نام   ضرور جانتے ہوں گے۔ اس کے بر عکس اسی زمانے میں وہ  شعرا بھی تھے کاغذ پر جنکے نام آج بھی  باقی ہیں۔ البتہ جو لوگ  اسٹیج ہی کے کردار تھے ان میں سے اکثرشعری چمک ضرور رکھتے تھے  وہ سماعی سطح پر ہی سہی۔ اب جو  لوگ   اسٹیج پر آئے ہیں  ان میں سے اکثر اسٹیج پرفارمنس ہی کے کردار ہیں اور  ہمارا خیال  یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کی طلب بھی اتنی ہی ہے کہ اسٹیج پر جلوہ ہو اور سامعین یا ناظرین میں ایک شور مچ جائے، اور ہاں جو نذرانہ ان کے حصے میں آتا ہے وہ حسرت موہانی یا ان جیسے شعرا کو نصیب ہی نہیں تھا ۔ بات مشاعروں  سے شروع ہوئی ہے تو یاد آتا ہے کہ ممبئی(ورلی)  میں ریس کورس سے متصل سردار ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم تھا جہاں منعقد ہونے والا ایک مشاعرہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ بزرگوں سے ہم نے سنا ہے کہ دورِ گزشتہ کی ایک مشہور فلم ’ زینت‘  کایہ نغمہ بہت مشہور ہوا تھا :آہیں نہ بھریں، شکوے نہ کیے کچھ بھی نہ زباںسے کام لیا
 اس نغمے کو زہرہ بائی کلیانی اور نور جہاں نے گایا تھا جو ایک قوالی کی صورت میں تھا  ،جسے نخشب جارچوی نے لکھا تھا۔ یہی نخشب جارچوی ہیں جنہوں نے  ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم    میں میر تقی میرؔ کی یاد میں دو شبینہ طرحی مشاعرے کا انعقاد کیا  تھا۔ میر تقی میرؔ ہی  کا ایک مصرعہ’’ مشہور چمن میں تری گلبدنی ہے۔‘‘ اس مشاعرے کی طرح تھا۔  روایت ہے کہ  اس مشاعرے کی اوّل شب میں اُس دَور کے جو مبتدی شعرا تھے انہوں نے  اپنا طرحی کلام سنایا اور دوسری شب سینئر شعرا نے اپنے مطروحہ کلام سے لوگوں  کے ذوق کی سیرابی کی تھی۔  حافظے میں اتنا ہے کہ اس مشاعرے میں  جوش ملیح آبادی نے  جو کامیابی حاصل کی تھی وہ  ایک مثال بن گئی، جوش نے غزل  کے بجائے نظم کہی اور وہ نظم (کیا گلبدنی گلبدنی  گلبدنی ہے) ہمارے ادب کا حصہ  ہے ۔  جوش ملیح آبادی کی فکر و  لفظ کا حسن تو اپنی جگہ مگر اُن کا نظم کا پڑھنا بھی ایک  غیر معمولی کشش کا حامل  تھا جسے نہ تو آپ  ترنم کہہ سکتے ہیں اور نہ  ہی تحت اللفظ ۔ ہم جیسے اسے لحن کہیں گے۔ کیو نکہ ہم نے  خوداُن کی یہ نظم بی بی سی(ریڈیو) پر سُنی  ہے اور گھن گرج کے ساتھ ان کا پڑھنا ذہن میں اب بھی ایک ترنگ کا احساس دِلا تا  ہے۔ لیکن انکے اس  پڑھنے کو  پرفارمنس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ وہ ایک فطری عمل  تھا ۔جب جوش   ؔپڑھ رہے تھے تو   صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے عمق ِکلام میں پورے  وجود کے ساتھ اُتر ے ہوئے ہیں۔ یہ عمل ہر فطری شاعر و ادیب ، اُستاد اور فنکار کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایک بات اور سنیے۔ ممتاز جدید شاعرشہریار نے ایک انٹروِیو کے دوران خاکسار کو بتایا تھا کہ’’ ان کے اُستادخلیل  الرحمان اعظمی( مسلم یونیورسٹی میں) جب لکچر دیتے تھے تو اُن کے وجود کا ہر حصّہ ہمیں لکچر محسوس ہوتا تھا ۔ میں  پورےیقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ وہ  اپنے لکچر کی بھر پور تیاری کر کے آتے  تھے اور وہ  تیاری ایک آدھ گھنٹے کی نہیں، اس میں وہ اپنا خاصا وقت صَرف کرتے تھے۔‘‘۔۔۔۔ یہی بات شہریار ؔکے شاگردوں نے شہر یار کے تعلق  سے بتائی کہ انکا لکچر بھی  اس کا مظہر ہوتا تھا کہ اُنہوں نے  اپنے موضوع پر خوب پڑھا ہی نہیں بلکہ خاصا غور و فکر بھی کیا ہے۔  یہ باتیں یوں یاد آئیں کہ بہت دنوں بعد گزشتہ بدھ کو ایک دِینی جلسے میں ہم نے شرکت کی تو  پتہ چلا کہ یہاں بھی پرفارمنس کام کر رہا ہے۔ جلسہ’ تحفظ شریعت‘ کے زیرِ عنوان تھا ۔ بہار کے ایک مولوی صاحب جو احادیثِ نبوی کے مثالی حافظ تھے۔ انہیں سُنا تو  اُنکے حافظے کی داددیتے ہی بنی۔ وہ موضوع دَر موضوع لفظ بہ لفظ حدیث سنا رہے   تھےاور یہ بھی بتا رہے تھے کہ فلاں راوی اور فلاں کتاب کے فلاں صفحے کی فلاں فلاں سطروں  میں یہ  درج ہے اور یہی نہیں کہ اُنہوں  نےصرف احادیث رَٹ رکھی تھیں بلکہ  حالاتِ حاضرہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے حدیث کی روشنی میں اپنی بات بھی کہہ رہے تھے۔ اُنہوں نے لگاتار کوئی ڈیڑھ گھنٹے اپنے مثالی حافظے کا مظاہرہ کیا اور لوگ تھے کہ بس ٹک ٹک دیدم دَم نہ کشیدم کی صورت بنے ہوئے تھے۔
 اُن کے بعد مشہور سُنّی عالِم(خطیب نہیں) یٰسین  اختر مصباحی کو’ تحفظِ شریعت‘ جیسے موضوع پر خطاب کیلئے مہتممِ جلسہ مولانا قمر سلطانپوری نے  مائیک پر دعوت دِی  ۔ موصوف نے بڑی  سادہ بیانی سے  اپنے موضوع کا حق ادا کیا۔  انکی یہ بات ہمارے دِل کو بھی لگی کہ حضرات! آج مسلم پرسنل لا کے تعلق سے ضرورت اس کی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد وہ فارم جو ’’ یکساں سول کوڈ‘‘کے خلاف ہے ،اِنٹر نیٹ پر دستیاب ہے اسے پُر کرے  اورفوراً سے پیشتر رضا اکیڈمی یا کسی اورمسلم ادارے کے ذریعے سپریم کورٹ پہنچائے۔ ورنہ اخبار میں بیان بازی اوریہ  جلسے یہ کانفرنسیں سب بے معنی بلکہ صدا بہ صحرا ثابت ہونگی۔۔۔ ہم نے دیکھا کہ ہمارا مجمع جو کچھ دیر قبل حافظِ حدیثِ کثیرہ کا پرفارمنس جس توجہ اور انہماک سے دیکھ  اور سُن رہا تھا وہ مولانا یٰسین اخترمصباحی کے اس بیان پر کان تو لگائے ہوئے تھا مگر وہ انہماک  ان کے چہروں یا حرکات و سکنات سے  ظاہر نہیں ہورہا تھا ۔ اُن کے چہرے ان کی قلبی صورت ِ حال کے غمازتھے اور مولانا مصباحی کی اپیل کے تاثر سے عاری  تھے۔ بات وہی تھی کہ مولانا یٰسین  اختر مصباحی کوئی پیشہ وَر مقرر نہیں بلکہ   دِین کے ایک مخلص داعی عالم اور ملتِ مسلمہ کے سچے خیر خواہ ہیں۔ انکے ہاں شعلہ بیانی تو کجا  ’’ پرفارمنس ‘‘کی معمولی  سی جھلک بھی نہیں تھی مگر یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے  جو بات کہی  وہ   اس ملت کی ضرورت ہے  جو بیمار ہے یعنی اسے دوا کی ضرورت ہے مگر ہم جیسے  لوگ دیکھتے ہیں کہ ہمارے لوگ مجمع کی خواہش کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔ نتیجے میں ان کو موٹے لفافے کانذرانہ تو حاصل ہو جاتا ہے مگر ملت ِمریضہ  کے حصے میں سوائے محرومی کچھ نہیں آتا۔۔۔۔ اور یہ بات بھی سوچنے  کی ہے کہ ہمارے عوام کا یہ مزاج بنایا کس نے ؟ جیسے بچہ اپنے ہی سرپرستوں کے لاڈ کے نتیجے میں جب بگڑ جاتا ہے تو پھر اس کو کوئی سبق کوئی درس اچھا نہیں لگتا اورنتیجتاً اس کا مقدر زندگی کی ناکامی اور نامرادی ہی  بن جاتی  ہے۔ اس وقت  ایک  بزرگِ دانا کا یہ قول بھی آموختہ چاہتا ہے کہ جو قوم ’ دانش‘ کو اپنی زندگی میں اُتار لیتی ہے وہی زندہ قوم ثابت ہوتی ہے اسکے بر عکس جو   لوگ’ خواہش ‘کے زیرِ اثر جیتے ہیں  ان کا مقدر سوائے تاریکی کچھ نہیں ہوتا۔                                                                                    ندیم صدیقی

Shab o roz-12-11-16.pdf
Shab o roz-12-11-16 copy.jpg

Sharif Academy

unread,
Nov 14, 2016, 1:06:03 PM11/14/16
to bazme qalam--
Sharif Academy has shared a OneDrive file with you. To view it, click the image below.



Shafiq Murad
Ph.Mobile.0049-151-41 41 52 68
Ph.Landline.0049-69-170 788 02
whatsApp-Viber-IMO-0049-152 11 23 27 85
Skype:shafiq17002
Postal Address.
Unter den Kastanien 2
60596-Frankfurt am Main
Germany
????????    ??????????  ???????? ???????? ???? ????
???????? ?????? ?????? ?????? ?????????? ???? 

You'll need Skype CreditFree via Skype

Muqeet Ahmed

unread,
Nov 17, 2016, 2:13:48 AM11/17/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Dilchasp hai andaz magar Kuch Zyadah hi Taweel hogaya. Mann ki bat poori tarha samney nahi ayee



--



--

  عبدالمقیت عبدالقدیر ،بھوکر
سخن فروش ہوں داد ہنر کمانی ہے۔
Abdul Muqeet Abdul Qadeer, Bhokar

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 17, 2016, 5:02:53 AM11/17/16
to BAZMe...@googlegroups.com
شکریہ مقیت احمد صاحب آپ نےتبصرہ فرمایا۔ طوالت کے لئے معذرت قبول کیجئے اور من کی بات پوری طرح سامنے نہیں آئی اس کے لیئے بھی-
خاکسار 
زبیر

Sent from my iPhone

Wadood Sajid

unread,
Nov 17, 2016, 5:06:53 AM11/17/16
to bazme...@googlegroups.com
دینی مدارس کے طلبہ کے لئے
ایم ودودساجد
راشد علی اور ابصار احمد علوی ‘علمی دنیا کے دو ایسے نام ہیں جو محتاج تعارف نہیں ہیں۔اول الذکرعربی زبان کے ماہر ہیں اور پچھلے 40برسوں سے عربی ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔وہ فاضل دیوبند بھی ہیں۔موخرالذکرانگریزی زبان کے ماہر ہیں اوروہ بھی تقریباً تین دہائیوں سے انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ ہاؤسزمیں تربیتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔علوی صاحب علیگڑھ کے تعلیم یافتہ ہیں۔دونوں نے اپنی زندگی کا بیشترحصہ عربی اور انگریزی زبانوں میں ریسرچ پر گزاردیا ہے۔دونوں کو اندازہ ہے کہ اضافی زبان دانی ایک عام انسان یا اہل علم کے لئے کتنی مفید اور ضروری ہے۔راشد علی صاحب کو اس کا بھی اندازہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ اور خاص طورپردارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤکے فارغین عربی زبان وبیان میں خوب مہارت رکھتے ہیں لیکن ان کی اکثریت انگریزی زبان میں کمزور رہ جاتی ہے۔ابصار علوی کو اس کا تجربہ ہے کہ اگر عربی کے ساتھ انگریزی زبان بھی آجائے تو ایک عالم دین کو دنیا کاکوئی بڑے سے بڑا دانشور پچھاڑ نہیں سکتا۔لہذا دونوں نے مل کر دینی مدارس کے طلبہ کے لئے انگریزی زبان سکھانے کا ایک نیااور انوکھا کتابی سلسلہ شروع کیا ہے۔
عربی اور اردوبیک گراؤنڈ رکھنے والوں کو انگریزی زبان سکھانے کی یہ سلسلہ وارکتاب ‘نورانی قاعدہ سے کچھ زیادہ اور یسرنا القرآن سے کچھ کم ضخیم ہے۔فی الحال ’انگلش برائے طلبہ مدارس‘نامی کتاب ہر چار ماہ بعد شائع ہوگی۔اس کے دوایڈیشن آچکے ہیں۔مئی 2016کا پہلا ایڈیشن 64صفحات پر مشتمل ہے جبکہ ستمبر2016کا ایڈیشن68صفحات پر مبنی ہے۔اس نئے سلسلہ کے ذریعہ عربی یا مدرسہ بیک گراؤنڈرکھنے والوں کو انگریزی زبان سکھانے کا بہت ہی موثر اور آسان انداز اختیار کیا گیا ہے۔بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دونوں حضرات نے انگریزی سکھانے کا ایک نیا طریقہ ایجاد یا وضع کیا ہے۔چونکہ راشد علی صاحب فاضل دیوبند ہیں لہذا انہیں معلوم ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ کے سامنے انگریزی حروف تہجی کے تلفظ اور ان کی صوتی ادائیگی میں کہاں دشواری ہوسکتی ہے۔لہذا انہوں نے طلبہ کی تمام ماحولیاتی ضرورتوں اور ان کی صلاحیتوں کو پیش نظر رکھ کرانگریزی نصاب تیار کیا ہے۔پہلے شمارہ کی ابتداانگریزی کے حروف تہجی کی ادائیگی کوصوتی انداز میں لکھ کر کی گئی ہے۔اس کتاب کے ذریعہ طلبہ بغیر کسی استاذ کے بڑی آسانی کے ساتھ انگریزی زبان کے مبادیات سیکھ سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ سلسلہ ابھی اور چلے گا اور طلبہ کو انگریزی کی اے بی سی ڈی سے لے کرانگریزی ادب تک لے جایا جائے گا۔دوسرے شمارہ میں جملہ سازی کا فن بھی شامل کیا گیا ہے۔
ابصار احمد علوی اور راشدعلی صاحبان اس خدمت کو کسی مالی منفعت کی خاطر انجام نہیں دے رہے ہیں۔بلکہ ان کے پیش نظر مسلم نوجوانوں کی وہ لاکھوں کی کھیپ ہے جو علوم نبوی سے آراستہ ہوکر ہر سال دینی مدارس سے فارغ ہوتی ہے لیکن انگریزی میں ہاتھ تنگ ہونے کے سبب نہ تو بڑے پیمانے پرعلوم دین کی اشاعت کا فریضہ ادا کرپاتی ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات پر اٹھنے والے اعتراضات کا موثر جواب دے پاتی ہے۔ظاہر ہے کہ اعتراضات وہ اٹھاتے ہیں جنہیں علوم اسلامی کا ادراک نہیں ہے اور وہ عربی یا اردو سے بھی واقف نہیں ہیں۔دوسرے یہ کہ اگر علوم اسلامی یا عربی ادب کے ساتھ ساتھ انہیں انگریزی بھی آجائے گی تو وہ روزگار کے زیادہ بہتر مواقع پاسکیں گے۔
میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ دینی مدارس میں لوگ اپنے بچوں کو خواہ یہی سوچ کرداخل کراتے ہوں کہ وہ کند ذہن ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ دوسروں کے مقابلے میں انتہائی ذہین ودانشمند ہوتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ مدارس کے فارغین نے جس میدان میں بھی قدم رکھا وہاں محنت کرکے کمال کو پہنچ گئے۔اضافی زبان اور خاص طورپرانگریزی زبان جاننے کے فائدوں کا مجھے خوب تجربہ ہوا ہے۔دنیا کے بیشتر عرب اور غیر عرب ملکوں کے دورہ میں عربی اور فارسی کے ساتھ انگریزی زبان نے مجھے جو فیض پہنچایا ہے اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔اس لئے اگر دینی مدارس کے طلبہ ’انگلش فار مدرسہ اسٹوڈنٹس‘یا انگلش برائے طلبہ مدارس کے مسلسل شماروں کا مطالعہ کریں گے تومجھے یقین ہے کہ وہ بہت جلد انگریزی دانی میں اسی صف میں آجائیں گے جہاں دوسرے کھڑے ہیں۔یہ کتابی سلسلہ النورپبلی کیشنز ‘نئی دہلی شائع کر رہاہے۔اس کے حصول کے لئے خود علوی صاحب سے فون نمبر9312438284پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ 

--
M Wadood Sajid
Editor-in-chief
VNI &
Media Adviser to
President IICC
New Delhi.
9810041211

20161116_164940-1.jpg

Firoz Hashmi

unread,
Nov 18, 2016, 4:34:49 AM11/18/16
to BAZMe...@googlegroups.com
پہلے کی طرح اِس بار بھی آپ کی تحریر عمدہ ہے۔ بہت ہی بہتر نقشہ کھینچا ہے۔
مبارکباد قبول فرمائیں۔
فیروزہاشمی

2016-11-10 17:08 GMT+05:30 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>:

--



--
Mohammad Firoz Alam 

Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA

Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 18, 2016, 5:38:03 AM11/18/16
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمی و مکرمی فیروز ہاشمی صاحب جزاک اللہ - آپ جیسے اہل فکر و قلم حضرات کی ہمت افزائی ہمارے قلم کے  لئے تقویت کا باعث ہے-
خاکسار
زبیر


Sent from my iPhone

mohammad O Rahman

unread,
Nov 20, 2016, 7:03:52 PM11/20/16
to BAZMe...@googlegroups.com



Sent from Outlook

Zubair H Shaikh

unread,
Nov 22, 2016, 6:38:00 AM11/22/16
to bazme...@googlegroups.com

" میری زبان کو بھی  محفوظ  کر لیجیے'  می لارڈ !! ....."

زبیر حسن شیخ



آڈر آڈر، ملزم سے معلوم کیا جائے اس کا کیا  کہنا ہے ...... کورٹ فیصلہ سنانا چاہتا ہے، اور اس طویل مقدمہ کے فیصلہ کو  قلم بند کرنا چاہتا ہے.. ایسا محسوس ہوتا ہے یہ عدالتی کاروائی کئی سو سال سے جاری ہے ... مکمل دستاویز بھی دستیاب نہیں .... پروسی کیوشن پلیز پروسیڈ ...... اپنی آخری دلیل پیش کیجیے ....

می لارڈ ...... یہ ایک سمجھدار مجرم ہے ....آپ اسکی باتوں پر خاصکر اس کی زبان پر غور کیجیے.. یہ اسی زبان کا پڑھا لکھا معلوم ہوتا ہے.... مجرم  کو جرم کرتے ہوئے یقینا احساس تھا..... علم تھا می لارڈ کہ یہ جرم کر رہا ہے... اور جس کی سزا ملتی ہے ..کڑی سزا می لارڈ ....

می لارڈ  میں  ملزم کا وکیل گزارش    کرتا ہوں ...... فیصلہ سنانے سے پہلے ملزم کو بولنے کی اجازت دی جائے می لارڈ .....

اجازت ہے...

 جناب اب آپ  بتائیے  حقیقت کیا  ہے ؟

میرے محترم میں کیا  کہہ  سکتا ہوں ....  مجھے کیوں لایا گیا یہاں ؟ .... آپ حضرات کیا چا ہتے ہیں  مجھ سے ....حضور والا  میرا جرم کیا ہے مجھے اس کا علم ہونا چاہیے... جناب یہ عدالت میں بیٹھے اہل خبر و نظر مجھے گھور کیوں رہےہیں... یہ سب آپس میں  کیا کہہ رہے ہیں جناب .....

آرڈر.. آرڈر.... پروسیکیوشن پلیز

یس می لارڈ... اس مجرم کی زبان پر غور کیا جا ئے می لارڈ .....اس مجرم کو جاسوسی اور  اینٹی نیشنل ایکٹیویٹی کے جرم میں عمر قید... اور زبان  کو آلۂ   قتل  بنانے کے جرم میں  پھانسی کی سزا ہونی چا ہیے...... آئی استڑونگلی ڈیمانڈ دی جسٹس می لارڈ.....

می  لارڈ ...ملزم کا وکیل ہونے کی حیثیت سے... آئی آبجیکٹ می لارڈ ...میرے فاضل دوست بار بار اس بے قصور کی زبان کی طرف اشارا کر رہے ہیں جو ارریلیونٹ ہے می لارڈ...نو می لارڈ.... اٹ از ویری مچ ریلیونٹ..... اینڈ آئی اسٹرونگلی آبجیکٹ...اس زبان کا گہرا تعلق ہے می لارڈ..دور دور تلک ہے می لارڈ ... انقلاب سے.. بغاوت سے ….. ..  اسکی زبان کی دھار ، اسکی کاٹ دیکھیے  می لارڈ ..... رحم  کا نام  نہیں ہے  ..... آبجکشن سسٹینڈ...... تھینک یو می لارڈ ...مجھے مجرم سے  سوال پوچھنا ہے  می لارڈ.... اجازت  ہے .

اب آپ  یہ بتائیے  کہ کیا آپ پڑھے لکھے ہو؟ ... جی نہیں حضور ...... آپ کبھی اسکول گئے ہی نہیں؟.. آپ جاہل ہو؟... آپ قانون سے لا علم ہو ؟... ہاں  حضور... پھر اتنے مہذب انداز میں کیسے بات کرلیتے ہو... جناب  دراصل   یہ ہماری مادری زبان ہے... ہم لوگ سینکڑوں برسوں سے اسی مہذب  زبان میں بات کرتے ہیں..... آپ کی اس زبان کا کیا نام ہے ؟    اردو ہے  اس کا نام جناب.......

 می لارڈ بس مجھے یہی ثابت کرنا تھا.....اس زبان کا تعلق کس کس سے اور  کہاں کہاں  تک ہے.. دور   دور تلک ہے  می  لارڈ ....اور  یہ آنریبل کورٹ سے کچھ چھپا نہیں ہے می لارڈ........

می لارڈ پروسیکیوشن کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ملزم کی مادری زبان کو بنیاد بنا کر اسے مجرم ثابت کرے ... میں ملزم  کا وکیل اس سے کچھ سوال جواب کرنا چاہتا ہوں می لارڈ...... اجازت ہے......بھائی صاحب تفصیل سے جج صاحب کو بتائیے کہ کیا ہوا تھا....

حضور والا میرے پڑوسی کے ہاتھ سے ملک کا جھنڈا دریا میں گر گیا تھا..... اسے  حاصل  کرنے  کی تگ و دود میں تیراکی کرتے ہوئے میں  چیختا پکارتا   آرمی کیمپ کے قریب  پہنچ گیا کہ     ملک کا وقار  بچا ئیے  .. خطرے میں ہے.......

می لارڈ یہ جھوٹ بول رہا ہے....پوائینٹ ٹو بی نوٹیڈ می لارڈ ... "پڑوو  و وسی ی  ی...  کا جھنڈا..." ... نہیں حضور والا.... پڑوسی کے ہاتھ سے گرا ہوا جھنڈا کہا ہے میں نے ........

می لارڈ ملزم کے وکیل کی   حیثیت سے...مجھے کہنے دیجیے.....  ملزم اور اسکے جیسے بے شمار لوگوں کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہورہی ہے..... انہیں تعلیم نہیں دی گئی ہے می لارڈ جو انکا بنیادی حق ہے.... انہیں نہ آرٹیکل ٣٢ معلوم ہے اور نہ دیگر بنیادی قوانین .......اور آپ.... میں... اور میرے فاضل دوست، یہاں بیٹھے حضرات .... ہمارا سماج سب اس کے ذمہ دار ہیں......ملزم کو بولنے دیجیے می لارڈ .....

آئی ویری اسٹرونگلی  آبجیکٹ می لارڈ..... میرے فاضل دوست اس مجرم کو بچانے کے لئے ہم سب کو گنہہ گار بنارہے ہیں..آپکو، حکومت کو،  ہم پڑھے لکھے لوگوں کو اور آنریبل کورٹ کو می لارڈ..یہ ظلم ہے  می لارڈ ....

آبجیکشن  سسٹینڈ ......  لیکن ملزم اپنا بیان جار ی  رکھ  سکتا ہے ....

حضور والا اور فاضل وکیل صاحبان مجھے بولنے دیجیے  .... آپ سب تمام عدالتی کاروائی میری اسی  مہذب زبان میں کر رہے ہو... جسے اردو کہتے ہیں..... بس چند الفاظ تکلفا انگریزی کے استعمال کر رہے ہو.... اتنے برسوں سے یہ مقدمہ جاری ہے اور میری اسی زبان میں ہی جاری ہے...  جسے اردو کہتے ہیں.. ہم سب عدالت میں اسی زبان کے بیشتر الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال کر رہے ہیں... ان الفاظ پر غور کیجیے حضور والا...  بقول فاضل وکیل صاحب ان کا تعلق کتنا گہرا ہے ... کس کس سے... اور  کہاں کہاں تک ہے ...اور کتنے برسوں سے ہے.... دیکھیے تو ذرا اس تعلق کو ..... دستاویز،  مہربانی  حضور...عدالت ، کاروائی،  یقینا  قانون حضور ! ....اجازت  جرم مکمل حضور  !.... ملزم  الزام   دلیل  دستیاب حضور !...ملک لا علم حضور ،  فاضل ،گنہ گار حکومت حضور ! .... مقدمہ  طویل ، خاص، احساس حضور ....   ظلم  ، عمر قید، نا انصافی قتل حضور  ..حقیقت  حضور حقیقت ......رحم !  حضور والا   لفظ   رحم   ... اس کا تعلق  دیکھیے ازل سے ہے  اور   چودہ  سو سال   کے تو  ناقابل تردید  تحر یری  ثبوت  ہیں .....بلکہ ان  الفاظ میں سے اکثر  کے  ہیں .... اور سب سے بڑھ کر وقار حضور والا..... وقار ... ملک کا وقار ..... یہ  تمام  الفاظ  میری اردو زبان کے ہیں ....جس نے عدالت کو مہذب بنایا ہے حضور والا.... دستاویز  موجود ہے حضور والا  ...اور لفظ دستاویز خود اس کا گواہ ہے   ...

آئی اسٹرونگلی آبجیکٹ می لارڈ...  دس از اے کنٹیمپٹ آف کورٹ می لارڈ......

آبجیکشن سسٹینڈ...

آرڈر آرڈر... یہ عدالت ملتوی کی جاتی ہے اور عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے...... اگلی تاریخ ٢٥ دسمبر ٢٠٥٠  .....

حضور والا .. کچھ  انصاف کیجیے.....  تب تک  میں زندہ نہیں  رہوں گا.....  لیکن میری  زبان کو تو زندہ رہنے دیجیے  .... میری زبان کو بھی فیصلے کے ساتھ محفوظ  کر لیجیے....حضور یہ مر جائیگی ...میری'  آپ سب کی   ماں  مر جائیگی حضور .....

 آرڈر  آرڈر .. اسکے ذمہ دار  ہم نہیں تم خود ہو نگے ......دی کورٹ  از اڈجرنڈ.....

Nadeem Siddiqui

unread,
Nov 28, 2016, 8:54:10 AM11/28/16
to

 روزنامہ ’’ ممبئی اردو نیوز‘‘
 کاتازہ کالم’’شب و روز‘‘

  صرف ’جشن ِ مولانا حساؔن  ندوی‘ نہیں یہ تو پوری بھیونڈی کا اعزاز ہے
 مولانا ابو ظفر حسّان ندوی  ازہری کی شخصیت بھیونڈی ہی نہیں بلکہ پورے مہاراشٹر  کے مسلمانوں میں تکریم واحترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ اس کا یہ سبب صرف ان کی تبحر ِعلمی ہی نہیں بلکہ ان کا کردار اور اخلاق بھی ہے۔ یہ وہی اخلاق ہے جو ہمارے دینِ اسلام کی اساس کہا جاتا ہے۔
  مولانا ابوظفر حسان ندوی  چالیس برس سے زائد مدت سے بھیونڈی میں مقیم ہیں  چونکہ بھیونڈی ممبئی سے بہت دور نہیں بلکہ کل تک  عروس البلاد ممبئی کا نواحی  قصبہ سمجھا  جاتا  رہاہے، دوسری وجہ یہ بھی    ہے کہ یہ شہر مزدوروں اور تجارت پیشہ لوگوں کا مسکن  ہے۔  ملک میں جب انگریزوں کے زمانے میں’ غدر‘کی صورتِ حال  پیدا ہوئی اور نتیجے میں ملک بھر سے   ہجرت کر کے  لوگ جوق دَر جوق  دور دراز کے جن شہروں میں پہنچے ۔ انہیں شہروں میں  سے ایک شہر بھیونڈی بھی ہے جس  نے ایک بڑی تعداد میں بالخصوص شمالی ہند سے آنے والے مسلمانوں کو پناہ  دِی  اور اب  اس عمل کو  ایک طویل مدت ہی نہیں بلکہ ڈیڑھ  صدی گزر گئی۔ ان مہاجر خاندانوں میں ایسے بھی   اشخاص ہم نے دیکھے ہیں کہ جن کے  جدِ امجد یہاں آئے تھے اور  اُن کی نئی نسل نے اسی شہر میں اپنی آنکھیں کھولیں اور مزدوروں کی اسی بستی میں پروان چڑھی۔ ان لوگوں میں کئی  افراد گزرے ہیں جنہوں نے سماج میں اپنا ایک تشخص بنایا ۔
 آج سے کوئی پچاس ساٹھ  برس قبل تک زندگی کرنا بہت مشکل تھا۔ لوگوں کو اپنے اور  اپنے لواحقین کیلئے  دو وقت کی روٹی کا حصول بھی بڑا پہاڑتھا چہ جائیکہ علم حاصل کرنا۔ مگر ایسی فضا میں بھی اس  ٹاؤن میں ایسے  جفا کش پیدا ہوئے  جنہوں نے خود ہی علم حاصل نہیں کیا بلکہ دوسروں کیلئے بھی  راہیں روشن کر گئے۔  ایک دو نام نہیں   ہمارے ذہن  میں بھیونڈی کے کئی نام ہیں جن میں سے چند نام جوبالکل سامنے کے ہیں  ، وہ غلام محمد مومن، شبیر احمد راہیؔ (مرحومین)کے ہیں۔ صرف یہ دو حضرات ایسے ہیں کہ جن کے نام بھیونڈی کے  انصاف پسند حضرات  تادیر نہیںبھولیں گے ۔ ہماری  ناقص معلومات کے مطابق  اسی شہر کےیہی حضرات ہیں جو اپنے دَور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں میںاوّل اوّل تھے۔ شبیر احمد راہیؔ  کے نام  کے ساتھ M.A. کا لاحقہ ایک ضروری امر تھا۔ اسی طرح  مرحوم غلام  محمد مومن  B.A. ساری بھیونڈی میں قابل فخرسمجھے جاتے تھے۔  غلام محمد مومن، ( جی ایم مومن گرلس کالج انہی سے موسوم ہے)علم  ہی سے تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ انکی دلچسپی سیاسیات سے بھی رہی ۔ وہ   مقامی سیاست میں ایک  نمایاں مقام کے حامل شخص تھے۔ انکے ورثا میں وقار مومن،  اسرار مومن اور  ابرار مومن (صاحبان) آج   بھیونڈی کے ممتازاشخاص میں ہیں ۔ وقار مومن اسی شہر  سے مہاراشٹر اسمبلی کے  رُکن منتخب  ہو چکے ہیں  ، اسرار مومن اور ان کے برادر ِخورد ابرار مومن بھیونڈی کے مشہور ڈاکٹروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسی شہر سے  اٹھنے والے گو نا گوں صلاحیت کے حامل ڈاکٹر ریحان انصاری بھی دور قریب معروف ہی نہیں مشہور بھی ہیں جن کا تعلق شبیر احمد راہی ؔکے خانوادے  سے ہے۔ واضح رہے کہ’ شبیر احمد راہی ایم اے‘ جو ایک اچھے شاعر اور مومن مزاج تشخص رکھتے تھے وہ بھی اپنے  زمانے  میں بھیونڈی کی سیاست میں خاصے متحرک تھے۔ ان کی شعلہ بیانی کی آنچ تو  بہت دور تک محسوس کی جاتی تھی۔  یہ تو ہم نے  دو نام لے لیے مگر اس بستی میں  اپنے اپنے شعبے میں ایسے کئی اشخاص گزرے  ہیں بلکہ بعض آج بھی  ہیں۔  محنت کشوں  اور مزدورں کے اس شہر میں علم کی شمع کاروشن رہنا عجب نہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو تعجب ہوتا۔
1973  کا زمانہ تھا جب بھیونڈی ہی سے مولانا ابو ظفرحسان ندوی  نے اپنی عملی زِندگی کا آغاز کیا تھا۔ علم کا حصول  و تدریس ہمارے ہاں دونوں عمل کسی بھی عبادت سے کم نہیں۔جو ملک کی ممتاز دِینی  درس گاہ ’ندوۃ العلما(لکھنؤ)‘  سے فراغت کے بعد دُنیا کی ایک عظیم و قدیم  یونی ورسٹی ’’جامعۂ ازہر‘‘  میں بھی  مولانا ابو ظفر حسان ندوی   نے حصول ِعلم کا شرف حاصل کیا اور پھر اُنہوں نے بھیونڈی جیسی بستی ہی کو اپنے حصولِ رزق  کےلئے منتخب کیا ۔  یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اُس زمانے میں شہر کے قلب میں رئیس ہائی اسکول جیسی درس گاہ کام کر رہی تھی۔ مولانا موصوف نے  بھیونڈی کی نواحی بستی جو ’ کھاڑی  پار‘‘ کے نام سے جانی جاتی تھی۔  غریبوںکی  اس بستی میں قائم ہونے والی ایک درس گاہ میںخاصی مدت درس و تدریس کاکام کیا۔ کھاڑی پار (بھیونڈی)کا یہ  علاقہ جو، اب خود ایک شہر سے کم نہیں۔ اُس زمانے میں یہاں کا م کرنا  آسان نہیں تھا۔ مگر  مولانا حسان، ہی کیا جو آسانی اختیار کریں۔ اُنہوں نے  یہاں پسماندہ طبقے کے کتنے  ہی نوجوانوں  کے ذہنوں کو نور ِعلم سے مجلا کیا۔ اب  حسان صاحب  اپنی تدریسی خدمات سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔ مگر وہ  جو کہا جاتا ہے کہ وہ معلم نہیں، جو اپنے فرض سے ’سبکدوش‘ ہوجائے۔ وہ آج بھی  اپنے حلقے میں اپنی صحبت سے اپنی گفتگو سے علم و ادب کی روشنی عام کررہے ہیں۔ حسان ندوی کو جو امر دوسروں سے ممتازکرتا ہے وہ صرف انکے علم کا تبحرنہیں بلکہ ان کا متنوع ذوق بھی  بہت اہم ہے۔ وہ  صرف علمِ دین ہی تک  محدود نہیں رہے ۔ وہ شعر و ادب اور علم کے دیگر شعبوں میں بھی درک رکھتے ہیں اور ایک ماہر کی طرح سیر حاصل گفتگو کر تے ہیں۔ یہی  وہ وصف ہے جسکے سبب ہمارے معاشرے کے ہر طبقے میں اُنھیں عزت و  احترام حاصل ہے۔ وہ  مولانا ضرورہیںمگر ان  کے مزاج کی شگفتگی  اور علم و ادب سے قلبی وابستگی نے انھیں’ مولی صاحب‘ جیسے تنگ نائے سے نکال کر ایک کشادہ قلبی اور کشادہ  ذہنی جیسی نعمت سے ہمکنار کر رکھا ہے۔
مولانا حسان ندوی سے ہمیں کوئی چالیس برس سے نیازحاصل ہے۔ ہم پورے یقین و اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ   موصوف ہمارے  ہاں گنے چنے ان  علمائے دین میں  نہایت   ممتاز تشخص رکھتے ہیں جو ہر طرح کے بالخصوص  ’’ مسلکی‘‘  تعصب سے پاک ہیں۔ ہمیں محسوس  ہوا کہ ان میں  یہ   وصف  اُنکے بزرگوں کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ جو   بڑی بات ہے۔ یہاں صرف ایک و اقعہ ہم نقل کرنا چاہتے ہیں جو جامعۂ ازہر (مصر)  میں حصولِ تعلیم کے زمانےکا ہے۔ یہ وہی زمانہ  تھا جب  جامعۂ ازہرمیں  نبیرۂ اعلیٰ حضرت، مولانا اختر رضا خان بھی  زیرِ تعلیم تھے۔ ہر چند کہ وہ سینئر طالب علم تھے مگر پردیس میں سینئر جونئیر کا فرق از خود معدوم ہوجاتا ہے۔ ایک دن  اختررضا خان  صاحب نے حسان ندوی سے کہا کہ’ ’حسان! بہت دن ہوگئے مَیں نے  دادا جان کا سلام’ مصطفیٰؐ جان ِ رحمت پر لاکھوں سلام‘ نہیں پڑھا، آج جی چاہتا ہےکہ پڑھوں مگر یہاں  سننے والا کوئی نہیں۔‘‘
 مولانا حسّان ندوی نے برجستہ جواب دِیا کہ ’’آپ سلام پڑھیں، میں سنوں گا ہی نہیں بلکہ آپ کا ہم نوا بھی  رہوں گا۔‘‘
 یہ سطریں لکھتے ہوئےہماری آنکھیں نم ہوگئیں کہ اب ہمارے ہاں ایسی کشادہ قلبی معدوم سی ہوگئی ہے۔ بھیونڈی کا ’’اُردو قبیلہ‘‘  سنیچر 26نومبر کو اپنے اس محسن کا جشن منا رہا ہے۔ یہ  اعزاز مولانا حسان ندوی ازہری ہی کا اعزاز نہیں یہ اُس بھیونڈی کا بھی اعزاز واکرام  ہے جو علم   و ادب دوست  ہے ،جو غیروں کو بھی اپنا نے کا ظرف رکھتا ہے۔ بھیونڈی کے اس علم  و عالِم دوست معاشرے کو ہم مبارک باددیتے ہیں جس نے اکثر  اوقات اپنے زندہ ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔                                            ندیم ۔صدیقی


--
NadeemSiddiqui
Hassan Nadvi23-11-16.jpg
Shab o roz-26-11-16 copy.jpg
Shab o roz-26-11-16.pdf

Nadeem Siddiqui

unread,
Nov 28, 2016, 11:29:09 AM11/28/16
to
Shab o roz-26-11-16 copy.jpg
Shab o roz-26-11-16.pdf
Hassan Nadvi23-11-16.jpg

Halqua Adab-e-Islami Qatar

unread,
Dec 3, 2016, 9:16:27 AM12/3/16
to
رپورٹ ماہانہ ادبی اجلاس نومبر 2016 حلقہ ادب اسلامی قطر


IMG-20161111-WA0038.jpg
IMG-20161111-WA0023.jpg
Nov16 Report.inp
Rprt-Nov-2016.gif
Rprt-Nov-2016.gif002.gif
Rprt-Nov-2016.gif003.gif

Muzaffar Hussain

unread,
Dec 3, 2016, 11:59:35 PM12/3/16
to بزمِ قلم گروپ, Aamir Usmani
Janab Shakeb sahib, bahut Omdah report.

Bazme Qalam ke araakeen ki janib se mubarakbad qubool fermaeN,

Muzaffar Nayab

On Tue, Nov 29, 2016 at 1:04 PM, Halqua Adab-e-Islami Qatar <hai.if...@gmail.com> wrote:
رپورٹ ماہانہ ادبی اجلاس نومبر 2016 حلقہ ادب اسلامی قطر





--
Best Regards

M. Muzaffar Hussain Nayab
Doha, Qatar
 
 
 


iqbal rizvi

unread,
Dec 6, 2016, 7:43:16 AM12/6/16
to Adabdotcom, 5BAZMeQALAM Group, Ordu_adab, Guzargahey Khyal, آALIGARH URDUCLUB

RabeelAwwal key mauqe per ek Naat Jo 4 saal qabl likhee gayee thee  us waqt k mahul mein
.....pesh e khidmat hai:
 
نعت
سید اقبال  رضوی شارب

 
 
ممکن   نہیں کسی سے اہانت رسول کی
اک سعیِ رائیگاں ہے یہ محنت فضول کی
 
کوشش  ہوئی  ہے جب بھی مخالف بہے ہوا
دنیا میں کچھ سِوا  ہوئی   عزّت رسول کی
 
پامال کر  رہے  ہیں جو ہرطرح   کے حقوق
ان کےہی لب پی رہتی ہیں باتیں اصول کی
 
مغرب  نے خوب  زورِ  تعصّب  لگا  لیا
خوشبو ذرا  نہ کم ہوئی عصمت کے پھول کی
 
بدنام  کرنے   مرسلِ   اعظم    کو  جب  چلا
کافر  کو   کوبہ کوملی  شہرت   رسول کی
 
 شارب جو اہل بیت  سے  رکّھے  مخاصمت
    اسکے لئے  نہیں ہے   شفاعت   رسول کی

mir ali

unread,
Dec 6, 2016, 3:38:27 PM12/6/16
to BAZMe...@googlegroups.com
subhanAllah   Sharib Sahab....bahot umdah naàt kahi hai aap nay...

JazakAllah

Mir Ali



From: 'iqbal rizvi' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com>
To: Adabdotcom <adabd...@googlegroups.com>; 5BAZMeQALAM Group <bazme...@googlegroups.com>; Ordu_adab <ordu...@yahoogroups.com>; Guzargahey Khyal <guzergah...@yahoogroups.com>; آALIGARH URDUCLUB <aligarh_...@yahoogroup.com>
Sent: Tuesday, December 6, 2016 7:42 AM
Subject: [بزم قلم:53775]

iqbal rizvi

unread,
Dec 6, 2016, 11:40:39 PM12/6/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Mamnoon hun Mir Ali sahib

biswinsadi biswinsadi

unread,
Dec 6, 2016, 11:55:42 PM12/6/16
to BAZMe...@googlegroups.com

bahut khoob naat pak kahi aap ne Allah jaza e khair se nawaze


On 07-Dec-2016 8:40 am, "'iqbal rizvi' via بزمِ قلم" <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:
Mamnoon hun Mir Ali sahib
 


On Tuesday, December 6, 2016 11:38 PM, 'mir ali' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:


subhanAllah   Sharib Sahab....bahot umdah naàt kahi hai aap nay...

JazakAllah

Mir Ali



From: 'iqbal rizvi' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com>
To: Adabdotcom <adabd...@googlegroups.com>; 5BAZMeQALAM Group <bazme...@googlegroups.com>; Ordu_adab <ordu...@yahoogroups.com>; Guzargahey Khyal <guzergah-e-khayal@yahoogroups.com>; آALIGARH URDUCLUB <aligarh_urdu_club@yahoogroup.com>

M M KHAN

unread,
Dec 7, 2016, 1:00:33 AM12/7/16
to BAZMe...@googlegroups.com
واقعی بہت اچھی نعت پاک کہی ہے۔ شارب کے جزبات کو اللہ قبول فرمائے۔آمین۔
محمد مسلم خان



Sent from my Samsung Galaxy smartphone.

-------- Original message --------
From: 'iqbal rizvi' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com>
Date: 12/7/16 07:40 (GMT+03:00)
Subject: Re: [بزم قلم:53779]

Mamnoon hun Mir Ali sahib
 


On Tuesday, December 6, 2016 11:38 PM, 'mir ali' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:


subhanAllah   Sharib Sahab....bahot umdah naàt kahi hai aap nay...

JazakAllah

Mir Ali



From: 'iqbal rizvi' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com>
To: Adabdotcom <adabd...@googlegroups.com>; 5BAZMeQALAM Group <bazme...@googlegroups.com>; Ordu_adab <ordu...@yahoogroups.com>; Guzargahey Khyal <guzergah...@yahoogroups.com>; آALIGARH URDUCLUB <aligarh_...@yahoogroup.com>

iqbal rizvi

unread,
Dec 7, 2016, 5:13:50 AM12/7/16
to BAZMe...@googlegroups.com
shukria bahot duaon k liye M M Khan saheb

iqbal rizvi

unread,
Dec 7, 2016, 5:16:08 AM12/7/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Mashkoor hun Biswinsadi sahib/saheba
Sharib

Gul Bakhshalvi

unread,
Dec 7, 2016, 8:32:00 AM12/7/16
to Aijaz .Shaheen
ماشاء اللہ بہت خوب

--



--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786

Tanwir Phool

unread,
Dec 7, 2016, 9:10:28 AM12/7/16
to Adabdotcom, 5BAZMeQALAM Group, Ordu_adab, Guzargahey Khyal, Tanwiruddin Ahmad
سبحان اللہ ، بہت خوب ، ماشا ء اللہ
داد اور دلی مبارک باد قبول کیجئے
والسلام    ، تنویرپھول

iqbal rizvi

unread,
Dec 7, 2016, 3:53:49 PM12/7/16
to BAZMe...@googlegroups.com, Adabdotcom, Ordu_adab, Guzargahey Khyal, Tanwiruddin Ahmad
shukria Tanwir Phool sahib
sharib


iqbal rizvi

unread,
Dec 7, 2016, 3:55:32 PM12/7/16
to BAZMe...@googlegroups.com
Bahot nawazish Gul sahib
sharib


On Wednesday, December 7, 2016 4:31 PM, Gul Bakhshalvi <gulbak...@gmail.com> wrote:


ماشاء اللہ بہت خوب

2016-12-06 17:42 GMT+05:00 'iqbal rizvi' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com>:

RabeelAwwal key mauqe per ek Naat Jo 4 saal qabl likhee gayee thee  us waqt k mahul mein
.....pesh e khidmat hai:
 
نعت
سید اقبال  رضوی شارب

 
 
ممکن   نہیں کسی سے اہانت رسول کی
اک سعیِ رائیگاں ہے یہ محنت فضول کی
 
کوشش  ہوئی  ہے جب بھی مخالف بہے ہوا
دنیا میں کچھ سِوا  ہوئی   عزّت رسول کی
 
پامال کر  رہے  ہیں جو ہرطرح   کے حقوق
ان کےہی لب پی رہتی ہیں باتیں اصول کی
 
مغرب  نے خوب  زورِ  تعصّب  لگا  لیا
خوشبو ذرا  نہ کم ہوئی عصمت کے پھول کی
 
بدنام  کرنے   مرسلِ   اعظم    کو  جب  چلا
کافر  کو   کوبہ کوملی  شہرت   رسول کی
 
 شارب جو اہل بیت  سے  رکّھے  مخاصمت
    اسکے لئے  نہیں ہے   شفاعت   رسول کی
--
www.kitaabistan.com
 
www.hudafoundation.org/
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/ forum/#!forum/bazmeqalam



--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786

iqbal rizvi

unread,
Dec 7, 2016, 11:31:35 PM12/7/16
to adabd...@googlegroups.com, 5BAZMeQALAM Group, Guzargahey Khyal, Ordu_adab, آALIGARH URDUCLUB
Wassalam,

baht shukria Abida Rahmani Saheba

sharib


On Thursday, December 8, 2016 5:56 AM, Abida Rahmani <abida.r...@gmail.com> wrote:


جزاک اللہ خیرا اچھی نعت ہے سبحان اللہ۔

عابدہ
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to adabdotcom+...@googlegroups.com.
--
Sent from Gmail Mobile
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to adabdotcom+...@googlegroups.com.

To post to this group, send email to adabd...@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/adabdotcom.

Nadeem Siddiqui

unread,
Dec 12, 2016, 12:12:17 PM12/12/16
to
 روزنامہ ’’ ممبئی اردو نیوز‘‘ کا تازہ کالم
 شب و روز
10دسمبر۲۰۱۶

’’ اُردو سے کیا ملتا ہے؟ ‘‘ اور لتا منگیشکر کا اعتراف !
گزشتہ بدھ کو اُردو کے تمام قارئین نے  لتا منگیشکر  کے حوالے سے یہ خبر ضرور پڑھی ہوگی ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ اُردو کے بہتر تلفظ کی  وجہ سے مجھے عروج  نصیب ہوا۔‘‘
 لتا منگیشکر کو گائیکی کی دُنیا میں آدھی صدی سے کہیں زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ انکے گائے ہوئے نغمے ہمارے دَور کے کلاسک سرمایہ بن چکے ہیں۔  انہوں نے  اپنے انٹروِیو میں   واضح طور پر کہا  ہے کہ
’’ ان کے گانے پر کے ایل سہگل کے طرز کا کافی اثر ہے اور سہگل صاحب جس طرح سے اردوتلفظ ادا کرتے ہیں ، مَیںوہی انداز اپنانے کی کوشش کرتی تھی،میں نورجہاں کو بھی سنتی اور ان کے انداز کو پسند کرتی تھی ، لیکن میری یہی بھی کوشش رہی کہ کسی کی نقل نہ کروں اور اپنا اسٹائل بنانے کی کوشش کر تی تھی۔
لتا منگیشکر نے اس موقع پر ماسٹر غلام حیدر،مدن موہن،جے دیو اور نوشاد علی کو بھی یاد کیا او راعتراف کیا کہ انکا بھی کافی اثر رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوشاد نے ہمیشہ اردوتلفظ پر مجھے توجہ دینے کی ہدایت کی اور ان لوگوںنےمدد کی اور ساتھ دیا، اس طرح ان  شخضیات سے بہت کچھ(اُردو) سیکھنے میں مددملی۔‘‘
  لوگ بتاتے ہیں کہ لتا  کے اُردو تلفظ  کےلئے دلیپ کمار کی دلچسپی اور ان کی مدد بھی  شامل رہی ہے۔
ذرا سوچئے کہ آدھی صدی قبل   مراٹھی پس منظر رکھنے والی ایک لڑکی اپنے معاشرے سے نکلی اور اس نے   فلموں کےلئے اُردو (ہندی) کے بیشمار  نغمے ریکارڈ کروائے۔
  ہمیں حال ہی کااپنا ایک ریلوے کا سفر بھی یاد آتا ہے ۔ سلیپر کلاس میں ہم  لور (نچلی) برتھ پر  لیٹے ہوئے تھے ،سامنے کی  لور (نچلی) برتھ پر اکیس بائیس برس کی ایک خاتون اپنے تین چار سال کے بیٹے کے ساتھ کوٹہ کےلئے سفر کر رہی تھیں۔ بچّے کی طرف ہماری توجہ  مبذول ہوئی صرف اس وجہ سے کہ اس کا لہجہ اُردو سے بہت  مماثل تھا۔ تقریباً بارہ گھنٹوں کے سفرمیں ہم نے اُس بچّے کے منہ سے زیڈ(Z) کا تلفظ جیڈ نہیں سنا۔ اسی طرح سے  دوسرے الفاظ کے مخرج بھی ہمیں متوجہ کر رہے تھے۔
 ہم سے رہا نہیں گیا  اور ہم نے  زور سے آواز لگائی کہ اس  لڑکے کا کیا نام ہے۔ اس نے اپنا نام تو نہیں مگرسر نیم ’’ گپتا‘‘ بتایا ۔
 اسی طرح ہمیں سولا پور کا جواں سال میور اِنڈی بھی یاد آیا کہ   سولا پور کے ایک سفر میں ہمیں بتایا گیا کہ  یہاں کے ایک نوجوان میور انڈی کو ہم لوگ اس کی اردو  سے دلچسپی اور اُردودَانی پر آج  مئیرسولا پور کے ہاتھوں ایک ایوارڈ دے رہے ہیں ، آپ بھی اس کی حوصلہ افزائی کے لئے اس تقریب میں شرکت کیجیے، ہم نے  نہ صرف اس جلسے میں شر کت کی بلکہ اس کو   دوسرے دن  اپنے ہوٹل میں بلا کر اس سے کوئی ڈیڑھ گھنٹے گفتگو کی تو حیرانی ہوئی کہ وہ  عربی زبان کی  شد بُد بھی رکھتا ہے بلکہ اس زبان کی جزئیات سے بھی واقف ہے۔  مزید گفتگو کی تو  پتہ چلا کہ میور ایک مدت شارجہ  میں کام کر چکا ہے اور اُس نے شارجہ قیام کے دوران عربی زبان سیکھنے کی نہ صرف کوشش کی  بلکہ  اسلام کے بارے میں بھی اس کی معلومات ہمارے لئے حیرت انگیز تھیں۔
  ان باتوں  کے  تذکرے سے مطلوب یہ ہے کہ  وہ لوگ  جن کی   مادری زبان کچھ اور  ہے وہ کوشش اور مشق کر کے تو اپنی اصلاح ہی نہیں بلکہ اپنی علمی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں اور ہمار ی  اکثرنئ نسل اس معاملے میں پیچھے ہی نہیں بلکہ اسے  اپنی  زبان اور اس کی نزاکتوں سے کوئی دلچسپی  ہی نہیں۔ یاد آتا ہے کہ  ایک سینئر اور اعظم گڑھ جیسےخطّے سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل صاحب سے ہم گفتگو کررہے تھے۔ موضوع اُردو کی گرتی ہوئی صورت ِحال تھی۔  وکیل صاحب کے دفتر میں  ہم سے کچھ فاصلے پر  ان کا داماد بھی  بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ہماری گفتگو میں اچانک مداخلت کی  اور بول بیٹھا کہ اُردو سے آخر کیا ملنے والا ہے ۔؟ آپ لوگ  اُردو اُردو کیوں کر رہے ہیں،۔۔۔ آخر ہم اُردو کیوں سیکھیں ا س سے کیا ملے گا۔؟
ہم اُس کی اِس  مداخلت بیجا پر حیران اور اس کے خسر جو  اس کے چچا بھی  تھے، پریشان  ہوئے اور  وکیل صاحب ہم سے آنکھیں چرا نے لگے۔    یوپی کے ہم مسلمان بہت سی روایتوں کےعادی ہیں جس میں ایک روایت   یہ بھی ہے کہ’ داماد‘ کو بہت احترام دِیا جاتا ہے۔ ہم وکیل صاحب کی  ’ پریشانی‘ جان کر  اُٹھ  گئے کہ وہ مزید  خجل نہ ہوں۔
 ہمارے جی  میں آیا کہ اس  نوجوان کو بتائیں کہ اگر آپ نے اُردو پڑھی ہوتی تو  اپنے بزرگوں کی گفتگو میں ناشائستگی کا مظاہرہ  نہ کرتے کہ اُردو صرف  ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب  و کلچر کا بھی نام ہے۔  پھر ہمیں یہ بھی خیال گزرا کہ کبھی در گزر کرنا اور   بزرگ کو خجالت  سے بچانا بھی اُردو تہذیب ہی کا حصہ ہے۔   بات زبان کی چل رہی ہے  ۔ اس زبان کا معاملہ عجب ہے ۔ اگر ہم تلفظ میںکمزور ہیں  یا تلفظ و مخرج کے تعلق سے لا پروا ہیں تو  یہ زبان  فوراً  ہماری قلعی کھول دیتی ہے۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک صاحب کا نام جلیل خان  تھا ، موصوف  پڑھے لکھے اور اُردو ہی کے آدمی تھے۔  ایک  جلسے میں خاں صاحب مہمان ِخصوصی تھے ۔ ناظم جلسہ(اناؤنسر) نے انھیں مائک پر زحمت دینے کےلئے ان کے لئے بعض کلماتِ احسن ادا کیے ،مگر  نام میں وہ غچہ کھا گیا جب جب اس نے   جنابِ جلیل خاں کہا تو  جلیل کا ’’ ج‘‘ ذال سے بدل گیا۔  جلسے میں   اکثر پڑھے لکھے اور اردو داں موجود تھے۔   ذال سے جلیل خاں پر لوگوں کے ہونٹوں پر تبسم رقص کر رہا تھا،ظاہر ہے حضرت جلیل خاں  نے بھی اس تلفظ کو نوٹ کیا اور جب  وہ مائک پر تشریف لائے تو ان کا پہلا ہی جملہ تھا۔’’ میاں ناظم ِجلسہ! کاش آپ نے اُردو اچھی طرح پڑھی ہوتی تو  آج یہاں یہ ذلالت نہ پیش آتی  ۔  حاضرین کی طرف انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا : ذرا آپ ہی بتائیے کہ ’ ذلیل‘ کون  ہوا۔؟‘‘ پورے مجمع  کی نظریں ناظم جلسہ کی طرف  اٹھی ہوئی تھیں  اورزور دار قہقہے سے ہال گونج رہا تھا۔ اردو  کی یہی نزاکت ہے جو اس کی طرف سے غافل ہوا تو پھر وہ’’ ذلیل‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ رہی نوازنے کی بات تو لتا منگیشکر  کا اعتراف  اظہر من  الشمس ہے۔۔۔۔۔ اُردو سے کیا ملتا  ہے۔۔۔۔۔۔؟
 لتا  جی کے اس بیان میں  موجود ہے۔ کاش ہماری نئ نسل  اسے سمجھ سکے۔
                                                                            ندیم صدیقی
--
NadeemSiddiqui
Shab o roz-10-12-16 copy.jpg
Shab o roz-10-12-16.pdf

Firoz Hashmi

unread,
Dec 12, 2016, 10:45:52 PM12/12/16
to BAZMe...@googlegroups.com
بہت عمدہ تجزیہ پیش کیا ندیم صدیقی صاحب نے
مبارکباد قبول فرمائیں۔
فیروزہاشمی

--

Mohammed Mahmood

unread,
Dec 12, 2016, 11:41:45 PM12/12/16
to BAZMe...@googlegroups.com
This reminds me of the advice given by the late Raghupat Sahay Firaq Gorakhpuri to young government officers: "If you wish to be respectable among the public try to learn Urdu and assimilate the Urdu accent."
 
(Mohammed Mahmood)
Professor of Political Science (Retired)
Aligarh Muslim University



From: Firoz Hashmi <firoz...@gmail.com>
To: "bazme...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, December 13, 2016 9:15 AM
Subject: Re: [بزم قلم:53874]

To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/ forum/#!forum/bazmeqalam



--
Mohammad Firoz Alam 

Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA

Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages