تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے !(نذر غالب)زبیر حسن شیخ
ماہ دسمبر میں مرزا غالب کے یوم ولادت کے موقع پر تبصرہ و تنقید کا سلسلہ جاری ہوا چاہتا ہے- راقم الحروف نے ذیل میں غالب کے ساتھ ساتھ ماہرین غالبیات پر، مکاتیب غالب اور دیوان غالب کے مختلف نسخوں پر اپنا تحقیقی مطالعہ پیش کیا ہے، اور ان پہلووں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے جو شاید اب تک منظر عام پر نہیں آئے- مرزا پر قلم اٹھانے سے پہلے تنقید نگاری پر تصفیہ کرتے چلیں کہ عموماً تنقید کو عیب جوئی کے معنی میں لیا جاتا ہے، جبکہ عالمی ادب میں تنقید کی تعریف میں جانچنا پرکھنا اور نقائص و محاسن کا تجزیہ کرنا شامل ہے- فن تنقید نگاری ایک مشکل اور قابل تحسین فن ہے- لیکن اکثر تنقید نگار ظاہر پر تکیہ کر لیتے ہیں اورجو کچھ پنہاں ہوتا ہے اسے اس طرح نظر انداز کر دیتے ہیں کہ بقول شاعر : کم نظر بیتابئ جانم ندید- آشکارم دید و پنہانم ندید-
عالمی ادب میں مرزا غالب کی عظمت انکے ادبی تخلیقی کارہائے نمایاں سے کہیں زیادہ اس بات میں مضمر ہے کہ مرزا اپنے علم و فن اور حکمت سے کئی کامیاب شعراء و ادبا پیدا کرنے کا باعث ہوئے- راقم الحروف نے “لنکڈ اِن” پر اپنے حالیہ انگریزی مضمون میں موجودہ دور کے تین کامیاب عالمی شہرت یافتہ تجارت پیشہ حضرات پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا ہے کہ عظیم الشان کامیابی صرف دولت و شہرت کے حصول میں نہیں، نہ ہی صرف سخاوت میں ہے بلکہ اپنے شاگردوں میں سے کم از کم ایک دو اپنے جیسی کامیاب شخصیات اس دنیا کو دے کر جانے میں ہے, جو اربوں روپوں کی سخاوت سے بدرجہ افضل ہے-
گرچہ تاریخ میں غالب کا شمار بطور ایک مصلح نہیں کیا گیا اور بقول متفنین ومحققین مرزا اپنے افکار و عمل سے کوئی عظیم الشان فلاحی کام انجام نہ دے سکے- لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے علم و فن کے میدان میں وہ ہمالہ ثابت ہوئے، اور تدریس و تربیت سے کم از کم ایک ایسا شاگرد مولانا الطاف حسین حالی کی صورت دنیا کو دینے میں کامیاب رہے جو نہ کہ صرف اپنے استاد کی صحبت کے فیض اور انکے علم و فن کی عظمت کے شاہد ہوئے بلکہ ایک فرشتہ صفت اور بے لوث مصلح قوم بھی ثابت ہوئے- اور یہ غالب کے اندر پوشیدہ تخلیقی سوچ رکھنے والے ایک اچھے استاد کی موجودگی کا ثبوت ہے، جس کا اظہار حالی نے اپنی تصانیف میں مختلف انداز میں کیا ہے- حالی نے “تحقیقی و تنقیدی جائزے “ میں نواب مصطفی خان شیفتہ کا قول نقل کیا ہے کہ انہیں مرزا سے عقیدت انکے فضل و کمال کی بنا پر تھی نہ کہ زہد و تقوی کی بنا پر- اور اپنی معرکہ الآرا تصنیف “یادگار غالب “ میں حالی نے جہاں مرزا کی ستائیش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو مرزا پر تنقید بھی خوب کی اور فرمایا کہ مرزا کے ابتدائی اشعار ایسے ہوتے تھے کہ ان میں سے ایک لفظ بدل دیا جائے تو سارا شعر اردو کے بجائے فارسی زبان کا ہو جائے- تمام تنقید و ستائیش و تنازعات کے باوجود غالب کی شاعری اور انکی شخصیت میں کچھ ایسا تھا جو اگر تعمیری نہ تھا تو وہ کیا تھا جس نے دنیائے علم و ادب میں غالب کو غلبہ دیا، اور مقام حیرت ہے کہ لاکھوں عالم و فاضل مداحوں میں علامہ اقبال جیسی بے مثال تاریخی شخصیت کو بھی اپنا معتقد بنایا !
موضوع کی مطابقت سے غالب کی متنازعہ شخصیت پر بھی کچھ خامہ فرسائی کرتے چلیں کہ تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے- جہاں تک غالب کی سماجی حیثیت کی بات کریں تو مختلف دور میں عروج و زوال کا شکار رہی، اور انکی شخصیت اپنے دور کی زوال پذیر تہذیب سے زیادہ متاثر رہی، جو غالب جیسے کسی بھی حساس شاعر کو مختلف نفسیاتی مسائل میں گرفتار کرنے کے لئے کافی تھی- غالب کے ذاتی اور گھریلو حالات کے متعلق انکے اپنے خطوط ہی کافی ہیں جو مرزا نے مختلف اوقات میں اپنے احباب کو لکھے تھے- ایک خط کے متن سے مرزا پر چھائی قنوطیت، شکوہ سنجی، شدید رنج و الم اور نا امیدی کا اظہار ہوتا ہے- لکھتے ہیں “ کچھ بن نہیں آتی - اپنا آپ تماشائی بن گیا ہوں، رنج و ذلت سے خوش ہوتا ہوں ...... بہت اتراتا تھا کہ میں بڑا شاعر اور فارسی داں ہوں ..... لے اب تو قرضداروں کو جواب دے”- مرزا کو قمار بازی کے جرم میں قید کی سزا بھی ہوئی اور شراب نوشی کی لت میں ایک عرصہ تک مقروض بھی رہے لیکن ان سب کے باوجود انہیں نجم الدولہ دبیر الملک جیسے خطابات سے سرفراز کیا گیا، پھر غالب پر مصلحت پرستی اور افرنگ کی مداح سرائی کا الزام بھی عائد رہا، اور خاصکر ولیم فریزر قتل کے واقعہ میں بطور گواہ اور طرفدار بدنام ہوئے اور قوم و ملت کے معتوب بھی ٹہرے- الغرض متعدد الزامات اور تنازعات کے باوجود بھی مرزا کے دور میں کئی نواب و حکمراں، اہل اقتدار ، اہل فکر و قلم اور اہل دولت و ثروت بلا امتیاز رنگ و نسل و عقائد، غالب کی ہم نشینی اور ملاقات کو شرف عزت و اعزاز مانتے رہے-
غالب کی شخصیت کے منفی نفسیاتی پہلووں کی بات کریں تو چند ناقدین اور محققین نے انکے اشعار سے یہ اخذ کیا کہ وہ شدید قسم کے پیچیدہ نفسیاتی امراض کا شکار تھے اور مساکیت، سادیت یا جنسیت جیسے نفسیاتی مسائل سے دو چار تھے - نفسیاتی مسائل سے ہر انسان اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی دو چار ضرور ہوتا ہے، اور مرزا لاکھ انوکھے ہونے کے باوجود تھے تو ایک انسان ہی- غالب کی شخصیت کے منفی پہلووں پر یوں تو انکے دور میں ہی تنقیدیں کی گئی تھیں لیکن ایک دہائی قبل ڈاکٹر ضیاء الدین نے “غالب کی ایذا پسندی” لکھی، جسے بعد کے محققین اور ناقدین نے اپنے مضمامین میں شامل کیا- ۲۰۱۰ جولائی کے غالب نامہ میں محمد ساجد خان نے اپنے مضمون “ کلام غالب میں اذیت پسندی “ کے تحت ایک پر مغز مقالہ پیش کیا اور غالب کی نفسیات پر جدید انسانی نفسیاتی تحقیق کے تحت خوب بحث کی اور مستند حوالے بھی دئے اور مرزا پر تنقید کی- مرزا کی شاعری نے جہاں انہیں ایک کامیاب تاریخی ادبی شخصیت بنایا ونہیں انکے اندر پوشیدہ نیک دل درد مند انسان کو ادبی صفحات پر کبھی ابھرنے نہیں دیا جو انکے مکاتیب میں جا بجا نظر آتا ہے - مرزا اپنے کلام میں لاکھ منکرات کی تبلیغ کرتے نظر آئے ہوں لیکن اپنے مکاتیب میں نیکی کی تلقین کرتے بھی دکھائی دئے، اور متقی پرہیز گار نہ سہی لیکن ایک با ایمان اور خدا شناس انسان نظر آئے - مرزا کے ایک خط کا متن جو میر مہدی مجروح کے نام لکھا تھا اس بات کی شہادت کے لئے کافی ہے۔ لکھتے ہیں: “ میر مہدی تم میرے عادات کو بھول گئے- ماہ مبارک رمضان میں کبھی مسجد جامع کی تراویح ناغہ ہوئی ہے؟ ...... حامد علی خاں کی مسجد میں جا کر مولوی جعفر علی سے قرآن سنتا ہوں-..... کبھی جو جی میں آتی ہے تو وقت صوم مہتاب باغ میں جا کر روزہ کھولتا ہوں”- اسکے بر عکس ایک خط میں انکے مسجد کی سیڑھیوں سے واپس لوٹنے کا تذکرہ بھی ملتا ہے- اسکے علاوہ مختلف مکاتیب سے مرزا کے مروجہ بدعات میں ملوث ہونے کا سراغ بھی ملتا ہے-
مختلف واقعات کے پیش نظر غالب تنازعات میں گھرے رہے اور شدید تنقید کا شکار رہے اور انہیں دوہری شخصیت کے علاوہ مختلف نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے کا طعنہ بھی دیا گیا - لیکن یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ غالب کے ہمہ جہت مفکر و شاعر ہونے کی شہادت اکثر محققین و ناقدین نے دی ہے اور بعید نہیں کہ غالب نے دانستہ نا دانستہ افکار و اعمال کی وہ روش اختیار کی ہو جو ابہام سے پر اور نفسیاتی مسائل سے الجھی بھلے ہو لیکن زندگی کے تمام منفی اور مثبت پہلو کا احاطہ کرتی ہو، اور اس طرح غالب نے ہر قسم کے اچھے برے، چھوٹے بڑے قاری کے قلب و دماغ تک رسائی حاصل کر اپنی تاریخی حیثیت منوائی ہو، اور ہر دور کے قاری کو اپنا گرویدہ کرنے کی شعوری یا لا شعوری سعی کی ہو، اور زیادہ سے زیادہ معتقدین و متفقین ہی نہیں بلکہ مخالفین اور ناقدین پیدا کرنے کی بھی- بھلے ہی یہ سب قیاس پر مبنی ہو، اور فی الحقیقت ایسا ہے بھی تو کوئی حیرت کی بات نہیں کہ عالمی ادب ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے، اور غالب اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوئے ہیں، اور اپنے دور اوّل کی درباری ذہنیت اور دور دوم کی غلامانہ ذہنیت کی حامل نسل پر اثر انداز ہونے کے علاوہ بعد کی ترقی پسند آزاد نسل کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کی ترقی یافتہ مادیت پسند نسل پر بھی اپنا اثر قائم رکھے ہوئے ہیں-
الغرض تحقیق سے یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ غالب کی شخصیت مختلف نفسیاتی الجھنوں کا شکار رہی اور تنقید سے بری بھی نہیں - فی الحقیقت اردو ادب میں اکثر شعراء نفسیاتی مسائل کا شکار رہے ہیں اور اس کے پیچھے مختلف وجوہات رہی ہیں- کئی شعراء شراب نوشی بلکہ شراب کی لت کے شکار رہے ہیں، اور اس کی ایک ممکنہ وجہ انکی عسرت و غربت زدہ ناکام زندگی رہی اور دوسری معاشرہ کی بے ثباتی و بے رخی اور پھر خانگی زندگی کے مسائل، یہ وہ مسائل ہیں جو شعراء کے علاوہ بھی کسی انسان کو نفسیاتی بیمار بنانے کے لئے کافی ہیں- اور پھر مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ایذا پسند اور شکوہ سنج بنا دیتے ہیں- ایسے انسانوں اور شاعروں میں واضح فرق یہ ہوتا ہے کہ شاعر اپنے ان مسائل کے طوفان کو بھلے شکست نہ دے سکتا ہو لیکن اپنے افکار و بیان کے دروازے سے نکال باہر کرتا رہتا ہے- یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ چند شعراء مذکورہ مسائل سے فرار ہونے کی خواہش اور سعی نہیں کرنا چاہتے تھے کہ انکی دانش میں بلیغ و بلند پایہ شاعری جن افکار و جذبات کی متقاضی رہی ہے وہ عموماً خوشحالی اور آسودگی میں کم اور فاقہ مستی اور تکالیف میں زیادہ آسانی سے سوچی سمجھی جاتی ہے، یا پھر افکار و وجدان میں آسانی سے سما جاتی ہے اور نسبتا بہتر نتائج دیتی ہے- چند شعراء غم دکھ درد کا اظہار معاشرے کی ترجمانی کی غرض سے بھی کرتے رہے ہیں اور پھر کبھی شہرت اور واہ واہی اور کبھی عقائد سے بغاوت کا نشہ بھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے لئے خود کو برباد کرنے میں بھی عار نہیں سمجھتے- میر و غالب سے اصغر و جگر تک مختلف ادوار میں کئی شعراء کی زندگی ان حقائق کی عکاسی کرتی ہے، جنکی زندگی عیش و عشرت اور آسودگی سے بے نیاز ضروریات زندگی کی محتاج رہی-موجودہ دور جو مادیت پرستی کا دور ہے، جس میں ہر چیز کی فراوانی ہے اور ضروریات زندگی کا حصول بے حد آسان ہوا ہے، اور شاید یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ دور کی اکثر شاعری میں میر و مرزا اور انکے معاصرین کے کلام کا سا سوز و گداز، بلاغت و معنویت، جاذبیت اور لطافت و نزاکت کا فقدان نظر آتا ہے- کچھ بعید نہیں کہ مرزا کے مذکورہ نفسیاتی مسائل اور انکی لازوال شاعری کے پس پردہ ایسی بھی کچھ وجوہات رہی ہوں- جو بھی ہو مرزا کی زندگی کے نشیب و فراز اور عروج و زوال، انکی بلا نوشی، شکوہ سنجی اور شخصیت کی تمام تر کجی بھی ان کے کمال فن کو نقصان نہیں پہنچا سکی ، اور نہ ہی انہیں ایک تاریخی شخصیت بننے سے روک سکی، اور نہ ہی ان کے جذبۂ ایمانی اور افکار روحانی کو ختم کرسکی جس کا ثبوت مرزا کے ایک خط سے ملتا ہے جو انہوں نے مرزا علاء الدین احمد خان علا ئی کو لکھا تھا کہ:
“مشرک وہ ہیں جو وجود کو واجب و ممکن میں مشترک جانتے ہیں- مشرک وہ ہیں جو مسلمہ کو نبوت میں خاتم المرسلین کا شریک گردانتے ہیں........ میں موحد خالص مومن کامل ہوں” - انکے اس بیان کی شہادت انکے اشعار بھی دیتے ہیں کہ :
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
جب جب مرزا کے کمال فن پر تحقیق و تنقید کی بات کی جائیگی تب تب ماہر غالبیات کے کمال فن کا بھی ذکر ہوگا، جو اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہے- الطاف حسین حالی،مالک رام، اکبر علی خان عرشی زادہ، کمال احمد صدیقی، آل احمد سرور، شمیم حنفی، نتالیا پری گارینا، گیان چند جین، شمس الرحمان فاروقی، سید احتشام حسین، حنیف نقوی، قاضی عبدالودود، کالی داس گپتا رضا، اسلوب انصاری،رشید احمد صدیقی، خلیق انجم، سلیم اختر، صاحبان کے علاوہ حالیہ برسوں میں کئی دیگر ناقدین و محققین نے بھی غالبیات میں عرق ریزی کی ہے-
شمیم حنفی کا کہنا ہے “جتنا ابہام غالب کے عہد کی تاریخ میں ہے اس سے زیادہ ابہام غالب کی شاعری میں ہے اور ان کے کلام کی شرح اور تعبیر و تفہیم کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے “ - اور بقول احتشام حسین “غالب نے زندگی کی بجھتی ہوئی راکھ کو کرید کر ایسی چنگاریاں نکالی جن میں جوالا مکھی کی گرمی اور روشنی دیکھی جاسکتی ہے- انکے شیریں نغمات میں ایک ایسی درد مندی کا احساس ہوتا ہے جو ایک فنا ہوتی ہوئی ثقافت ہی عطا کرسکتی ہے”- شمس الرحمان فاروقی کے مطابق غالب کلاسیکی شعرا میں واحد ہیں جن کا مطالعہ اگر خالص مغربی شعریات کی روشنی میں کیا جائے تو بھی وہ بڑی حد تک کامیاب ہوگا- غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی کے مجلہ “غالب نامہ “ میں گزرے چند برسوں میں غالب پر کئی تحقیقی و تنقیدی مضامین شائع ہوئے ہیں اور راقم الحروف نے دیگر کتابوں کے علاوہ ان سے بھی استفادہ کیا ہے-
مغلیہ سلطنت نے ہندوستان کو بہت کچھ دیا اوررشید احمد صدیقی کے مطابق ان میں اردو، تاج محل اور غالب بھی شامل ہیں- ( یہ اور بات کہ اولالذکر دونوں یادگاریں اب تعصب کی شکار ہورہی ہیں) - یوں تو غالب اردو ادب کے سب سے بڑے، مشہور و معروف اور منفرد سخن طراز مانے گئے لیکن اپنی فارسی شاعری پر وہ خود نازاں رہے جو انکے خطوط سے ثابت ہے، جبکہ ریختہ کے متعلق یہ بھی کہا کہ : جو یہ کہے ہے کہ ریختہ کیونکر ہو رشک فارسی- گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں- اردو ادب میں غالب خود ایک اعلی درجہ کے تنقید نگار اور مورخ ہونے کے باوجود اپنی شناخت بہ حیثیت مورخ اور ناقد بنانے سے قاصر رہے- بقول نصیر ترابی، غالب کی نثر نگاری سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے اور انکے خطوط انکے اشعار کے بہتر شارح - مرزا کے خطوط فی الحقیقت انکی ذاتی زندگی اور شخصیت کے بہتر عکاس رہے ہیں ناکہ انکے اکثر اشعار جن سے انکی ذاتی زندگی کا کما حقہ احاطہ کیا جاسکے، جیسا کہ چند ناقدین نے مرزا کے مختلف اشعار سے تحلیل نفسی کی سعی کی ہے ، اور مرزا کی نفسیات پر تنقید بلکہ کبھی تنقیص بھی کی ہے- یہ ضروری نہیں کہ شاعر کا شعری تخیل اور وجدان اسکی اپنی ذاتی زندگی سے ہمیشہ متاثر رہتا ہو، بلکہ اکثر و بیشتر شعراء کے افکار اپنے ماحول اور گرد و پیش کے عکاس ہوتے ہیں جنہیں وہ شعری لطافت و بلاغت کی خاطر کبھی خود سے بھی منسوب کر لیتے ہیں، اور میر و مرزا کی طرح خود کو اسی ماحول کا حصہ مانتے ہوئے خود پر تنقید کرتے ہیں، جو فی الحقیقت معاشرے پر ہوا کرتی ہے- بہت کم شعراء ایسے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی زیادہ تر شاعری میں اپنی ذاتی زندگی کے متعلق مضامین باندھے اور ان میں جون ایلیا مشہور ہیں- رشید احمد صدیقی غالب کے ان چند محققین و ناقدین میں سے ہیں جنہوں نے غالب کے افکار و بیان اور انکی شاعری پر عمیق تجزیہ کیا ہے اور ان سب کو غالب کی ذات سے نہ جوڑتے ہوئے انکے افکار میں پوشیدہ انسان سے جوڑ کر دیکھا ہے، جسے ہم غالب کے دور کے انسان سے منسوب کرسکتے ہیں- الغرض غالب کی متنازعہ شخصیت ہو یا علمیت ، معاصرین نے آنکھوں دیکھی اتنا کچھ کہا اور لکھا کہ پھر کہنے سننے کی ضرورت نہ رہی، لیکن غالب کا غلبہ عالمی ادب پر آج تک ایسا طاری ہے کہ سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا-
غالب کے کمال فن کے معترف و معتقد شعراء میں مومن و داغ سے لے کر حالی و شبلی اور فانی و اقبال تک، حسرت جوش و فراق سے فیض و فراز تک ایک طویل فہرست ہے، اور اسی طرح انکے مداحوں میں ادباء و علمائے کرام، بادشاہوں اور فقیروں کے علاوہ سیاستداں، سائینسداں، تجار، موسیقار، اداکار، ہدایتکار، اور زندگی کے مختلف شعبوں کی کامیاب ترین ہستیاں شامل ہیں، بلکہ ہر دور میں شامل رہی ہیں- اور دنیائے ادب میں یہ صرف غالب کا اعجاز رہا ہے- غالب کی شاعری کا یہ بھی اعجاز رہا کہ ہر دور میں وہ دنیائے علوم و فنون ہو یا تجارت و سیاست ہر جگہ خاص و عام کی گفتگو کی زینت بنی رہی- الغرض غالب کے کمال فن پر علامہ کے یہ اشعار بطور خراج تحسین کافی ہیں کہ
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پر
دیوان غالب کے مختلف نسخوں کی بات کریں تو غالب کے خود نوشت مخطوطہ سے لے کر مالک رام کی تالیف و تدوین اور مطبوعہ دیوان تک، بلکہ نسخۂ لاہور و رامپور سے لے کر لا جواب نسخۂ عرشی زادہ،اور نسخۂ حمیدیہ ، متنازعہ نسخۂ بھوپال یا امروہہ تک دیوان غالب کی ایک طویل داستان ہے جسکا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں، اور تحقیق و تصحیح اور تنقید، تدوین اور مرتبہ و طباعت کے سلسلے سب خود بھی اردو ادب میں بلکہ عالمی ادب میں اعلی کمال فن کا درجہ رکھتے ہیں، اور ان سب میں بھی مالک رام اور عرشی زادہ کا جذبہ و جنون اردو ادب میں سنہرے حروف میں درج ہے، اور نسخۂ عرشی زادہ کے اوّل صفحہ پر لکھے ہوئے مصرعہ کو دہرانے پر مجبور کرتے ہیں کہ: خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا-
مذکورہ نسخوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ گزرے دیڑھ دو سو برسوں میں دیوان غالب مختلف تنازعات کا شکار رہا، بلکہ اپنی حیات میں مطبوعہ کلام کی طباعت کو لے کر مرزا نالاں تھے اور جس کا ذکر انھوں نے اپنے محولہ بالا خطوط میں یوں کیا تھا کہ: “ دلی پر اور اس کے پانی پر اور اسکے چھاپے پر لعنت! ...... ہر کاپی دیکھتا رہا ہوں- کاپی نگار اور تھا، متوسط جو کاپی لایا کرتا تھا وہ اور تھا، اب جو دیوان چھپ چکے، حق التصنیف ایک مجھ کو ملا- غور کرتا ہوں تو وہ الفاظ غلط جوں کے توں ہیں.....” ہے تحیر کو ثبات کہا ں کے مصداق مرزا کے ان اشعار کا کوئی کیا ذکر کرے جو لوٹ مار اور آتش زنی میں تلف ہوگئے، اور جس کا ذکر مرزا نے مرزا حاتم علی کو لکھے ایک خط میں کیا تھا اور جنہیں دوبارہ دیکھنے کی حسرت لئے خود دار فانی سے کوچ کر گئے- لکھتے ہیں: میرا کلام میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا، نواب ضیا ءالدین اور حسین مرزا جمع کر لیتے تھے، میں نے جو کہا انہوں نے لکھ لیا ، دونوں کے گھر لٹ گئے.... اب میں اپنے کلام کے دیکھنے کو ترستا ہوں”۔ الغرض مرزا کے تلف شدہ اشعار عالمی ادب کا المیہ تو ہیں ہی لیکن تاریخی و تۂذیبی تغیرات کے سبب ان میں رد و بدل ہونا بھی فطری امر تھا - البتہ یہ رد و بدل ایسا نہ تھا کہ اشعار کی روح اور اسکے حسن معنی سے کھلواڑ کیا جاسکتا- “رموز غالب” از گیان چند جین مذکورہ نسخوں پر اور غالبیات پر ایک مستند تحقیقی کتاب ہے جس میں،سہو کاتب ہو یا متن میں رد و بدل ہو، یا ترتیب و ترکیب یا معنی الفاظ میں شعوری اور غیر شعوری اصلاح، تفصیل سے منصفانہ تحقیق و تجزیہ کیا گیا ہے، ضروری تشریح اور مناسب اصلاح بھی کی گئی اور جو بے شک قابل تعریف ہے- ۸-۱۰ مختلف ضخیم نسخوں میں عرق ریزی کرنا اور انکے درمیان موجود اختلافات پر باریک بینی سے طویل غور و فکر کے بعد منصفانہ رائے دینا بے شک اردو ادب میں یہ سب سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اور مسقبل کے ان محققین کو حیرت زدہ کرنے کے لئے کافی ہے جنہیں تحقیق و تجزیاتی امور میں بے شمار وسائل حاصل ہونگے- انہیں تحقیقات نے جہاں غالب کے گمشدہ اشعار کو دریافت کیا ونہیں اغلاط کی تصحیح باز یافتہ نسخوں اور مخطوطوں کے تحت انجام دی- بلکہ اوقاف و اعراب اور قافیہ و ردیف کی بھی، اور بلا شبہ ان اغلاط کی اور غالب کے قلم زد اشعار کی نشاندہی اور پھر اصلاح و تشریح، تحقیق کے مشکل ترین مراحل رہے ہیں - یہ تحقیقات غالبیات کے سمندر میں غوطہ خوری کر کے ہیرے موتی نکالنا اور پھر انہیں موجودہ مرصع تاج میں جڑنے کے مترادف ہے- جین صاحب کے اس تاریخی کارہائے نمایاں پر غالب زندہ ہوتے تو یہی کہتے کہ: ہنر پیدا کیا ہے میں نے، حیرت آزمائی میں - کہ جوہر آئینے کا، ہر پلک ہے چشم حیراں کی-
شناسان غالب سے تحقیق میں دانستہ نادانستہ سہو کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن انکے جنون شوق کے مد نظر انہیں مرفوع القلم مان لینے میں کوئی قباحت بھی نہیں- الغرض محولہ بالا اختلافی اور اصلاحی مراحل کے باوجود علامہ کی طرح غالب کے کلام کی یہ خاصیت اور انفرادیت ہمیشہ قائم رہی کہ اشعار سرقہ و توارد کا شکار کبھی نہیں ہوئے، اور نہ کوئی انکے کلام کی نقل کرسکا اور نہ ہی مرزا کے اشعار کبھی اپنے نام منسوب کرسکا- جبکہ غالب کے چند تلامذہ ایسے بھی ہوئے ہیں جن پر استاد کی شاعری کے علاوہ افکار اور طرز بیاں کا بھی گہرا رنگ چڑھا ہوا تھا، اور اسکے باوجود غالب کی شاعری ممیز رہی- اس بات کا اندازہ مندرجہ ذیل اشعار سے لگایا جاسکتا ہے جو غالب کے ایک شاگرد کے ہیں جن کا تخلص وحشی تھا - (بحوالہ تلامذہ غالب از مالک رام )- :
آپ جو چاہے کہیں آپ کی بےجا بھی بجا
غیر کیوں آپ کی باتوں پر رفو کرتے ہیں
ہاتھ آیا ہے مجھے اس پردہ نشیں کا دامن
جس کے لینے کو فرشتے بھی وضو کرتے ہیں
کہیں وحشی کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیں
میکدہ میں وہ گلابی سے وضو کرتے ہیں
اسی طرح ایک اور شاگرد جنکا تخلص جنون تھا انکے چند اشعار ذیل میں درج ہیں :
بیمار عشق کو ہاتھ نہ لگا اے طبیب
کچھ درد سر نہیں ہے کہ اچھا دوا سے ہو
اب تو محفل سے وہ اپنی کم اٹھاتا ہے مجھے
بیٹھ کر غیر کے پہلو میں جلاتا ہے مجھے
گر ہم آئے تو غضب کیا ہے برا کیوں کہیے
یہی کہیے مرے پاس نہ آیا کیجئے
تھا جنوں بھی کوئی اوروں میں تمہارا ہمراز
گاہے گاہے خبر اس کی بھی منگایا کیجئے
غالب کی زندگی کا ایک واقعہ ہے کہ اسد تخلص رکھنے والے کسی گمنام شاعر کے کلام پر انہوں نے اپنے منفرد انداز میں اپنے ایک خط میں کہا تھا کہ “میں نے ان سے یہی کہا کہ اگر یہ مطلع میرا ہے تو مجھ پر لعنت، بات یہ ہے کہ ایک شخص اسد ہو گزرا ہے- یہ مطلع اور یہ غزل اس کے کلام معز نظام میں سے ہے اور تذکروں میں مرقوم ہے”۔
القصہ مختصر کہ غالب شناسی کا حق تو تب ادا ہوگا جب گنجینۂ معنی میں غوطہ خوری کے بعد اور مرزا کے کلام سے حظ اٹھانے اور ان پر تنقید و تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ انکے مکاتیب کا منصفانہ مطالعہ کیا جائے اور پھر شہادت کی انگلی کے ساتھ قلم کی نوک مرزا کی شخصیت پر تان لی جائے، انگلیاں فِگار اور خامہ خوں چکاں ہونا طے جانیے- اپنی زندگی کے آخری پندرہ برسوں میں مرزا نے جو خطوط اپنے احباب کو لکھے ہیں وہ انکی اپنی زندگی کا ہی نہیں بلکہ معاشرے کا، رسم و رواج کا، خانہ داری کا، مذاہب و عقائد کا، افکار و ادب کا، نظام حکومت کا، تجارت و معیشت کا، الغرض انکے دور کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں- یہ سب کچھ مرزا کو ایک بہترین مورخ، تنقید نگار، انشائیہ پرداز، مبصر ، محقق، اور تجزیہ نگار ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں- فی الحقیقت غالب نے اسقدر فصاحت و بلاغت و سلاست سے خود پر تنقید کی ہے کہ کسی تنقید نگار کے لئے کچھ چھوڑا ہی نہیں- غالب پر نثری تنقید سے اردو ادب ہی نہیں بلکہ عالمی ادب بھرا پڑا ہے لیکن شعری تنقید کم کم ہے- راقم الحروف خود بھی مرزا کے کمال فن کا معترف ہے اوربارہا اپنی تحاریر میں اسکا اظہار بھی کرچکا ہے- اب مندرجہ ذیل اشعار میں مرزا کے متعلق کچھ کہنے کی جراءت کی ہے، اور وہ بھی انکے اپنے ہی الفاظ کے گنجینۂ معنی کا سہارا لے کر، جس کے بغیر مرزا پر نثری ہو یا شعری تنقید نہ کبھی ممکن تھی اور نہ ہی کبھی ہو سکتی ہے -
ملاحظہ کیجئے-
بیٹھے رہے حیات کو ویراں کئے ہوئے
جاں نذر چشمِ نازِ بتاں کئے ہوئے
پیتے رہے ہیں لرزش و لغزش سے بے نیاز
راز و نیازِ بندگی افشاں کئے ہوئے
ایمان نصف ساغر و مینا میں ڈبو کر
لکھتے رہے حیات کو عنواں کئے ہوئے
کرتے رہے تھے جمع جگرِلخت لخت کو
سامان صد ہزار نمک داں کئے ہوئے
ملا سے دشمنی تھی اور اللہ سے بے رخی !
جیتے رہے عتاب کا ساماں کئے ہوئے
کیوں کھینچ تان میں رہے ایمان و کفر کی
خود اپنےہی یقین کو گماں کئے ہوئے
کیوں عشق کے لئے کوئی بیٹھےعذاب میں
سر زیر بارِ منتِ درباں کئے ہوئے
کیوں نو بہار ناز کو تکتی ر ہے نگاہ
خود کو زمانے بھر میں پشیماں کئے ہوئے
سوتے میں کسی پاؤں کا بوسہ کیوں لیجئے
یوں حسرتوں کے داغ نمایاں کئے ہوئے
غالب سخن طراز کی کچھ لائیے خبر
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کئے ہوئے
Sent from my iPhone
--
www.kitaabistan.com
www.hudafoundation.org/
www.urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam