بالفور اعلامیہ : ایک اعلامیہ جس نے مشرق وسطیٰ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا
شیخ سلیم
2 نومبر 1917 کو برطانوی حکومت نے ایک یک طرفہ طور پر ایسی دستاویز یا شاہی فرمان جاری کیا جو بیسویں صدی کی اُمت مسلمہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی دستاویز یا فیصلہ مانی جاتی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور کے قلم سے لکھی گئی تھی اس دستاویز میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی قوم کے لیے ایک قومی وطن کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا۔ یہ کوئی عام سفارتی بیان نہیں تھا بلکہ اس دور کی استعماری ذہنیت اور انگریزوں کی اسلام دشمنی کی عکاسی کرتا تھا، اپنے عروج کے دور میں سامراجی یورپی سلطنتیں یہ سمجھتی تھیں کہ انہیں دور دراز خطوں کے مستقبل کا اُنکے عوام سمیت فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے، چاہے وہاں رہنے والے لوگوں کی خواہش اور رضامندی حاصل ہو یا نہ ہو۔
سلسلہ بالفور اعلامیے سے پہلے شروع ہو چکا تھا پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ نے عرب باشندوں کی حمایت سلطنت عثمانیہ کے خلاف حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد خلافت عثمانیہ کو کمزور کرنا اور ختم کرنا تھا جو سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا جو ملت اسلامیہ کے اتحاد کی علامت تھی اور جس نے مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر تقریباً چار صدیوں تک حکومت کی تھی۔
مکموہن حسین خط و کتابت (1915-1916) کے ذریعے برطانیہ نے مکہ کے شریف حسین بن علی کو عرب بغاوت شروع کرنے کے لیے آمادہ کیا اور جنگ کے بعد ایک آزاد عرب وطن کی حمایت کا جھوٹا وعدہ کیا۔ ان یقین دہانیوں پر اعتماد کرتے ہوئے جون 1916 میں عرب بغاوت کا آغاز ہوا۔ ہزاروں عرب جنگجوؤں نے، جن کی مدد برطانوی افسران بشمول ٹی ای لارنس (لارنس آف عربیہ) کر رہے تھے، عثمانی فوجی مقامات پر حملے کیے، اہم حجاز ریلوے کو تباہ کیا، کلیدی شہروں پر قبضہ کیا اور اکتوبر 1918 میں اتحادی افواج کو دمشق میں داخل ہونے میں مدد دی۔ انہی افواج نے بیت المقدس پر قبضہ کیا
عربوں کی اس کاوش نے عرب صوبوں پر عثمانی کنٹرول کو کمزور کرنے اور مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کی فتح کو طاقت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مگر عربوں کو بغاوت کے لیے آمادہ کرتے ہوئے بھی برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر سائکس پیکو معاہدہ (1916) پر مذاکرات کیے تھے، جس کے تحت عرب دنیا کے بڑے حصے کو اپنے اپنے دائرہ اثر میں تقسیم کیا گیا یعنی بانٹ لیا گیا جنگ کے بعد جرمنی کی شکست ہوئی برطانیہ اور فرانس فاتح قرار پائے فاتح ممالک نے لیگ آف نیشنز قائم کی اور اس کے مینڈیٹ نظام نے اس انتظام کو باقاعدہ شکل دے دی۔ برطانیہ نے فلسطین، ٹرانس جورڈن (موجودہ اردن) اور عراق کا اقتدار سنبھالا، جبکہ فرانس نے شام اور لبنان کا اقتدار حاصل کیا۔ عرب آزادی کا جھوٹا وعدہ ایک سراب ثابت ہوا وعدہ کبھی مکمل طور پر پورا نہ ہوا۔ بلکہ حالات نے ثابت کیا عثمانی حکومت کو برطانوی اور فرانسیسی استعماری حکومت سے بدل لیا ہے، اور اسے جنگ کے دوران کیے گئے وعدوں کو انگریز اور فرانسیسی بھول گئے ۔
یہی وہ پس منظر تھا جس میں برطانیہ نے بالفور اعلامیہ جاری کیا، جس میں فلسطین میں یعنی اُمت مسلمہ کے قلب میں ایک یہودی وطن کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ اس وقت فلسطین کے باشندوں کی بھاری اکثریت عرب مسلمانوں اور عیسائیوں پر مشتمل تھی۔ ان سے کبھی مشورہ نہیں کیا گیا تھا یہ اس اعلامیے پر کی جانے والی بنیادی تنقیدوں میں سے ایک ہے اور اسے استعماری فیصلہ سازی کی بھیانک مثال کے طور پر بڑے پیمانے پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں مقامی آبادی کی خواہشات کوخود غرض سامراجی مفادات کے تابع کر دیا گیا۔برطانیہ کے محرکات جنگی حکمت عملی اور سامراجی عزائم سے تشکیل پائے تھے۔ فلسطین نہر سویز کے قریب ایک اہم ترین مقام پر واقع ہے، جو برطانیہ کو ہندوستان اور اس کی عالمی سلطنت کے بڑے حصے سے جوڑنے والا اہم راستہ تھا۔ برطانوی رہنماؤں کا یہ بھی خیال تھا کہ صیہونی تحریک کی حمایت سے جنگ کے دوران برطانیہ کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہوگی اور مشرق وسطیٰ میں اس کا طویل مدتی اثر و رسوخ بڑھے گا۔اس کے نتائج گہرے اور دیرپا تھے۔ برطانوی مینڈیٹ کے دور میں فلسطین کی طرف یہودی نقل مکانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، جبکہ یہودی اور مقامی فلسطینی عربوں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھتی گئی۔ 1948 میں برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے نے اسرائیل کی ریاست کے قیام اور پہلی عرب اسرائیل جنگ کا راستہ ہموار کیا، اس وقت تک برطانیہ نے یہودیوں کو مضبوط اور فلسطینیوں کو انتہائی کمزور کر دیا تھا اور اس طرح سے دنیا کے سب سے طویل اور پیچیدہ تنازعات میں سے ایک کا آغاز ہوا۔
فلسطینیوں کے لیے بالفور اعلامیہ بے گھری، بے دخلی اور بے وطنی کی طویل تاریخ کا اعلان تھا ساٹھ لاکھ سے زیادہ فلسطینی اپنے گھروں سے باہر نکال دیئے گئے ہیں اکثر اردن لبنان اور شام میں پناہ گزینوں کے طور پر آباد ہیں جبکہ صیہونیت کے حامیوں کے لیے یہ اعلامیہ صدیوں کے ظلم و ستم کے بعد یہودی قوم کی قومی امنگوں کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم اور ان کے وطن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا اور 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا ۔
ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی بالفور اعلامیے کے اثرات مشرق وسطیٰ کو متاثر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ لندن میں کیا گیا ایک استعماری فیصلہ، جو فلسطین کی مقامی آبادی کی رضامندی کے بغیر لیا گیا، نے ایک ایسے تنازعے کو جنم دیا جس نے اس خطے کو پوری طرح بدل دیا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا 1967 سے اسرائیل نے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کو لگاتار وسعت دی ہے، یہودی آباد کاروں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے مقامی فلسطینی عربوں کو روز روز تشدد اور قتل و غارتگری کا سامنا ہے فلسطینیوں کی زمین کو بتدریج ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ان پر قبضہ کیا گیا ہے اور ان کی نقل و حرکت کی آزادی کو شدید طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔
غزہ کی پٹی برسوں سے محاصرے میں ہے، جس کی وجہ سے بہت سے مشاہدین، بشمول انسانی حقوق کی تنظیمیں، اسے "کھلی جیل" کہتے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کا بڑا حصہ فوجی کارروائیوں سے تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق ہزاروں ستر ہزار سے زیادہ فلسطینی، جن میں بہت سی خواتین اور بچے شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انسانی بحران تباہ کن سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل ہمسایہ ممالک کے ساتھ بار بار فوجی تصادم میں بھی مصروف رہا ہے اور حال ہی میں ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں بھی شامل ہوا ہے۔ یہ استعماری ناانصافی، بالفور اعلامیہ جدید دور کی سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی سیاسی دستاویزات میں سے ایک ہے، جس کے اثرات اب بھی ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست، تنازعات اور انسانی مصائب کو شکل دے رہے ہیں۔
متعدد تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ 1900 سے 1945 کے دوران قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور اسی وجہ سے یہودیوں کا طرفدار تھا کیونکہ اس نے ان سے قرض لیا تھا برطانیہ اس عرصے میں بہت بھاری قرضوں تلے تھا، خاص طور پر پہلی عالمی جنگ کے بعد کے جنگی قرضے، اور یہودی بینکار، خاص طور پر روتھشلڈ خاندان، انیسویں صدی سے یورپی حکومتوں بشمول برطانیہ کو بڑے پیمانے پر قرض دیتے رہے تھے، اور والٹر روتھشلڈ ہی وہ شخص تھے جنہیں بالفور اعلامیے کا خط براہ راست بھیجا گیا تھا۔ لیکن یہ دعویٰ کہ برطانیہ نے یہ اعلامیہ یہودی سرمایہ کاروں کے قرضوں کے بدلے میں جاری کیا، کئی مؤرخین کا خیال ہے کہ یہودیوں کے سرمائے نے برطانیہ کی مدد کی اور برطانیہ نے یہودیوں کی۔بعض مؤرخین کے نزدیک اس کی وجوہات جنگی حکمت عملی، امریکی اور روسی یہودیوں کی حمایت اتحادیوں کے حق میں حاصل کرنے کی خواہش، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد کے اثر و رسوخ پر فرانس کے ساتھ مسابقت، اور بعض برطانوی عہدیداروں کی صیہونیت کے ساتھ حقیقی نظریاتی ہمدردی بھی تھی، جس کی تصدیق 1917 کی کابینہ کی دستاویزی گفتگو سے بھی ہوتی ہے۔ "برطانوی پالیسی پر یہودی مالیاتی کنٹرول" کا یہ بیانیہ کئی تاریخ دانوں میں رائج رہا ہے، اور اس سے انکار کیا جائے تو ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
تري دوا نہ جنيوا ميں ہے ، نہ لندن ميں
فرنگ کي رگ جاں پنجہ يہود ميں ہے علامہ اقبال
شیخ سلیم