پسِ آئینہ: سہیل انجم
ہندوستان کے ایک کثیر مذہبی ملک ہونے کے باوجود یہاں مجموعی طور پر مذہبی یگانگت اور بھائی چارے کی فضا رہی ہے۔ لیکن ہر مذہب میں کچھ نہ کچھ شدت پسند ہوتے ہیں۔ کسی میں زیادہ تو کسی میں کم۔ البتہ آج ایسے لوگوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ آجکل ایک خاص نظریے کے پیرووں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے، ان کی نماز اور مذہبی روایات پر پابندی لگوانے، داڑھی ٹوپی دیکھ کر چڑ جانے اور معمولی باتوں پر بھی ان کو زدوکوب کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسے واقعات بھی وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں جو اطمینان و سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اگر ایک طرف بریلی کے ایک گاوں محمد گنج میں مقامی غیر مسلموں نے مسلمانوں کی نماز پر پابندی لگوا دی تو وہیں دوسری طرف لکھنو یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کی نماز کے دوران غیر مسلم طلبہ ان کے لیے ڈھال بن گئے۔
محمد گنج کے ایک نجی مکان میں نماز پر پابندی کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ نماز ادا کرنے پر 16 جنوری کو پولیس نے 12 مسلمانوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ حالانکہ الہ آباد ہائی کورٹ نے جنوری ہی میں ایک آرڈر جاری کرکے کہا تھا کہ نجی ملکیت پر نماز کی ادائیگی کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود نماز کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس سے ناراض ہو کر ہائی کورٹ نے ضلع کے ڈی ایم اور ایس ایس پی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ ہائی کورٹ اس سلسلے میں محمد گنج کے ایک شخص طارق خان کی درخواست پر سماعت کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ درخواست گزار کو حق حاصل ہے کہ وہ سہولت کے مطابق نجی ملکیت پر کسی اجازت کے بغیر عبادت کرے۔ البتہ اگر زیادہ لوگ اکٹھا ہوتے ہیں اور لوگ سڑکوں پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر اسے پولیس کو اطلاع دینی اور اجازت لینی ہوگی۔ درخواست گزار کو اگر تحفظ کی ضرورت ہے تو پولیس کے صوابدید پر ہے کہ وہ اس کا کیا طریقہ اختیار کرے۔ یہ ریاست کی ڈیوٹی ہے کہ وہ اس کے جان ومال اور حقوق کا تحفظ کرے۔ جب جنوری کے حکم پر کوئی عمل نہیں کیا گیا تو جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس ایس اے سدھارتھ نندن پر مشتمل بینچ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا اور اگلی سماعت کے لیے گیارہ مارچ کی تاریخ مقرر کی۔ ا س نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ اس وقت تک درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ لیکن توہین عدالت کا نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود نماز کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ گاوں میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق جس مکان میں نماز ادا کی گئی تھی وہ اب مقفل ہے۔ جن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا انھیں رہائی کے بعد دس دنوں تک یومیہ پولیس میں حاضری دینی پڑی تھی۔ اب وہ لوگ خوف زدہ ہیں کہ اگر دوبارہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو انھیں پھر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ادھر متعدد مقامی ہندووں نے اپنے مکانوں پر ’برائے فروخت‘ کا اعلان چسپاں کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے مطابق یہ قدم دباو بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ صورت حال ایسی نہیں ہے کہ ان کو اپنے مکان فروخت کرنے پڑیں۔ ادھر پولیس عدالتی فیصلے کی تشریح اپنے طور پر کرتی ہے۔ ایڈیشنل ایس پی انشیکا ورما کے مطابق افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ مقامی باشندے عدالتی حکم کو حتمی فیصلہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ جبکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ نظم و نسق کا قیام ہماری ترجیح ہے۔ ہم نے اس اطلاع پر کہ ایک مکان کو مبینہ طور پر عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے، کارروائی کی۔ کیونکہ موجودہ قانون کے مطابق عبادت گاہ بنانے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ (حالانکہ مسلمان وہاں عبادت گاہ نہیں بنا رہے ہیں)۔ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ عدالتی نوٹس کے بعد مذکورہ مکان میں نماز ادا کی جا رہی ہے۔ جس کے خلاف احتجاج ہوا اور کشیدگی پیدا ہوئی۔ ہم نے فوراً مداخلت کی اور فریقین کے درمیان مذاکرات کروا کر اس بات کو یقینی بنایا کہ صورت حال جوں کی توں برقرار دہے۔
محمد گنج میں نماز کی ادائیگی پر پابندی اور بدایوں کے ایک گاوں میں بجرنگ دل کے ایک شخص کے ذریعے داڑھی ٹوپی والے مسلمانوں کو سر راہ مارنے پیٹنے کے واقعے کے درمیان لکھنو یونیورسٹی میں ایک واقعہ پیش آیا جسے مذہبی یگانگت اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دراصل یونیورسٹی کیمپس میں دو سو سال پرانی ایک عمارت لال بارہ داری کے نام سے موجود ہے۔ جب اس کی تعمیر ہوئی تھی تو یونیورسٹی کا وجود بھی نہیں تھا۔ یہ عمارت محکمہ آثار قدیم کے تحت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس میں ایک بینک، کلب اور کینٹین بھی ہیں۔ مسلم طلبہ روایتی طور پر اس میں نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں انتظامیہ نے مسجد والے حصے کو یہ کہہ کر سیل کر دیا کہ عمارت مخدوش ہے جو کبھی بھی گر سکتی ہے۔ جبکہ بینک، کلب اور کینٹین اب بھی موجود ہیں۔ اتوار کے روز جب مسلم طلبہ نے اس جگہ کو بند پایا تو انھوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ بلکہ باہر ہی اذان دے کر پر امن انداز میں نماز ادا کرنی شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر ہندو طلبہ نے کسی بھی قسم کی رخنہ اندازی کو روکنے کے لیے انسانی زنجیر بنا کر ان کی حفاظت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تعلیم حاصل کرنے کی جگہ ہے فرقہ واریت پھیلانے کی نہیں۔ یہاں تمام مذاہب کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہم پہلے طالب علم ہیں بعد میں ہمارا مذہب آتا ہے۔ ہندو طلبہ نے پہلے تو وہاں کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹائیں۔ پھر پولیس کی موجودگی میں لوہے کے اس دروازے کو توڑنے کی کوشش کی جو سیل کر دیا گیا ہے۔ مسلم طلبہ کی جانب سے پرامن انداز میں نماز کی ادائیگی اور ہندو طلبہ کی جانب سے ان کے تحفظ کی ستائش کی جا رہی ہے۔ لیکن اب اس معاملے میں کچھ شدت پسند طلبہ کود پڑے ہیں۔ وہ نماز کی ادائیگی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ کشیدگی سے بچنے کی آڑ میں نماز پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اسی درمیان راجستھان کے ٹونک میں ایک سابق بی جے پی ایم پی کی جانب سے غریب خواتین میں کمبل تقسیم کرنے کے دوران مسلم خواتین کو نہ صرف کمبل دینے سے انکار کر دیا گیا بلکہ دیے ہوئے کمبل واپس لے لیے۔ ان کے اس رویے کے خلاف مذکورہ گاوں کے باشندوں نے احتجاج کیا اور ہندو خواتین نے اپنے کمبل واپس کر دیے۔ انھوں نے مذکورہ لیڈر کے سامنے ہی احتجاج کیا اور کہا کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ آپ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں جو قابل قبول نہیں ہے۔ ان واقعات کے درمیان اترپردیش کے سنت کبیر نگر ضلع کے ایک معاملے کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اگست 2017 میں دو مسلم طلبہ نے ایک ممنوعہ مقام پر نماز ادا کی تھی جس پر ضلع کے ہیڈکوارٹر خلیل آباد میں مختلف دفعات کے تحت ان کے خلاف رپورٹ درج کی گئی تھی۔ سول جج نے مئی 2019 میں طلبہ کے نام سمن جاری کیا تھا۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں فرد جرم اور سمن آرڈر کو کالعدم کر دیا۔ جسٹس سوربھ سری واستو نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی ہے۔ البتہ اگر انتظامیہ نظم و نسق کی برقراری کے لیے کوئی حکم جاری کرتی ہے تو اس کی پابندی کی جانی چاہیے۔ بہرحال ایک طبقے کی جانب سے ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوششوں کے درمیان اس قسم کے واقعات سکون و اطمینان کا باعث بنتے اور نفرت پھیلانے کی سازشوں کو ناکام بناتے ہیں۔ اس موقع پر خمار بارہ بنکوی کا یہ شعر یاد آرہا ہے:
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے
موبائل: 9818195929