پرانی کتابوں کا اتوار بازار، کراچی-2 مارچ 2014

0 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Mar 3, 2014, 11:15:41 PM3/3/14
to bazme...@googlegroups.com

پرانی کتابوں کا اتوار بازار، کراچی-2 مارچ 2014
 
راشد اشرف
کراچی سے

 

پی ڈی ایف فائل کا سافٹ لنک
 
پرانی کتابوں کا اتوار بازار کہئیے یا پرانی کتابوں کا مدفن، بات ایک ہی ہے۔ راقم اسے پرانی کتابوں کی آخری آرام گاہ بھی کہتا ہے لیکن یہ آرام گاہ ایسی ہے کہ یہاں سے ملنے والی اکثر کتابیں قدردانوں کے ہاتھوں میں آکر دوام پاتی ہیں۔ کسی کتاب سے اکتا کر اس کا مالک یہاں پھینک جائے تو دوسرا اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیتا ہے۔ع
ازل سے یونہی ،مرے یار ہوتی آئی ہے
 
راقم نے گزشتہ برس معروف ترقی پسند ادیب و افسانہ نگار شوکت صدیقی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صحافی و ادیب حسن عابدی کے کتب خانے کی کتابوں کی اتوار بازا ر میں آمد و فروخت کی خبر انہی سطور میں دی تھی جو تین تیس روپے کی ’لاٹ‘ میں ایک ڈھیر کی صورت ایک جانب پڑی تھیں۔ اس مرتبہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے کتب خانے ایک حصہ یہاں موجود پایا۔ ہر کتاب کی طباعت اعلی، ہر کتاب کا موضوع سخن ارفع۔ایسا محسوس ہوا کہ یہ ابتدا ہے اور کچھ عرصے میں پورا کتاب خانہ ہی یہاں فروکش ہوگا۔فرمان صاحب کا انتقال 3 اگست 2013 کو ہوا تھا۔
 
ایک مرتبہ ایک امریکی کیڑے مار دوائی کا اشتہار نظر سے گزرا تھا۔ لکھا تھا ”اگر آپ کے گھر میں ایک لال بیگ ہے تو سمجھ لیجیے کہ گھر میں 500 لال بیگ موجود ہیں “۔ یہی حال اتوار بازار کا ہے۔ اگر ایک ایسی کتاب نظر آئی ہے جس سے کسی معروف شخصیت کے کتب خانے کی ملکیت کا پتہ ملتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ پان سو نہ سہی، کم از کم پچاس مزید کتابیں قرب و جوار میں یقینا موجود رہی ہوں گی۔ اور ہوا بھی یہی۔گھاگ کتب فروش آواز لگاتا ہوا سر پر آن پہنچا کہ دیکھیے، مزید کتابیں بھی ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ تما م پر مختلف مصنفین کے عقیدت بھرے دستخط ثبت ہیں۔ لکھا ہے کہ ”ادیب شہیر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی خدمت میں۔خلوص کے ساتھ“۔
 
ادیب شہیر کی کتابیں ‘ادیب شریر‘ تک پہنچیں۔
اس موقع پر جامی صاحب نے راقم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آنے والے دنوں میں دیکھتے جاؤ، ابھی تو فلاں فلاں ادیب کا کتب خانہ بھی تمہیں یہیں ملے گا۔   
کچھ دیر بعد راقم کو ہر مال بیس روپیہ کے ڈھیر سے محسن بھوپالی کی ایک کتاب”قومی یکجہتی میں ادب کا کردار“ ملی جس پر خان ظفر افغانی کے نام کی مہر ثبت تھی۔ 
 
اور پھر اس کے بعد ایک کتاب جو کہ ادب الاطفال پر ڈاکٹر اسد اریب کا مقالہ تھا، راقم نے خریدا۔ نام ہے ” بچوں کا ادب۔تاریخ و تنقید“۔ مذکورہ کتاب پر پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی لائبریر ی کی مہر ثبت ہے۔
راقم اسے اپنائیت و غنائیت سے
Pakistan Academy of 'Late'(r)
 کہتا ہے۔
 ڈاکٹر اسد کی کتاب کا
Accession no.
ہے
3876
اور اس پر اٹھائیس اپریل 1983 کی تاریخ درج ہے۔ مذکورہ کتاب اکیڈمی سے اٹھی تو کراچی کے آکسفورڈ اسکول میں آکر دم لیا۔ افسوس کہ اس کتاب سے نہ تو کسی نے اکیڈمی میں استفادہ کیا اور نہ ہی آکسفورڈ اسکول میں۔ وجہ یہ ہے کہ اس کے چھ سات صفحے جڑے ہوئے تھے۔ راقم ہی کے ہاتھوں ان صفحات کا تیز دھاری بلیڈ کی مدد سے ”مونڈن“ ہوا۔
 
 خیال آیا کہ ان کتابوں کو ان کے مصنفین و مرتبین نے زر کثیر صرف کرکے شائع کرایا ہوگا، کیسے کیسے کھٹن مراحل سے گزرے ہوں گے۔ لازم نہیں کہ ہر سودے میں نفع ہی ہو۔ لیکن پھر شیفتہ کا شعر یاد آیا:
زیاں ہے عشق میں ،ہم خود بھی جانتے ہیں مگر
معاملہ ہی کیا ہو، اگر زیاں کے لیے
 
اس مرتبہ ایک مختصر سی آپ بیتی بھی خریدی گئی۔”ایک معلم کی خودگزشت“۔ کمال ہی ہے کہ کتاب شائع ہوئی اپریل 1980
میں ۔ ناشر کا پتہ ہے ”سلیم مبشر سوسائٹی (رجسٹرڈ) ، ھلی وحید بخش،محلہ سوتھ۔بدایوں ،اتر پردیش۔مصنف
 کا نام ملاحظہ ہو:
مبشر علی صدیقی ،ایم اے (آگرہ)، ایم اے بی ٹی(علیگ)، پی ای ایس (ریٹائیرڈ) ،سابق پرنسپل گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج بریلی۔قیمت دس روپے۔
بریلی سے یہ بانس الٹا کیسے چلا اور کراچی کیونکر پہنچا، خدا ہی جانے۔ 

 جامی صاحب کی مہربانی سے ایک دوسری کتاب ”آغا شاعر۔حیات و شاعری “ ملی ۔مرتبہ مجتبی حسین۔ اسے مکتبہ دانیال نے شائع کیا ہے۔ یہ کمال کی کتاب ہے۔ آغا شاعر پر تحریر کردہ مضامین کا مجموعہ۔ بڑے بڑے نامی گرامی لکھنے والوں کی تحریریں اس کتاب میں شامل ہیں۔ شاہد دہلوی، آرزو لکھنوی، آغا آفتاب قزلباش، جگر، اثر جلیلی، گوپی ناتھ امن،جوش، حامد حسن قادری، ریاض خیر آبادی، زار دہلوی، مولانا عبدالمجید سالک، سائل دہلوی، سیماب اکبر آبادی۔ تمام دلچسپ مضامین پیش کردہ پی ڈی ایف فائل میں شامل کیے گئے ہیں۔

 طنز و مزاح کے موضوع پر کراچی سے اسی کی دہائی میں ا یک نہایت جامع کام ہوا تھا۔ یہ جناح گورنمنٹ کالج کراچی کا ”ہم سخن“ نامی مجلہ تھا جس کا یہ طنز و مزاح نمبر تقریبا 600 صفحات پر مشتمل ہے ۔مذکورہ پرچے سے چند تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ خاص کر سید محمد تقی کا مقالہ ” طنز نگاری اور معاشرہ“ لائق مطالعہ تحریر ہے۔
 
راشد اشرف
کراچی سے
 
 
 
 
 

 

Syed Ahmed

unread,
Mar 4, 2014, 12:33:19 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم راشد صاحب                              سلام مسنون
بہت خوب اور بہت شکریہ، بھئی آپ نے بھی کمال کردیا کیا کیا چیزیں کھوج کھنگال اور علم کی خوشبو لگا کر پرانی کتابوں کے اتوار بازار میں اسے نئی حیات بخشنے لاتے ہیں، ضرورت ہوتی ہے تو اس سے کندن بنانے کے لیے مونڈن بھی کرتے ہیں، ہر روز علم وادب اور ادبی شخصیات کو نئی زیست سے مزین کرتے ہیں، بس الہی آپ کو اس کا بہترین اجر دے۔ آمین۔
والسلام
دعاء گو
سید احمد
3-5-1435ھ
4-3-2014ء


--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.


Rashid Ashraf

unread,
Mar 4, 2014, 12:45:36 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com, syedah...@yahoo.com

وعلیکم السلام سید صاحب

پسندیدگی کا شکریہ جناب۔

راشد

farida lakhany

unread,
Mar 4, 2014, 2:31:38 AM3/4/14
to bazme...@googlegroups.com
Rashid Saheb,
A'dab.Bhaee Wah.Adab ki nehej par aap ki kawish-O-Shaoor kiya khoob rang dikha raha hai....Go ke Yeh aasaan kaam nahiN hai, Allah aapko salamat rakhe.Ameen.
WS
Farida Lakhany
________________________________
> Date: Tue, 4 Mar 2014 10:45:36 +0500
> Subject: Re: [بزم قلم:33552] پرانی کتابوں کا اتوار بازار، کراچی-2 مارچ 2014
> From: zest...@gmail.com
> To: BAZMe...@googlegroups.com
> CC: syedah...@yahoo.com
>
>
> وعلیکم السلام سید صاحب
>
> پسندیدگی کا شکریہ جناب۔
>
> راشد
>
>
> 2014-03-04 10:33 GMT+05:00 Syed Ahmed
> <syedah...@yahoo.com<mailto:syedah...@yahoo.com>>:
> محترم راشد صاحب سلام مسنون
> بہت خوب اور بہت شکریہ، بھئی آپ نے بھی کمال کردیا کیا کیا چیزیں کھوج
> کھنگال اور علم کی خوشبو لگا کر پرانی کتابوں کے اتوار بازار میں اسے نئی
> حیات بخشنے لاتے ہیں، ضرورت ہوتی ہے تو اس سے کندن بنانے کے لیے مونڈن بھی
> کرتے ہیں، ہر روز علم وادب اور ادبی شخصیات کو نئی زیست سے مزین کرتے ہیں،
> بس الہی آپ کو اس کا بہترین اجر دے۔ آمین۔
> والسلام
> دعاء گو
> سید احمد
> 3-5-1435ھ
> 4-3-2014ء
>
>
> On Tuesday, March 4, 2014 7:15 AM, Rashid Ashraf
> BAZMe...@googlegroups.com<mailto:BAZMe...@googlegroups.com>.
> Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
>
>
>
> --
> You received this message because you are subscribed to the Google
> Groups "بزمِ قلم" group.
> To post to this group, send email to
> BAZMe...@googlegroups.com<mailto:BAZMe...@googlegroups.com>.

Rashid Ashraf

unread,
Mar 4, 2014, 2:38:54 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com, farida...@hotmail.com

آداب
بہت شکریہ فریدہ صاحبہ

راشد

Syed Ahmed

unread,
Mar 4, 2014, 3:50:46 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمہ فریدہ صاحبہ                   سلام مسنون
میں اردو کے بارے میں بہت پر امید ہوں، کتنے لوگ ہیں جو بے لوث، خلوص سے اپنی بساط بھر خدمت کر رہے ہیں، راشد صاحب، منیری صاحب، جوانسال مکرم میاں، جناب مقصود شیخ صاحب، جناب طارق غازی صاحب، جناب حسن چشتی صاحب، جناب سرور صاحب، نجیب صاحب، سرفراز صاحب، علیم فلکی صاحب، مہر افروزہ صاحبہ، شازیہ صاحبہ، جناب پھول صاحب، جناب برقی صاحب، جناب راغب صاحب، صابر رہبر صاحب، انجمن ترقی اردو اور نہ جانے کتنے ہی ادارے اور نام، ادیب وشاعر ہیں، بلا حدود وقیود ارض ووطن، جو بزم پر اپنی کاوشوں کو پیش کرکے، اپنا اپنا حق اداء کر رہے ہیں، حقیقت یہی ہے کہ بس کوئی ذہن کو متوجہ کرکے ان نگارشات کو پڑھے اور ان سے فائدہ اٹھا کر خود اپنی ذات، اپنے گھر والوں اور یار دوستوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے، تصور کیا جائے پچھلے دور کے لوگ علم ودانش کی راہ میں کیا مصائب ومتاعب اٹھاتے تھے، آج تو ہم اپنی جگہ سے ٹلے بغیر، نہ کہیں نہڑنے کی ضرورت نہ رگڑنے کی، سب کچھ چند لحظات میں، مشرق ومغرب، شمال وجنوب کو، چند انچ کے کمپیوٹر میں جمع کرکے، دریا نہیں، سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا، کھلا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ہمیں پورا یقین ہے کہ اردو کی اپنی خصوصیت، حسن تعبیر، حسن بیان، لطافت احساس وفکر کے سارے سر اور زمزمے کسی کو اس کا گلا گھونٹنے کی قدرت واجازت نہیں دے سکتے۔
والسلام
سید احمد
3-5-1435ھ
4-3-2014ءOn Wednesday, February 26, 2014 9:07 PM, Najeeb Ahmed <najee...@gmail.com> wrote:

Abdul Mateen Muniri

unread,
Apr 5, 2014, 5:57:45 AM4/5/14
to Aligarh_...@yahoogroups.com, BAZMe...@googlegroups.com

محترمی جناب عطا خورشید صاحب واقعی آپ نے دل کو دکھادیا ، چند سال قبل رضاعلی عابدی صاحب نے بی بی سی پر کتب خانے پر اپنے سفر نامے پر مشتمل ایک سلسلہ شروع کیا تھا ، جس میں وہی کچھ باتیں تھی جو آپ نے بیان کی ہیں ۔ اب تک ہمارے علمی ذخیرے کا ہمارے  ہی اہل علم کے ہاتھوں بڑا نقصان ہوچکا ہے ، لیکن راشد اشرف اور آپ جیسے حضرات ضمیر کو جگاتے رہیں تو بہت ممکن ہے جو بچا ہے اسے محفوظ کرنے کی اور اسے باذوق افراد تک پہنچانے کی کوئی شکل نظر آئے ۔ ویسے ہمارے اداروں کا رویہ ابھی نہیں بدلا ہے ، نہ اس کے بدلنے کی کوئی جلد امید ہے ، بس چند دیوانے ہیں جو شہرت اور پبلسٹی سے بلند ہوکر یہ کام کررہے ہیں ۔

اس پر ہمیں بات یاد آئی جو چند سال قبل عربی کے عظیم محقق ڈاکٹر محمود احمد طناحی مرحوم نے کہی تھی کہ ، عموما مشہور ہے کہ ہلاکو خان جب بغداد آیا تویہاں کے کتب خانے جلادئے گئے یہاں تک کہ دریائے دجلہ کا پانی کتابوں کی روشنائی سے کالا ہوگیا تھا۔ لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہے کہ مسلمانوں کے علم کا زوال اور کتابوں سے لاتعلقی ہولاکو 1215ء کے چارسو سال بعد شروع ہوئی ، کیونکہ امام جلال الدین سیوطی 1505ء اور عبد القادر بغدادی  1682ء کی  تصنیفات میں جن کتابوں کا حوالہ ملتا ہے وہ بعد کے ادوار میں نہیں ملتیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہولاکو کےبغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کے باوجود مسلمانوں کو علم و کتاب سے دور کرنے میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی کامیابی اس وقت ہوئی جب مسلم فوجیں یورپ میں ویانا تک پہنچ چکی تھیں ۔ اسی خوش حالی  اور غلبہ کے دور میں ہماری کتابیں زیادہ ضائع ہوئی ہیں ۔

شاید ہمارے قارئین کو معلوم ہو کہ بھٹکل ، چنئی  اور حیدرآباد میں ایک مسلم برادری نوائط کے نام سے جانی پہنچانی جاتی ہے ، حیدرآباد سے ڈاکٹر محمد حمید اللہ ، ڈاکٹر محمد یوسف الدین ، حسن الدین احمد  ، ڈاکٹر نصیر الدین ہاشمی  اور چنئی میں جسٹس بشیرالدین سعید ، ڈاکٹر محمد یوسف کوکن عمری

وغیرہ مشہور عالم فاضل منسوب ہیں، اس خانوادہ کا ایک مشہور کتب خانہ چنئی میں قائم ہے  ، جو کتب خانہ محمدیہ کے نام س مشہور ہے ، اس میں جہانگیر اور عادل شاہی دور سے ابتک کی پچیس نسلوں کے تسلسل کے ساتھ ابتک کے علماء مصنفین  قاضی حضرات کی جمع کردہ کتابیں محفوظ ہیں۔

اس خاندان میں بھی مسئلہ یہی تھا ،لیکن اسے امانتی کتب خانے کی حیثیت  دے دی گئی  کہ ہر ایک  فرد کی کتابیں  یہاں پر امانت کی طور پر محفوظ ہیں ۔ کوئی بیس سال سے ہمارا اس طرف جانا نہیں ہوا ، ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم کے چچا زاد بھائی اور چیف قاضی مدراس مولانا محمد حبیب اللہ صاحب کے زمانے میں ہمارا کئی سال تک مسلسل جانا ہوا  تھا، بڑے عظیم بزرگ تھے ، ان کے بعد بھی قاضی محمد صلاح الدین ازہری کے دور میں ایک بار جانا ہوا ، ناظم مکتبہ محمد عبیداللہ مرحوم بڑے اہتمام سے کتب خانہ دکھاتے تھے ، اور برادری کی نسبت سے بڑے احترام کا رویہ کرتے تھے ۔

احباب سے اطلاعا عرض ہے کہ ہم نے واٹس اپ پر  مختلف گروپ بنائے ہیں ، جن میں رضا علی عابدی کے کتب خانے  کے  آڈیو پرگرام کی قسطیں ہرہفتے بھیجتے ہیں ، ابتک ۸ قسطیں ارسال کی جاچکی ہیں ، ا س کے بعد جرنیلی سڑک ، شیر دریا ، ریل کہانی وغیرہ  یم پی تھری پر بھیجنے کا ارادہ ہے۔

کوئی صاحب انہیں اپنے واٹس اپ یا ٹیلگرام پر وصول کرنا چاہیں تو اپنا موبائل نمبر مکمل نام اور جگہ کے ساتھ ہمارے ذاتی ایمیل پر  ارسال کریں۔

 

Muniri Kufi Symbol by raza  34 Email

عبد المتین منیری

Director " BHATKALLYS"

Bhatkal , Karnataka

Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals

www.akhbaroafkar.com 

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

email : ammu...@gmail.com

 

 

 

 

 

جناب راشد صاحب

فرمان فتحپوری صاحب کے ذخیرہ کتب کی فٹ پاتھ پر فروخت ہونے کی اطلاع سے بیحد دکھ ہوا۔

ہماری علمی میراث سے متعلق ہماری قوم کا رویہ آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا۔ آج ہمیں سارے وسائل میسر ہوتے ہوئے بھی ہم ان علمی میراث کی حفاظت نہیں کر پاتے ہیں ۔ کبھی یہ اپنے ہاتھوں تو کبھی ہماری اولاد کے ہاتھوں تو کبھی اغیار کے ہاتھوں برباد ہوتی ہے ۔ ہم دور کیوں جائیں؟ علی گڑھ سے ہی مثال دیتے ہیں ۔ حیدرآباد کے عبدالصمد خاں صاحب اپنا ادارہ ’’اردو ریسرچ سنٹر ’’حیدرآباد سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر عابد رضا بیدار صاحب ، سابق ڈائریکٹر خدا بخش لائبریری ، پٹنہ ،  سے ذکر کیا ۔ وہ اسے علی گڑھ منتقل کرانے کے لیے تیار ہوگئے۔ عبدالصمد خاں صاحب کی صرف دو شرطیں تھیں : اول یونیورسٹی ایک عمارت اس ادارے کے لیے مختص کرے اور دوم اسکالر کی مدد کے لیے میں تاحیات اس لائبریری سے منسلک رہوں ۔ میرے بعد یونیورسٹی جسے چاہے مقرر کر لے۔ اُس وقت کے وائس چانسلر نسیم احمد فاروقی صاحب دونوں شرطوں پر راضی ہوگئے۔ جب اس کی اطلاع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری کے عہدیداران کو ملی تو ایک کھلبلی مچ گئی کیونکہ تمام لوگوں کو معلوم تھا کہ عبدالصمد خاں صاحب جس طرح سے اپنی لائبریری کو منظم رکھتے ہیں اور اس کی ایک ایک کتاب اور رسالے کے مشتملات پر حاوی ہیں اور کھل کر کام کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں ، اگر وہ یہاں آگئے تو پھر ہماری کوئی اہمیت نہیں ہوگی ، ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا اور سارے اسکالر مولانا آزاد لائبریری کی بجائے اردو ریسرچ سنٹر میں ہی جائیں گے۔ اس زمانے میں مولانا آزاد لائبریری کے اورینٹل سکشن کے انچارج ضیاء الدین انصاری صاحب تھے ( جو بعد میں خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر بنے ) وہ اس ادارے کے قیامِ علی گڑھ کے حق میں نہیں تھے انھوں نے اُس وقت کے لائبریرین پروفیسر نورالحسن خاں کو اپنے شیشے میں اتار لیا۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی کی بھی یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ وائس چانسلر کے ایماء کے خلاف جا سکیں اس لیے اس کمیٹی کے ممبر پروفیسر خلیق احمد نظامی صاحب کو اپنے حق میں کیا جنھوں نے اس میٹنگ میں اس ادارے کے علی گڑھ میں قیام کی پرزور مخالفت کی اور آخر میں یہ کہتے ہوئے اس میٹنگ سے واک آوٹ کر گئے کہ ’’اگر یہ ادارہ یہاں قائم کیا گیا تو وہ میری لاش پر قائم ہوگا۔’’ ظاہر ہے اتنی سخت مخالفت کے بعد کون اسے یہاں قائم کرنے پر راضی ہوتا؟ کیا اسے ہم بڑے لوگوں کی علم دشمنی نہیں کہیں گے؟

میں جب مولانا آزاد لائبریری میں شعبہ عطیات کا انچارج بنایا گیا تو کوشش کی کہ سینیر اساتذہ کے ذاتی ذخیرے جو ان کے بعد بربادی کی کگار پر ہیں انھیں کسی طرح مولانا آزاد لائبریری میں منتقل کرایا جائے۔ اس سلسلے میں میں نے پروفیسر مختارالدین آرزو صاحب کے ذخیرے سے پہل کی ۔  مرحوم اس بات کے خواہشمند تھے کہ ان کا ذخیرہ فروخت ہو جائے ۔ لیکن اس میں انھیں  اپنی زندگی میں کامیابی نہیں ملی ۔ میں نے انھیں اس بات کے لیے راضی کر لیا کہ کتابوں کے متعلق آپ بعد میں فیصلہ لیں فی الوقت اپنے ذخیرے کے رسائل ہمیں دے دیں۔ میری گذارش پر وہ مولانا آزاد لائبریری کو اپنے رسالے دینے پر راضی ہوگئے ۔ میں نے فوری فیصلہ لیا اور دفتری کاروائی کو درکنار کرتے ہوئے کہ اس کاروائی میں خاصا وقت لگ جاتا ، ایک ہی دن میں سارے رسالے اپنی ہی گاڑی میں رکھ رکھ کر لائبریری لے آیا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسی جگہ بیٹھ کر پہلے ان رسالوں کی فہرست بنتی لیکن اس خوف سے کہ کہیں فیصلے میں تبد یلی نہ ہو جائے ، میں نے ایک ہی دن میں سارے رسالے ڈھو ڈالے ۔  لیکن افسوس کہ ان کے انتقال کے بعد ساری کتابیں ان کے بچوں کی لالچ کی نذر ہوگئیں۔ عربی کی کتابیں شعبہ عربی نے خرید لیں۔ اردو کی چند کتابیں دہلی کے ایک پروفیسر صاحب نے خرید لیں ۔ مخطوطات توفیق حسن امروہوی خرید کرلے گئے ۔ جو کچھ بچا وہ ردی والوں کے ہاتھوں بک گیا۔  

پروفیسر نذیر احمد صاحب اپنی زندگی میں اپنا ذخیرہ لائبریری کو دینے کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ اگرچہ انھیں اس بات کا ہمیشہ شکوہ رہا کہ لوگ مجھ سے کتابیں مانگ کر لے جاتے ہیں لیکن پھر واپس نہیں کرتے ہیں ۔ اُن کے انتقال کے بعد ان کا کمرہ مقفل کر دیا گیا ۔ میں نے ان کی صاحبزادی ماریہ آپا سے وہ ذخیرہ مولانا ٓزاد لائبریری کو دینے کے لیے کہا لیکن وہ راضی نہیں ہوئیں ۔ اس گھر کے مکین ختم ہوچکے تھے ۔ دونوں صاحبزادیاں (ماریہ آٓپا اور ریحانہ آٓپا ) اپنے اپنے گھر میں تھیں ۔ ایک صاحبزادے امریکہ میں ہیں ۔ نذیر صاحب کے انتقال کے کچھ عرصے کے بعد ان لوگوں نے اپنے والد کا مکان ایک بلڈر کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔ جب اس بلڈر نے ان لوگوں پر مکان خالی کرنے کے لیے زور ڈالا تب ماریہ آپا نے مجھ سے رابطہ قائم کیا۔ میں بھاگم بھاگ اسی روز ان کے گھر پہنچا۔ نذیر صاحب کا اسٹڈی روم کھلوایا گیا ۔ افسوس کے بیشتر الماریوں کو دیمک چاٹ چکی تھی جو کتابیں صحیح سلامت بچی تھیں انھیں اپنی گاڑی میں لاد کر میں لائبریری لے آیا ۔ سینکڑوں کی تعداد میں دیمک خوردہ کتابیں ان کے آنگن میں ہماری آنکھوں کے سامنے نذر آتش کی گئیں۔ مجھ پر جو بیتی وہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ نذیر صاحب کی دونوں صاحبزادیاں پروفیسر ہیں اور فارسی کی ہی پروفیسر ہیں ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اولاد اپنے والدیں کے موضوع سےکوئی تعلق نہیں رکھتی ہے وہ ان کتابوں سے استفادہ نہیں کر سکتی ہے اس لیےکتابیں ضائع ہوتی ہیں ۔ اس سلسلے میں پروفیسر مسعود حسین خاں صاحب خوش قسمت رہے کہ اپنے صاحبزادے ،جاوید مسعود، جو فزکس کے پروفیسر ہیں ، کے کہنے پراپنی حیات میں ہی اپنا ذخیرہ مولانا آزاد لائبریری کو ہدیہ کر دیا۔ جو کچھ انھوں نے بچا کر رکھا تھا وہ بھی جاوید مسعود صاحب نے اپنے والد کے انتقال کے فوری بعد لائبریری کو دے دیا ۔ اس طرح مسعود صاحب کی تمام کتابیں محفوظ ہو گئیں۔ لیکن اب اس سوچ کے لوگ کتنے رہ گئے؟

اب ذاتی کتبخانوں کا مستقبل کیا ہے؟ یونیورسٹی کے کتبخانوں کی حالت بھی ناگفتہ بہہ ہے ۔ جو لوگ بھی وہاں برسراقتدار ہوتے ہیں انھیں کتابیں خریدنے سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے بہ نسبت ذاتی ذخائر کو تحفے میں قبول کرنے کے ۔ ہم جیسے دیوانے کتنے ہوتے ہیں جو ایسے ذخیروں کو لپک لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔

 

میں علی گڑھ کے حکیم ظل الرحمن صاحب کی تعریف کرتا ہوں کہ انھوں نے ایک ٹرسٹ قائم کر اپنا کتبخانہ اس میں وقف کر دیا ۔ اب دیگر افراد بھی اس میں اپنے نوادرات اور دستاویزات جمع کرا رہے ہیں ۔ اس ٹرسٹ کی اب گورنمنٹ بھی مدد کررہی ہے ابھی گورنمنٹ کے عطیہ کردہ  ۸۰ لاکھ کی مالی اعانت سے اس کی ایک نئی عمارت تعمیر ہوئی ہے ۔

  

آپ  تومرحومین کے ذخیرہ کتب کو فٹپاتھ پر اور ردی فروش کی دوکانوں پر فروخت ہوتے دیکھ کر کف افسوس مل رہے ہیں ۔ یہ مرحومین  ا ردو کے ان اساتذہ سے تو لاکھ گنا بہتر ہیں جو اپنی زندگی ہی میں اپنی کتابیں ردی والے کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں آپ کے یہاں مردہ بدست زندہ والا معاملہ ہوتا ہے ۔ مرحوم نے کم از کم اپنی زندگی تک تو اپنے ذخیرے کو اپنے سینے سے لگا کر رکھا۔ ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے ۔  ایسے ہی اردو کے ایک استاذالاساتذہ کا  ذخیرہ ایک ردی فروش کے ہاں سے میں نے ۳۰ روپئے کیلو کے در سے خریدا ۔ ( آپ نے تو لوگوں کے انتقال کے بعد ان کے ذخائر کو فٹ پاتھ پر بکتے دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا ہے میں نے تو ان صاحب کی حیات میں ان کے ذخیرے کی کتابیں ردی فروش سے خریدی ہیں یہ صاحب ماشاء اللہ ابھی بھی باحیات ہیں اور اپنے شعبے میں درس و تدریس میں مصروف ہیں ۔ ) افسوس اس بات کا کہ ان کا شمار اردو کے چند بڑے اساتذہ میں ہوتا ہے ۔ سمینار وغیرہ میں  اردو ناقدین کی صف میں اپنے خاص لب و لہجے کے لیے پہچانے جاتے ہیں ۔  لوگ بڑے ہی احترام اور خلوص کے ساتھ انھیں اپنے رسالے اور کتابیں بھیجتے ہیں کہ وہ ایک نظر ڈال لیں گے تو میری علمی محنت کام آجائے گی لیکن افسوس کہ وہ ان کتابوں کا ریپر بھی پھاڑنے کی فرصت نہیں رکھتے۔ میں نے خصوصی طور پر ایسے رسالے اور کتابیں اس ردی فروش کی دوکان سے خریدیں ۔ پاکستان کے وہ رسالے جنھیں حاصل کرنے کے لیے میں نے ان کے مدیران کو دسیوں خطوط لکھے لیکن ناکامی ہاتھ لگی ، ایسے رسالے ان صاحب کے فروخت کردہ ذخیرے سے میں نے حاصل کیے ۔ کراچی اور لاہور کی یونیورسٹیز کے شعبہ اردو کے تحقیقی مقالے ، جن کے وہ ممتحن بنائے گئے تھے ، پانچ پانچ چھ چھ کیلو کے یہ مقالے بھی ۳۰ روپئے کیلو کی در سے بک رہے تھے۔ حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں ۔

 

معاف کیجیے گا میری تحریر میں جا بجا کہیں آپ تلخی بھی محسوس کریں گے۔ کتابوں کے معاملے میں میں کچھ جذباتی واقع ہوا ہوں۔ اس لیے اگر میری کسی تحریر سے آپ کو تکلیف پہنچی ہو تو اس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں ۔

 

عطا خورشید   

علی گڑھ

 

 

On Friday, 21 March 2014 6:26 PM, Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com> wrote:

 

محترم سعود صدیقی صاحب و راشد اشرف صاحب

سلام مسنون۔ لائبریریوں کے سلسلے میں جناب پروفیسر معین الدین عقیل صاحب کا مفصل مضمون ملک بھر میں زیرِبحث رہا ہے۔ چند مشاہدات راقم الحروف بھی پیش کرنا چاہتا ہے، میں جناب راشد اشرف صاحب کے موقف کی تائید کروں گا کہ یہ کام لائبریریوں کا نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کے لیے تیار ہی نہیں نہ ہی ان کا مزاج ہے

1۔ وفاقی ادارہ نصابیات curriculum wing 

اسلام آباد میں ایک مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس کی لائبریری کے ہال میں رپورٹوں اور دیگر پرانی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ "چونکہ یہ پرانی ہو چکی ہیں اس لیے ان کی ردی میں نیلامی ہونے والی ہے" اناللہ وانا الیہ راجعون"۔

ان عالم لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ پرانی کتب اور رپورٹیں تعلیم کی تاریخ ہیں اور ان کی لائبریری میں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

2۔ راقم الحروف نے چند ریسرچ رپورٹیں ایک لائبریری کو دیں۔ چند دن بعد مجھے ان میں سے ایک رپورٹ کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ ان میں سے کوئی بھی رپورٹ لائبریری میں موجود نہ تھی۔

3۔ راقم الحروف نے ایک ادارے کے سربراہ کو ٹیلی فون کیا کہ انہیں چند کتابیں لائبریری کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں، کسی اہلکار کو بھیج کر منگوا لیں۔ ایک ماہ کے بعد انہیں یاد دہانی کرائی گئی تو موصوف نے بھول جانے کا عذر پیش کیا۔ اگر یہ کتابیں خریدنا ہوتیں اور ان پر کوئی کمشن وغیرہ ملنا ہوتا تو ہرگز بھولنے کا عمل حائل نہ ہوتا۔ 

4۔ ہمارے اداروں کی بیشتر لائبریریوں میں لائبریرین کی بجائے کتابوں کے چوکیدار بیٹھے ہیں،  اور قارئین کو کسی قسم کی کوئی سہولت پہنچانے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہیں آڈٹ کا خوف ہوتا ہے، اور مفت کی کتابوں کی چوکیداری کو بوجھ سمجھتے ہیں۔

والسلام

خادم علی ہاشمی 

 

On Wednesday, March 19, 2014 12:21 PM, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote:

 


میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کتابوں کے حصول کے سلسلے میں انفرادی کوشش ہی بارآور ثابت ہوتی ہے۔ جو آپ کی تجویز ہے وہ نہایت مناسب ہے لیکن افسوس کہ علمی طور پر اسے پورا کرنا چاہیں تو بہت ہی مشکلات درپیش ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

راشد

 

2014-03-13 0:05 GMT+05:00 Saud Siddiqui <saud...@gmail.com>:

 

راشد اشرف صاحب ، سلام و رحمت 

 

ان کتابوں کی یہ درگت بنتی دیکھ کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے. جب ایسی کتابیں بیس یا تیس روپوں میں بک رہی ہیں تو یقینا"  تول کے حساب سے خریدی گئی ہونگی ! کیا بیچنے والا ان کتابوں کو ردی میں بیچنے کے بجاے کسی لائبریری یا راشد اشرف جیسے کسی شخص کو نہیں دے سکتا ؟د یا کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم ایک انجمن بناییں اور اپنے اپنے محلوں میں چند گھروں کو کلکشن پائنٹ بنادیں. کہ جس جس کے پاس ردی کتابیں ہوں یا رسالے وہ ان کلکشن پوائنٹس میں پوھنچا دے .

 

سعود صدیقی 

--

Saud Siddiqui

Karachi

 

 

 

__._,_.___

Reply via web post

Reply to sender

Reply to group

Start a New Topic

Messages in this topic (5)

Disclaimer:  Views expressed in the postings are those of the authors.  Aligarh Urdu Club does not endorse views expressed by forum members.

***Copyright notice***
Aligarh Urdu Club/Deedahwar  and its content is copyright of Aligarh Urdu Club, Deedahwar or authors - © Aligarh Urdu Club and Deedahwar  2004-2010. All rights reserved.
Any redistribution or reproduction of part or all of the contents in any form requires permission from editor of
Deedahwar (http://www.deedahwar.net) or owner of Aligarh Urdu Club; or respective authors other than the following:
•      you may print or download to a local hard disk extracts for your personal and non-commercial use only
•      you may copy the content to individual third parties, including published or online magazines, journals, books and for their personal use, but only if you acknowledge the Aligarh Urdu Club and/or Deedahwar  as the source of the material
You may not, except with our express written permission, distribute or commercially exploit the content. Nor may you transmit it or store it in any other website or other form of electronic retrieval system.


Aligarh Urdu Club
http://www.deedahwar.net

.

__,_._,___

image002.jpg

Ashfaque Umar

unread,
Apr 5, 2014, 10:35:44 AM4/5/14
to 5BAZMeQALAM
محترم عبدالمتین منیری صاحب ۔ ۔                         السلام علیکم ۔ ۔۔ ۔                  
                آپ کا میل پڑھ کر خوشی ہوئی ۔۔ ۔  خاکسار بھی پرانی کتابوں سے متعلق کچھ کام کررہا ہے ۔ ۔۔  میری ذخیرہ میں ریاستِ مہاراشٹر کی قدیم درسی کتب اور نصاب تعلیم کی کتب میں موجود ہیں۔ اس ذخیرہ میں پچھلے سو برسوں کی درسی اور نصابی کتابیں موجود ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاستِ مہاراشٹر (ساتھ ہی ساتھ کئی دیگر علاقوں ) کی پرائمری تعلیم کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

      آپ نے واٹس اپ سے متعلق جو آفر کیا ہے اسے پڑھ کر خوشی ہوئی۔ کیا آپ میرا نمبر شامل کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔ 09970669266

                                              شکریہ                                                                                                                                   اشفاق عمر


--

Jamshaid Sahil

unread,
Apr 5, 2014, 1:59:45 PM4/5/14
to Aijaz Shaheen
راشد اشرف صاحب! سلام مسنون
 آپ کے تجربات حقیقت ہیں۔ آج کے دور میں کتابوں سے لا تعلقی کی ایک بڑی وجہ انسان کی اپنی ذاتی سوچ ہے جس کی بنا پر وہ کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ 
                 جمشید ساحل


 
 
 
 
 

 

--

Syed Ahmed

unread,
Apr 6, 2014, 5:41:09 AM4/6/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم منیری صاحب                  سلام مسنون
بے شک جناب عطاء خورشید صاحب علمی ضیاع پر جو خون کے آنسو روتے دکھائی دیتے ہیں وہ ان کے اندرونی کرب کی کیفیت ہے جو ایک حقیقی علم دوست سے کی نشانی ہے، خدا ہمیں اس غفلت سے بیدار کرے۔
والسلام
سید احمد
6-6-1435ھ
6-4-2014ء
On Saturday, April 5, 2014 12:58 PM, Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com> wrote:
محترمی جناب عطا خورشید صاحب واقعی آپ نے دل کو دکھادیا ، چند سال قبل رضاعلی عابدی صاحب نے بی بی سی پر کتب خانے پر اپنے سفر نامے پر مشتمل ایک سلسلہ شروع کیا تھا ، جس میں وہی کچھ باتیں تھی جو آپ نے بیان کی ہیں ۔ اب تک ہمارے علمی ذخیرے کا ہمارے  ہی اہل علم کے ہاتھوں بڑا نقصان ہوچکا ہے ، لیکن راشد اشرف اور آپ جیسے حضرات ضمیر کو جگاتے رہیں تو بہت ممکن ہے جو بچا ہے اسے محفوظ کرنے کی اور اسے باذوق افراد تک پہنچانے کی کوئی شکل نظر آئے ۔ ویسے ہمارے اداروں کا رویہ ابھی نہیں بدلا ہے ، نہ اس کے بدلنے کی کوئی جلد امید ہے ، بس چند دیوانے ہیں جو شہرت اور پبلسٹی سے بلند ہوکر یہ کام کررہے ہیں ۔
اس پر ہمیں بات یاد آئی جو چند سال قبل عربی کے عظیم محقق ڈاکٹر محمود احمد طناحی مرحوم نے کہی تھی کہ ، عموما مشہور ہے کہ ہلاکو خان جب بغداد آیا تویہاں کے کتب خانے جلادئے گئے یہاں تک کہ دریائے دجلہ کا پانی کتابوں کی روشنائی سے کالا ہوگیا تھا۔ لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہے کہ مسلمانوں کے علم کا زوال اور کتابوں سے لاتعلقی ہولاکو 1215ء کے چارسو سال بعد شروع ہوئی ، کیونکہ امام جلال الدین سیوطی 1505ء اور عبد القادر بغدادی  1682ء کی  تصنیفات میں جن کتابوں کا حوالہ ملتا ہے وہ بعد کے ادوار میں نہیں ملتیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہولاکو کےبغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کے باوجود مسلمانوں کو علم و کتاب سے دور کرنے میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی کامیابی اس وقت ہوئی جب مسلم فوجیں یورپ میں ویانا تک پہنچ چکی تھیں ۔ اسی خوش حالی  اور غلبہ کے دور میں ہماری کتابیں زیادہ ضائع ہوئی ہیں ۔
شاید ہمارے قارئین کو معلوم ہو کہ بھٹکل ، چنئی  اور حیدرآباد میں ایک مسلم برادری نوائط کے نام سے جانی پہنچانی جاتی ہے ، حیدرآباد سے ڈاکٹر محمد حمید اللہ ، ڈاکٹر محمد یوسف الدین ، حسن الدین احمد  ، ڈاکٹر نصیر الدین ہاشمی  اور چنئی میں جسٹس بشیرالدین سعید ، ڈاکٹر محمد یوسف کوکن عمری
وغیرہ مشہور عالم فاضل منسوب ہیں، اس خانوادہ کا ایک مشہور کتب خانہ چنئی میں قائم ہے  ، جو کتب خانہ محمدیہ کے نام س مشہور ہے ، اس میں جہانگیر اور عادل شاہی دور سے ابتک کی پچیس نسلوں کے تسلسل کے ساتھ ابتک کے علماء مصنفین  قاضی حضرات کی جمع کردہ کتابیں محفوظ ہیں۔
اس خاندان میں بھی مسئلہ یہی تھا ،لیکن اسے امانتی کتب خانے کی حیثیت  دے دی گئی  کہ ہر ایک  فرد کی کتابیں  یہاں پر امانت کی طور پر محفوظ ہیں ۔ کوئی بیس سال سے ہمارا اس طرف جانا نہیں ہوا ، ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم کے چچا زاد بھائی اور چیف قاضی مدراس مولانا محمد حبیب اللہ صاحب کے زمانے میں ہمارا کئی سال تک مسلسل جانا ہوا  تھا، بڑے عظیم بزرگ تھے ، ان کے بعد بھی قاضی محمد صلاح الدین ازہری کے دور میں ایک بار جانا ہوا ، ناظم مکتبہ محمد عبیداللہ مرحوم بڑے اہتمام سے کتب خانہ دکھاتے تھے ، اور برادری کی نسبت سے بڑے احترام کا رویہ کرتے تھے ۔
احباب سے اطلاعا عرض ہے کہ ہم نے واٹس اپ پر  مختلف گروپ بنائے ہیں ، جن میں رضا علی عابدی کے کتب خانے  کے  آڈیو پرگرام کی قسطیں ہرہفتے بھیجتے ہیں ، ابتک ۸ قسطیں ارسال کی جاچکی ہیں ، ا س کے بعد جرنیلی سڑک ، شیر دریا ، ریل کہانی وغیرہ  یم پی تھری پر بھیجنے کا ارادہ ہے۔
کوئی صاحب انہیں اپنے واٹس اپ یا ٹیلگرام پر وصول کرنا چاہیں تو اپنا موبائل نمبر مکمل نام اور جگہ کے ساتھ ہمارے ذاتی ایمیل پر  ارسال کریں۔
 
Muniri Kufi Symbol by raza  34 Email
عبد المتین منیری
Director " BHATKALLYS"
Bhatkal , Karnataka
Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals
Deedahwar (http://www.deedahwar.net)/ or owner of Aligarh Urdu Club; or respective authors other than the following:

•      you may print or download to a local hard disk extracts for your personal and non-commercial use only
•      you may copy the content to individual third parties, including published or online magazines, journals, books and for their personal use, but only if you acknowledge the Aligarh Urdu Club and/or Deedahwar  as the source of the material
You may not, except with our express written permission, distribute or commercially exploit the content. Nor may you transmit it or store it in any other website or other form of electronic retrieval system.


Aligarh Urdu Club
.
__,_._,___
image002.jpg

farida lakhany

unread,
Apr 6, 2014, 6:02:42 AM4/6/14
to bazme...@googlegroups.com
Mein Jamshed Saheb ki baat se ittefaq karti hooN ke waqae aaj ke dor meiN kitaboN se la'talluqi ki baRi wajah insan ki apni zaati soch hai,aur yeh baat bhee durust hai kisi had tak ke isee ki bina par woh kisi doosre ko khatir meiN nahiN laata.Mera sawal yahaN se janam leta hai ke kiya hua unn logoN ko jo acche gharanoN se ,achhee ta'leem ke saath paley baRhe haiN,unki soch ko konsa deemak kha raha hai?
WS
Farida Lakhany



Date: Sat, 5 Apr 2014 22:59:45 +0500
Subject: Re: [بزم قلم:34502] پرانی کتابوں کا اتوار بازار، کراچی-2 مارچ 2014
From: jamshai...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Rashid Ashraf

unread,
Apr 7, 2014, 4:53:46 AM4/7/14
to 5BAZMeQALAM, Jamshaid Sahil

وعلیکم السلام محترم جمشید صاحب
نوازش

راشد
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages