na hi ka istimal by athar hashimi

0 views
Skip to first unread message

Abdul Mateen Muniri

unread,
Jul 20, 2018, 12:36:11 PM7/20/18
to

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ نہ ہی کا استعمال ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی


ابوالاثر حفیظ جالندھری کو کسی نے یہ شعر سنایا

دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

حفیظ صاحب نے پوچھا ’’یہ کس کا شعر ہے؟‘‘ کہا ’’آپ ہی کا تو ہے‘‘۔ کہنے لگے ’’میں نے تو یہ کہا تھا ’’دیکھا جو کھا کے تیر کمین گاہ کی طرف‘‘۔

اس شعر کا چرچا یوں ہوا کہ اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے سانحہ یکہ توت کے پس منظر میں یہ شعر پڑھا ہے اور اسی طرح پڑھا جیسا عوام کی زبان پر چڑھا ہوا ہے۔ مگر حفیظ نے اسے اپنا شعر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غلط العوام شعر میں عیبِ تنافر ہے۔ شاعری کی اصطلاح میں یہ عیب وہ ہے جس میں کسی لفظ کے آخری حرف سے دوسرا لفظ شروع ہوتا ہو جیسے ’’کھا کے کمین‘‘۔ اس میں دو ’ک‘ ٹکرا دیے ہیں۔ تنافر عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے نفرت کرنا، بھاگنا۔ اصطلاح علم معانی میں ایسے الفاظ کا جمع ہونا جن کا تلفظ ثقیل ہو یا دو ت آپس میں ٹکرا رہے ہوں۔ مرزا غالب نے اپنے ایک بہت اچھے شعر کو دیوان سے خارج کردیا، کیونکہ اس میں بھی یہی عیب تھا یعنی ’’ایک نقشِ پا پایا‘‘۔ تنافر صرف شعر ہی میں نہیں، عام زندگی خصوصاً سیاست میں عام ہے۔
2018-07-20 na hi ka istimal.jpg




 

Abdul Mateen Muniri
Bhatkal- Karnataka
M +971555636151

2018-07-20 na hi ka istimal.pdf
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages