روزنامہ اُردو ٹائمز، ممبئی کا ادبی صفحہ
اتوار۱۱۔ اکتوبر۲۰۱۵
مطلع:
آج کے افسانے کا ایک مسئلہ تو یہ جنگل ہےں جس میں لکھنے والے اپنی ذاتی علامتوں کی پگڈنڈی سے داخل ہوئے اور گُم ہوکر رہ گئے ۔
اس کی وجہ پہلی قسم کے لوگوں کا شدید ردِّعمل اور پھر دوسروں کا بغیر سوچے سمجھے اس ردِّعمل کو قبول کرنا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جدید افسانے کو گنجلک بنانے کی یہ تحریک مغرب سے آئی ہے۔ اگر آپ کے مسئلے مغرب کے مسئلوں سے ملتے جُلتے ہےں تو آپ مغرب سے مدد کیوں نہےں لے سکتے ۔ آخر ہم مغرب سے آنے والی کار، کمپیوٹر،کیلکولیٹر، پریشرککر اور واشنگ مشین سے بھی تو افادہ کر ہی رہے ہےں۔ اگر ہم واشنگ مشین میں اپنی شلوار قمیص دھو سکتے ہےں اور گرائنڈر میں
کوفتوں کا مسالہ پیس سکتے ہےں تونئی تحریکوں کو اپنی زبان اور افتادِ طبع کے مطابق کیوں نہےں ڈھال سکتے ۔
البتہ ہمیں یہ نہےں بھولنا چاہئے کہ برصغیر کی بہت بڑی آبادی اب بھی پرانی چیزیں استعمال کررہی ہے۔
٭ رضیہ فصیح احمد
خوشبو:
حق بات ہی کہیں گے، سرِدار دیکھنا
اہلِ قلم کی جرا ¿تِ اظہار دیکھنا
سرکار! آپ پر جو چھِڑکتے ہیں جان آج
بچ کر چلیں گے کل ، یہ نمک خوار دیکھنا
ڈالا جو تم نے ہاتھ کلاہِ عوام پر
لگ جائےں گے سَروں کے بھی انبار دیکھنا
٭ر اغب مرادآبادی
شاعر سے زیادہ مشہورشعر
٭خلیق الزماں نصرت(بھیونڈی)
”اُردوکے برمحل اشعار“ میں چند اشعار ایسے ہیں جو اپنے شاعرسے زیادہ مشہور ہیں۔ان میں سے ایک شعر ہے۔
خ ±دا کو بھول گئے لوگ فکر روزی میں
خیالِ رزق ہے ر زاق کا خیال نہیں
تقریباً دس سال تک میں اس کے شاعر کا پتہ لگاتا رہا اسی دوران میں نے تقریباً 1700اشعار کے شاعر کا پتہ لگالیا۔میں نے مذکورہ شعر کو اکثرعلامہ اقبال کے نام سے منسوب پایا۔لوگوں سے بھی سنا تھا کہ یہ شعر علامہ اقبال ہی کا ہے۔کلیاتِ اقبال دیکھ ڈالا۔ کئی با ردیکھا،لیکن اس شعر کا کہیں پتہ نہیں چلا۔پاکستان سے شائع ہونےو الی باقیات اقبال(صابر کلوری)دیکھا۔اس میں یہ شعر تونہیں ملا۔مگر علامہ اقبال کے کچھ اور برمحل اشعار مل گئے۔
تڑپ کے شانِ کریمی نے لے لیا بوسہ٪ ‘کہا جوسر کو جھکا کر گناہگاروں میں
(باقیات اقبال صفحہ۱۴)
حسرت نہیں کسی کی تمنان نہیں ہوں میں‘
مجھ کو نکالئے گا ذرا دیکھ بھال کے
(باقیات اقبال صفحہ۱۳)
وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ ‘
جو کرتے ہیں د ±نیا میں محنت زیادہ
(باقیات اقبال صفحہ۲۲)
زاہدِ تنگ نظرنے مجھے کافرجانا‘
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں
(باقیات اقبال صفحہ۰۹)
خیر کھودا پہاڑنکلا چوہا ،کی طرح نہیں ہوا۔چھ برمحل اشعار تو میں نے علامہ اقبال کے متروک کلام سے نکال لیے۔اس چھان بین کے دوران برمحل اشعار کی ایک کتاب چھپ گئی مگر مذکورہ شعر کے خالق کا پتہ نہیں چلا۔ایک جمعے کو مَیں چوربازار(ممبئی) گیا۔وہاں کے فٹ پاتھ سے میں اکثرپرانی کتابیں خریدتا ہوں۔وہاں میری نظر ایک شعری اِنتخاب پر پڑی۔ایک بوسیدہ حالت کی یہ کتاب”اخلاق کریمی “تھی۔جس کو حاجی تجمل حسین صاحب تجمل جلال پوری،مقیم ممبئی نے ترتیب دیا تھا۔یہ کریمی پریس،ممبئی سے ۱۳۲۶ھ یعنی ۱۱۰سال پہلے شائع ہوا تھا۔میں نے کتاب بیچنے والے سے قیمت پوچھی تو اس نے ۲۸۸صفحات کی اس کتاب کی قیمت ۴۰۰ روپئے بتائی اس میں کئی ہزار اشعار بقیدِ عنوانات شائع ہوئے ہیں۔میں نے اپنی عادت کے مطابق کہا بھائی صاحب اس پرانی اور پھٹی چٹی کتاب کی اتنی قیمت؟کتاب والے نے کہااسی لیے توا سکی اتنی قیمت ہے۔اس کتاب کے مطالعے پر یہ شعرخلیل کے نام سے منسوب پایا۔اب اطمینان توہوگیا کہ شعر کسی خلیل کاہے۔اب میری نظر میں دوخلیل آئے۔ایک خلیل بڈولوی اور دوسرے نواب خلیل ٹونکی۔نواب خلیل تواس طرح کا شعر نہیں کہہ سکتے تھے۔تب آتش کے شاگر د خلیل بڈولوی کی طرف دھیان گیا۔”دبستانِ آتش“میں آتش کے شاگردوں میں خلیل کا نام مل گیا۔مگر جس شعر کی تلاش تھی وہ نہیں ملا۔اس کے شاعر کہیں اور ذکر نہیں پڑھا۔میں نے یہ شعر خمخانہ جاوید(۳)صفحہ نمبر۴۷ پر دیکھا یہ کتاب پانچ یا چھ جلدوں اور کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔اتنی بڑی کتاب دل جمعی سے مطالعہ کرنا، ناممکن ہے۔اس کو میں نے کئی بار انجمن اسلام ،ممبئی کی لائبریری سے لا کر پڑھا ہے۔اب ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ خلیل کون تھے؟ان کا نام میر دوست علی خلیل تھا۔ان کے والد سید جمال علی تھے۔وہ قصبہ بڈولی بارہا(اودھ)کے باشندے تھے۔خلیل‘ نواب نادرمرزا نیشا پوری کی مصاحبت میں برسوں رہے۔سلطان واجد علی شاہ کے عہد میں نظامت اور چکلہ داری کے عہدے پر فائز رہے۔واجد علی شاہ جب کلکتہ گئے تومیردوست علی خلیل بھی ان کے ہمراہ گئے۔کلکتہ میں کچھ دن ہی رہے۔وہاں نساخ کے دوستوں میں شامل ہوگئے اور واپس آگئے۔ لکھنو ¿میں آتش کے بہت قریب رہے۔آتش ا ±نہیں اپناعزیز بنائے ہوئے تھے۔نوابوں اور سلطانوں کی نوکری کرنے کی وجہ سے خود کفیل بھی تھے۔شاندار زِندگی گزاری۔لوگوں کی کفالت بھی خوب کی۔ا ±ستاد کے اوپر خوب خرچ کرتے تھے۔مولانا محمد حسین آزاد آب حیات میں میر دوست علی خلیل کاایک لطیفہ لکھتے ہیں۔آتش کوابتداہی میں کسی شخص نے ا ±نہیں نماز پڑھنے کا طریقہ بتادِیا۔وہ اسی طرح بند گھر میں نمازپڑھتے تھے۔غالباً کبھی کبھار نمازپڑھتے رہے ہوںگے۔ایک روزخلیل نے ا ±نہیں نمازپڑھتے دیکھ لیا۔
انہوں نے سوچا کہ استاد سنیّوں کی طرح نماز پڑھ رہے ہیں۔ا ±نہیں تعجب ہوا۔توخلیل نے اپنے استاد کو بتایا کہ اگر آپ شیعہ ہیںتونماز ایسے نہیں پڑھی جائے گی۔یہ طریقہ غلط ہے۔ آتشنے برجستہ کہا۔”ایک خ ±دا کی دو طرح کی نماز......“آزاد نے یہ واقعہ بطورِ لطیفہ سنایا ہوتوٹھیک ہے۔آتش نماز پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔یہ بڑے تعجب کی بات ہے۔میرے خیال میں لطیفہ گڑھنا کوئی آزاد سے سیکھے۔
خلیل بہت ہمدردتھے۔۔۱۳جون ۱۸۴۷ کو آتش کا جب انتقال ہوا توخلیل نے ایک اولاد کی طرح ا ±ن کی تدفین کاسارا خرچ اورانتظام کیا۔خلیل کے اشعار میں اپنے استاد کی طرح صفائی اور سادگی ہے۔ا ±ن کا دیوان غیر مطبوعہ ہے۔چند کلام کا مطالعہ کیاہے۔ا ±ن کا ایک اور شعر برمحل پڑھنے کو ملا۔
بزم سے یار نے یہ کہہ کے نکالا مجھ کو
‘اٹھئے گھر جائیے دم لیجئے سستا ئے بہت
(خمخانہ جاوید۳صفحہ ۴۷)٭
رابطہ:09923257606
چاہنے والے
٭جاوید صدیقی(ممبئی)
( تیسری اور آخری قسط)
مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔رشیدہ بی کی شادی کے ٹھیک چار مہینے بعدمجیدے کے باپ کاپیغام آیا۔لڑکا اپنی جات برادری کا ہو اور تین گھانی کا مالک ہو تو نا،کون بولتا ہے۔ابا نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں اور ہاں کردی۔
جس دن میرا بیاہ ہوا تھا اس دن بہت برسات ہو ئی ۔جل تھل ایک ہو گئے تھے۔مگر میاں صاحب نے اپنا دیوان خانہ کھلوا دِیااورکہا”رسولن کی برات میرے گھر میں اُترے گی۔“رشیدہ بی نے مجھے ایسے رخصت کیا جیسے میں ان کی سگی بہن ہوں۔
ڈولی میں بیٹھتے بیٹھتے میں نے دیکھا تھا،اُن کی بڑی بڑی آنکھیں روتے روتے سوج گئی تھیں ۔ہائے کیا لوگ تھے۔دوستی نام کا رِشتہ ہوتاہے بی بی ،مگر اس رشتے پر خون کے رشتے قربان ہیں اور ایک آج کل کے لوگ ہیں،حرام کے جنے...پیٹ کے رشتے کو بھی نہیں مانتے۔بھول جاتے ہیں کہ قیامت میں ماں کے نا م سے پکارے جائیں گے۔
اے بی بی! بڑھاپے کا وقت ہے ایک بات یاد کرتی ہوں توچاربھول جاتی ہوں۔یہ قصے کہانیاں تواس لیے یاد ہیں کہ دِل پر لکھی ہوئی ہیں۔مجیدا کا باپ اللہ بخشے میرا بڑا خیال رکھتا تھا۔میں جب بھی کہتی مجھے اماں ابّا یاد آرہے ہیں توفوراً کسی کو ساتھ کرتا اور بھجوادیتا،مگر بی بی غازی آباد سے آنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔دَس بارہ گھنٹے تک نگوڑی ماری ریل میں بیٹھے ہلتے رہو،ہڈیاں بھی دُکھنے لگتی تھیں،مگر اماں ابّا سے زیادہ رشیدہ بی کی محبت کھینچ لاتی تھی۔
کوئی ڈیڑھ برس بعد جب میرا پاو ¿ں بھاری ہوا توابّا مجھے لے کے آگئے۔ہماری برادری میں پہلو ٹھی کے بچے کانال میکے کی مٹی میں دَباتے ہیں۔میں بھاگی بھاگی رشیدہ بی کے پاس پہنچی۔وہ اور اسلم میاں محمود میاں کی حویلی میں آگئے تھے ،کیوں کہ اسلم میاں کی ماں اللہ کو پیار ہو گئی تھیں اور میاں صاحب کو دیکھنے بھالنے والا کوئی نہیں تھا۔وہ بالکل ویسی تھیں جیسے میں چھوڑ کر گئی تھی۔وہی لشکارے مارتی آنکھیں،وہی ہنستے ہونٹ،بدن سے آتی ہوئی چندن کے ا ±بٹن کی وہی خوشبو۔اسلم میاں تھوڑے دُبلے ہو گئے تھے مگر باتیں ویسی ہی کرتے تھے۔میں جب بھی دونوں کو ساتھ دیکھتی دِل سے دعا نکلتی ،”میرے مولا،ان دونوں کو کسی کی نظر نہ لگے۔“مگر شاید کسی کی نظر لگ چکی تھی۔
میرے بیاہ کو چھ برس ہو گئے ،تین بچے بھی ہو گئے،مگر رشیدہ بی کی گود خالی تھی۔
میں جب بھی پوچھتی رشیدہ بی کلمے کی اُنگلی آسمان کی طرف اٹھا کے مسکرا دیتیں۔مجھے میری اماں نے بتایا کہ دوا،دُعا ،تعویذ،گنڈا سب کچھ ہو چکا ہے ،اب محمود میاں دونوں کی ڈاکٹری جانچ کرانے والے ہیں۔رشیدہ بی اس جانچ کے بہت خلاف ہیں،مگر میاں صاحب اَڑگئے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور اپنی کروڑوں کی جائیدار رشیدہ کے بچوں کے نام کرکے مرنا چاہتے ہیں۔
مَیں اُس زمانے میں وہیں تھی جب وہ انگریز ڈاکٹر دِلّی سے آیا تھا اور رشیدہ بی کے لاکھ روکنے پر بھی میاں صاحب نہیںمانے،انہوں نے کہا :”یہ جا نچ ہوگی اور ضرور ہوگی۔یہ میرا حکم ہے۔“اب میاں صاحب کے حکم ٹالنے کی ہمت توسارے شہر میں کسی کی نہیں تھی۔میں نے بھی رشیدہ بی کو سمجھایا۔
”تم گھبرا کیوں رہی ہو بی بی۔بہت سی نئی دوائیں نکل آئی ہیں ،اللہ نے چاہا توتمہاری گود بھی بھر جائے گی۔“
وہ چپ چاپ مجھے دیکھتی رہیں ،پھر آنکھوں سے آنسو پونچھے اورنماز کے لیے کھڑی ہوگئیں....
رشیدہ بی نے جانچ توکرالی مگر اپنا کمرہ بند کر کے بیٹھ گئیں اور اسلم میاں گاو ¿ں چلے گئے۔کوئی تین دِن بعدجوالامکھی پھٹا۔پتہ چلاکہ رشیدہ بی توبالکل ٹھیک ہیں مگر اسلم میاں اولاد تواولاد عورت کے قابل بھی نہیں ہیں۔
میں رشیدہ بی سے ملنے بھاگی،مگر ان کی صورت دیکھتے ہی نہ جانے کیا ہوا کہ گری اور بے ہوش ہو گئی۔چار دن تک میری حالت خراب رہی۔پانی بھی پیتی تھی توگلے سے نہیں اُترتا تھا۔ایک دن صبح صبح اماں نے کہا،”میاں صاحب کے گھر پنچایت بیٹھی ہے.....اسلم میاں رشیدہ بی کو طلاق دے رہے ہیں.....“میں کبھی کسی کے مرنے پر بھی اتنا نہیں روئی جتنا اس دن روئی تھی۔بس کلیجہ منہ کوآیا جارہا تھا۔”یہ کیا ہوگیا میرے مولا....یہ کیا ہوگیا؟“
میاں صاحب کے دیوان خانے میں خاندان کے سارے بڑے بزرگ جمع تھے،مگرسب چپ چاپ تھے جیسے کسی میت میں آئے ہوں !ایک کونے میں اسلم میاں سَرجھکائے بیٹھے تھے۔رشیدہ بی کے نانا نے کھانس کر گلاصاف کیا،کچھ لمبی سانسیں لیں پھر اسلم میاں سے پوچھا:
”یہ اتنی بڑی بات آپ نے چھپا کے کیوں رکھی ؟“
”جسے معلوم ہوناچاہیے تھا.....اُسے پہلی رات ہی بتا دیاتھا۔“
”شادی سے پہلے کیوں نہیں بتایا؟“
”میں نے بہت کوشش کی....مگر مجھے موقع ہی نہیں دِیاگیا۔“
”خیر،اب ان باتوں سے کوئی فائدہ نہیں،یہ بتائیے آپ رشیدہ کو طلاق دینے کے لیے تیار ہیں یانہیں؟“
اسلم میاں نے جیب سے ایک لفافہ نکال کر ،نانا میاں کی طرف بڑھادیا۔
”میرا طلاق نامہ چھ سال سے لکھا رکھا ہے....بس تاریخ اور دستخط کی ضرورت ہے....“
نانا میاں نے لفافہ لینے کو ہاتھ بڑھایا،مگر میاں صاحب نے روک دیا۔
”ایسے نہیں.....سب کو پڑھ کر سنائیے کہ طلاق نامے میں کیالکھا ہے۔“
اسلم میاں نے لفافے سے کاغذنکالا اور کھڑے ہو گئے۔”میں اسلم علی ولد آصف علی اپنی منکوحہ رشیدہ بیگم بنت جناب محمود علی صاحب کو.....“
اچانک کمرے کا پردہ ہٹا،رشیدہ بی نے چیل کی طرح جھپٹ کر اسلم میاں کے ہاتھ سے کاغذچھین لیااور چیخ کربولیں۔
”مجھے یہ طلاق نہیں چاہیے۔“
وہاں جتنے منہ تھے سب کھلے رہ گئے۔محمود میاں کھڑے ہو گئے،”اس گھر کی بیٹیاں اس طرح مردوںکے سامنے نہیں آیا کرتیں۔خود کوسنبھالو رشیدہ....یہ وقت جذباتی ہونے کانہیں ہے.....طلاق نامہ واپس کرو۔“
مگر رشیدہ بی اسی طرح کھڑی رہیں۔نانا میاں نے اِشارے سے میاں صاحب کوروکا،کھنکار کے گلا صاف کیا پھر کانپتی ہوئی آواز میں بولے،”بیٹی !تم بہادرہو......اتنے برس تکلیف اٹھائی مگر زبان نہیں کھولی کہ بدنامی ہوگی لیکن اب تو سب کو اصلیت معلوم ہو چکی ہے اب شرم کرنے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
رشیدہ بی چپ چاپ نانا میاں کو دیکھتی رہیں۔اسلم میاں نے بڑی مشکل سے کہا، ”رشیدہ.....میں“
مگر رشیدہ بی نے بات ٹال دِی،”مجھے طلاق نہیں چاہیے۔“
لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔اُنہوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ کوئی لڑکی اتنی پاگل ہو سکتی ہے۔چھوٹے خالو سب سے زیادہ پڑھے لکھے تھے۔کالج میں پڑھاتے تھے اور شاعر بھی تھے،اُنہوں نے اونچی آواز میں کہا،”اگر تم سمجھتی ہو کہ تمہیں کوئی دوسرانہیں ملے گا توغلط سمجھتی ہو۔تمہیں توایک سے ایک اچھا لڑکا مل سکتاہے .... “رشیدہ بی نے کوئی جواب نہیں دیا۔نانا میاں کچھ سنبھل کر بیٹھ گئے۔
”جس عورت کو زندگی کا سب سے بڑا سکھ نہ ملے تو کبھی خوش نہیں رہ سکتی ،ضدچھوڑو،کاغذاِدھر لاو ¿۔“
رشیدہ بی نے اپنی انگارہ سی آنکھیں نانا میاں کی آنکھوں میں ڈال دیں اورپھر سَراُٹھاکے بولیں،”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ مجھے ایک سے ایک اچھالڑکا مل جائے گا۔زِندگی کا بڑا سکھ بھی مل جائے گا مگر کیا وہ خوشی،وہ محبت،وہ عزت بھی مل سکے گی جو اسلم نے مجھے دی ہے۔“
تھوڑی دیر کے لیے توسبھی کی بولتی بند ہوگئی،مگرنانا میاں تلملاگئے،”یہ ایک ادھورا رشتہ ہے رشیدہ بیٹی....تم کب تک نبھاو ¿گی......؟“
خالو میاں نے زور سے سرہلایا اورکہا : ”اجی یہ توکوئی رشتہ ہی نہیں ہے۔شادی کے بعدمیاں بیوی ایک ہو جاتے ہیں ،مگر یہاں تو ایک ہو ہی نہیں سکتے،جیسے دھوپ چھاو ¿ں کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔
رشیدہ بی ایک سیکنڈنہیں ر ±کیں،تڑسے جواب دیا،”دھوپ چھاو ¿ں کبھی ایک نہیں ہو سکتے خالو میاں،مگر پھر بھی ان کا ایک رشتہ ہوتاہے.....دونوں کا وجود ایک دوسرے کے دَم سے ہوتاہے....وہ ایک نہیں ہوتے پھر بھی ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔
میں اسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں اور رہوں گی مجھے نہ طلاق چاہیے.....نہ دوسرا مرد اور نہ آپ کی صلاح....“یہ کہتے کہتے انہوں نے طلاق نامے کے پ ±رزے پ ±رزے کیے اور ہوا میں ا ±ڑا کے اندرچلی گئیں۔
اے بی بی میں سوچتی ہوں تو سوچتی ہی رہ جاتی ہوں، جانے کس مٹی کی بنی ہوئی تھیں رشیدہ بی۔ہر وقت اسلم میاں کے ساتھ واری نثار ہوتی رہتی تھیں اوراسلم میاں بھی قدموں تلے پلکیں بچھاتے تھے۔ایسی محبت میں نے توکہیں نہیں دیکھی۔دونوں کا ساتھ بہت لمبا رہا کوئی اٹھائیس برس کا اور دونوں نے خوب نبھائی.... واہ....واہ۔
جب اسلم میاں مرے تومیں وہیں تھی۔ڈاکٹروں نے جواب دے دیاتھا۔رشیدہ بی رات رات بھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے بیٹھی رہتی تھیں اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔اسلم میاں کے جانے کے ٹھیک گیارہ مہینے بعدرشیدہ بی بھی چلی گئیں۔
تو بی بی ایسی ہوتی تھیں ہمارے زمانے کی محبتیں،ایسے ہوا کرتے تھے چاہنے والے۔آج کل کے بچے، ناس پیٹے توجانتے ہی نہیں کہ زندگی کا سکھ جہاں ڈھونڈرہے ہیں وہاں نہیں ملتا۔وہ تودِلوں میں ملتاہے.....دلوں میں ....اسی لیے تواب نہ کوئی اسلم میاں پیدا ہوتے ہیں اور نہ رشیدہ بی.....
رہے نام اللہ کا....٭(ختم شُد)
(موضوع کی نزاکت کے پیشِ نظر
نام اور مقام تبدیل کر دِئیے گئے ہیں)
رابطہ:09821178786
ایوان غزَل:
سَمُندَر غضبناک کیوں ہوگیا
یہ محسن تھا سفاک کیوں ہوگیا
بدلیاں بڑھ کے سیلاب کیوں بن گئیں
آسماں اتنا بیباک کیوں ہوگیا
وہ بچپن کی معصومیت کیا ہوئی
ہر اِک بچہ چالاک کیوں ہوگیا
جو صدیوں سے تھا محترم وہ ہُنر
ایک لمحے میں خاشاک کیوں ہوگیا
خوش آغاز، قصّہ لگا تھا مجھے
فسانہ المناک کیوں ہوگیا
وہ نورُ ¾ علیٰ نور سَر تا قدم
فلک تھا تہِ خاک کیوں ہوگیا
محبت تو پیغمبری تھی ضمیر!
یہ جذبہ بھی ناپاک کیوں ہوگیا
٭ ضمیر کاظمی(میرا روڈ)
رابطہ: 09768818688
(ممبئی کے نام)
آسماں چھونے کی ہر تدبیر ہے اس شہر میں
خواب جو بھی ہوں ترے ،تعبیر ہے اس شہر میں
دے بلندی فکر کو از خود ہی ہوگا معجزہ
ہر سکندر کے لیے تقدیر ہے اس شہر میں
شب کے صحرا سے گزرنے کا ہے جس میں حوصلہ
اُس مسافر کے لیے تنویر ہے اس شہر میں
ہو کوئی موسم نہیں بدلا یہاں رنگِ حیات
گامزن ہر لمحہ ہر رہ گیر ہے اس شہر میں
ہر خوشی بکتی ہے دولت کے ترازو میں یہاں
یہ بھی اِک سچ ہے کہ پیسہ پیر ہے اس شہر میں
لوگ فٹ پاتھوں کے بھی بھوکے کبھی سوتے نہیں
خیر و برکت کی عجب تصویر ہے اس شہر میں
دَرحقیقت ممبئی جادو کی نگری ہے مراق
کل جو تھا تنکا وہ اب شہتیر ہے اس شہر میں
٭مِراق مرزا(ممبئی)
رابطہ:09821844069
غریبی اِس طرح مجبور ہو کر دَر بدلتی ہے
سیاست جس طرح موقع بَہ موقع گھر بدلتی ہے
جو آئے ہیں تماشہ دیکھنے ا ±ن کو یہ بتلا دو
اِدھر پلکیں جھپکتی ہیں اُدھر پِکچر بدلتی ہے
نظرآئے تو آئے کس طرح نابینا لوگوں کو
ضرورت کس ہُنر مندی سے پسِ منظر بدلتی ہے
ا ±سے جب ہوش آتاہے تو اپنی حد میں رہتاہے
مزاج ا ±س کا مگر انگور کی د ±ختر بدلتی ہے
حدِ اِدراک سے آگے ہمیں اب سوچنا ہوگا
غزل منظر بہ منظر اپنا پس منظر بدلتی ہے
زُبیر ا ±س کی محبّت معتبر ہرگز نہیں ہوگی
جب ا ±س کی تشنگی ہر دن نیا ساغر بدلتی ہے
٭زبیرگورکھپوری(ممبئی)
رابطہ:09702582559
تعارف کا مِرے سامان ٹھہرا
مِرا لہجہ مری پہچان ٹھہرا
مچائی شہر مےں جس نے قےامت
مِری آنکھوں مےں وہ طوفان ٹھہرا
کہانی ختم ہونے آگئی ہے
مَیں تھوڑی دےر کا مہمان ٹھہرا
ہماری سوچ اُلٹی ہوگئی ہے
جو مشکل تھا وہی آسان ٹھہرا
ذکی سے ہوگےا جرمِ محبت
مگر انجام سے انجان ٹھہرا
٭گلزار ذکی(بھیونڈی)
رابطہ: 09527709712
--
NadeemSiddiqui