پروفیسر محسن عثمانی ندوی صاحب کی
فضائل اخلاق و خدمت خلق،،
فتح محمد ندوی
اس وقت زیر مطالعہ کتاب فضائل اخلاق و خدمت خلق ہے۔ اس کتاب کے مصنف عالم اسلام کے عظیم مفکر اور دانشور سابق پروفیسر محسن عثمانی ندوی مدظلہ العالی ہیں۔ موصوف اپنی علمی۔ تصنیفی۔ اصلا حی۔ سماجی اور دعوت اسلامی وغیرہ خدمات کے حوالے سے دنیاۓ اسلام میں ایک منفرد اور امتیازی شان رکھتے ہیں۔ خدا نے آپ کو جہاں بے شمار علمی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ وہیں آپ کی طبیعت میں ملت کے حوالے سے جو درد مندی اور بے قراری رکھی ہے۔ وہ آپ کے ساتھ خاص خدا کا انعام اور اعزاز ہے۔
برادران وطن کی اسی فکر مندی کا اظہار اور احساس آپ کی تصنیفات میں خوب دیکھنے کو ملتا ہے۔ لاریب یہ کتاب بھی مصنف کے اندرون سوزدروں کا ایک ایسا اظہار ہے جو کسی بھی حساس طبیعت کو نہ صرف جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے بلکہ حرکت حیات میں نیا جوش بھر دیتا ہے۔ اس کتاب کو مرشد ملت حضرت مولاناسید رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کے افتتاحی کلمات اور اسی طرح اس کے پیش لفظ کو عظیم اسلامی اسکالر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے پیش لفظ سے حسن کا پیکر بنایا۔ یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب انفرادی زندگی میں تعمیر شخصیت کے لیے اوصاف و اخلاق۔ دوسرے میں۔ اجتماعی زندگی کی ذمہ داریاں اور معاشرتی اخلاق۔۔تیسرا باب میں اخلاق فاضلہ قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ چوتھا باب میں رذائل اخلاق قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ پانچواں باب۔ گلشن اخلاق نبوی ﷺ کے چند پھول۔ بہر حال یہ کتاب ا مت مسلمہ پر ایک پرانے قرض کی ادائیگی کا خوبصورت تحفہ ہے جس کو مصنف کتاب پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے ادا کیا ہے۔ ہوا یہ تھا کہ ایک مرتبہ مصنف کتاب سے تبلیغی تحریک کے عظیم مصلح اور مفکر حضرت مولانا عبید اللہ بلیاوی نے فرمایا تھا کہ ہمارے پاس فضائل اعمال کے نام سے تو بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ لیکن فضائل اخلاق کے نام سے کوئی خاطر خواہ کتاب نہیں ہے اسی تکمیل کا یہ خوبصورت تحفہ اور اعتراف ہے۔ جو عالم اسلام کے مایہ ناز فرزند اور کاروان ابوالحسن علی ندوی کے ناز آفریں شاگرد ڈاکٹر محسن ندوی کے فکر انگیز اور عالمانہ ذوق جمال و جمال کے حامل قلم گہر سے منصہ شہود پر آئی۔ اس سے پہلے مصنف کی پچاس سے زائد کتابیں اہل و فضل کمال سے داد تحسین حاصل کرچکی ہیں۔تاہم مصنف اس کتاب کے حوالے سے یہ کہ میری تمام کتابوں میں یہ کتاب اپنے مضمون اور فکر و خیال کی پختگی اور نبض شناسی کے اعتبار سے حسین مرقع اور نقش بدیع ہے۔ یہ کتاب اس وقت ہندوستان کے حالات کے پیش نظر ملت کے ہر فرد کے لیے ناگزیر ہے۔خصوصا وہ لوگ جو داعیانہ مزاج کے حامل ہیں اور وہ یہاں کے ماحول میں دعوت دین کا فریضہ ادا کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ خاص تحفہ اور نعمت ہے۔ اس کتاب کی مزید اہمیت اور محبویت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی دیگر زبانوں میں اس کے ترجمے ہو رہیں ابھی اہل ترکی نے اس کا ترکی زبان میں ترجمہ کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔کچھ احباب ہندی میں اس کا ترجمہ کرنے لیے کوشاں ہیں۔