ئے یہ ظالم " تقدیم و تاخیر" ہا
بڑا عجیب و غریب خواب تھا۔ شائد کہ کوئی شیخِ ادب اسکی تعبیر بتا سکے اسلئے پیش کررہا ہوں۔ دیکھتا کیا ہوں کہ عالمِ بالا میں ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد کیا گیا ہے اور میں بھی شعرا میں شامل ہوں۔ اسد اللہ خان غالب صاحب کی صدارت ہے۔ ۔ اسٹیج پر جدھر بھی نظر ڈالتا ہوں اپنے آپ پر فخر ہوتا جاتا ہے کہ اردو کے تمام عظیم المرتبت شعراء کی فہرست میں میرا نام بھی شامل کیا گیا ۔ غالب کے علاوہ علامہ اقبال، میر، داغ، جگر، احمد فراز اور فیض سارے کے سارے اسٹیج پر تھے۔ میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ مجھ میں تو غالب و اقبال کا ایک ادنی سامع ہونے کی بھی قابلیت نہیں پھر میں ان کےساتھ بھلا مشاعرہ پڑھنے کے قابل کیسے ہوسکتا ہوں؟ پھر خیال آتا ہے کہ فلکی ہونے کی وجہ سے شائد مقامی یا میزبان شاعر کی حیثیت سے میرا نام شامل کیا گیا ہے۔ ظاہرہے یہ کوئی انڈین ایمبسی جدہ یا ریاض کا تو مشاعرہ نہیں تھا جہاں گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق اچھے اچھےشاعروں کو مقامی ہونے کی وجہ سے نظر انداز کردیا جاتا ہے اِنہیں Local سمجھا جاتا ہے اور باہر سے آنے والے کئی اوٹ پٹانگ شعراء کو محض مہمان ہونے کی وجہ سے ہوٹ ہونے تک سر پر بٹھایا جاتا ہے۔
میں اسٹیج پر پہنچ کرتمام
بڑے شاعروں کو مخصوص مشاعرانہ سلام کرتا ہوں ۔ {سلام کی یہ بھی ایک قسم ہے۔ اس میں کچھ گرمجوشی اور کچھ انکساری ہوتی ہے۔اور نظروں سے یہ میچ فکسنگ کا پیغام دیا جاتا ہے کہ حضور آج یہاں سب گدھے گھوڑے برابر ہیں اسلئے ایک دوسرے کی واہ واہ کا خیال رکھئے گا}۔ میرے سلام کے جواب میں بڑے شعراء اسی شانِ بے نیازی سے جواب دیتے ہیں جیسے کہ تاخیر سے پڑھایا جانے والا شاعر تقدیمی شاعر کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ یہ تقدیم و تاخیر کا نظام میرے نزدیک ایک بیہودہ نظام ہے۔ ایک بار کسی کا نام اہلِ تقدیم میں آجائے پھر اسے ساری زندگی معمر شعرا کے مرنے کا
انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خیر میرے سلام کے جواب میں کسی نے سر ہلایا، کسی نے سر ہلاتے ہوئے بازو والے کو سوالیہ دیکھا کہ "کون صاحب ہیں یہ؟ " بعض نے کچھ اس طرح سر ہلایا جیسے کہہ رہے ہوں "ٹھیک ہے؛ جہاں بھی جگہ ملے بیٹھ جایئے، آگے آکر ہمیں سکٹرنے کی زحمت نہ دیجیئے"۔
مشاعرہ شروع ہوتا ہے۔ دیکھتا کیا ہوں کہ اسلم فرشوری کی نظامت ہے۔ سارا مزا کِرکِرا ہوجاتا ہے۔ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ صاحب مجھے پہلے نمبر پر ہی پڑ ھوائیں گے۔ جس طرح شادی خانے میں پہلے باراتی ناچتے ہوئے داخل ہوتے ہیں تب دلہا میاں داخل ہوتے ہیں اسی طرح ان مشاعروں میں پہلے چھوٹے شاعروں کو آکر بڑے شاعر کے لئے ماحول بنانا پڑتا ہے۔ اس چکر میں کئی بڑےشاعر چھوٹے رہ گئے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ بڑے اور بزرگ شعراء کو جنہیں کوئی نہ کوئی عارضہ لاحق رہتا ہے ان کو پہلے پڑھواکر چلتا کردینا چاہئے
کیوںکہ کسی کے گُھٹنے زیادہ دیر انہیں نیچے بیٹھنے نہیں دیتے اور کسی دل کے مریض کو ڈاکٹر نے جلدی سونے کیلئے کہا ہوتا ہے۔ اور کوئی تو مغرب سے ہی اونگھنے لگتے ۔ ان لوگوں کی خاطر ہم جیسے تقدیمی شاعروں پر خوامخواہ کا ایک پریشر رہتا ہے اور مجبوراً ایک دیڑھ غزل پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب یہ بوڑھے بیمار شاعر مائیک پر آتے ہیں تو ساری بیماریاں بھول جاتے ہیں۔ دل کا ٹانگ کا اور گُھٹنے کا سارا درد ختم ہوجاتا ہے اوراُس وقت تک سناتے ہی چلے جاتے ہیں جب تک ایک ایک کرکے سارے سامعین چلے نہیں جاتے۔
مشاعرہ شروع ہوتا ہے۔ اسلم فرشوری ہر ناظمِ مشاعرہ کی طرح جھوٹ سے تمہید باندھتے ہیں کہ آج تقدیم و تاخیر کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جائِیگا، جس کو جس مقام پر بھی پڑھایا جائے وہ اپنی شاعری سے دلوں میں اپنا مقام خود قائم کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری بکواس ان بےچارے
شاعروں کی جھوٹی تسلی کیلئے ہوتی ہے جن کو پہلے پڑھوانا لازمی ہوتا ہے۔ خیر ان کی طویل تمہید کے بعد سبھی کو حیرت ہوتی ہے کہ سب سے پہلے احمد فراز کا نام پکارا جاتا ہے۔ یقین ہوجاتا ہے کہ ناظمِ مشاعرہ کو یہی ہدایت دی گئی ہے ورنہ وہ احمد فراز کو پہلےپڑھوانے کی جراء ت نہیں کرسکتے ۔ احمد فراز کا فرشتوں کے پاس شائد ریکارڈ صحیح نہیں ہے۔ بقول خامہ بگوش کے کہ "غزل عورت سے خاموشی سے سرگوشیاں کرنے کا نام ہے لیکن فراز عورتوں کے اجتماعِ عام سے خطاب کرتے تھے"۔ اس کے بعد ہر بڑا شاعر چوکنْا ہوکر بیٹھ جاتا ہے کہ شائد اب اس کی باری ہے۔ اور پھر احمد ندیم
قاسمی کا نام پکارا جاتا ہے۔ پھر کیا دیکھتا ہوں کہ سارے ترقی پسندوں اور مذہب بیزاروں کو پہلے پڑھوایا جارہا ہے جن میں اخترالایمان،جوش، جان نثار اختر، جون ایلیا ، جاوید اختر وغیرہ ۔ ترقی پسندوں کا یہ تنزْل دیکھ کر ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا ۔ ہماری بات کا دنیا میں کوئی یقین نہیں کرتا تھا کہ ان ترقی پسندوں کے پاس مشکل سے دوچار غزلیں ہوتی ہیں جو کسی کام کی ہوتی ہیں باقی ساری خشک شاعری کسان ، مزدور، نام نہاد آزادی، بندوسلاسل، دارورسن، روزنِ زنداں اور سرخ سویرا وغیرہ سے بھری ہوتی ہے۔ ان رعب دار الفاظ پران لوگوں نے لینڈ
گریبنگ کررکھی تھی۔ ہر غزل کو انہی الفاظ سے بوجھل بنادیتے تھے۔ ان کی MQM کی طرح دادا گری کا دنیا میں یہ عالم تھا کہ ریڈیو، ٹو وی، اخبار و رسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ جو ان کی پارٹی کیلئے کام کرے وہ چاہے کتنا ہی بوگس شاعر یا ادیب کیوں نہ ہو یہ ایک دوسرے پر خاکے اور تبصرے لکھ لکھ کر اُسے عالمی سطح کا شاعر یا ادیب بنادیتے تھے۔ اندر تو ایک دوسرے کی کاٹ میں رہتے لیکن باہر مشاعروں پر قبضہ رکھ کر بڑے بڑے شاعروں کو پہلے پڑھواتے اور اپنے فالتو شاعروں کو بعد میں پڑھواتے۔
علی سردار جعفری بھی سہمے ہوئے بیٹھےتھے کیوںکہ ان کا ہمیشہ یہ دعوی رہا کہ وہ تمام ترقی پسندوں میں سب سے بڑے شاعر ہیں ۔ آج ان سارے ترقی پسندوں اور جدیدیوں کو بھی پتہ چل گیا کہ میں کیا چیز ہوں۔ البتہ شروع میں ہی الطاف حسین حالی کو بھی بلوالیا گیا حالانکہ حالی تو غالب و اقبال کی صف کے آدمی تھے، ان کو تو پہلے پڑھوانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ پھر خیال آیا کہ ہوسکتا ہے سر سید کی تعریف کرنے کے نتیجے میں ان کو یہ سزا ملی ہو۔ کیونکہ دنیا میں دین کے کئی گُتہ داروں نے سر سید کے اہم کارناموں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے خلاف فتووں کی ضخیم جلدوں کو
اپنے مدرسوں کی لائبرریوں میں اٹھا رکھا تھا۔ ہوسکتا ہے فرشتے اسی پروپیگنڈے سے بدگمان ہوئے ہوں۔
ان کے بعد جگر مرادآبادی کا نام پکارا گیا۔ اب ہمیں کچھ شرمندگی سے ہونے لگی۔ اسلم فرشوری ہمارے اچھے دوست ہیں اور ہمارے ہی شہر
کے ہیں اسلئے ہم شہر ہونے کا کچھ نہ کچھ تو فائدہ ہونا ہی چاہئے۔ یہ جانبداری تو ہر جگہ برتی ہی جاتی ہے۔ لکھنوی لکھنوی کو، پنجانی پنجابی کو اور کراچی والا کراچی والے کو ترجیح تو دیتا ہی ہے ۔ اسلئے اگر ایک حیدرآبادی دوسرے حیدرآبادی کو دیر سے پڑھوارہا ہے تو اس میں برائی تو نہیں لیکن یہ زیادتی ہے کہ جگر کو ہم سے پہلے پڑھوایا جائے۔ احتیاطاً ہم دعوت نامہ دیکھ لیتے ہیں کہ ہمارا نام شاعروں میں ہے یا نہیں۔ لیکن دعوت نامے میں صاف طور پر ہمارا نام شاعروں کی فہرست میں تھا۔ میں اسلم فرشوری کو مسلسل گھورتا ہوں تاکہ نظر ملے تو سلام
کرکے احساس دلادوں کہ میں بھی موجود ہوں۔ وہ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ سلام کا جواب بھی سر ہلا کر دیتے ہیں لیکن اس کے بعد چکبست، خمار، داغ ، سیماب اور شمیم جئے پوری وغیرہ کوبھی پڑھوادیتے ہیں۔ مجھے گمان گزرتا کہ اتنا بڑا مشاعرہ بغیر تقدیم و تاخیر کا لحاظ رکھے پڑھوانا تو ناممکن ہے، یقیناً اسلم فرشوری صاحب نے غلطی سے فہرست کواپنے سامنے اُلٹا رکھ لیا ہے۔ اسٹیج پر پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو نسیم سحر، فراست علی خسرو اور مہتاب قدر وغیرہ بھی موجود ہیں جو مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں کہ "بھائی اگر داغ و
جگر ہم سے پہلے پڑھوائے گئے تو ٹھیک ہے لیکن آپ کو تو ہم سے پہلے پڑھنا چاہئے۔ جایئے اور جاکر خود مائیک ہاتھ میں لے لیجئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلم فرشوری آپ کی مفت کی چائیوں اور سگریٹوں کا حساب چکانے آج ہم کو آپ سے پہلے پڑھوادیں۔ " اور میں دل ہی دل میں خوش ہورہا ہوتا ہوں کہ آج دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے ہی والا ہے۔ دنیا میں تو ہمیشہ ان لوگوں نے سینئر شاعر ہونے کا فائدہ اٹھایا لیکن انشااللہ آج ایسا نہیں ہوگا۔ اور یہ خوشی اُس وقت دوبالا ہوجاتی ہے جب طارق غازی صاحب کا نام پکارا جاتا ہے۔ ان حضرت کا تو کیا بتاوں ، دنیا میں ہمیشہ صدارت
یا مہمانِ خصوصی کی مسند پر ایسا ہی قبضہ رہا جیسے حیدرآباد کی پارلیمانی سیٹ پر اویسی صاحب کا رہا یا دہلی کی جامع مسجد پر بخاری صاحب کا ۔ اس کے بعد محترمہ عذرا نقوی کا نام پکارا گیا۔ یہ ہمیں اچھا نہیں لگا۔ اس لئے نہیں کہ عذرا صاحبہ کو ہم سے پہلے پڑھوایا گیا بلکہ اس لئے کہ طارق غازی صاحب سے پہلے انہیں نہیں پڑھوانا چاہئے تھا۔ کیونکہ طارق بھائی صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر، ادیب، دانشور اور مقرْر بھی تھے۔ ان کے اجداد تو دنیا میں ایسے نیک کام کرگئے کہ وہ جنْت میں یقیناً بڑے زمینداروں میں شمار ہوتے ہونگے۔
لیکن یہ کیا؛ اسلم فرشوری صاحب نے اب تو حد ہی کردی۔ ہم سے پہلے علامہ اقبال کا نام پکار دیا۔ اب ہمیں یقین ہوگیا کہ اسلم فرشوری پارشالٹی کے الزام میں کل اخبارات کی سرخیوں میں ہونگے۔ ہمارے جیسے اوربھی دوسرے چھوٹے شاعر موجود ہوتے ہوئے علامہ اقبال
کو پڑھوانا بہت بڑی گستاخی بلکہ بھیانک غلطی ہے۔ اِن کو خبر نہیں ہے کہ اگر بہادر یا جنگ یا قاضی حسین احمد کو پتہ چل گیا کہ انہوں نے علامہ اقبال کو ہم سے پہلے پڑھوادیا تو ان کی وہ کیسی خبر لیں گے۔ نعیم جاوید تو اسلم فرشوری اور ہم سے دوستی توڑ دینے کم نہیں۔ ہمیں یقین ہوگیا کہ اسلم فرشوری کا یہ آخری مشاعرہ ہے اب اس کے بعد ان کا کسی مشاعرے کی نظامت کیلئے بلایا جانا ناممکن ہے۔ اس سے بہتر تھا کہ انور جلال پوری ہی کونظامت کیلئے بلالیا جاتا۔ اگرچہ کہ انور جلال پوری کی رُک رُک کر چبا چبا کر الفاظ ادا کرنے ، لڑکھڑاتے
ڈگمگاتے لہجے اور آواز میں ، ایک جملے کی جگہ چار چار جملوں میں بات پوری کرنے کی عادت سے ہمیں بڑی اکتاہٹ ہوتی ہے، ایک شاعر کے بعد دوسرے شاعر کو بلانے کیلئے وہ جتنا وقت لیتے ہیں اُس وقفے میں ہم عام طور پر ایک گہری نیند لے کر اٹھ جاتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ اچھا ہوا یہ کرکٹ یا فٹبال کے کامینٹریٹر نہیں بنے ورنہ میچ ختم ہوجاتا اور یہ اُس وقت تک صرف ٹاس کا حال بیان کرتے رہ جاتے۔ ان کی نظامت اگر یومِ آزادی کی پریڈ کے موقع پر ہو تی تو بہت زیادہ مناسب ہوتا۔ جتنی دیر میں ایک ایک فوجی دستہ سلامی دیتے ہوئے آہستہ آہستہ سرکتا جاتا ہے اتنی دیر ان کو آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے کیلئے درکار ہوتی ہے۔ خیر ہم یہ کہہ رہے تھے کہ ہم انور جلال پوری کی نظامت آج برداشت کرلیتے کیونکہ وہ تقدیم و تاخیر کے معاملے میں ایسے ہی سخت ہیں جسیے اہلِ مسلک اپنے اپنے عقیدے میں سخت ہوتے ہیں۔ تقدیم و تاخیر سے مراد وہ نہیں جو واقعتاً ہونی چاہئے بلکہ وہ جسے یہ خود ترتیب دے کر کسی کو بڑا اور کسی کو چھوٹا
کردیتے ہیں۔ آج بھلے ہی وہ داغ، جگر یا اقبال کے معاملے میں غلطی کرجاتے لیکن ہمیں پڑھوانےکے معاملےمیں وہ ہرگز غلطی نہ کرتے اور پہلے نمبر پر ہی پڑھواکر چھوڑتے۔
پھر خیال آیا کہ یہ فہرست اگر فرشتوں نے ترتیب دی ہے تو انہوں نے شائد صرف شکوہ پڑھ کر
ترتیب دی ہوگی ، جوابِ شکوہ نہیں پڑھا ورنہ وہ یہ غلطی ہرگز نہ کرتے۔ پھر یہ بھی خیال آیا کہ ہوسکتا ہے کہ علامہ کو پاکستان بنانے کی یہ سزا ملی ہو۔ مگر اس میں علامہ کا کیا قصور ؟ اُس وقت تو ان کے ساتھ قائدِ اعظم، فاطمہ جناح اور عبدالقادر نشتر جیسے لوگ تھے۔ اگر انہیں پتہ ہوتا کہ وہ زندہ ہوتے اور آج کے لیڈروں کے مقابلے میں اگر الکشن لڑتے تو دھاندلیوں کے ذریعے قائدِ اعظم اور علامہ وغیرہ سب کی ضمانتیں بھی ضبط کروادی جاتیں، تو وہ ایسا پاکستان بنانے کی ہرگز غلطی نہ کرتے۔ لیکن پھر بھی یہ غلطی ایسی بھی غلطی نہیں تھی کہ
اُنہی کے خیالات کو چُرا کر شعر کہنے والوں سے پہلے اُن کو پڑھوایا جائے۔
خیر اس کے بعد اب جبکہ ہمیں یقین بلکہ غرور سا ہوگیا تھا کہ کیفی ویفی، مجروح وجروح سب ہم سے پہلے ہی پڑھنے والے ہیں، اچانک ہمارا نام پکارا گیا۔ ہمیں بہت صدمہ
ہوا۔ اسلم فرشوری اگر غالب کو نہیں تو کم از کم نعیم بازید پوری، قمرحیدر قمر اور مختار علی وغیرہ کو تو ہم سے پہلے پڑھواسکتے تھے۔ جب اتنے بڑے بڑے شاعروں پر ہم کو فوقیت دی گئی تو پھر اِن لوگوں کی کیا حیثیت تھی، لیکن اصل صدمہ تو تب پہنچا جب اسلم فرشوری نے ہم کو بلاتے ہوئے یہ تمہید باندھی کہ "حضرات؛ میں معذرت خواہ ہوں کہ دنیا کے مشاعروں کی روایت کے خلاف عمل کرتے ہوئے مجھے علاْمہ کو علیم خان سے پہلے بلانا پڑا ورنہ کہاں علامہ اور کہاں علیم خان۔ میں یہ بتاتا چلوں کہ یہ فہرست دربارِ خداوندی سے عطا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیِ علیم و خبیر ہے۔ وہ جانتا
ہے کہ شاعروں کے دل میں کیا ہوتا ہے اور زبان پر کیا ہوتا ہے۔ یہ شعراء مائیک پر کھڑے شاعر کو ہاتھ اٹھا کر داد دیتے ہوئے کہتے ہیں "سبحان اللہ کیا خوب مصرعہ ہے، بہت خوب" اور اگلے ہی لمحے بازو بیٹھنے والے شاعر سے کانا پھوسی کرتے ہوئے کہتے ہیں "مصرعہ تو بحر سے خارج ہے، ابہام سے بھرا ہے "۔ شائد اسلئے یہ فہرست جن فرشتوں نے مجھ کولا کر دی ہے انہوں نے سختی سے یہ حکم دیا ہے کہ اگر دنیاوی شہرت کے اعتبار سے کسی کو کسی سے پہلے یا بعد پڑھوایا گیا تو یہ شعرا یہاں بھی وہی گندی سیاست پھیلائیں گے جو دنیا میں پھیلا کر آ ئے ہیں۔ اسلئے
شعرا کو اُن کے ناموں کے حروفِ تہجی کے لحاظ سے پکارا جائے۔ اس لئے میں مجبور تھا کہ علیم خان فلکی کو اتنی تاخیر سے پڑھواوں ورنہ ان کا دنیا میں کیا مقام تھا یہ تو سبھی جانتے ہیں۔لیکن میں حکمِ خداوندی کو نہیں ٹال سکتا"
اسلم فرشوری دنیا میں
اللہ کے کتنے حکموں پر کتنے فیصد عمل کرتے تھے یہ تو ہمیں معلوم تھا لیکن آج وہ سو فیصد عمل کرنے والے ہیں اِس کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ ہمیں مائیک پر آنے کا اشارہ کررہے تھے۔ لیکن ہماری خوش فہمیوں کے سارے موتی بکھر چکے تھے بلکہ چِکنا چور ہوچکے تھے۔ اسی صدمے میں ہماری آنکھ کُھل گئی۔ ہاے؛ خوشی ملی بھی تو خواب میں اور وہ بھی عارضی۔