کتابوں کا اتوار بازار، عمر میمن اور کمال رضوی سے ملاقاتیں

1 view
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Feb 20, 2012, 4:18:56 AM2/20/12
to 5BAZMeQALAM, arif.waqar, Maqsood Sheikh
 

خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے

علی الصبح اتوار بازار کی جانب رواں دواں تھا اور ذہن میں یہی بات تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے مزار قائد سے متصل خواتین کے جلسے کی وجہ سے کہیں الطاف بھائی کی گھر کے مردوں کو اس روز کھانا پکانے کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کتب فروش بھی بازار میں آنے سے قاصر نہ ہوں۔ لیکن وہ سب کے سب وہاں موجود تھے۔
 
صاحبو! خواتین کا جلسہ بھی خوب تھا، صنف نازک کا وہ جم غفیر کہ بقول شخصے قاعد اعظم اس روز رات کو ایک بزرگ کے خواب میں آئے اور کہا کہ "میں نے اتنے وسیع پیمانے پر خواتین کا مجمع اپنی تمام زندگی میں نہیں دیکھا
       
اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ الطاف بھائی کا جلسے کے انعقاد سے بڑھ کر کارنامہ تو یہ رہا کہ لاکھوں خواتین کو خاموش رہنے پر کس خوش اسلوبی سے آمادہ کیے رکھا۔ مجال ہے کہ کوئی عفیفہ چوں بھی کرجاتی۔  یہاں 5 خواتین کو خاموش کرانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب!
 
کتابوں کا اتوار بازار اس مرتبہ احباب سے ملاقاتوں کی نذر ہوا، کویت سے محمد حنیف صاحب
تشریف لائے تھے، ابتدائی ملاقات اتوار بازار ہی میں رکھی گئی، ادھر جناب اجمل کمال صاحب بھی موجود تھے اور معراج جامی صاحب تو ہمارے ساتھ ہی تھے۔ عقیل عباس جعفری صاحب گیارہ بجے کے قریب پہنچے اور فون پر ہمیں ‘شیش محل‘ کے ملنے کی نوید سنائی۔
 
 
دو عدد کتابوں کا تعارف یہ ہے:

بوجھیں تو جانیں
منظوم خاکے
مبارک مونگریری
ناشر: مونگیری میموریل سوسائٹی، کراچی
سن اشاعت: 1994
 
صبح کرنا شام کا
خودنوشت
تیسرا ایڈیشن
مصنف: آفاق صدیقی
اردو سندھی ادبی فاونڈیشن کراچی
سن اشاعت: 1999
 
اتوار بازار سے رخ کیا کمال احمد رضوی صاحب کے گھر کا جن سے ملنے کے متمنی حنیف صاحب اور جامی صاحب بھی تھے، ملاقات ہوئی اور مختلف النوع موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا، ہم لوگوں نے کمال صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنی یاداشتیں لکھنے کا سلسلہ شروع کریں کہ لاہور میں انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ حال ہی میں انہوں نے کراچی کے مجلے اسالیب میں انور جلال شمزا سے متعلق اپنی یادوں کو مضمون کی شکل میں سمیٹا ہے جو خاصا دلچسپ ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر یہ امید نظر آئی ہے کہ کمال صاحب لاہور میں اپنے قیام، الف نون کی اجراء سے متعلق واقعات اور ادبی سرگرمیوں سے متعلق اپنی یادیں قلم بند کریں گے۔ ان کا ایک اور مضمون کراچی کے ایک جریدے میں شائع ہونے والا ہے۔
     
ہفتے کے روز کراچی کی بیدل لائبریری میں علامہ عبدالعزیز میمن کے فرزند پروفیسر عمر میمن کے اعزاز میں ایک سادہ سی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کے روح رواں ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے۔ شرکاء پروفیسر عمر کی گفتگو سے دو گھنٹے تک لطف اندوز ہوتے رہے۔ حاضرین میں جناب سید معراج جامی، ماہنامہ انشاء کے مدیر صفدر علی خان، جناب راشد شیخ بھی شامل تھے۔
 
پروفیسر عمر میمن 38 برس کی خدمات کے بعد امریکہ کی
University of Wisconsin
سے سبکدوش ہوئے ہیں، 1939 میں علی گڑھ میں پیدا ہونے والے پروفیسر عمر میمن بیرونی دنیا میں ایک معروف اسکالر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ پروفیسر میمن نے
Roger Boase
کا مضمون ‘ یورپ کی عشقیہ شاعری پر عرب اثرات" کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا جو مندرجہ ذیل لنک پر پڑھا جاسکتا ہے:
https://docs.google.com/viewer?a=v&pid=explorer&chrome=true&srcid=0B6MrkMcVU868Yjk1OTVmZTAtMDE1Zi00ZDY2LWEwMTEtMmIzYTliZjFiZDNh
پروفیسر میمن کے دیگر تراجم کے مطالعے کے لیے یہ لنک کارآماد ہے:
http://sites.google.com/site/muhammadumarmemon/urdu-translations
 
http://urdustudies.com/
مندرجہ بالا ویب سائٹ کی تخلیق میں پروفیسر عم میمن کا نمایاں حصہ ہے

علامہ عبدالعزیز میمن ایک جید اسکالر تھے۔ ان کی شخصیت پر لکھی گئی ایک کتاب اور اس سلسلے میں محمد راشد شیخ صاحب کے کردار کا احوال ملک نواز احمد اعوان اپنی ایک تحریر میں اس طرح بیان کرتے ہیں:
 
"بھارت ایک دن ایک صاحب ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایاکہ میں علامہ عبدالعزیز میمن صاحب پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں مجھے فلاں صاحب نے آپ کے پاس جانے کے لیے کہا اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ سلسلے میں مدد فرمائیں نیز اپنے دوست محمد راشد شیخ صاحب سے بھی سفارش فرمائیں کہ وہ بھی تعاون فرمائیں۔ راقم نے راشد شیخ صاحب سے فون پر صورت حال بتائی انہوں نے فرمایا میں پندرہ سولہ سال سے علامہ عبدالعزیز کی سوانح حیات لکھنے کے لوازم جمع کر رہاہوں وہ اس لیے نہیں کہ کسی کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے کے دے دوں ان کو چاہیے جس طرح میں نے محنت سے یہ لوازمہ جمع کیا ہے اسی طرح وہ بھی محنت اور تگ و دو سے لوازمہ اکٹھا کریں اور اپنا مقالہ لکھیں۔ بات درست تھی تحقیق کامقصد ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ تحقیق کی صلاحیت اجاگر کرنا ہوتا ہے اس کے باوجود انہوں نے کچھ ضروری لوازمہ ان کو عطا کیا۔ معلوم نہیں ان کے پی یاچ ڈی کا کیا بنا۔ جناب فیصل احمد ندوی بھٹکلی کتاب کے پیش لفظ میں علامہ رضی الدین حسن بن محمد الصنعانی متوفی 650 ہجری اور علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی 1205 ہجری کے بعد علامہ میمنی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ”لیکن ہمارے یہاں کی ایک تیسری شخصیت جو عربی لغت کی باریکیوں سے واقفیت میں دنیا پر چھا گئی اور جن کی عربی دانی کا پوری دنیا میں ڈنکا پیٹا اورعربوں نے کھل کر نہ صرف یہ کہ ان کا اعتراف کیا بلکہ اس میں ان کی استاذیت تسلیم کی، جو برسرعام عرب ادیبوں کو ان کی لسانی غلطیوں پر ٹوکنے کی جرات رکھتے تھی، اور عرب ان کو شکریے کے ساتھ قبول کرتے تھی، وہ ہمارے ممدوح علامہ عبدالعزیز میمن (1398ھ1978/ئ) ہیں۔ پیشرو دونوں شخصیات سے ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ خالص اول سے اخیر تک اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں، اسی سرزمین سے اٹھے یہیں پلے بڑھی، یہیں علمی ترقی کی اور اس میں کمال بہم پہنچایا، اور یہیں سے دنیا کو سیراب کیا اور یہیں پیوند خاک ہوئے۔ علامہ میمن ادبی کمال کے ساتھ بہت سی انسانی خصوصیات کے بھی حامل تھے وہ اگر چہ کفایت شعار مشہور تھی، لیکن گہرائی میں اترنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کفایت شعاری صرف ذاتی معاملات میں تھی، ورنہ ملی معاملات میں تو وہ نہایت فیاض بلکہ شاہ خرچ تھے۔ انہوںنے ندوة العلماءکے کتب خانے کو خطیر رقم دی، المجمع العلمی دمشق کے لیے بھی گراں قدر عطیے دیی، حتی کہ مخطوطات جو وہ بہت خرچ کر کے اور بڑی محنت سے حاصل کرتے تھے اور جو ان کو جان سے زیادہ عزیز تھے وہ ضرورت پر ان کی بھی سخاوت کرتے تھے۔ اسی طرح وہ قوم و ملت کے مال کو خرچ کرنے میں بڑے محتاط تھی، ادارہ تحقیقات اسلامی کراچی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے بلا مشاہرہ خدمت انجام دی اور ادارہ کے لیے حصول کتب کی خاطر انہوں نے بڑھاپے میں بیرون ملک کے کئی سفر کیے۔ اور اپنے اثر و رسوخ اور واقفیت کی بنا پر کئی نادر کتب ادارے کے لیے جمع کیں، اور یہ بات یاد رکھنے کی بلکہ قابل تقلید ہے کہ ان دوروں میں اگر چہ تمام اخراجات حکومت پاکستان برداشت کر رہی تھی، مگر علامہ ان سفروں میں پوری احتیاط سے خرچ کرتے تھی، نہایت ہی سادگی سے گزر بسر کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں ترکی کے سفر سے واپسی کے بعد خاصی رقم یہ کہتے ہوئے واپس کی کہ یہ ملک اور قوم کی امانت ہے۔ ایسے فضائل و کمالات کی جامع شخصیت علامہ عبدالعزیز میمن کے انتقال کو اب تیس سال ہو چکے ہیں، اس عرصے میں علامہ پر اردوعربی میں مضامین تو بہت لکھے گئی، جرائد ورسائل کے مخصوص نمبرات بھی نکلی،مگر اب تک ان کی حیات اور علمی خدمات پر کوئی مرتب اور مستند کتاب نہیں لکھی گئی۔ یہ برصغیر کی ملت اسلامیہ کے ذمے قرض تھا جو اگر چہ بہت تاخیر سے ادا ہوا، لیکن جس ”حسن ادا“ کے ساتھ اس کی ادائیگی ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ تاخیر قابل معافی ہے۔ محترم جناب محمد راشدشیخ صاحب نے جس عزم و حوصلے سے یہ بیڑا اٹھایا اور پھر جس صبر و ثبات کے ساتھ منجدھار میں رہے اور جس خوش اسلوبی سے اس کو پار لگایا، وہ انہی جیسے جواں مردوں کا حصہ ہے۔ فہرست مضامین کتاب کی جامعیت کا انداہ لگانے کے لیے کافی ہی، اور فہرست مراجع و مصادر ان کی محنت کو پکار پکار کر کہہ رہی ہی، پھر جس حسن ترتیب اور تصنیفی سلیقے سے انہوں نے یہ کام انجام دیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ جناب محمد ارشد شیخ صاحب علم کے لیے فارغ اور تصنیف و تحقیق کے لیے یکسو ہیں، لیکن یہ سن کر حیرت ہو گی کہ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک سول انجینئر ہیں اور اپنے پیشے سے برابر جڑے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ علم و مطالعے سے گہری وابستگی رکھنا اور تصنیفی و تحقیقی ذوق کو جمع کرنا جمع اضداد سے کم نہیں۔ ہم اس کو ان کے ساتھ اللہ کا خاص فضل سمجھتے ہیں۔ درحقیقت یہ کام ادب عربی کے کسی باذوق طالب علم یا استاد کے کرنے کا تھا، لیکن ان کو اب جناب محمد راشد شیخ صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے یہ فرض کفایہ ان کی طرف سے ادا کر دیا ہے اور حق یہ ہے کہ انہوں نے ان کے سوانح کا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ اس کو نافع بنائے۔“ کتاب سترہ ابواب پر مشتمل ہی، باب اول میں خاندان، ولادت، ابتدائی حالات باب دوم میں قیام دہلی باب سوم میں قیام امروہہ و رام پور باب چہارم قیام پشاور، باب پنجم پہلا قیام لاہور باب ششم قیام علی گڑھ،باب ہفتم قیام کراچی باب ہشتم دوسرا قیام لاہور باب نہم قیام کراچی و حیدرآباد سندھ، باب دہم عربی زبان اور علامہ میمن، باب یاز دہم علامہ میمن و تحقیقی خدمات باب از دہم عادات و خصائل باب سیزدہم تلامذہ باب چہار دہم اعتراف عظمت اور خراج عقیدت باب پنجم علامہ میمن کی نادر تحریریں، باب ششذہم اردو مکاتیب علامہ عبدالعزیز میمن باب ہفدھم مکاتیب بنام علامہ میمن۔ کتاب بڑی محنت اور تحقیق سے لکھی گئی ہے پاکستان سے بھی اس کا نظر ثانی شدہ عنقریب طبع ہو رہا ہے اگر راشد شیخ صاحب کسی یونیورسٹی کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ پیش کرتے تو لازماً ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا ہوتی۔"

 
   
  
bojho to janain-manzoom khakay-mubarak mongairi-mubarak memorial khi-1994.jpg
subah kerna sham ka-aafaq siddiqui-urdu sindhi adbi found khi-2009-third edition.jpg
left-rashid ashraf, muhammad hanif & ajmal kamal-18 Feb, 2012.jpg
left- muhammad hanif,ajmal kamal & miraj jami-18 Feb, 2012.jpg
m hanif, kalam rizvi, miraj jami-18 Feb, 2012.jpg
rashid ashraf, kalam rizvi, miraj jami-18 Feb, 2012.jpg
IMG_3342.jpg
left-dr moinuddin aqeel, safdar alikahn mudeer insha, prof umar memon.jpg

Khadim Ali Hashmi

unread,
Feb 20, 2012, 8:58:21 AM2/20/12
to bazme...@googlegroups.com
علامہ عبدالعزیزمیمن کے بارے میں ایک مرتبہ علامہ غلام شبیر بخاری نے بتایا کہ وہ ایک وفد کے ہمراہ مصر گئے ہوئے تھے، وہاں جامعہ الازہر کے ریکٹر نے پہلا سوال علامہ میمن      کی خیریت دریافت کرنے کا کیا۔ 
 1975 
   ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی میں انٹرنیشنل کانفرنس برائےتعلیم فزکس ہو رہی تھی، اس  میں میری ملاقات علامہ مرحوم کے بیٹے عیسیٰ میمن اور ان کی والدہ سے ہوئی۔ اس وقت   علامہ کا انتقال ہو چکا تھا، اس لیے اس مضمون میں علامہ کے انتقال کی تاریخ  (1398ھ1978/ئ) درست معلوم نہیں ہوتی۔ 
خادم علی ہاشمی

From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: arif.waqar <arif....@gmail.com>; Maqsood Sheikh <maqsood....@googlemail.com>
Sent: Monday, February 20, 2012 2:18 PM
Subject: {9576} کتابوں کا اتوار بازار، عمر میمن اور کمال رضوی سے ملاقاتیں

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"


Ainee Niazi

unread,
Feb 20, 2012, 9:25:22 AM2/20/12
to bazme...@googlegroups.com
جناب را شدصاحب !
اسلا م وعلیکم
جی ہاں آپ کو بتا تے چلیں کہ ہم بھی بنفیس زندگی میں پہلی با ر گلشن اقبال سے  اس قافلے میں شریک ہو نے گئے شریک تو ہوئے کہ کو ئی اچھا سا کالم لکھنے میں آسانی ہو گی کہ آنکھوں دیکھے حا ل کی با ت اور ہو تی ہےاپ کی لیکن افسوس کہ قلم پکڑ کر لکھنے بھیٹھے تو پتہ چلا کہ کچھ ھا تھ نہ آیا ۔۔۔ بہر حا ل آپ کی تحر یر  بہت خو بصورت ہے ۔ آپ نے جس مدلل انداز میں  ابن صفی صا حب سےاپنی پسند کا مقدمہ لڑا ہے وہ لا جواب ہے  بہت خو بصورت تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کو خو ش اور سلا مت رکھے آمین

عینی نیازی
کرا چی












2012/2/20 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
--
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages