محمد دیپک یعنی ’نمستے علیکم ،علیکم نمستے‘

1 view
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Feb 5, 2026, 10:03:52 AM (yesterday) Feb 5
to bazme qalam
محمد دیپک یعنی ’نمستے علیکم ،علیکم نمستے‘
پسِ آئینہ: سہیل انجم
مولانا ظفر علی خاں ایک سرگرم مجاہد آزادی، شعلہ بیان مقرر اور بیباک صحافی تھے۔ ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے جون 1903 میں لاہور سے اخبار ’زمیندار‘ جاری کیا۔ دسمبر 1909 میں ان کے انتقال کے بعد مولانا ظفر علی خاں نے زمیندار کی ادارت سنبھالی۔ اکتوبر1911 میں زمیندار روزنامہ ہو گیا۔ تازہ خبروں اور مولانا کے پرجوش اداریوں اور نظموں کی اشاعت نے اخبار کو عوام میں انتہائی مقبول بنا دیا۔ مولانا ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے حامی رہے۔ انھوں نے خلافت تحریک میں بھی حصہ لیا۔ بعد ازاں وہ مسلمانوں کے علاحدہ تشخص پر زور دینے لگے۔ تاہم انھوں نے یکجہتی کو تقویت فراہم کرنے کے لیے دونوں مذاہب کی روایات کی آمیزش سے ایک نعرہ ایجاد کیا تھا جو کہ ان کی ایک نظم میں موجود ہے۔ البتہ نظم کے آخری اشعار میں وہ مسلم تشخص پر زور دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اسی نظم میں یہ سلوگن ’نمستے علیکم علیکم نمستے‘ موجود ہے۔ یعنی اگر کوئی ہندو کسی مسلمان کو نمستے کرنا چاہے تو کہے ’نمستے علیکم‘۔ اس کے جواب میں مسلمان کہے ’علیکم نمستے‘۔ قطع نظر اس کے کہ کسی کو نمستے کرنا اسلامی روایات کے مطابق درست ہے یا نہیں یہ نعرہ ایک خوشگوار فضا قائم کرنے کے مقصد سے ایجاد کیا گیا تھا۔ جو کہ فرقہ واریت کی نفی اور ثقافتی یکجہتی کو اختیار کیے جانے کے بارے میں تھا۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جنگ آزادی کے دور کے دو مقبول نعرے ’جے ہند‘ اور ’انقلاب زندہ باد‘ بھی مسلمانوں کے ایجاد کردہ تھے۔ اول الذکر نعرہ ایجاد کرنے والے شخص کا نام زین العابدین حسن تھا جنھیں عرف عام میں عابد حسن صفرانی کہا جاتا تھا۔ اسے سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کے لیے تخلیق کیا گیا اور اس فوج کے توسط سے ہی اسے شہرت حاصل ہوئی۔ثانی الذکر نعرہ مجاہد آزادی اور صحافی مولانا حسرت موہانی نے ایجاد کیا تھا جو بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے بہت مقبول ہوا تھا۔ اس کی مقبولیت اب بھی بام عروج پر ہے۔ کوئی بھی تحریک اٹھے یہی نعرہ فضاو ¿ں میں گونجتا ہے۔ ان تفصیلات کو پیش کرنے کا مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ ہندوستان کی طاقت ہندو مسلم اتحاد میں ہے۔ یہ اتحاد پارہ پارہ ہو گیا تو ہندوستان کمزور ہو جائے گا۔
یہ باتیں اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں پیش آنے والے اس واقعے کے پس منظر میں یاد آئیں جو کہ اس وقت قومی و عالمی میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔ اس کہانی کے کئی کردار ہیں۔ ایک کردار ’بابا اسکول ڈریس‘ کے مالک احمد وکیل ہیں تو دوسرا بجرنگ دل ہے۔ بجرنگ دل دراصل کہانی کا ویلن ہے۔ کہانی کا ہیرو دیپک کمار ہے جس نے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے کے لیے اپنا نام محمد دیپک بتایا۔ حالانکہ وہ کہہ سکتا تھا کہ میرا نام دیپک کمار ہے لیکن اس نام سے وہ پیغام نہیں جاتا جو محمد دیپک سے گیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نفرت کی تاریکی خواہ کتنی ہی گھنگھور کیوں نہ ہو جائے محبت کی کرن اسی طرح چمک اٹھتی ہے جس طرح طوفان باد و باراں کے درمیان بجلی چمک جاتی ہے۔ محمد دیپک صرف ایک نام نہیں بلکہ فرقہ وارانہ میل ملاپ اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہے۔ اس ملک کا ایک طبقہ اسی علامت کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ یہ لوگ محبت کے نہیں نفرت کے سوداگر ہیں۔ انھوں نے نفرت انگیزی کی آگ کئی ریاستوں میں لگا رکھی ہے۔ یہ سوال زیادہ پیچیدہ نہیں ہے کہ لفظ بابا کس زبان سے اخذ کیا گیا ہے۔ البتہ اس سوال کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ کیا کسی کو اپنا نام بدلنے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی نفرت کی بنیاد پر۔ ہندوستان کا آئین تو یہ نہیں کہتا کہ کس مذہب کے پیروکار اپنا کون سا نام رکھیں گے اور کس مذہب کے کون سا۔ ملک کے بعض علاقوںمیں دیکھ لیجیے۔ وہ مسلمان جن کے آباواجداد کئی نسل قبل مسلمان ہوئے تھے وہ آج بھی اپنے نام کے ساتھ ہندو نام کی نسبت اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جیسے کہ کنور، چوہان، تیاگی وغیرہ۔ ویسے ریختہ ڈکشنری کے مطابق لفظ بابا کی اصل فارسی ہے۔ بابا باپ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بہت سے مسلمان اپنے والد کو بابا کہتے ہیں۔ ہندوستان کے بعض دیہی علاقوں میں دادا کو بابا بھی کہا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو بھی لوگ پیار سے بابا پکارتے ہیں۔ پیر بابا اور فقیر بابا بھی ہوتے ہیں۔ فقراءبھیک مانگتے وقت لفظ بابا سے ہی مخاطب کرتے ہیں۔ ان کو منع کرنے کے لیے بھی بابا کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ ’بابا معاف کرو‘۔ گویا مانگنے والے بھی بابا ہیں اور دینے والے بھی۔ نظیر اکبرآبادی نے اپنی نظموں میں لفظ بابا کا خوب استعمال کیا ہے۔ انھوں نے اسے بزرگوں اور فقیروں کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ ان کی ایک نظم کا ایک مصرع ہے: ’سب جل تھل کرکے بابا نے یہ خوب برسات دکھائی ہے‘۔ اس میں ظاہر ہے بابا حالق کائنات کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ان کی مشہور نظم روٹی نامہ میں بھی اس کا استعمال ہوا ہے:
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کس لیے
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھے نہ سورج ہی جانتے
بابا ہمیں تو سب نظر آتی ہیں روٹیاں
ایک شعر ہے:
اس بخشش کے، اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس جھکا، ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو
اس شعر میں لفظ بابا سکھ مت کے بانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ قیصر شمیم کا ایک شعر ہے:
سبز موسم سے مجھے کیا لینا
شاخ سے اپنی جدا ہوں بابا
اگر آپ فلمی نغموں میں تلاش کریں تو وہاں بھی لفظ بابا کا استعمال ملے گا۔ گویا یہ لفظ کسی خاص مذہب سے وابستہ نہیں ہے۔ لیکن بجرنگ دل والے کہتے ہیں کہ اس لفظ پر ان کا مذہبی کاپی رائٹ ہے۔ انھوں نے اس کے تمام حقوق اپنے نام کروا رکھے ہیں۔ آج اردو اور فارسی کے بے شمار الفاظ ہماری روزمرہ بول چال میں اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ ان کی مذہبی یا لسانی شناخت ختم ہو گئی ہے۔ کیا بجرنگ دل والے اب ان الفاظ کو جن کو وہ خود بھی بولتے ہیں اپنی اور معاشرے کی بول چال سے خارج کرنے کی بھی مہم چلائیں گے۔
آفریں ہے دیپک کمار کو جو اپنی ورزش گاہ (جم) کے باہر بجرنگ دل کے ہنگامے کے باوجود خوف زدہ نہیں ہیں۔ انھوں نے فرقہ وارانہ میل محبت کی جو شمع جلا رکھی ہے اس کو وہ بجھنے دینا نہیں چاہتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کو صرف اہل و عیال کے تحفظ کی فکر ہے ورنہ وہ ان عناصر سے نہیں ڈرتے۔ مذہب کے نام پر جہاں بھی نفرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ وہاں پہنچ کر محبت کے دیپ جلانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ: وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں۔ لیکن ’قربان‘ جائیے مقامی پولیس کے کہ اس نے جہاں بجرنگ دل کے ہنگامے پر نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کی وہیں دیپک کمار اور ان کے ساتھی وجے راوت کے خلاف نامزد رپورٹ درج کر لی ہے۔ کیا دیپک کمار کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنے نام کی طرح چاروں طرف محبت کا اجالا پھیلانا چاہتے ہیں۔ ارباب اقتدار و اختیار کو چاہیے کہ وہ اگر اس ملک کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو نفرت کے اس طوفان پر فی الفور بند باندھیں ورنہ یہ طوفان ملک کے امن و امان کو خس و خاشاک کی مانند بہا لے جائے گا۔ اب آخر میں مولانا ظفر علی خاں کے وہ اشعار بلا تبصرہ پیش ہیں:
سنا ہے کہ ایک آگرہ کا مسافر
اٹھائے ہوئے سر پہ ویدوں کے بستے
عراق ِ عرب میں پہنچ کر پکارا
نمستے علیکم علیکم نمستے
کبھی بھاو مہنگا تھا ہندو دھرم کا
ہیں لیکن اب اس جنس کے دام سستے
اگر دھوتیاں باندھ لیتے مسلماں
نہ یوں ان پر اینٹ اور پتھر برستے
9818195929


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages