وعلیکم السلام سید صاحب
پسندیدگی کا شکریہ جناب۔
راشد
آداب
بہت شکریہ فریدہ صاحبہ
راشد
محترمی جناب عطا خورشید صاحب واقعی آپ نے دل کو دکھادیا ، چند سال قبل رضاعلی عابدی صاحب نے بی بی سی پر کتب خانے پر اپنے سفر نامے پر مشتمل ایک سلسلہ شروع کیا تھا ، جس میں وہی کچھ باتیں تھی جو آپ نے بیان کی ہیں ۔ اب تک ہمارے علمی ذخیرے کا ہمارے ہی اہل علم کے ہاتھوں بڑا نقصان ہوچکا ہے ، لیکن راشد اشرف اور آپ جیسے حضرات ضمیر کو جگاتے رہیں تو بہت ممکن ہے جو بچا ہے اسے محفوظ کرنے کی اور اسے باذوق افراد تک پہنچانے کی کوئی شکل نظر آئے ۔ ویسے ہمارے اداروں کا رویہ ابھی نہیں بدلا ہے ، نہ اس کے بدلنے کی کوئی جلد امید ہے ، بس چند دیوانے ہیں جو شہرت اور پبلسٹی سے بلند ہوکر یہ کام کررہے ہیں ۔
اس پر ہمیں بات یاد آئی جو چند سال قبل عربی کے عظیم محقق ڈاکٹر محمود احمد طناحی مرحوم نے کہی تھی کہ ، عموما مشہور ہے کہ ہلاکو خان جب بغداد آیا تویہاں کے کتب خانے جلادئے گئے یہاں تک کہ دریائے دجلہ کا پانی کتابوں کی روشنائی سے کالا ہوگیا تھا۔ لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہے کہ مسلمانوں کے علم کا زوال اور کتابوں سے لاتعلقی ہولاکو 1215ء کے چارسو سال بعد شروع ہوئی ، کیونکہ امام جلال الدین سیوطی 1505ء اور عبد القادر بغدادی 1682ء کی تصنیفات میں جن کتابوں کا حوالہ ملتا ہے وہ بعد کے ادوار میں نہیں ملتیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہولاکو کےبغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کے باوجود مسلمانوں کو علم و کتاب سے دور کرنے میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی کامیابی اس وقت ہوئی جب مسلم فوجیں یورپ میں ویانا تک پہنچ چکی تھیں ۔ اسی خوش حالی اور غلبہ کے دور میں ہماری کتابیں زیادہ ضائع ہوئی ہیں ۔
شاید ہمارے قارئین کو معلوم ہو کہ بھٹکل ، چنئی اور حیدرآباد میں ایک مسلم برادری نوائط کے نام سے جانی پہنچانی جاتی ہے ، حیدرآباد سے ڈاکٹر محمد حمید اللہ ، ڈاکٹر محمد یوسف الدین ، حسن الدین احمد ، ڈاکٹر نصیر الدین ہاشمی اور چنئی میں جسٹس بشیرالدین سعید ، ڈاکٹر محمد یوسف کوکن عمری
وغیرہ مشہور عالم فاضل منسوب ہیں، اس خانوادہ کا ایک مشہور کتب خانہ چنئی میں قائم ہے ، جو کتب خانہ محمدیہ کے نام س مشہور ہے ، اس میں جہانگیر اور عادل شاہی دور سے ابتک کی پچیس نسلوں کے تسلسل کے ساتھ ابتک کے علماء مصنفین قاضی حضرات کی جمع کردہ کتابیں محفوظ ہیں۔
اس خاندان میں بھی مسئلہ یہی تھا ،لیکن اسے امانتی کتب خانے کی حیثیت دے دی گئی کہ ہر ایک فرد کی کتابیں یہاں پر امانت کی طور پر محفوظ ہیں ۔ کوئی بیس سال سے ہمارا اس طرف جانا نہیں ہوا ، ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم کے چچا زاد بھائی اور چیف قاضی مدراس مولانا محمد حبیب اللہ صاحب کے زمانے میں ہمارا کئی سال تک مسلسل جانا ہوا تھا، بڑے عظیم بزرگ تھے ، ان کے بعد بھی قاضی محمد صلاح الدین ازہری کے دور میں ایک بار جانا ہوا ، ناظم مکتبہ محمد عبیداللہ مرحوم بڑے اہتمام سے کتب خانہ دکھاتے تھے ، اور برادری کی نسبت سے بڑے احترام کا رویہ کرتے تھے ۔
احباب سے اطلاعا عرض ہے کہ ہم نے واٹس اپ پر مختلف گروپ بنائے ہیں ، جن میں رضا علی عابدی کے کتب خانے کے آڈیو پرگرام کی قسطیں ہرہفتے بھیجتے ہیں ، ابتک ۸ قسطیں ارسال کی جاچکی ہیں ، ا س کے بعد جرنیلی سڑک ، شیر دریا ، ریل کہانی وغیرہ یم پی تھری پر بھیجنے کا ارادہ ہے۔
کوئی صاحب انہیں اپنے واٹس اپ یا ٹیلگرام پر وصول کرنا چاہیں تو اپنا موبائل نمبر مکمل نام اور جگہ کے ساتھ ہمارے ذاتی ایمیل پر ارسال کریں۔

عبد المتین منیری
Director " BHATKALLYS"
Bhatkal , Karnataka
Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals
email : ammu...@gmail.com
جناب راشد صاحب
فرمان فتحپوری صاحب کے ذخیرہ کتب کی فٹ پاتھ پر فروخت ہونے کی اطلاع سے بیحد دکھ ہوا۔
ہماری علمی میراث سے متعلق ہماری قوم کا رویہ آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا۔ آج ہمیں سارے وسائل میسر ہوتے ہوئے بھی ہم ان علمی میراث کی حفاظت نہیں کر پاتے ہیں ۔ کبھی یہ اپنے ہاتھوں تو کبھی ہماری اولاد کے ہاتھوں تو کبھی اغیار کے ہاتھوں برباد ہوتی ہے ۔ ہم دور کیوں جائیں؟ علی گڑھ سے ہی مثال دیتے ہیں ۔ حیدرآباد کے عبدالصمد خاں صاحب اپنا ادارہ ’’اردو ریسرچ سنٹر ’’حیدرآباد سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر عابد رضا بیدار صاحب ، سابق ڈائریکٹر خدا بخش لائبریری ، پٹنہ ، سے ذکر کیا ۔ وہ اسے علی گڑھ منتقل کرانے کے لیے تیار ہوگئے۔ عبدالصمد خاں صاحب کی صرف دو شرطیں تھیں : اول یونیورسٹی ایک عمارت اس ادارے کے لیے مختص کرے اور دوم اسکالر کی مدد کے لیے میں تاحیات اس لائبریری سے منسلک رہوں ۔ میرے بعد یونیورسٹی جسے چاہے مقرر کر لے۔ اُس وقت کے وائس چانسلر نسیم احمد فاروقی صاحب دونوں شرطوں پر راضی ہوگئے۔ جب اس کی اطلاع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری کے عہدیداران کو ملی تو ایک کھلبلی مچ گئی کیونکہ تمام لوگوں کو معلوم تھا کہ عبدالصمد خاں صاحب جس طرح سے اپنی لائبریری کو منظم رکھتے ہیں اور اس کی ایک ایک کتاب اور رسالے کے مشتملات پر حاوی ہیں اور کھل کر کام کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں ، اگر وہ یہاں آگئے تو پھر ہماری کوئی اہمیت نہیں ہوگی ، ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا اور سارے اسکالر مولانا آزاد لائبریری کی بجائے اردو ریسرچ سنٹر میں ہی جائیں گے۔ اس زمانے میں مولانا آزاد لائبریری کے اورینٹل سکشن کے انچارج ضیاء الدین انصاری صاحب تھے ( جو بعد میں خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر بنے ) وہ اس ادارے کے قیامِ علی گڑھ کے حق میں نہیں تھے انھوں نے اُس وقت کے لائبریرین پروفیسر نورالحسن خاں کو اپنے شیشے میں اتار لیا۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی کی بھی یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ وائس چانسلر کے ایماء کے خلاف جا سکیں اس لیے اس کمیٹی کے ممبر پروفیسر خلیق احمد نظامی صاحب کو اپنے حق میں کیا جنھوں نے اس میٹنگ میں اس ادارے کے علی گڑھ میں قیام کی پرزور مخالفت کی اور آخر میں یہ کہتے ہوئے اس میٹنگ سے واک آوٹ کر گئے کہ ’’اگر یہ ادارہ یہاں قائم کیا گیا تو وہ میری لاش پر قائم ہوگا۔’’ ظاہر ہے اتنی سخت مخالفت کے بعد کون اسے یہاں قائم کرنے پر راضی ہوتا؟ کیا اسے ہم بڑے لوگوں کی علم دشمنی نہیں کہیں گے؟
میں جب مولانا آزاد لائبریری میں شعبہ عطیات کا انچارج بنایا گیا تو کوشش کی کہ سینیر اساتذہ کے ذاتی ذخیرے جو ان کے بعد بربادی کی کگار پر ہیں انھیں کسی طرح مولانا آزاد لائبریری میں منتقل کرایا جائے۔ اس سلسلے میں میں نے پروفیسر مختارالدین آرزو صاحب کے ذخیرے سے پہل کی ۔ مرحوم اس بات کے خواہشمند تھے کہ ان کا ذخیرہ فروخت ہو جائے ۔ لیکن اس میں انھیں اپنی زندگی میں کامیابی نہیں ملی ۔ میں نے انھیں اس بات کے لیے راضی کر لیا کہ کتابوں کے متعلق آپ بعد میں فیصلہ لیں فی الوقت اپنے ذخیرے کے رسائل ہمیں دے دیں۔ میری گذارش پر وہ مولانا آزاد لائبریری کو اپنے رسالے دینے پر راضی ہوگئے ۔ میں نے فوری فیصلہ لیا اور دفتری کاروائی کو درکنار کرتے ہوئے کہ اس کاروائی میں خاصا وقت لگ جاتا ، ایک ہی دن میں سارے رسالے اپنی ہی گاڑی میں رکھ رکھ کر لائبریری لے آیا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسی جگہ بیٹھ کر پہلے ان رسالوں کی فہرست بنتی لیکن اس خوف سے کہ کہیں فیصلے میں تبد یلی نہ ہو جائے ، میں نے ایک ہی دن میں سارے رسالے ڈھو ڈالے ۔ لیکن افسوس کہ ان کے انتقال کے بعد ساری کتابیں ان کے بچوں کی لالچ کی نذر ہوگئیں۔ عربی کی کتابیں شعبہ عربی نے خرید لیں۔ اردو کی چند کتابیں دہلی کے ایک پروفیسر صاحب نے خرید لیں ۔ مخطوطات توفیق حسن امروہوی خرید کرلے گئے ۔ جو کچھ بچا وہ ردی والوں کے ہاتھوں بک گیا۔
پروفیسر نذیر احمد صاحب اپنی زندگی میں اپنا ذخیرہ لائبریری کو دینے کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ اگرچہ انھیں اس بات کا ہمیشہ شکوہ رہا کہ لوگ مجھ سے کتابیں مانگ کر لے جاتے ہیں لیکن پھر واپس نہیں کرتے ہیں ۔ اُن کے انتقال کے بعد ان کا کمرہ مقفل کر دیا گیا ۔ میں نے ان کی صاحبزادی ماریہ آپا سے وہ ذخیرہ مولانا ٓزاد لائبریری کو دینے کے لیے کہا لیکن وہ راضی نہیں ہوئیں ۔ اس گھر کے مکین ختم ہوچکے تھے ۔ دونوں صاحبزادیاں (ماریہ آٓپا اور ریحانہ آٓپا ) اپنے اپنے گھر میں تھیں ۔ ایک صاحبزادے امریکہ میں ہیں ۔ نذیر صاحب کے انتقال کے کچھ عرصے کے بعد ان لوگوں نے اپنے والد کا مکان ایک بلڈر کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔ جب اس بلڈر نے ان لوگوں پر مکان خالی کرنے کے لیے زور ڈالا تب ماریہ آپا نے مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ میں بھاگم بھاگ اسی روز ان کے گھر پہنچا۔ نذیر صاحب کا اسٹڈی روم کھلوایا گیا ۔ افسوس کے بیشتر الماریوں کو دیمک چاٹ چکی تھی جو کتابیں صحیح سلامت بچی تھیں انھیں اپنی گاڑی میں لاد کر میں لائبریری لے آیا ۔ سینکڑوں کی تعداد میں دیمک خوردہ کتابیں ان کے آنگن میں ہماری آنکھوں کے سامنے نذر آتش کی گئیں۔ مجھ پر جو بیتی وہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ نذیر صاحب کی دونوں صاحبزادیاں پروفیسر ہیں اور فارسی کی ہی پروفیسر ہیں ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اولاد اپنے والدیں کے موضوع سےکوئی تعلق نہیں رکھتی ہے وہ ان کتابوں سے استفادہ نہیں کر سکتی ہے اس لیےکتابیں ضائع ہوتی ہیں ۔ اس سلسلے میں پروفیسر مسعود حسین خاں صاحب خوش قسمت رہے کہ اپنے صاحبزادے ،جاوید مسعود، جو فزکس کے پروفیسر ہیں ، کے کہنے پراپنی حیات میں ہی اپنا ذخیرہ مولانا آزاد لائبریری کو ہدیہ کر دیا۔ جو کچھ انھوں نے بچا کر رکھا تھا وہ بھی جاوید مسعود صاحب نے اپنے والد کے انتقال کے فوری بعد لائبریری کو دے دیا ۔ اس طرح مسعود صاحب کی تمام کتابیں محفوظ ہو گئیں۔ لیکن اب اس سوچ کے لوگ کتنے رہ گئے؟
اب ذاتی کتبخانوں کا مستقبل کیا ہے؟ یونیورسٹی کے کتبخانوں کی حالت بھی ناگفتہ بہہ ہے ۔ جو لوگ بھی وہاں برسراقتدار ہوتے ہیں انھیں کتابیں خریدنے سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے بہ نسبت ذاتی ذخائر کو تحفے میں قبول کرنے کے ۔ ہم جیسے دیوانے کتنے ہوتے ہیں جو ایسے ذخیروں کو لپک لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔
میں علی گڑھ کے حکیم ظل الرحمن صاحب کی تعریف کرتا ہوں کہ انھوں نے ایک ٹرسٹ قائم کر اپنا کتبخانہ اس میں وقف کر دیا ۔ اب دیگر افراد بھی اس میں اپنے نوادرات اور دستاویزات جمع کرا رہے ہیں ۔ اس ٹرسٹ کی اب گورنمنٹ بھی مدد کررہی ہے ابھی گورنمنٹ کے عطیہ کردہ ۸۰ لاکھ کی مالی اعانت سے اس کی ایک نئی عمارت تعمیر ہوئی ہے ۔
آپ تومرحومین کے ذخیرہ کتب کو فٹپاتھ پر اور ردی فروش کی دوکانوں پر فروخت ہوتے دیکھ کر کف افسوس مل رہے ہیں ۔ یہ مرحومین ا ردو کے ان اساتذہ سے تو لاکھ گنا بہتر ہیں جو اپنی زندگی ہی میں اپنی کتابیں ردی والے کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں آپ کے یہاں مردہ بدست زندہ والا معاملہ ہوتا ہے ۔ مرحوم نے کم از کم اپنی زندگی تک تو اپنے ذخیرے کو اپنے سینے سے لگا کر رکھا۔ ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے ۔ ایسے ہی اردو کے ایک استاذالاساتذہ کا ذخیرہ ایک ردی فروش کے ہاں سے میں نے ۳۰ روپئے کیلو کے در سے خریدا ۔ ( آپ نے تو لوگوں کے انتقال کے بعد ان کے ذخائر کو فٹ پاتھ پر بکتے دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا ہے میں نے تو ان صاحب کی حیات میں ان کے ذخیرے کی کتابیں ردی فروش سے خریدی ہیں یہ صاحب ماشاء اللہ ابھی بھی باحیات ہیں اور اپنے شعبے میں درس و تدریس میں مصروف ہیں ۔ ) افسوس اس بات کا کہ ان کا شمار اردو کے چند بڑے اساتذہ میں ہوتا ہے ۔ سمینار وغیرہ میں اردو ناقدین کی صف میں اپنے خاص لب و لہجے کے لیے پہچانے جاتے ہیں ۔ لوگ بڑے ہی احترام اور خلوص کے ساتھ انھیں اپنے رسالے اور کتابیں بھیجتے ہیں کہ وہ ایک نظر ڈال لیں گے تو میری علمی محنت کام آجائے گی لیکن افسوس کہ وہ ان کتابوں کا ریپر بھی پھاڑنے کی فرصت نہیں رکھتے۔ میں نے خصوصی طور پر ایسے رسالے اور کتابیں اس ردی فروش کی دوکان سے خریدیں ۔ پاکستان کے وہ رسالے جنھیں حاصل کرنے کے لیے میں نے ان کے مدیران کو دسیوں خطوط لکھے لیکن ناکامی ہاتھ لگی ، ایسے رسالے ان صاحب کے فروخت کردہ ذخیرے سے میں نے حاصل کیے ۔ کراچی اور لاہور کی یونیورسٹیز کے شعبہ اردو کے تحقیقی مقالے ، جن کے وہ ممتحن بنائے گئے تھے ، پانچ پانچ چھ چھ کیلو کے یہ مقالے بھی ۳۰ روپئے کیلو کی در سے بک رہے تھے۔ حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں ۔
معاف کیجیے گا میری تحریر میں جا بجا کہیں آپ تلخی بھی محسوس کریں گے۔ کتابوں کے معاملے میں میں کچھ جذباتی واقع ہوا ہوں۔ اس لیے اگر میری کسی تحریر سے آپ کو تکلیف پہنچی ہو تو اس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں ۔
عطا خورشید
علی گڑھ
On Friday, 21 March 2014 6:26 PM, Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com> wrote:
محترم سعود صدیقی صاحب و راشد اشرف صاحب
سلام مسنون۔ لائبریریوں کے سلسلے میں جناب پروفیسر معین الدین عقیل صاحب کا مفصل مضمون ملک بھر میں زیرِبحث رہا ہے۔ چند مشاہدات راقم الحروف بھی پیش کرنا چاہتا ہے، میں جناب راشد اشرف صاحب کے موقف کی تائید کروں گا کہ یہ کام لائبریریوں کا نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کے لیے تیار ہی نہیں نہ ہی ان کا مزاج ہے
1۔ وفاقی ادارہ نصابیات curriculum wing
اسلام آباد میں ایک مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس کی لائبریری کے ہال میں رپورٹوں اور دیگر پرانی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ "چونکہ یہ پرانی ہو چکی ہیں اس لیے ان کی ردی میں نیلامی ہونے والی ہے" اناللہ وانا الیہ راجعون"۔
ان عالم لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ پرانی کتب اور رپورٹیں تعلیم کی تاریخ ہیں اور ان کی لائبریری میں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
2۔ راقم الحروف نے چند ریسرچ رپورٹیں ایک لائبریری کو دیں۔ چند دن بعد مجھے ان میں سے ایک رپورٹ کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ ان میں سے کوئی بھی رپورٹ لائبریری میں موجود نہ تھی۔
3۔ راقم الحروف نے ایک ادارے کے سربراہ کو ٹیلی فون کیا کہ انہیں چند کتابیں لائبریری کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں، کسی اہلکار کو بھیج کر منگوا لیں۔ ایک ماہ کے بعد انہیں یاد دہانی کرائی گئی تو موصوف نے بھول جانے کا عذر پیش کیا۔ اگر یہ کتابیں خریدنا ہوتیں اور ان پر کوئی کمشن وغیرہ ملنا ہوتا تو ہرگز بھولنے کا عمل حائل نہ ہوتا۔
4۔ ہمارے اداروں کی بیشتر لائبریریوں میں لائبریرین کی بجائے کتابوں کے چوکیدار بیٹھے ہیں، اور قارئین کو کسی قسم کی کوئی سہولت پہنچانے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہیں آڈٹ کا خوف ہوتا ہے، اور مفت کی کتابوں کی چوکیداری کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
والسلام
خادم علی ہاشمی
On Wednesday, March 19, 2014 12:21 PM, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote:
میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کتابوں کے حصول کے سلسلے میں انفرادی کوشش ہی بارآور ثابت ہوتی ہے۔ جو آپ کی تجویز ہے وہ نہایت مناسب ہے لیکن افسوس کہ علمی طور پر اسے پورا کرنا چاہیں تو بہت ہی مشکلات درپیش ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔
راشد
2014-03-13 0:05 GMT+05:00 Saud Siddiqui <saud...@gmail.com>:
راشد اشرف صاحب ، سلام و رحمت
ان کتابوں کی یہ درگت بنتی دیکھ کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے. جب ایسی کتابیں بیس یا تیس روپوں میں بک رہی ہیں تو یقینا" تول کے حساب سے خریدی گئی ہونگی ! کیا بیچنے والا ان کتابوں کو ردی میں بیچنے کے بجاے کسی لائبریری یا راشد اشرف جیسے کسی شخص کو نہیں دے سکتا ؟د یا کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم ایک انجمن بناییں اور اپنے اپنے محلوں میں چند گھروں کو کلکشن پائنٹ بنادیں. کہ جس جس کے پاس ردی کتابیں ہوں یا رسالے وہ ان کلکشن پوائنٹس میں پوھنچا دے .
سعود صدیقی
--
Saud Siddiqui
Karachi
__._,_.___
Disclaimer: Views expressed in the postings are those of the authors. Aligarh Urdu Club does not endorse views expressed by forum members.
***Copyright notice***
Aligarh Urdu Club/Deedahwar and its content is copyright of Aligarh Urdu Club, Deedahwar or authors - © Aligarh Urdu Club and Deedahwar 2004-2010. All rights reserved.
Any redistribution or reproduction of part or all of the contents in any form requires permission from editor of
Deedahwar (http://www.deedahwar.net) or owner of Aligarh Urdu Club; or respective authors other than the following:
• you may print or download to a local hard disk extracts for your personal and non-commercial use only
• you may copy the content to individual third parties, including published or online magazines, journals, books and for their personal use, but only if you acknowledge the Aligarh Urdu Club and/or Deedahwar as the source of the material
You may not, except with our express written permission, distribute or commercially exploit the content. Nor may you transmit it or store it in any other website or other form of electronic retrieval system.
Aligarh Urdu Club
http://www.deedahwar.net
• Privacy • Unsubscribe • Terms of Use
.
__,_._,___
--
--
