ابوالاثر حفیظ جالندھری کو کسی نے یہ شعر سنایا
دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
حفیظ صاحب نے پوچھا ’’یہ کس کا شعر ہے؟‘‘ کہا ’’آپ ہی کا تو ہے‘‘۔ کہنے لگے ’’میں نے تو یہ کہا تھا
’’دیکھا جو کھا کے تیر کمین گاہ کی طرف‘‘۔
