اسلام کے حکم “علم حاصل کرو“ کا مصداق - پانچوِیں اور آخری قسط

2 views
Skip to first unread message

Humayun Rasheed

unread,
Apr 26, 2013, 11:13:15 AM4/26/13
to bazme...@googlegroups.com
Please find attached complete article in one file.
Last episode starts here ...
ضروریات دِین‘ جو کہ واجب ہے‘ سے کیا علم مراد ہے؟
جیسا کہ ذکر ہوا کہ ضروریات دِین کا علم نہیں ہو گا تو گناہگار ہوگا‘ عین ممکن ہے کہ ایمان سے ہی ھاتھ دھو بیٹھے۔ رد المحتار میں ہے (أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه) (اِتنا علم حاصل کرنا فرض عین ہے کہ جس کی طرف یہ آدمی محتاج ہے اپنے دِین کیلئے)۔ ضروریات میں وہ بنیادی عقائد ہیں جن پر علماء نے دس بارہ صفحوں کے مِلتے جُلتے چھوٹے چھوٹے رسالے لکھ رکھے ہیں۔ بس جسے پڑھنا نہیں آتا وہ کسی عالم سے وہ تمام سیکھ لے اور اِن پر ایمان لے آئے۔ اِس سے آگے پیچیدہ عقائد پر اطلاع کا وقت نہیں ہے تو خاموشی اختیار کرے اور دِل میں ہر صحیح عقیدے پر ایمان کا پختہ ارادہ کر لے۔ اِسی طرح کم از کم اِتنا علم ہو کہ عبادات کو کیسے ادا کرنا ہے۔ اگر کوئی استثنائی صورت ہو گی تو فتوی لے لے گا لیکن عبادت کو مستقل طور پر غلط ادا کرنا حرام ہے۔ اِسی طرح لڑکا چودہ پندرہ سال اور لڑکی دس گیارہ سال سے بڑی ہو تو پاکی ناپاکی اور صفائی کی بنیادی باتوں کو جانتے ہوں ورنہ والدین برابر کے مجرم ہیں۔ پھر جب حج پر جا رھا ہے تو کوئی چھوٹا قاعدہ زبانی یاد کر لے تو اچھا ہے مگر اِتنا علم ضرور حاصل کر لے کہ اگر کوئی استثنائی صورت نہیں پیش آتی تو پورا حج صحیح ادا کر سکے۔ پھر جو کوئی کاروبار کر رھا ہے وہ یہ جانتا ہو کہ سود‘ جُوا وغیرہ کیا ہیں تاکہ اِس سے بچ سکے۔
پس ضروریات دِین بنیادی عقائد ہیں اور عبادات و تہذیب کا اُتنا علم ہے کہ ایک آدمی عام حالات میں اپنے روز کے کام اللہ تعالٰی نے حکم کے مطابق ادا کر سکے‘ کوئی عام عقل والا انسان ایک سال سے کم میں ان کی تحصیل کر سکتا ہے اور وقتا فوقتا علماء سے پوچھ سکتا ہے۔

علم کا مصداق
یہ وہ موضوع ہے جس کیلئے اب تک ہم نے تمام بات کی اور الحمدللہ بات واضح بھی ہوئی۔ پس تمام فنون تو اس کے معنی سے خارج ہیں جیسا کہ اُوپر ذکر بھی کیا گیا پھر قرآن اور حدیث میں بھی ہم نے دیکھا کہ علمِ دانش و سائنس اِس میں شامل نہیں کیونکہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نہ ہی صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نے فنون سیکھنے میں کوئی خاص پیش قدمی کی۔ کسی نے سیکھ لیا تو ٹھیک نہ سیکھا تو ملامت نہیں۔ جبکہ اگر کوئی انسان علمِ دِین کی مبادیات بھی نہیں جانتا تو اُسے ملامت کیا جاتا ہے۔ مثلا اُسے قرآن کی کوئی سورت اِتنی بھی نہیں آتی کہ نماز پڑھ سکے تو گناہگار ہے‘ اور وجہ یہی ہے کہ اِتنا علم تو حاصل کرنا فرض تھا‘ یہی بات صاف بتاتی ہے کہ علم کا مصداق دِین کی بنیادی باتیں ہیں جنہیں عرف عام میں ضروریات دِین کہتے ہیں۔
پس قرآن اور حدیث میں جہاں علم کے فرض ہونے کا حکم ہے وھاں ضروریات دِین مراد ہیں کہ جِن میں اصولی طور پر اضافہ نہیں ہوتا‘ اور جہاں علم کی بڑھوتری کیلئے دُعا کا یا علم حاصل کرنے کے فضائل کا کہا گیا ہے وہاں مراد علم کی فروعات اور معرفت الٰہی ہے کہ جیسے جیسے حاصل کریں بڑھتا رہے گا اور جنت کی طرف گامزن رہے گا۔

فن سیکھنا واجب نہیں ہے تو سکول کیوں؟
اِتنے سکول اور کالج کیوں‘ اِتنی شد و مد کیوں ہے‘ اور علماء بھی اپنے بچوں کو یہ فنون سکھاتے ہیں۔ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ کسی کے سامنے ھاتھ پھیلانا گناہ تو ہے ہی اخلاقا بھی ایک گری ہوئی حرکت مانی جاتی ہے۔ اسلام ہی نہیں بلکہ ہر مذھب اور معاشرے میں اِسے بُری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پس یہ فنون اِس لئے سکھائے جاتے ہیں تاکہ دُنیا میں رہنے کے اسباب کو استعمال کر سکے اور اپنے اور دوسروں کیلئے آسانی پیدا کر سکے۔ اگر کسی کو اِس کی ضرورت نہیں تو اُس پر یہ فن حاصل کرنا لازم بھی نہیں‘ جی ھاں کسی کو فن بالکل نہ آتا ہو تو فی نفسہ کوئی گناہ نہیں‘ ھاں ضروریات دِین کی تحصیل سے کسی کو مَفَرّ نہیں‘ جو نہیں سیکھے گا وہ گناہگار ہو گا۔

مسلمانوں کا سنہری دور سائنسی بھی تھا
جی ھاں‘ اِس سے انکار نہیں‘ لیکن اسلام کا اِس سے تعلق نہیں بلکہ ہر وہ قوم جو طاقتور ہو دُنیا پر حکومت کر رہی ہو سائنس اُنہی میں پھلتی پھولتی ہے۔ آپ تاریخ دیکھتے جائیں‘ جو قوم طاقت میں آئی سائنس اُنہی کے اندر ظاہر ہوئی۔ پہلے ایرانیوں میں سائنس عربوں سے زائد تھی‘ جب اسلام آ گیا تو اسلامی حکومت والے علاقے سائنس کی اماجگاہ بن گئے‘ اب طاقت اہل کتاب کے پاس ہے تو وہ سائنس میں ترقی کر رہے ہیں۔ پس سائنس کا تعلق دنیاوی طاقت سے ہے نہ کہ کسی مذھب سے۔

ہر علاقے میں کم از کم ایک عالم کا ہونا واجب ہے
اگر علاقے میں ایک عالم موجود ہے جو لوگوں کے مسائل پر فتوی دے سکے تو ٹھیک ہے ورنہ تمام علاقہ گناہگار ہوگا۔ علاقے سے مراد ہے جہاں عام حالات میں سفر کیا جا سکے یعنی نماز قصر نہ ہو اور تھوڑی سی جستجو سے پہنچا جا سکے۔ یہاں تک کہ علاقے میں قاضی مقرر نہ بھی ہو تو بھی بڑی بات نہیں کیونکہ قاضی کی ضرورت تو تب پڑے گی جب جھگڑا ہو گا تو لوگ لمبا سفر بھی کر لیں گے یا جرگہ ہی بنا لیں گے جبکہ عالم اور مفتی کی تو لوگوں کو آئے دِن ضرورت پڑتی رہتی ہے اِس لئے کم مسافت پر عالم ہر وقت موجود ہونا چاہئے‘ جس علاقے میں موجود نہیں اُس کے تمام باسی گناہگار ہیں‘ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں (فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون) (جاننے والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں

دِینی علم اور دنیاوی علم میں فرق کیسے کریں گے؟
پہلا فرق تو یہی ہے کہ جس علم کیلئے انبیاء علیھم السلام بھیجے گئے وہ دینی علم ہے اور اِس کے علاوہ دُنیاوی ہے۔
دوسری بات یہ سمجھ لیں کہ جو علم اللہ تعالٰی کی معرفت اور عبادت میں پختگی کیلئے حاصل کیا جائے وہ دینی ہے اور جو دُنیا کو حاصل کرنے کیلئے حاصل کیا جائے وہ دنیاوی ہے۔ پس ایک آدمی نے عربی سیکھی تاکہ قرآن و حدیث سمجھ سکے تو عبادت میں ہے اور دِینی علم سیکھ رھا ہے‘ دوسرا اِسی کا ہم جماعت عربی کو ذریعہ معاش بنانے کیلئے سیکھ رھا ہے تو فن سیکھ رھا ہے نہ عبادت میں ہے نہ دینی علم سیکھ رھا ہے اگرچہ قرآن اور حدیث کو پڑھنے کے قابل ہو جائے۔ جو قرآن اور حدیث کو معرفت الٰہی کیلئے سیکھ رھا ہے وہ دینی علم حاصل کر رھا ہے جو دُنیا حاصل کرنے کیلئے سیکھ رھا ہے وہ قرآن اور حدیث پڑھتے ہوئے بھی دُنیاوی علم حاصل کر رھا ہے۔

انسان اور جانور (یا جاندار) میں فرق
ابتداء میں مخلوقات میں علم کے لحاظ سے فرق بیان کیا گیا تھا۔ پس خوراک ڈھونڈنے میں ماہر ہونا‘ گھر بنانے میں ماہر ہونا‘ شھوت کو پورا کرنا‘ بچوں کی حفاظت کرنا‘ دشمن کو زیر کرنا یا کترانا وغیرہ یہ وہ باتیں ہیں جو جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں اور انسانوں میں بھی بلا امتیاز مذھب جبِلّی طور پر پائی جاتی ہیں۔ پس خوراک کے نئے نئے حربے ڈھونڈنا‘ گھر بنانے کے نئے نئے انداز نکالنا‘ شھوت رانی کو نئے نئے رنگ دینا‘ بچوں کو علم کی بجائے سوسائٹی میں اپنی ناک کیلئے اداکار بنانا‘ دشمن کو ہر ناجائز طریقے سے زیر کرنا‘ والدین کی بے تکریمی کرنا وغیرہ انسانی نہیں بلکہ حیوانی خصلتیں ہیں اِسی لئے جو معاشرہ دِین سے کٹ جاتا ہے وہ یہی اختیار کرتا ہے ایک دوسرے کے دشمن ہونے کے باوجود اِن باتوں میں سب ایک ہیں اور اِس کی وجہ یہی ہے کہ یہ انسانی جبلت اور نفس کا نتیجہ ہے۔
انسان کا امتیاز شروع ہوتا ہے جب حلال حرام کو جانے‘ گھر میں عبادت کی جگہ مختص کرے‘ شھوت کو عقل کے اختیار میں رکھے‘ بچوں کو دِین کا علم سکھائے‘ دشمن کو دوست بنائے‘ والدین کے چہرے پر خوشی کو حج مبرور سمجھے۔

خاتمہ
پس ہر وہ علم جو جانوروں سے ممثل ہے وہ دنیاوی علم یعنی فن ہے‘ نہ ہی انبیاء علیھم السلام اِس کیلئے بھیجے گئے نہ ہی اُن کی بات کا یہ مصداق ہیں۔ اور جو ان حیوانی علوم سے اَشرف ہے وہ دِینی علم ہے اور یہی انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتا ہے اور یہی علم “علم“ کا مصداق ہے جس پر دِین زور دے رھا ہے‘ اِسی کیلئے انبیاء علیھم السلام بھیجے اور یہی اُن کی مراد ہے‘ اور اگر انبیاء علیھم السلام نہ آتے تو ہم یہ علم نہیں جان سکتے اور اگر “علم حاصل کرو“ کا نہ کہتے تو انسان حاصل نہ کرتا ۔
رب زدنی علما 
الحمد للہ موضوع ختم ہوا‘
جمعہ بتاریخ ٢٦ اپریل ٢٠١٣
بمطابق ١٦ جمادی الثانی ١٤٣٤
بقلم اضعف العباد ابو ابراہیم۔


2013/4/22 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
In next (and hopefully last) episode I will send all in one PDF document. Currently all can be seen in this thread at one place, starting from bottom. Fourth part starts now ...
علم کے فضائل اور اِس کی مراد قرآن میں
قرآن اور حدیث میں علم کا ذکر اتنی بار ہے کہ شائد ایک جگہ ذکر کرنا ممکن نہیں۔ بہرحال چنیدہ آیات و احادیث دیکھتے جائیے جہاں بھی علم کا ذکر ہو گا وھاں فن کو لے آئیں تو مفہوم ٹھیک نہیں رہے گا۔ اللہ تعالٰی ہمیں علم حاصل کرنے والا بنائے‘ جو علم حاصل کیا اُسے نافع بنائے‘ اور آگے پھیلانے والا بنائے۔ آمین۔
اللہ تعالٰی قرآن میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا رہے ہیں کہ (قل رب زدني علما) (دُعا کیا کرو کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما) اب اگر آپ قرآن اور حدیث پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی باقائدہ فن نہیں سکھایا گیا تھا اور نہ ہی آتا تھا‘ بلکہ الٰہیات‘ تہذیب اور معاملات کا علم دیا گیا‘ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مستجاب الدعوات تھے‘ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دِین کا مکمل علم دیا گیا اور دعا مکمل قبول ہوئی۔ اِسی طرح یہ دعا ہر مسلمان کیلئے ہے خواہ کوئی فن جانتا ہو یا نہیں لیکن یہ دعا ضرور کرے کہ اے اللہ مجھے اپنی معرفت اور تہذیب و اخلاق کا علم دے۔ واضح ہو  کہ اگر کوئی اِس آیت کو فنون کی ترویج کیلئے استعمال کرے گا تو ظلم کرے گا کیونکہ فنون اِس کے مفہوم میں شامل ہی نہیں‘ ھاں فنون سیکھے سو بار سیکھے لیکن اِس آیت کو استعمال نہ کرے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں (إنما يخشى الله من عباده العلماء) (اللہ تعالٰی کے بندوں میں سب سے زیادہ خشیت والے علم والے ہیں)۔ اب یہاں بھی علمِ الٰہی ہی ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی مہاجرین و انصار رضی اللہ عنھم اجمعین سے فرما رہے ہیں (يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات) (اللہ تم میں سے ایمان لانے والوں اور وہ کہ جنہیں علم دیا گیا ہے اُنکے درجات بلند کرے گا) یہاں بھی علوم ثلٰثہ مراد ہیں۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں (ومن يؤت الحكمة فقد أوتي خيرا كثيرا) (جسے حکمت دی گئی اُسے خیر کثیر عطا کی گئی)۔ یہاں حکمت سے مراد علوم ثلٰثہ کی فروع ہیں۔ جسے ضروریاتِ دِین کا علم ہے وہ تو اپنے قابل ہو گیا اور جسے فروع کا علم ہے وہ دوسروں کو بتا کو اُن کے علم سے ثواب حاصل کرتا ہے‘ عمل کوئی کرے ثواب اِسے‘ اِسی لئے خیر کثیر کہا۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں (واتقوا الله ويعلمكم الله) (اللہ کا تقوی اختیارو اللہ تمہیں علم عطا کرے گا)۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں (والراسخون في العلم يقولون آمنا به كل من عند ربنا) (اور جو لوگ علم میں رسوخ رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اِن (آیات) پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں)‘ یہاں بھی علم میں رسوخ والے سائنسدان نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو قرآن کی تصدیق کرنے والے زیادہ سائنسدان ہوتے جبکہ معاملہ اِس سے بالکل اُلٹ ہے‘ یہاں تک کہ مسلمان سائنسدان بھی کہ دیتے ہیں کہ زلزلے طوفان سیلاب وغیرہ قدرتی حالات ہیں۔ ایک اور بات دیکھئے‘ کہ جتنے بھی سماوی مذاہب کے ماننے والے ہیں وہ اگر اپنی مذھبی کتاب کے بعد کسی کتاب کو مانتے ہیں تو وہ قرآن ہے‘ اب اِس آیت کو دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ الٰہیات اور معاملات کے ماہر قرآن کی ہی طرف مائل ہیں۔

علم کے فضائل اور اِس کی مراد حدیث میں
ذرا حدیث مبارک کی طرف آئیں۔ امام ابن ماجہ اپنی سُنن کے مقدمے میں روایت کرتے ہیں (عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم طلب العلم فريضة على كل مسلم) (علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے)۔ محدثین کے نزدیک اِس مقبول حدیث کے تمام طُرق ضعیف ہیں۔ یہاں علم سے مراد ضروریاتِ دین ہیں کیونکہ اُنہی کا علم تمام کے تمام مسلمانوں پر فرض ہو سکتا ہے۔ امام ابو داود رحمہ اللہ نے کتاب العلم میں روایت ذکر کی (عن كثير بن قيس قال كنت جالسا مع أبي الدرداء في مسجد دمشق فجاءه رجل فقال يا أبا الدرداء إني جئتك من مدينة الرسول صلى الله عليه وسلم لحديث بلغني أنك تحدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما جئت لحاجة قال فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا من طرق الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها رضا لطالب العلم وإن العالم ليستغفر له من في السموات ومن في الأرض والحيتان في جوف الماء وإن فضل العالم على العابد كفضل القمر ليلة البدر على سائر الكواكب وإن العلماء ورثة الأنبياء وإن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ورثوا العلم فمن أخذه أخذ بحظ وافر) (کثیر بن قیس نے ذکر کیا کہ میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی (جامع) مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا اے ابو درداء میں مدینہ منورہ سے آپ کے پاس ایک حدیث سُننے آیا ہوں جو کہ آپ بیان کرتے ہیں‘ میری اِس سفر سے (حدیث حاصل کرنے کے علاوہ اور) کوئی حاجت نہیں۔ (ابودرداء) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سُنا جو رستے پر چلا تاکہ علم حاصل کر لے تو اللہ تعالٰی اُسے جنت کے رستے پر چلا دیتے ہیں‘ اور یہ کہ فرشتے اِس طالبعلم کے پیروں کے نیچے پَر بچھاتے ہیں‘ اور یہ کہ اِس عالم (یعنی علم والے)  کیلئے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات استغفار کرتی ہیں یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی‘ اور یہ کہ عالم کا عبادت گزار پر ایسا ہی درجہ ہے جیسا چودھویں کے چاند کا ستاروں پر (یعنی اُسی کا ھالہ بھی نظر آتا ہے مگر ستارے خود بھی چھپ جاتے ہیں)‘ اور یہ کہ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء درھم اور دینار بطور ترکہ کے نہیں دیتے بلکہ اُن کا ترکہ تو علم ہے اور جس نے اِس کا کچھ بھی پا لیا تو بہت کچھ پا لیا)۔ پس تمام ذکر علم کا ہے‘ فن ہو ہی نہیں سکتا۔ امام ترمذی کتاب العلم میں روایت کرتے ہیں (عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من خرج في طلب العلم فهو في سبيل الله حتى يرجع) (انس رضی اللہ عنہ سر مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو علم کے حصول کیلئے نکلا وہ اللہ کی راہ میں ہے یہاں تک کہ لوٹ جائے)۔ یعنی علم کی بجائے کسی اور کام میں لگ جائے۔ امام دارمی اپنی سُنن کے مقدمے میں روایت کرتے ہیں (عن الحسن قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من جاءه الموت وهو يطلب العلم ليحيي به الإسلام فبينه وبين النبيين درجة واحدة في الجنة) (حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے موت آ گئی ایسی حالت میں کہ اسلام کو تروتازہ رکھنے کیلئے علم حاصل کر رھا ہو تو جنت میں اُس کے اور انبیاء کے درجے میں صرف ایک درجے کا فرق ہو گا)۔ حسن بصری رحمہ اللہ جب صحابی کا نام ذکر نہ کریں تو اِس سے عموما علی رضی اللہ عنہ مراد ہوتے ہیں‘ واللہ اعلم۔

علم کے فضائل میں فقہاء کے اقوال
کچھ فقہاء رحمھم اللہ کے اقوال ہو جائیں۔ امام نووی رحمہ اللہ شرح مھذب میں ذکر کرتے ہیں (قال أبو مسلم الخولاني مثل العلماء في الأرض مثل النجوم في السماء إذا بدت للناس اهتدوا بها واذا خفيت عليهم تحيروا) (ابو مسلم خولانی نے فرمایا علم والوں کی مثال ستاروں کی طرح ہے کہ جب تک لوگوں کو نظر آتے رہیں رستہ جانتے رہتے ہیں اور جب نظر نہ آئیں تو لوگ حیران و گرداں ہو جاتے ہیں)۔ یعنی جیسے سفر کرتے ہوئے صحیح رستے کا اندازہ ستاروں سے ہوتا ہے ایسے ہی جنت کے رستے کا اندازہ علماء سے ہوتا ہے‘ وہ جنت کے رستے کے ستارے ہیں۔ آگے ذکر کیا (قال الشافعي رحمه الله طلب العلم أفضل من صلاة النافلة) (امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا علم حاصل کرنا نفل عبادت سے بڑھ کر ہے)۔ ابن عابدین رحمہ اللہ رد المحتار میں کتاب الحظر والاباحة میں ذکر کرتے ہیں (وفي البزازية طلب العلم والفقه إذا صحت النية أفضل من جميع أعمال البر) (علم اور اِس کی گہرائی کو طلب کرنا تمام نیک اعمال سے افضل ہے (سوائے فرائض کے))۔ 

پانچوَیں نہ بننا
معجم للطبرانی صغیر‘ مشکل الآثار للطحاوی‘ جامع العلم لابن عبدالبر اور شعب الایمان للبیہقی میں ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول اغد عالما أو متعلما أو مستمعا أو محبا ولا تكن الخامس فتهلك) (میں نے سُنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے عالم بَنَو یا طالب علم بنو یا اِن سے فائدہ حاصل کرنے والے بنو یا اِن سے محبت کرنے والے بنو (خبردار) پانچویں نہ بننا ھلاک ہو جاؤ گے)۔ فائدہ حاصل کرنے سے مراد ہے اِن کی محفل میں اکثر بیٹھا کرو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مذکور ہے تو چار کا ذکر ہے محبت کا ذکر نہیں ہے لیکن اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فرمایا‘ پس لگتا ہے اُن کے نزدیک محبت سے یہی مراد ہے کہ علم والوں کی محفل میں بیٹھا کرے‘ واللہ اعلم۔

مضمون ختم ہوا‘ موضوع جاری ہے ۔۔۔


2013/4/19 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
Please find attached all episodes in one PDF.

علم اور فن؛ جاہل اور اَن پڑھ
تعلیم کی بات کرتے ہوئے فَنّ کا ذکر کرنا ضروری ہے کیونکہ جس طرح لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں ویسے ہی فن بھی سیکھتے ہیں اس لئے ظاہری تحصیل میں دونوں ایک ہیں۔ علم کی تعریف تو اوپر گزر چکی جبکہ فن کا لغوی معنی ہے مُزَیَّن کرنا‘ سجانا سنوارنا۔ پس ہر وہ علم جو زندگی کو مزین کرے وہ فن کہلائے گا مثلا گھر کی تعمیر میں بہتری‘ سفر کرنے میں آسانی وغیرہ۔ مذکورہ علم دانش یا سائنس ہی وہ علم ہے جو زندگی کو مزین کرتا ہے پس یہ فن کہلاتے ہیں۔
جسے علوم ثلٰثہ کے مبادی معلوم نہ ہوں اُسے جاہل کہیں گے لیکن ضروری نہیں انپڑھ ہو‘ اور جسے سائنس اور فن کا علم نہ ہو اُسے دیہاتی‘ بدّو یا ان پڑھ کہیں گے لیکن ضروری نہیں کہ جاہل بھی ہو۔ پس کسی کو سائنس کا کتنا ہی علم ہو مگر اخلاقیات معاملات وغیرہ کا علم نہ ہو تو ان پڑھ تو نہیں کہیں گے مگر جاہل کہیں گے۔ ابو جہل کو الٰہیات سے انکار کی بنا پر ہی تو ابو جہل کہتے ہیں ورنہ اسلام سے پہلے اُسے ابوالعلم کہا جاتا تھا۔ اب بھی ایسے حضرات و خواتین بکثرت موجود ہیں جو سفید ان پڑھ ہیں لیکن جاہل نہیں ہیں‘ اور ایسے پڑھے لکھے بھی ہیں جو بالکل جاہل ہیں۔

دِین کا علم سے تعلق
معلوم ہونا چاہئے کہ جمیع ادیان اِس معاملے میں متفق ہیں کہ علوم ثلثہ کی تعلیم تو دیتے ہیں فن کی نہیں دیتے۔ علوم ثلثہ میں بھی علم الٰہیات کی اپنے لحاظ سے مکمل تعلیم دیتے ہیں اور مختلف ادیان اِسی بنیادی تعلیم سے ایک دوسرے سے پہچانے جاتے ہیں اور جتنی تعلیم الٰہیات کی دے دی اُسے کم یا زیادہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ یہ ہر مذھب کا راس العلم ہے‘ پس اگر کسی مذھب میں گروہ بنتے ہیں تو اِسی علم کے اختلاف سے بنتے ہیں۔ پھر ہر دِین علمِ تہذیب اور معاملات سے بات کرتا ہے‘ کوئی کم اور کوئی زیادہ‘ اِسی سے لوگ اپنے اپنے دِین کی حقانیت پر دلیلیں دیتے ہیں یا فخر کرتے ہیں اور اپنے دِین کا انسانیت کیلئے بہتریں ہونا ثابت کرتے ہیں۔ کسی بھی دِین کا بحیثِ دِین سائنس کی ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔  پس تمام ادیان کا مقصد خالق اور بندے کے بارے میں تعلیم دینا ہے۔
یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ آئندہ دِین کے لحاظ سے جب بھی بات ہو گی تو فن کی نہیں ہو گی‘ الٰہیات کی مکمل ہو گی اور تہذیب و معاملات کی کچھ ہو گی کچھ نہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ دِین جب بات ہی ان اقسام سے ایسے کرتا ہے تو یہ تقسیم خود دِین نے کی ہے ہم نے نہیں‘ اور تمام ادیان اِس تقسیم پر متفق ہیں لہٰذا یہ تقسیم اہل علم کیلئے بعض اوقات نظری ہو جاتی ہے جبکہ سائنس سے مغلوب لوگوں کیلئے کسبی ہو تی ہے۔

علمِ دِین اور علمِ فن کا بہاؤ
دین اپنے لانے والے کے دور میں اپنی معراج پر مانا جاتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگوں کے تساہل‘ اختلافات اور تعصب سے کم درجے پر آتا رہتا ہے۔ جبکہ فنّ کا بہاؤ اِس سے بالکل اُلٹ ہے۔ یہ پہلے بالکل معمولی تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جا رھا ہے اور بڑھتا رہے گا۔ پس دِین بعد والے وقت میں پہلے والے وقت سے کم درجے پر ہوتا ہے اور اختلافات زیادہ ہوتے ہیں اور سائنس اور فن بعد والے وقت میں پہلے والے وقت سے اُوپر کے درجے پر ہوتا ہے اور اختلافات ختم ہوتے جاتے ہیں۔
اس سے بھی معلوم ہوا کہ ایک وقت میں کسی ایک طرح کے موضوع سے بات ہو سکتی ہے یا علم سے یا فن سے‘ پس ہماری گفتگو علم سے ہے۔

مضمون ختم ہوا‘ موضوع جاری ہے ۔۔۔

2013/4/15 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
آج کے موضوعات علم کی تقسیم کے بارے میں ہیں تاکہ آگے جا کر جب کسی خاص قسم کے علم کی بات ہو تو ذھن میں الجھن نہ رہے۔ آج انشاء اللہ تمھید ختم ہو جائے گی۔

علم کی تقسیم؛ نظری و کسبی
علم کی ایک تقسیم امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ نے کی ہے وہ نَظَرِی اور عَمَلِی ہے (ہم عملی کو کَسَبِی کہیں گے ورنہ آئندہ بیان شدہ تقسیم سے تلبیس لازم آئے گی)۔
ہر وہ کام جو کوئی بھی انسان اللہ تعالٰی کی ودیعت کردہ عقل کی بنا پر معمولی سمجھنے سے سیکھ سکتا ہے وہ نظری ہے اور جس کیلئے پہلے کچھ اصول و مبادی سیکھنے پڑیں اور کسی ماہر کے ساتھ ایک عرصہ رہنا پڑے وہ کسبی ہے۔ مثلا دیوار میں کیل لگانا نظری ہے کسی کو لگاتا دیکھیں تو سمجھ آ جاتی ہے‘ اسی طرح بستے میں کتابیں ترتیب سے رکھنا‘ برتن دھونا‘ جانور کو گھاس چرانا‘ جھاڑو لگانا‘ سڑک سے گزرنا وغیرہ ایسے عمل کیلئے کسی مدرسے میں داخلے کی ضرورت نہیں کسی کو کرتے دیکھ لیا یا کسی سے کسی وقت تھوڑا سیکھ لیا تو بس۔ جبکہ کسبی کی مثال ہے زیور بنانا‘ طبیب ہونا‘ کرسی میز بنانا‘ مکان بنانا‘ہر طرح کا کھانا بنانا‘ سلائی کڑھائی کرنا وغیرہ۔ اصول یہ ہے کہ جس عمل کیلئے صِرف ظاہری عمل کے علاوہ علمی یا اندرونی تفصیل بھی جاننا ضروری ہو وہ علم کسبی ہے۔
اِس تقسیم کو سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ عموما لوگ علم کا اطلاق ہر چیز پر کر دیتے ہیں‘ گو کہ لغت کے نقطہ نظر سے تو‘ جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ‘ ہر چیز جو معلومات میں اضافہ کرے وہ علم ھے مگر جب مدرسے یا تعلیمی نظام یا علم حاصل کرنے کی اہمیت کی بات ہوتی ہے تو اُس سے مراد نَظَری علم نہیں ہوتا بلکہ کَسَبی ہوتا ھے‘ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ایک آدمی کو نظری علم کتنی ہی چیزوں کا ہو تو بھی اُسے عالم یا سکالر نہیں کہتے‘ لیکن کسبی علم ایک بھی مکمل آتا ہو تو عالم یا ماہر کہتے ہیں۔
بعض اوقات معاشرہ ایک علم کو نظری یا کسبی بناتا ہے‘ مثلا عرب حانہ بدوش بکریاں چراتے تھے تو بکریاں چرانا اور خیمے لگانا اُن کیلئے نظری تھا‘ اسی طرح کمہار کا بیٹا بغیر سیکھے بھی بعض برتن بنا لیتا ہے‘ اسی طرح جب لوگ تلوار سے جنگ کیا کرتے تھے تو لوگ بغیر سیکھے بھی کم از کم اگلے پر وار کرنا جانتے ہی تھے اتنے سے کام کیلئے اُنہیں باقائدہ تلوار بازی سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ آپ اب بھی تجربہ کر لیں جن لوگوں کے پاس اپنی گاڑی ہو اُن کے بچے بچپن سے اِس میں سفر کرنے کی وجہ سے جلد گاڑی سیکھ لیتے ہیں پہلی بار دیکھنے والے کے مقابلے میں۔ الغرض خلاصہ کلام یہ ہے کہ بعض اشیاء ماحول کی وجہ سے نظری ہو جاتی ہیں۔
پس معلوم ہوا کہ ہم جس علم کی بات کر رہے ہیں وہ علمِ کَسَبِی ہے‘ اس سے کم درجے کا علم نظری ہے اور ہماری گفتگو میں شامل نہیں۔

علم کی تقسیم؛ عقلی اور عملی
علم کی ایک اور تقسیم ھے جو حکیم الامت قدس سرہ کے خلیفہ مولانا محمد مصطفٰے بجنوری رحمہ اللہ نے اسلام اور عقلیات میں کی ھے (یہاں بعین وہی نقل نہیں کیا جا رہا بلکہ مفہوم ہے)۔ انسان جس علم کا محتاج ہے وہ دو طرح کا ہے‘ علم عملی اور علم عقلی۔ عملی کا تعلق عمل سے ہے مثلا زندگی کے آداب‘ خرید و فروخت وغیرہ اور عقلی کا تعلق محض عقل سے ہے مثلا اآلات جراحی کا علم‘ الجبراء کا علم وغیرہ۔ اِن دونوں کی مزید تین تین قسمیں ہیں۔
علم عملی کا تعلق یا تو انسان سے خود سے ہو گا فقط مثلا کھانے کے آداب‘ سونے کے آداب‘ لباس و سَتَر وغیرہ‘ اِسے علمِ تَہذِیب کہیں گے۔ یا پھر انسان کا چند مخصوص انسانوں سے ہو گا مثلا ماں باپ کے حقوق‘ گھر کی ذمہ داری وغیرہ‘ اِسے علمِ خانہ داری کہیں گے۔ یا پھر انسان کا کُل انسانوں یعنی عام معاشرے سے ہو گا مثلا خرید و فروخت‘ قضاء و خلافت وغیرہ‘ اِسے علمِ سیاست کہیں گے۔ پس علم عملی کی تین قسمیں علم تہذیب‘ علم خانہ داری اور علم سیاست ہیں۔
علمِ عقلی کو جاننے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک ہے عقل اور ایک ہے مادی دنیا‘ پھر ہر چیز کا عقل میں سمانا یا نہ سمانا اور ہر چیز کا مادی ہونا یا نہ ہونا‘ یہ چار صورتیں بنیں۔ اول‘ عقل میں ہو اور مادی صورت میں بھی ہو‘ مثلا سائیکل جیسا عقل میں ہے ایسا ہی خارج میں ھے اسی طرح انسان‘ جانور وغیرہ کا علم‘ یہ علمِ طبعیات کہلاتا ہے۔ دوم‘ عقل میں ہو مادی صورت میں نہ ہو مثلا مُرَبَّع (چوکور) کہ اس کا خیال عقل میں تو کیا جا سکتا ہے خارج ہیں نہیں‘ خارج میں یہ کسی نہ کسی مادے کی خصوصیت کے طور پر تو ظاہر ہو سکتا ہے مگر بذات خود نہیں ہو سکتا‘ پس کمرہ مربع ہے یا میدان مربع ہے یہ تو ہو سکتا ہے مگر مربع بذات خود وجود میں نہیں آ سکتا‘ بذات خود یہ صرف دماغ میں ہی ھے۔ اسی طرح ایک دو تین وغیرہ‘ ایک کا دوسرے سے بڑا ھونا‘ نسبت تناسب‘ زاویہ وغیرہ‘ اسے علمِ ریاضی کہتے ھیں۔ ثالث‘عقل میں نہ ہو اور مادی صورت میں بھی نہ ہو‘ مثلا ذات باری تعالٰی‘ کہ نہ عقل میں سما سکتی ہے  نہ ہی نظر آتی ہے‘ اسے علمِ الٰہیات کہتے ہیں۔ چہارم‘ عقل میں نہ ہو اور مادی صورت میں ہو‘ یہ ناممکن ھے اس لئے یہ بے نام بحث سے خارج ہے۔ پس علم عقلی کی بھی تین اقسام الٰہیات‘ ریاضیات اور طبعیات ہیں۔
علم عملی اور عقلی کو ملا کے علم کی کُل چار اقسام بنیں علم الٰہیاتعلم تہذیب (یعنی ذاتی زندگی)‘ علم معاملات (علم خانہ داری اور علم سیاست) اور علم دانش (علم ریاضیات اور علم طبعیات‘ دانش اس لئے کہا کہ یہ علم کھوج‘ سمجھ اور تفھیم میں مدد دیتے ہیں نہ کہ یہاں دانش سے مراد عقلمند ہونا ہے)۔ اب اطراف میں غور کر لیں تو کوئی علم ان سے باہر نہیں‘ مثلا میکانیات‘ طب‘ عمرانیات‘ معاشیات‘ نباتیات‘ الجبراء‘ حیوانیات‘ الیکٹرونیات‘ موسیقی‘ ہیئت وغیرہ علم دانش میں شامل ہیں۔ اللہ کا وجود‘ اس کا عرش پر ہونا‘ ہر چیز پر قادر ہونا‘ اس کی جملہ مخلوقات‘ اس کے علم کا احاطہ‘ تقدیر‘ اٰس کی طاقت کا ہر چیز کو گھیرے ہونا‘ فرشتوں کا وجود وغیرہ الٰہیات میں سے ھے۔ انسان کا پاک صاف رہنا‘ لباس کا انتخاب‘ سونے اٹھنے کے طریقے وغیرہ علم تہذیب میں ہے۔ کس سے کیسے بات کرنی ہے‘ کس کا کیا مقام ہے‘ خرید و فروخت کا طریقہ‘ کسی کا جرم کیسے ثابت کرنا‘ نکاح طلاق‘ صلہ رحمی و احسان کرنا‘ شھادت دینا وغیرہ یہ سب معاملات میں سے ہے۔

علم کی تقسیمات کا تداخل
اُوپر مذکور قِسمیں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھی ہوں گی‘ یعنی بعد الذکر تقسیم میں سے ہر ایک میں کوئی بات نظری ہے کوئی کسبی۔ مثلا الٰہیات میں کائنات بنانے والے کو ماننا نظری ہے کہ دنیا میں بہت ہی کم ایسے ہوں گے جو عنادا انکار کریں ورنہ سبھی مانتے ہیں کہ کسی نے تو بنائی ہے‘ جبکہ کائنات بنانے والے کی خصوصیات کسبی ہیں‘ بس اِنہی میں اِن ماننے والوں کا اختلاف ہے۔ سائنس میں عام گننا اور حساب ہر انسان کو آتا ہے لیکن الجبرا کے مسائل ماہر ہی حل کرے گا۔ علم معاملات میں ستر کو ڈھانپنا ضروری ہے‘ یہ بات نظری ہے‘ لیکن کتنا حصہ ستر ہے اور کب ڈھانپنا ہے یہ کسبی ہے‘ اسی طرح شادی کیلئے کوئی باہمی سمجھوتا کرنا نظری ہے لیکن اس کی شرائط کیا ہوں گی یہ نظری ہے۔ علم تہذیب میں صفائی کیلئے جسم یا اس کے حصے کو دھونا نظری ہے‘ لیکن کون کون سے مواقع پر لازم ہے‘ یہ کسبی ہے۔

تمہید ختم ہوئی‘ موضوع جاری ہے ۔۔۔


2013/4/13 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
حسب وعدہ گفتگو شروع کی جا رہی ہے جس کا موضوع ہے کہ اسلام کے حکم “علم حاصل کرو“ کا مصداق کیا ہے۔
اکثر لوگ عام سکولوں کالجوں وغیرہ کے حق میں دلیل دیتے ہوئے قرآن اور حدیث کو پیش کرتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں لفظ “علم“ سے۔ پس ضرورت پیش آئی کہ اِس کی تھوڑی تفصیل پیش کی جائے۔ اِس تحریر سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ تعلیم ضروری نہیں یا اس کی اہمیت نہیں‘ بلکہ بات یہ ہے کہ اِسے قرآن اور حدیث سے ثابت کرنا ٹھیک نہیں یعنی قرآن اور حدیث میں مذکور علم کو اِس کا مصداق قرار دینا ٹھیک نہیں۔ قرآن اور حدیث کے الفاظ کی طرف آنے سے پہلے کچھ بنیادی باتیں ذکر ہو جائیں جو اگرچہ بعض احباب کو معلوم ہوں گی لیکن تکرار سے موضوع طے ہو جائے گا۔

ہماری گفتگو کی حدود کی تعیین
علم کا معنی ہے کسی چیز کو جان لینا۔ مَنطِقی اور دوسرے محقِّقِین نے اس کی تعریف میں کافی اقوال پیش کئے ہیں مثلا مذکور شے کا ذھن میں آ جانا‘ کہی گئی شے کا مفہوم پالینا وغیرہ ۔ مثلا اگر لفظ سیب آپ کے سامنے لیا گیا تو ایک صورت یا مفہوم آپ کے ذھن میں آیا‘ یہ آپ کا سیب کے بارے میں علم ہے۔ یہ تو علم کی وہ تعریفات ہیں جن کا تعلق انسان کی عقل اور فھم سے ہے جبکہ ہمارا مقصد اُس علم کی حد کو جاننا ہے جس کیلئے انسان تگ و دو کرتا ھے اور انسان کو اُسکا مُکَلَّف بنایا گیا ہے‘ پس علم کا معنی محض جاننا لیا جائے تو ہماری بحث سے خارج ہے کیونکہ جانتا تو ہر انسان ہر وقت رہتا ہے اور آپ بھی اِس کے قائل نہیں ہیں کہ “علم حاصل کرو“ سے مراد یہی علم ہے جو چلتے پھرتے حاصل ہو جاتا ہے‘ اور اگر علم سے مراد تعلیم لیا جائے جس کیلئے مکتب بنائے جاتے ہیں تو اِسی سے ہمیں بحث مطلوب ہے۔

علم کے لحاظ سے مخلوقات کی تقسیم
دنیا میں موجود اشیاء یا تو جماد محض ہیں کہ نہ ان کی نشونما ہوتی ھے نہ اُنہیں عام طور پر قائم رہنے کیلئے کسی خاص آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے‘ جبکہ کچھ اشیاء متحرک بالارادہ (اپنی مرضی سے حرکت کرنے والی) تو نہیں مگر اپنی نشونما میں آب و ہوا کی محتاج ہیں اِنہیں نباتات کہتے ہیں‘ اور جو اشیاء متحرک بالارادہ ہیں اور بقائے زندگی کیلئے آب و ہوا پر انحصار بھی کرتی ہیں اُنہیں حیوان کہتے ہیں۔
جیسے جیسے ضروریات بڑھتی ہیں ویسے ویسے علم بھی بڑھتا ہے مثلا جمادات پتھر‘ پہاڑ وغیرہ کی ضرورت صرف عناصر اربعہ  کا توازن ہے اور اِنہیں کسی علم کی ضرورت نہیں‘ پھر نباتات کو بس اُتنے علم کی ضرورت ہے کہ کس موسم میں پھل لانے ہیں کیسے پانی حاصل کرنا ہے وغیرہ‘ پھر حیوانات کو اِن سے بھی زائد علم چاہئے مثلا گھر کیسے بنانا ھے‘ خوراک ایک جگہ نہ ملے تو کیسے تلاش کرنی ھے‘ موسمی اثرات سے کیسے بچنا ہے‘ نسل کیسے بڑھانی ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر حیوانات میں انسان کی ضروریات دوسرے حیوانات سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ انسان عقل بھی رکھتا ہے جسکی وجہ سے نئے نئے حالات کیلئے نیا نیا علم حاصل کرتا ہے۔
جب دوسرے حیوانات کو عقل نہیں دی تواُنہیں اُن کی تمام ضروریات کا علم بحسب ضرورت پہلے ہی دے دیا گیا مثلا پرندہ جانتا ھے گھونسلہ کیسے بنانا ھے‘ بندر جان لیتا ھے کہ خوراک میں زہر ھے‘ کتا اور دوسرے درندے جو گوشت کھاتے ہیں اگر پیٹ خراب ہو تو خود بخود گھاس کھاتے ہیں‘ بطخ خود ہی تیرے لگتی ہے وغیرہ وغیرہ یہ تمام اتنا علم پہلے دن بھی رکھتے تھے اور آخری دن بھی اتنا ہی علم ہو گا‘ جبکہ انسان کو وہ علم جو ابتدائے حیات کیلئے ضروری ہے‘ مثلا پیدا ہوتے ہی خوراک کیسے حاصل کرنی ہے اور بھوک کے وقت رونا ھے وغیرہ‘ دینے کے بعد علم کے سہارے بڑھنے کا موقع دیا گیا ھے۔ مشہور ہے کہ پیدائش کے بعد سب سے بے بس انسان کا بچہ  ہوتا ہے۔ انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر سیکھتا ہے‘ لیکن یہ ہماری دیکھا دیکھی کا علم اور جاننا گفتگو کا موضوع نہیں‘ بلکہ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ ہمارا موضوع وہ علم ہے جس کیلئے مکتب بنائے جاتے ہیں‘ اور انسان اس میں تمام مخلوقات سے مُمَیَّز ہے۔

مضمون ختم ہوا موضوع جاری ہے ۔۔۔

--
بزم قلم کے زیر اہتمام پہلا عالمی طرحی مشاعرہ
مصرعہ طرح : جہاں تیرانقشِ قدم دیکھتے ہیں
 
قوافی : قدم،ارم،عدم
ردیف :دیکھتے ہیں
براہ کرم ۲۰ اپریل تک اپنی غزلیں اس پتہ پر بھیجیں
bazme...@googlegroups.com
تنویر پھول، کنوینر بزم قلم عالمی طرحی مشاعرہ
 
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

--
بزم قلم کے زیر اہتمام پہلا عالمی طرحی مشاعرہ
مصرعہ طرح : جہاں تیرانقشِ قدم دیکھتے ہیں
 
قوافی : قدم،ارم،عدم
ردیف :دیکھتے ہیں
براہ کرم ۲۰ اپریل تک اپنی غزلیں اس پتہ پر بھیجیں
bazme...@googlegroups.com
تنویر پھول، کنوینر بزم قلم عالمی طرحی مشاعرہ
 
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 


--
 
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM?hl=ur.
 
 

ilm-hasil-karo.pdf

aapka Mukhlis

unread,
Apr 26, 2013, 12:08:59 PM4/26/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمی ومکرمی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہت عمدہ اور فکر انگیز تحریر ہے۔ جزاک اللہ خیراً ۔ 
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے مشہور حدیث"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے" کے سلسلے میں تحریر کیا ہے کہ فرض کی دو اقسام ہیں۔ فرض عین اور فرض کفایہ۔
فرض عین سے مراد وہ فرائض ہیں جن کی ادائیگی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور عدم ادائیگی پر اس فرد کی گرفت ہوگی مثلاً نماز،روزہ،زکوۃ،حج،والدین کی اطاعت وغیرہ
فرض کفایہ سے مراد وہ فرائض ہیں جو اگر ایک بستی یا محلے میں سے ایک فرد ادا کردے تو سب کی طرف سے ادا ہوجاتا ہے اور اگر کوئی بھی ادا نہ کرے تو پوری بستی یا محلہ گناہ گار ہوگا جس کی ایک مثال نمازِ جنازہ ہے۔
اسی طرح امام صاحب نے علم کی فرضیت کے لحاظ سے اس کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔
فرض عین کی ذیل میں علم کا وہ حصہ آتا ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی کے انفرادی و اجتماعی اعمال اور عبادات سے متعلق ہے۔اس میں حلال و حرام کا امتیاز، حقوق و فرائض کی پہچان شامل ہیں۔ان میں تمام عبادات اور معاملات شامل ہیں۔ان کا سیکھنا فرضِ عین ہے اور ہر مسلمان پر انفرادی طور پر فرض ہے۔
فرض کفایہ کی ذیل میں علم کا وہ حصہ آتا ہے جس کو آپ نے فنون میں شمار کیا ہے جس کی ضرورت معاشرے میں سب کو پیش آتی ہے۔اس میں طب، انجینئرنگ  اور اسی طرح کے تمام شعبے شامل ہیں جس سے معاشرے کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہوں اور امت کو تقویت بھی حاصل ہوتی ہو۔اگر بستی ، محلے یا قوم میں سے چند لوگ یہ علوم یا فنون سیکھ کر معاشرے کی ضروریات پوری کرتے ہیں تو وہ سب کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کردیتے ہیں بصورتِ دیگر سب افرادِ قوم یا معاشرہ اس کے ذمہ دار یا مجرم ہوں گے۔
واللہ اعلم بالصواب
والسلام
مخلص


From: Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Friday, April 26, 2013 6:13 PM
Subject: {22562} اسلام کے حکم “علم حاصل کرو“ کا مصداق - پانچوِیں اور آخری قسط

Zubair H Shaikh

unread,
Apr 27, 2013, 7:15:41 AM4/27/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جزاک اللہ ، اللہ تعالی  آپ کے اور ہم سب کے علم  میں وسعت عطا  کرے 
آپ نے جو عرق  ریزی  کی ہے وہ قابل تحسین ہے -بے حد مدلل  اور مستند حوالے آپ نے پیش کیے ہیں 
ایک طالب علم کی حیثیت سے چند سوالات ذہن میں اٹھے ہیں جو ممکن ہے اس خاکسار کی کم علمی  کا نتیجہ ہوں  
آپ سے استدعا ہے کہ جوابات مرحمت فرمائیں 

کیا حضرت داؤد کے لئے فولاد کو نرم کردینا یا اس کا استعمال انکے لئے آسان کردینا اورلحن داودی، اورذوالقرنین کا تانبے کی دیوار  کھڑی کردینا، اور ایسی کئی دیگر مثالیں جو قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ہیں سب فن کے زمرے میں نہیں آتی ہیں، اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ کے پیغمبروں اور رسولوں اور برگزیدہ بندوں کو کمال علم و فن دونوں سے نوازا گیا تھا؟ اور اس کے علاوہ کیا ایسے  سارے علوم و فنون فی الحقیقت علم کے زمرے میں نہیں آتے ہیں، کیا ہر قسم کا فن علم و دانش کا متقاضی نہیں ہے؟ کیا جہاد کے لئے ہتھیارواوزاراور مسجد کی تعمیروغیرہ علوم و فنون کے زمرے میں نہیں آتے ہیں؟، کیا ہر قسم کی جدید ٹیکنا لوجی جو براہ راست دعوت دین کے کام میں لگائی جارہی ہیں وہ سب  ضروریات دین میں شامل نہیں ہیں؟ اور کیا یہ صرف دنیوی علوم کہلائیں گے؟  کیا علم کا صرف نافع ہونا یا نقصان دہ ہونا قرآن و حدیث سے ثابت کیا جاسکتا ہے؟  کیا معرفت الہی کے لئے قران و حدیث کے علاوہ  سائینسی تحقیقات اورمخلوقات میں غور فکر کرنے کو صرف اس لئے شامل نہیں کیا جانا چاہیے کہ اکثرسائینسدانوں کا موقف دنیوی  ہوتا ہے؟ کیا ایک پابند سنت مومن سائینسداں اور "دنیوی علوم و فنون کا ماہر" جو خالق کی تخلیقات میں غور و فکر کرنے میں زندگی کھپا دیتا ہے، اور ایک مومن عا بد زاہد ومتقی یا "دینی عالم"  بھی جواسی طرح زندگی کھپا دے، ان دونوں کی معرفت الہی میں فرق  ہوسکتا ہے ؟    

یہ خاکسار آپ جناب کا  مکمل قسط وار مضمون پڑھکر دوبارہ پڑھنے میں اور غور و فکر میں مصروف ہوا چاہتا ہے.  مندرجہ بالا سوالات جو کل دیر رات ہی تحریر کر دیے گئے تھے اسے اختصار کے ساتھ آپکی خدمت میں پیش کیا ہے.   آپکے جواب کا متمنی. 

 خاکسار
زبیر
   


 

2013/4/26 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Apr 27, 2013, 8:27:06 AM4/27/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم زبیر صاحب‘ اول یہ کہ مراسلے میں ایک موضوع اختیار کیا گیا تھا “دِینی علم اور دنیاوی علم میں فرق کیسے کریں گے؟“ اور اِس میں لکھا ہے “جو علم اللہ تعالٰی کی معرفت اور عبادت میں پختگی کیلئے حاصل کیا جائے وہ دینی ہے اور جو دُنیا کو حاصل کرنے کیلئے حاصل کیا جائے وہ دنیاوی ہے“۔ اُمید ہے کہ اِس سے آپ کا اشکال کافی حل ہو جائے گا اور یہ بات مشہور عالم زاہد الراشدی صاحب سے ناچیز نے غالبا چار یا پانچ سال پہلے اُنکے ایک بیان میں سُنی تھی۔

دوسری بات یہ کہ کسی نبی یا مقرب بندے کے ھاتھ پر کسی فن کا ظاہر ہونا جسے عرف عام میں معجزہ یا کرامت کہتے ہیں وہ بھی علم کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ برگزیدہ بندے کی حقانیت کی دلیل ہوتا ہے۔ فن کو معجزے کے طور پر اِس لئے پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اعتراض نہ کریں‘ ظاہر سی بات ہے انسان دوسرے کو فن پر ہی چیلنج کر سکتا ہے۔ مثلا عیسی علیہ السلام کا کوڑھ کے مریض کو ھاتھ لگاتے ہی اُس کا صحت یاب ہو جانا‘ اب طب ایک فن ہے جس کا انبیاء علیھم السلام کی بعثت سے کوئی تعلق نہیں اِسی لئے تو یہ تحدّی (چیلنج) بنا‘ کہ اچھا ایسا طبیب لاؤ۔ اِسی طرح داود علیہ السلام کا محض ھاتھ سے فولاد کو کسی بھی شکل میں  ڈھال لینا ایک معجزہ تھا اور اِسی طرح لوگوں کیلئے نفع کا باعث بھی بنا۔ موسٰی علیہ السلام کے مقابل جادوگر کیسے جان گئے کہ یہ طاقت والا ہے؟ کیونکہ وہ فن سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ جادو کا سانپ کسی سانپ کو کھا نہیں سکتا۔ پس جب فن کا یہ اعلٰی معیار ظاہر ہوا کہ جس پر جادوگر قادر نہیں ہو سکے تو جان گئے کہ یہ عام آدمی نہیں ہے۔ پس نبی فن کا اعلٰی معیار پیش کرتا ہے تاکہ لوگ جان لیں کہ یہ تو بڑی طاقت والے کی طرف سے ہے اور لوگ اُس علم کی طرف متوجہ ہوں جو کہ وہ لے کر آیا ہے۔

تیسری بات جو کہ اُمید ہے اشکال کو بالکل ختم ہی کر دے گی انشاء اللہ وہ ایک مثال ہے۔ مثلا ایک قصبہ ہے ریگستان کے اندر‘ دس ہزار نفوس پر مشتمل جوکہ نام کے مسلمان ہیں اور اِس کے علاوہ نماز روزے کا کوئی علم نہیں‘ اِنہیں بتایا گیا کہ شریعت کا حکم ہے “علم حاصل کرو“۔ اب یہ لوگ دو ڈاکٹر اور دو عالم دور دراز شہر سے لے آئے۔ پورے سال میں ہزار لوگ ڈاکٹر کے پاس آئے علاج کروانے اور ہزار ہی آئے عالم کے پاس دِین سیکھنے۔ کیا تمام قصبہ گناہ سے بچ گیا؟ ڈاکٹر والے گناہ سے تو بچ گیا (اگر امام غزالی رحمہ اللہ کی بات مان بھی لی جائے تو)‘ لیکن علم تو سب پر فرض تھا‘ جب تک سبھی خود نہیں سیکھ لیتے گناہ سے نہیں بچ سکتے۔ اگر طب کا علم نہ ہونے کے بعد “علم حاصل کرو“ کا حکم اِس قصبے پر لازم تھا تو اِنہی میں سے کوئی سیکھتا‘ جبکہ ایسا نہیں ہوا تب بھی لوگ گناہ سے بچ گئے۔ جبکہ علم اگر عالم سے خود نہیں سیکھا تو حکم پورا نہیں ہوا۔ یہی بات تو بتاتی ہے کہ طبیب ہونا یا لوھار یا بڑھئی یا مستری ہونا ایک مصلحت ہے جو معاشرے کی ضرورت ہیں‘ جبکہ “علم حاصل کرو“ ایک مکمل حکم ہے جو کہ ہر مسلمان کی طرف ایک ہی طرح متوجہ ہے‘ یہاں تک کہ تمام ضروریات دِین کا علم حاصل کر لیں‘ جبکہ ڈاکٹر انجینئر وغیرہ تمام غیر مسلم ہوں تو کسی کو کوئی گناہ نہیں۔
اگر “علم حاصل کرو“ کے نتیجے میں آپ غیر مسلم ڈاکٹر یا انجینئر لے آئے تو علم تو حاصل نہیں کیا پس طب یا طبعیات کا علم اِس حکم کا حصہ کیسے ہو گیا؟ جبکہ حکم تو واضح تھا کہ علم حاصل کرو۔ اور جب ضروریاتِ دِین کا علم حاصل کر لیا تو عہدہ براہ ہوئے‘ یہی تو بتا رھا ہے کہ حُکم “علم حاصل کرو“ کا مصداق یہی تھا۔
مع السلام
ہمایوں رشید


2013/4/27 Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>

aapka Mukhlis

unread,
Apr 27, 2013, 12:17:37 PM4/27/13
to BAZMe...@googlegroups.com
محترمی ومکرمی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میری ناقص رائے میں ہمایوں رشید صاحب کے مطمع نظر اور آپ کے اشکال کا تطابق یوں کیا جا سکتا ہے کہ
۱-معجزات کو مروجہ علوم و فنون سے الگ رکھا جائے
۲-ہتھیار و اوزار اور تعمیرات فنون کی ذیل میں آتے ہیں مگر دین کی راہ میں ان کا استعمال سیکھنا علم کی ذیل میں آتا ہے
۳-جدید ترین ٹیکنالوجی اور ایجادات فنون کی ذیل میں آتی ہیں مگر اللہ کی رضا کے لیے ان کو کیسے استعمال کیا جائے، یہ علم سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
۴-ایک دینی عالم کا علمِ دین میں تخصص ہے جس کے ذریعے وہ ہر مسلمان کی رہنمائی کرتا ہے۔ حتی کہ اس سائنسدان کی بھی جو خالق کی تخلیقات پر غور و فکر کرتا ہے
۵-ایک سائنسدان خالق کی طرف متوجہ ہوئے بغیر محض تخلیقات پر غوروفکر کرتا ہے، ایجادات کرتا ہے مگر کسی ضابطہ اخلاق وحیات سے الگ رہ کر ان کے استعمال کی راہیں کھولتا ہے تو وہ فن کا ماہر حقیقی علم سے محروم ہے۔
یہ میری ناقص سی رائے ہے جو غلط بھی ہوسکتی ہے۔ آپ اساتذہ اس بارے میں درست فرما سکتے ہیں۔
والسلام
مخلص


From: Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Sent: Saturday, April 27, 2013 2:15 PM
Subject: Re: {22600} اسلام کے حکم “علم حاصل کرو“ کا مصداق - پانچوِیں اور آخری قسط
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages