Groups
Groups
Sign in
Groups
Groups
بزمِ قلم
Conversations
About
Send feedback
Help
مسدس حالی۔ موجودہ علمائے سو کا طرزِ عمل
153 views
Skip to first unread message
aapka Mukhlis
unread,
Sep 2, 2012, 2:08:48 PM
9/2/12
Reply to author
Sign in to reply to author
Forward
Sign in to forward
Delete
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to bazm qalam
مسدس حالی
مولانا الطاف حسین حالی
موجودہ علمائے سُو کا طرزِ عمل
یہ پہلا سبق تھا کتاب ہُداٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا کا
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
عمل جن کا ہے اس کلامِ متیں پر
وہ سر سبز ہیں آج روئے زمیں پر
تفوق ہے ان کو کہین و مہیں پر
مدار آدمیت کا ہے اب انہیں پر
شریعت کے جو ہم نے پیمان توڑے
وہ لے جا کے سب اہلِ مغرب نے جوڑے
سمجھتے ہیں گمراہ جن کو مسلمان
نہیں جن کو عقبیٰ میں امیدِ غفراں
نہ حصہ میں فردوس جن کے نہ رضواں
نہ تقدیر میں حور جن کے نہ غلماں
پس از مرگ دوزخ ٹھکانا ہے جن کا
حمیم آب و زقوم کھانا ہے جن کا
وہ ملک اور ملت پہ اپنی فدا ہیں
سب آپس میں ایک اک کے حاجت روا ہیں
اولوالعلم ہیں ان میں یا اغنیا ہیں
طلب گار بہبود خلقِ خدا ہیں
یہ تمغا تھا گویا کہ حصہ انہیں کا
کہ حب الوطن ہے نشان مومنیں کا
امیروں کی دولت غریبوں کی ہمت
ادیبوں کی انشا حکیموں کی حکمت
فصیحوں کے خطبے شجاعوں کی جرأت
سپاہی کے ہتھیار شاہوں کی طاقت
دلوں کی امیدیں امنگوں کی خوشیاں
سب اہلِ وطن اور وطن پر ہیں قرباں
عروج ان کا جو تم عیاں دیکھتے ہو
جہاں میں انہیں کامراں دیکھتے ہو
مطیع ان کا سارا جہاں دیکھتے ہو
انہیں بر تر از آسماں دیکھتے ہو
یہ ثمرے ہیں ان کی جوانمردیوں کے
نتیجے ہیں آپس کی ہمدردیوں کے
غنی ہم میں ہیں جو کہ اربابِ ہمت
مسلم ہے عالم میں جن کی سخاوت
اگر ہے مشائخ سے ان کو عقیدت
تو ہے پیرزادوں پہ وقف ان کی دولت
نکمے ہیں دن رات واں عیش کرتے
پہ نوکر ہیں جتنے وہ بھوکے ہیں مرتے
عمل واعظوں کے اگر قول پر ہے
تو بخشش کی امید بے صرفِ زر ہے
نماز اور روزہ کی عادت اگر ہے
تو روزِ حساب ان کو پھر کس کا ڈر ہے
اگر شہر میں کوئی مسجد بنا دی
تو فردوس میں نیو اپنی جمادی
عمارت کی بنیاد ایسی اٹھانی
نہ نکلے کہیں ملک میں جس کا ثانی
تماشوں میں ثروت بڑوں کی اڑانی
نمائش میں دولت خدا کی
لُٹانی
چھٹی بیاہ مین کرنے لاکھوں کے ساماں
یہ ہیں ان کی خوشیاں یہ ہیں انکے ارماں
مگر دینِ بر حق کا بوسیدہ ایواں
تزلزل مین مدت سے ہیں جس کے ارکاں
زمانہ میں ہے جو کوئی دن کا مہماں
نہ پائیں گے ڈھونڈا جسے پھر مسلماں
عزیزوں نے اس سے توجہ اٹھا لی
عمارت کا ہے اس کی اللہ والی
پڑی ہیں سب اجڑی ہوئی خانقاہیں
وہ درویش و سلطاں کی امید گاہیں
کھیلیں تھیں جہاں علمِ باطن کی راہیں
فرشتوں کی پڑتی تھیں جن پر نگاہیں
کہاں ہیں وہ جذبِ الٰہی کے پھندے
کہاں ہیں وہ اللہ کے پاک بندے
وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں
وہ اخبار دیں کے مبصر کدھر ہیں
اصولی کدھر ہیں ، مناظر کدھر ہیں
محدث کہاں ہیں ، مفسر کدھر ہیں
وہ مجلس جو کل سر بسر تھی چراغاں
چراغ اب کہیں ٹمٹماتا نہیں واں
مدارس وہ تعلیم دیں کے کہاں ہیں
مراحل وہ علم و یقیں کے کہاں ہیں
وہ ارکان شرعِ متیں کے کہاں ہیں
وہ وارث رسول امیں کے کہاں ہیں
رہا کوئی امت کا ملجا نہ ماویٰ
نہ قاضی نہ مفتی نہ صوفی نہ مُلّا
کہاں ہیں وہ دینی کتابوں کے دفتر
کہاں ہیں وہ علمِ الٰہی کے منظر
چلی ایسی اس بزم میں بادِ صرصر
بجھیں مشعلیں نورِ حق کی سراسر
رہا کوئی ساماں نہ مجلس میں باقی
صراحی نہ طنبور، مطرب نہ ساقی
بہت لوگ بن کے ہوا خواہِ امت
سفیہوں سے منوا کے اپنی فضیلت
سدا گاؤں در گاؤں نوبت بہ نوبت
پڑے پھرتے ہیں کرتے تحصیلِ دولت
یہ ٹھہرے ہیں اسلام کے رہنما اب
لقب ان کا ہے وارثِ انبیا اب
بہت لوگ پیروں کی اولاد بن کر
نہیں ذات والا میں کچھ جن کے جوہر
بڑا فخر ہے جن کو لے دے کے اس پر
کہ تھے ان کے اسلاف مقبولِ داور
کرشمے ہیں جا جا کے جھوٹے دکھاتے
مریدوں کو ہیں لوٹتے اور کھاتے
یہ ہیں جادہ پیمائے راہِ طریقت
مقام ان کا ہے ماورائے شریعت
انہیں پر ہے ختم آج کشف و کرامت
انہیں کے ہے قبضہ میں بندوں کی قسمت
یہی ہیں مراد اور یہی ہیں مرید اب
یہی ہیں جنید اور یہی با یزید اب
بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی
جگر جس سے شق ہوں وہ تحریر کرنی
گنہگار بندوں کی تحقیر کرنی
مسلمان بھائی کی تکفیر کرنی
یہ ہے عالموں کا ہمارے طریقہ
یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ
کوئی مسئلہ پوچھنے ان سے جائے
تو گردن پہ بارِ گراں لے کے آئے
اگر بد نصیبی سے شک اس میں لائے
تو قطعی خطاب اہلِ دوزخ کا پائے
اگر اعتراض اس کی نکلا زباں سے
تو آنا سلامت ہے دشوار واں سے
کبھی وہ گلے کی رگیں ہیں پھلاتے
کبھی جھاگ پر جھاگ ہیں منہ پہ لاتے
کبھی خوک اور سگ ہیں اس کو بتاتے
کبھی مارنے کو عصا ہیں اٹھاتے
ستوں چشمِ بد دور ہیں آپ دیں کے
نمونہ ہیں خلقِ رسول امیں
کے
جو چاہے کہ خوش ان سے مل کر ہو انساں
تو ہے شرط وہ قوم کا ہو مسلماں
نشاں سجدہ کا ہو جبیں پر نمایاں
تشرع میں اس کے نہ ہو کوئی نقصاں
لبیں بڑھ رہی ہوں نہ ڈاڑھی چڑھی ہو
ازار اپنی حد سے نہ آگے بڑھی ہو
عقائد میں حضرت کا ہم داستاں ہو
ہر اک اصل مین فرع میں ہم زباں ہو
حریفوں سے ان کے بہت بد گماں ہو
مریدوں کا ان کے بڑا مدح خواں ہو
نہیں ہے گر ایسا تو مردود دیں ہے
بزرگوں سے ملنے کے قابل نہیں ہے
شریعت کے احکام تھے وہ گوارا
کہ شیدا تھے ان پر یہود و نصاریٰ
گواہ ان کی نرمی کا قرآن ہے سارا
خود اَلدّینُ یُسر نبی نے پکارا
مگر یاں کیا ایسا دشوار ان کو
کہ مومن سمجھنے لگے بار ان کو
نہ کی ان کی اخلاق میں رہنمائی
نہ باطن میں کی ان کے پیدا صفائی
پہ احکام ظاہر کے لے یہ بڑھائی
کہ ہوتی نہیں ان سے دم بھر رہائی
وہ دیں جو کہ چشمہ تھا خلقِ نکو کا
کیا قلتیں اس کو غسل و وضو کا
سدا اہلِ تحقیق سے دل میں بل ہے
حدیثوں پہ چلنے میں دیں کا خلل ہے
فتاووں پہ بالکل مدارِ عمل ہے
ہر اک رائے قرآں کا نعم البدل ہے
کتاب اور سنت کا ہے نام باقی
خدا اور نبی سے نہیں کام باقی
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages