Reply:

59 views
Skip to first unread message

muqeet24

unread,
Dec 16, 2012, 1:38:57 AM12/16/12
to BAZMeQALAM, wasif.ansari1991
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہٗ
جناب مجھ جیسے کم علم کی بات کو اس بزم پر اہمیت نہ دی جائے تو بہتر ہوگا۔ میں نے پہلے ہی واضح کردیا کہ میری بات کو دیوار پر مارو اس کے حدیث نہیں ہونے کا مجھے علم نہیں تھا۔ اپنی جہالت پر میں شرمندہ ہوں۔
ہندؤں میں بھی گائے کے پیشاب پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ آیوروید اور طب یونانی میں صرف فرق اتنا ہی ہے کہ آیور وید والے گائے کا پیشاب ، بھسم (انسانی راکھ ) کا استعمال کیا جاتاہے ۔ جبکہ طب یونانی میں ان کاموں کے لیے دہی، گلاب کا پانی وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔
اگر ان احادیث سے استدلال کیا جائے تو کیا حلال جانور (گائے) کا پیشاب بہ حالت مرض استعمال کیا جاسکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟
،،



------------------
ہر کسی کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتاہے۔ خدا نے انسان کو یہ آزادی دے رکھی ہے۔ اس لیے میر ا نظریہ بے شک قابلِ گرفت ہوسکتاہے
----------------------------
عبدالمقیت عبدالقدیر ، بھوکر
سخن فروش ہوں داد ہنر کمانی ہے
 
 
 
------------------ Original Message ------------------
From:  "aapka Mukhlis"<aap...@yahoo.com>;
Time:  Sunday, Dec 16, 2012 1:08 AM
Subject:  
 
ایک بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ اللہ نے کوئی مفید چیز ہم پر حرام نہیں کی اور کوئی مضر چیز حلال نہیں کی
یہ حلال اور حرام خواہ مخواہ نہیں بنائے گئے بلکہ اپنے اثرات کی وجہ سے قرار دیے گئے ہیں
جیسے کہ شراب کی حرمت کی ذیل میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ اس میں تمھارے لیے  نقصان زیادہ ہے
جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار شہد نہ کھانے کا عہد کر لیا تو فوری طور پر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا
اس لیے ان نجس چیزوں میں گندگی اور ضرررسانی زیادہ ہے۔
یہ تو صرف انتہائی تکلیف دہ حالت میں انتہائی واجبی مقدار میں دوا کی غرض سے رخصت ہوتی ہے۔
لہذا ان کو خواہ مخواہ اطمینان کے ساتھ استعمال نہیں کر لینا چاہیے
طبع سلیم پر بھی یہ چیزیں ناگوار گزرتی ہیں
یہ کس نے کہا کہ اللہ نے ہرچیز میں شفا رکھی ہے
ہاں یہ ضرور ہے کہ اللہ نے موت کے سوا ہر بیماری کا علاج پیدا کیا ہے
وہ بزرگ برانڈی سے نمونیہ کا علاج غالبا انگریزی اثرات کی وجہ سے کرتے تھے
ورنہ ہمارے حکماء اس کا بڑا شافی علاج کرلیتے ہیں
 
ہندووں نے گائے کے بول پر کوئی تحقیق نہیں کی بلکہ صرف تبرک سمجھ کر اس کو نوشِ جان فرماتے ہیں
جس طرح ہم آبِ زم زم پیتے ہیں
 
مجبوری کے وقت دوا کے طور پر لینا اور تبرک سمجھنا،ان کے درمیان بڑا فرق ہے
جب یہ چیز نجس اور مکروہ قرار دی گئی ہے تو اس کا مطلب اس کا نقصان ہے
 

From: Abida Rahmani <abidar...@yahoo.com>
To: BAZMe...@googlegroups.com
Cc: aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>; Alaf khan <alafkh...@yahoo.com>
Sent: Saturday, December 15, 2012 10:56 PM
Subject: Re: Reply: {17254} گئو ماتا
جزاک اللہ خیر مخلص صاحب اتنا مفصل اور مدلل جواب دینے کے لئے اگرچہ اکثر چیزیں طبیعت گوارا نہیں کرتی جسے مکروہ کہا جاتا ہےلیکن اللہ تعالئ نے ہر چیز میں شفا رکھی ہے- ہمارے اکثر بزرگ برانڈی گھر میں رکھتے تھے جو نمونیہ کے مریضوں کو پلائی جاتی تھی آپ کا کہنا اس آیت کے مطابق
فَمَنِ اضْطُرَّ غَیرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلٓا إِثْمَ عَلَیہِ ط
’’جو شخص مجبور (بھوک کی شدت سے موت کا خوف)ہوجائے تو اس پر (ان کے کھانے میں)کوئی گناہ نہیں بس وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ‘
  - ہندوؤن نے بھی یقینا گائے کے پیشاب پر کچھ تحقیق کی ہو گی --؟
واللہ اعلم بالصواب


Abida Rahmani



--- On Sat, 12/15/12, aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com> wrote:

From: aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>
Subject: Re: Reply: {17244} گئو ماتا
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Date: Saturday, December 15, 2012, 6:54 AM

صحیح مسلم میں ہے۔
۱:۔ حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ آئے ۔انھیں وہاں کی آب و ہوا راس نہ آئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو صدقہ کی اونٹنیوں کے باڑے میں جائو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ۔انھوں نے اسی طرح کیا اور تندرست ہو گئے ۔ پھر انھوں نے اونٹوں کے چرواہوں پہ حملہ کیا اور ان کو قتل کر دیااور دین اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہ کے اونٹ لے کر بھاگ گئے ۔رسول اللہ تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو بھیجا ،ان کو پکڑ کر لایا گیا ،آپ نے ان کے ہاتھوں پیروں کو کٹوا دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں اور ان کو تپتے ہوئے میدان میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں درج ذیل حدیث مروی ہے ۔
عن أنس أن ناساًاجتووا فی المدینۃ فأمرھم النبی أن یلحقوا براعیہ ۔یعنی الابلفیشربومن ألبانھا وأبوالھا فلحقوا براعیہ فشربوامن ألبانھا وأبوالھاحتٰی صلحت أبدانھم (صحیح بخاری کتاب الطب باب الدواء بأبوال الإ بل رقم الحدیث 5686 )
’’ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مدینے کی آب وہواموافق نہ آنے پر وہ لوگ بیمار ہوگئے ۔(ان کو استسقاء یعنی پیٹ میں یا پھیپھڑوں میں پانی بھرنے والی بیماری ہوگئی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو ملاکر پینے کی دوا تجویز فرمائی ۔یہاں تک کہ اسے پی کروہ لوگ تندرست ہوگئے ‘‘۔
حافظ ابن قیم ؒ نے بھی اسی حدیث کے حوالے سے اپنی کتاب زادالمعاد میں لکھا ہے کہ اونٹنی کے تازہ دودھ اور پیشاب کو ملاکر پینا بہت سے امراض کے لئے شافی دوا ہے ۔
بعض لوگوں کی جانب سے اس حدیث پر اعتراض شاید اس وجہ سے کیا گیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اونٹنی کا پیشاب پلوایا جوکہ حرام ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکباز ہستی سے ایسا حکم وکلام کا صادر ہونا بعیدازعقل ہے ۔اس اعتراض کے دو جوابات ہیں 1)نقلاً(2)عقلاً۔
قرآن مجید میں حلال وحرام سے متعلق کچھ اشیاکا ذکر ہوا ہے :
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیکُمُ الْمَیتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیْرِ وَمَآ أُہِلَّ بِہِ لِغَیرِ اللّٰہِ (سورۃ البقرۃ ۔آیت 172)
’’ تم پر مردار ،خون ، سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے ‘‘
اللہ تعالیٰ نے بالکلیہ اصولی طور پر مندرجہ بالا اشیا کو اہل ایمان پر حرام کر ڈالا ہے مگر اس کے ساتھ ہی کچھ استثنابھی کردیا ۔
فَمَنِ اضْطُرَّ غَیرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلٓا إِثْمَ عَلَیہِ ط
’’جو شخص مجبور (بھوک کی شدت سے موت کا خوف)ہوجائے تو اس پر (ان کے کھانے میں)کوئی گناہ نہیں بس وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ‘‘(سورۃ البقرۃ ۔آیت 173)
اگرضرورت کے وقت حرام جانوروں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے تو حلال جانور کے پیشاب کو عندالضرورت دوا کے لئے استعمال کرنے کو کس نے روکاہے ؟جب مردار اور حرام جانوروں کو عندالضرورت جائز قرار دیا گیا ہے تو پھر پیشاب کے استعمال میں کیا پریشانی ہے ؟
بعض لوگ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پرکھنے کے لئے خود ساختہ اصول پیش کرتے ہیں کہ “ہر حدیث کو قرآن پر پیش کیا جائے ” تو گزارش ہے کہ قرآن میں توکسی بھی مقام پر اونٹنی کے پیشاب کو حرام قرار نہیں دیا گیا ۔لہٰذا یہ حدیث قرآن کے متعارض نہیں ہے ۔
خلاصہ:جس طرح اضطراری کیفیت میں قرآن حرام اشیا کی رخصت دیتا ہے اسی طرح حدیث نے بھی اونٹنی کے پیشاب کو اس کے دودھ میں ملاکر ایک مخصوص بیماری میں استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔
کیمسڑی کے اُ صولوں کو بھی مدنظر رکھیں
اگر آپ کو واقع ہی کیمسٹری کے اصول یاد ہیں تو آپ کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ دو مختلف کیمیکلزکے ملنے سے ایکشن اور ری ایکشن ہوتا ہے۔ یاد دہانی کے لئے میں کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں۔
پانی کے لئے
H2O ہائیڈروجن کے دو مالیکیول اور اکسیجن کا ایک مالیکیول مل کر پانی بنتا ہے۔
نیلا تھوتھا زہر ہے اور آپ کو پتہ ہو گا کہ اگر نیلا تھوتھا کی قلمیں بنا لی جائیں تو پھر نیلا تھوتھا سے زہر کا اثر ختم ہو جاتا ہے اور اسے پھرکچھ بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
“سوڈیم” اسے اگر کھولیں تو ہوا سے آکسیجن ملتے ہی اسے آگ لگ جاتی ہے ، اور ” سوڈیم کلورائیڈ” جو ہم روزانہ کھانے میں استعمال کرتے ہیں۔ انسان کو کچھ نہیں ہوتا۔
اونٹنی کے دودھ میں “ پوٹاشیم ” بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پروٹین، آئرن، فیٹ، پانی، فاسفورس ، کیلشیم، اور وٹامن سی، کیکٹوس/قدرتی مٹھاس اور ڈیوریٹک/پیشاب آور، ہوتے ہیں۔
اب دودھ کے اندر پائی جانے والے یہ کیمیکلز جن کو لال رنگ سے مارکنگ کی ہے اگر انہی کو سامنے رکھیں تو پیشاب کے پائے جانے والے ٹاکسس کے اثر کو ختم کرنے کے لیئے یہی کافی ہیں۔کیمسٹری فارمولہ کے مطابق اونٹنی کا پیشاب اس وقت تک پیشاب رہے گا جب تک وہ دوسرے اجسام کے ساتھ نہیں ملا، جونہی اونٹنی کا پیشاب اونٹنی کے دودھ میں شامل ہوا تو پھر دونوں اجسام میں پائے جانے والے کیمیکلز سے جو ری ایکشن ہو گا اس سے پیشاب نام اور مقام کھو بیٹھے گا۔ اور ایک الگ مکسچر بنے گا۔
پانی کے ایک گلاس کو میٹھا کرنے کے لئے چینی کی کچھ مقدار/ ایک چمچ ڈالی جاتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ پانی کے ایک گلاس میں چینی کا ایک گلاس ڈالا جائے۔ اسی طرح دودھ میں پیشاب ملا کر پینے کا مطلب یہ نہیں کہ دودھ کے ایک گلاس اور پیشاب کا ایک گلاس بلکہ دودھ کے ایک گلاس میں پیشاب کی کچھ مقدار جو کہ ڈراپس بھی ہو سکتے ہیں اور چمچ بھی۔ بالکل اسی طرح جیسے ہائیڈروجن کے دو مالیکول اور آکسیجن کا ایک مالیکیول ان کو اکٹھا کریں تو دونوں اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں اور اس سے جو تیسری چیز بنتی ہے جسے ہم پانی کہتے ہیں۔
جدید سائنس کے ذریعے علاج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید
عکل اور عرینہ کے لوگوں میں جو بیماری تھی اسے موجودہ طبی سائنس میں پلیورل ایفیوزن (Pleural Effusion) اور ایسائٹیز (Ascites) کہا جاتا ہے ۔یہ انتہائی موذی مرض ہے ۔پلیورل ایفیوزن کے مریض کو بے حس کر کے پسلیوں کے درمیان آپریشن کر کے سوراخ کیا جاتا ہے ۔اس سوراخ سے پھیپھڑوں میں چیسٹ ٹیوب (Chest Tube) داخل کی جاتا ہے اور اس ٹیوب کے ذریعہ سے مریض کے پھیپھڑوں کا پانی آہستہ آہستہ خارج ہوتا ہے ،اس عمل کا دورانیہ 6سے 8ہفتہ ہے(اس مکمل عرصے میں مریض ناقابل برداشت درد کی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے ۔ اور بعض اوقات تو وہ موت کی دعائیں مانگ رہا ہوتا ہے۔ یہ حالت میں نے خود کراچی کے ہسپتالوں میں ان وارڈز کے دورے کے دوران دیکھی ہے)۔ایسائٹیز کے مریض کے پیٹ میں موٹی سرنج داخل کر کے پیٹ کا پانی نکالا جاتا ہے ۔یہ عمل باربار دہرایا جاتا ہے ۔ان دونوں طریقوں میں مریض کو مکمل یا جزوی طور پر بے حس کیا جاتا ہے (Short Practice of Surgery page 698-703 & 948-950)
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرالقرون میں اس بیماری کا علاج اونٹنی کا دودھ اور پیشاب تجویز فرمایا تھا جو کہ آج بھی کار آمد ہے ۔ڈاکٹر خالد غزنوی اپنی کتاب علاج نبوی اور جدید سائنس میں تحریر فرماتے ہیں :
’’ہمارے پاس اسی طرح کے مریض لائے گئے عموماً۔4 سال سے کم عمر کے بچے اس کا شکار تھے۔ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر عمل کیا اونٹنی کا دودھ اور پیشاب منگوایا اور دونوں کو ملاکر ان بچوں کا پلادیاکچھ ہی عرصے بعدان کے پھیپھڑوں اور پیٹ کا سارا پانی پیشاب کے ذریعے باہر آگیا اور بچے صحت یاب ہوگئے۔وللہ الحمد،اور آج وہ جوان ہیں‘‘۔ (علاج نبوی اور جدید سائنس جلد 3بابAscites)
محترمہ ڈاکٹر فاتن عبدالرحمٰن خورشیدکا سعودی عرب کی قابل سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ یہ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی فیکلٹی ممبر ہونے کے علاوہ کنگ فہد سنٹر میں طبی تحقیق کے لیے قائم کردہ Tissues Culture Unit کی صدر ہیں ۔ وہ میڈیکل ڈاکٹر تو نہیں ہیں تاہم اسی حدیث سے متاثر ہو کر انہوں نے اس پر تحقیقی کام کیا اور اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو ملا کر کینسر سے متاثرہ افراد کو پلایا ۔ انہوں نے لیب کے اندر اپنے ان تجربات اور ریسرچ کوسات سال تک جاری رکھا اور معلوم کیا کہ کہ اونٹ کے پیشاب میں موجود نانو ذرات کامیابی کے ساتھ کینسر کے خلیات پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اس دوا کا معیار انٹرنیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کی شرائط کو پورا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو کیپسول اور سیرپ کی شکل میں مریضوں کو استعمال کروایا ہے اور اس کا کوئی نقصان د ہ سائیڈ ایکفیکٹ بھی نہیں ہے۔
محترمہ ڈاکٹر خورشید صاحبہ کا کہنا ہے کہ وہ اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو مخصوص مقداروں میں ملا کر مزید تجربات کے ذریعے اپنی دوا کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور اپنی توجہ اس جانب مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ اسی دوا سے کینسر کی بعض مخصوص اقسام جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، خون کے کینسر، بڑی آنت کے کینسر، دماغ کے ٹیومر اور چھاتی کے کینسر کا علاج تسلی بخش طریقے سے کیا جاسکے۔
عبدالمقیت صاحب نے جو ارشاد پیش کیا ہے کہ میری جوبات قرآن سے ٹکرائے اسے دیوار پر مارو۔ یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات اللہ تعالیٰ کی منشا سے نکلتی تھی۔ اگر کوئی بات اللہ کی منشاء کے خلاف ہوتی تو فوراً اس کی تصحیح کر دی جاتی تھی۔ لہٰذایہ قول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے۔
اصل میں یہ قول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے میری جوبات حدیث سے ٹکرائے وہ دیوار پر دے مارو۔ کم و بیش ایسی ہی بات باقی آئمہ نے بھی کہی ہے۔
اور یہ بھی آپ نے دیکھ لیا ہوگا اس مراسلے کے شروع میں جہاں اونٹنی کے دودھ اور پیشاب  پلانے والی حدیث کا ذکر ہے وہ حدیث مسلم  شریف کی ہے جب کہ دوسری حدیث صحیح بخاری کی ہے جس کی صحت پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔  
پیشاب کو کہیں بھی پاکیزہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ صرف حالت اضطرار میں دوا کی صورت میں اجازت دی گئی۔ اس کے نجس ہونے کی دلالت اس حدیث سے ملتی ہے کہ ایک بار حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر میں موجود ایک مردے  کے عذابِ قبر کی خبر دی اور وجہ یہ بتائی کہ وہ پیشاب کے قطروں سے بچاو نہیں کرتا تھا۔آپ نے پہلی حدیث میں یہ بھی پڑھا ہوگا کہ وہ  لوگ بھی مرتد ہوگئےتھے۔
قبا میں قیام کے دوران  اسلام کی پہلی مسجد تعمیر کی گئی تھی اور پھر مدینہ روانہ ہوئے۔ وہاں جس جگہ آپ کی اونٹنی ٹھہری وہ ایک خالی احاطہ تھا جو دو یتیم بھائیوں کی ملکیت تھا۔اورسامنے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ جس خالی جگہ پر اونٹنی بیٹھی تھی اسی جگہ کو خرید کو مسجد کے لیے وقت کیا گیا۔ اس دور میں بکریاں اور اونٹ تو عام پالے جاتے تھے۔ اس لیے ان کے بول و براز ہر خالی جگہ ہوسکتے تھے۔ میرے علم کے مطابق اصول یہ ہے کہ خشک جگہ پاک قرار دی گئی ہے۔  اور یہ بھی حدیث ہے کہ اللہ نے ساری زمین کو مسلمانوں کے لیے مسجد قرار دیا ہے اور ہر پاک جگہ نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ اسی وجہ سے آپ بھی کھیتوں میں نماز ادا کرتے رہے۔جبکہ دوسرے مذاہب کے لوگ صرف عبادت گاہوں ہی میں عبادت کرسکتے ہیں۔
چنانچہ وہاں مسجد نبوی تعمیر کی گئی۔ اور نماز بھی خالی زمین پر ہی پڑھی جاتی تھی۔ اس وقت چٹائیوں ، صفوں، چادروں، قالین اور پختہ فرش کا رواج نہیں تھا۔ چنانچہ مسجد کی زمین بھی خالی ہی تھی اور وہاں جوتوں کی ساتھ ہی نماز پڑھی جاتی تھی۔ جو آج ہمیں بہت عجیب بات لگتی ہے ۔ جب کہ یہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ یہود کے ہاں جوتوں کے ساتھ نماز نہیں ہوتی اور تم ان کی مخالفت کیاکرو اور جوتوں کے ساتھ نماز پڑھا کرو۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے لیے کتنی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔ ہاں البتہ جوتے پاک ہونے چاہییں۔
ویسے بعض علماء نے آغاز میں پیش کی گئی مسلم کی حدیث پر کچھ بحث بھی کی ہے۔ کیونکہ اس حدیث کا متن بعض دوسری روایات میں کچھ مختلف ہے۔مثلا ًقبیلے کا نام،بیماری کا نام، قتل کی واردات کی تفصیل اور سزا۔ جس کی وجہ سے بعض علماء اس حدیث کو پیشاب کے جواز کے لیے حجت نہیں مانتے۔ واللہ اعلم بالصواب
میں یہ بات واضح کردوں کہ میں ہرگز کسی بھی درجے میں علماء کے صف میں شمار نہیں ہوتا۔ یہ بس اپنی واجبی سے معلومات کا اظہار ہے جو مختلف جگہوں سے اکٹھی کی گئی ہیں۔ لہٰذا اس میں اختلاف کی بڑی گنجائش ہوسکتی ہے اور میرا کہا حرفِ آخر نہیں ہوسکتا۔
والسلام
مخلص
From: muqeet24 <muqe...@ibibo.com>
To: BAZMeQALAM <BAZMe...@googlegroups.com>
Sent: Saturday, December 15, 2012 9:21 AM
Subject: Reply: {17227} گئو ماتا
آپا آپ یہ کس بحث میں بزم (امت ) کو ڈال رہیں ہیں؟  ایسا نہ کریں۔
 میں کوئی فقہی یا شیخ الحدیث تو نہیں کہ اس حدیث کی جس کا آپ نے اوپر ذکر کیا سند وغیرہ پر بحث کروں البتہ میرے کمزور حافظہ میں ایک بات یاد آرہی ہے کہ میں نے کہیں یہ ارشاد نبویﷺ پڑھا ہے کہ ’’ میری جو بات قرآن سے ٹکرائے اسے دیوار پر مارو‘‘ ( اسکا حوالہ بھی مجھے یاد نہیں اور یہ بھی کہیں یاد نہیں کہ یہ واقعی حدیث کا حصہ ہے) مگر ایک بات تو واضح ہے کہ ’’ اسلام صاف ستھرا مذہب ہے‘‘ جس نے شراب، خون کو گندہ قرار دیاہے وہ پیشاب کو پاکیزہ قرار نہیں دے سکتا۔ مدینہ میں ہجرت کے ساتھ ہی مسجد قبا کی تعمیر ہوئی۔ اسکے بعد مسجد نبویﷺ کی بنیاد رکھی گئی ۔ پھر یہ بکریوں کی قیام گاہ کہاں سے آگئی؟ مدینہ کی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے یہ تو ممکن ہے کہ وہ زمین بکری کا پیشاب جلد جذب کرلیتی ہو۔ ہم لوگ بھی کھیتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہاں پر کسی چرندے ، درندے یا انسان نے کبھی ( یا کچھ دیر پہلے ) پیشاب کیا ہو ! کیونکہ دھوپ کی وجہ سے زمین جلد پہلے جیسی حالت میں لوٹ آتی ہے ۔
متعلقہ حدیث کی بات پتہ نہیں احادیث کی کتابوں میں گھس آئی ہے یا بالکل مستند ہے۔ اگر مستند حوالے سے بھی آئی ہے تو اس کا اطلاق کن حالات میں تھا۔ اس کے پیچھے وجوہات کیا تھیں ؟ کیا ان صاحبان نے اسلام قبول کرلیاتھا یا اپنے پرانے دین پر قائم تھے؟ اگر قبول کرلیا ہوتا تو ان سے قتل سرزد ممکن ہی نہیں تھا ورنہ منافقین کو پیشاب کیا اسے بھی گندی اشیاء دی جائے تو کوئی برائی نہیںآخر ان کا ایمان ایسی ہی گندہ چیزوں کے لائق ہوتا ہے۔ اگر وہ مومن ہوتے تو اللہ کے رسول ان کے قتل کے لیے واقعی وفد ارسال کرتے؟؟

اس طرح کے سوالات ایسی احادیث کی تحقیق کے لیے میرے ذاتی نوعیت کے ہیں۔ لہذا ایسے واقعات کے لیے اس تجزیے کو بنیاد نہ بنایا جائے ۔
آخر میں آپ کی التماس دوبارہ دہراتا ہوں کہ بزم پر موجود اہل علم جن کی پکڑ قرآن وحدیث پر پختہ ہوں تو ضرور تحقیق کریں۔
 مجھے یقین ہے کہ جناب محی الدین غازی صاحب ( انڈیا) بھی اس بز م سے دور نہیں ہونگے اگر ان تک یہ میل پہنچتا ہے تو ان پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ اس پر اہل علم کی تحقیق بیان کریں ۔

------------------
ہر کسی کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتاہے۔ خدا نے انسان کو یہ آزادی دے رکھی ہے۔ اس لیے میر ا نظریہ بے شک قابلِ گرفت ہوسکتاہے---------------------------- عبدالمقیت عبدالقدیر ، بھوکر سخن فروش ہوں داد ہنر کمانی ہے
 
 
 
------------------ Original Message ------------------
From:  "Abida Rahmani"<abidar...@yahoo.com>;
Time:  Friday, Dec 14, 2012 9:53 PM
To:  "bazmeqalam"<bazme...@googlegroups.com>; "adabdotcom"<adabd...@googlegroups.com>;
Subject:  
 
عبدالمقیت صاحب اپکی، انعام الحق قاسمی صاحب، رشید انصاری صاحب اوربہن عالیہ تبسم کی آراء کیلئے بیحد ممنون ہوں
آپلوگوں نے اسپر مہر تصدیق ثبت کردی کہ ہندو معاشرے میں یہ ایک جانا بوجھا پسندیدہ فعل ہے-جہان تک صفائی ستھرائی کا تعلق ہے جس خاندان کا میں نے ذکر کیا ہے وہ انتہائی صاف ستھرا خاندان تھا اور شاید جین ہی تھے کیونکہ پیاز لہسن بھی نہیں کھاتے تھے بلکہ ہم نے ایک دو مرتبہ بغیر پیاز لہسن کے پکا کر دیا تو کانتا بائی نے بتایا کہ میری بہو پھینک دیتی ہے اور سب سے حیرت کی بات یہ کہ وہ کوئی انڈئین فلم اور گانے نہیں سنتے تھے -انہوں نے بتایا کہ کینیڈا آکر دھرم میں زیادہ چست ہوگئے ہم سے تعلقات قائم کرنے میں انکا دخل اور خلوص زیادہ تھا- بہر کیف اپنے اپنے دھرم کی بات ہے-

کچھ عرصہ پہلے ایک خبر نظر سے گزری کہ سعودی عرب میں اونٹ کے پیشاب پر کینسر کے علاج کی ریسرچ ہو رہی ہے- اس سلسلے میں صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے  Chapter 51,  Hadith #s 173 & 174):  -------
عکل یا عورینہ سے کچھ لوگ مدینہ آئے ، مدینے کی آب و ہوا انکو راس نہ آئی اور وہ بیمار ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو ایک اونٹوں کی چراہگاہ میں بھیجا اور انکو بطور علاج اونٹوں کا دودھ   اور پیشاب پینے کی تاکید کی جس سے وہ صحت یاب ہوگئے - انہوں نے گلہ بان کو مار ڈالا اور اونٹوںکو لیکر فرار ہوئے آپ ص کو خبر ہوئی تو انکے پیچھے آدمی روانہ کئے انکو قتل اور ڈکیتی کی سزا کے طور پر مار دیا گیا اور اونٹ پکڑ کر واپس لے آئے

174-- مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے رسول اللہ ص خالی زمیں پر نماز ادا کرتے تھے جہاں پر بکریاں باندھی جاتی تھیں تشریح نگار کا خیال ہے کہ بکری کا پیشاب ناپاک نہیں ہوتا  یا اسے زمیں جذ ب کر لیتی ہے-
اس فورم پر موجود علماء سے رائے دینے کی درخواست ہے
والسلام

Abida Rahmani



--- On Thu, 12/13/12, muqeet24 <muqe...@ibibo.com> wrote:

From: muqeet24 <muqe...@ibibo.com>
Subject: Reply: {17185} گئو ماتا
To: "bazmeqalam" <bazme...@googlegroups.com>
Date: Thursday, December 13, 2012, 10:36 PM

محترمہ عابدہ صاحبہ
آپ نے مضمون کے شروع میں جو معذرت چاہی وہ بے کار ہے ۔ ہم لوگ پیشاب پاخانے و دیگر گندگی کو گندگی ہے تصور کرتے ہیں ۔ البتہ دیگر اقوام اسے ناپاک نہ سمجھیں تو ہم معذرت خواہ کیوں ہوں؟
ٓآپ کا جس طرف اشارہ ہے اس سے یہ بات تو سمجھ آجاتی ہے کہ آپ کی پڑوس والی خاتون گجراتی تھیں بلکہ گمان غالب ہے کہ اس خاندان کاتعلق جین مذہب کے ماننے والوں سے ہو۔ کیونکہ جین لوگ ہر کھانے میں گڑ اور املی کا استعمال کرتے ہیں بھلے وہ مرچ ڈال کر پکایا جائے، یہی حال دیگر گُجو اورسندھیوں ( ہندوں)کا بھی ہے۔
ان کے یہاں گائے ہی نہیں بلکہ بکری ،اونٹ اور حد تو یہ بھی کہ خود انسان کا پیشاب بھی متبرک ہے ۔ جس کی وضاحب آپکے مضمون کے ایک واقعہ سے ہوجاتی ہے۔
قدیم زمانے میں ہندو لوگ بکثرت گائے کا گوشت کھاتے تھے۔ بلکہ گائے کی قربانی بھی کرتے تھے جسے گؤ یگیہ کہا جاتا ہے۔ آ ج بھی بعض برہمن خاندانوں میں یہ رسم عام ہے مگر اب گؤ یگیہ میں اصلی گائے کے بجائے کدویا پھر آٹے سے بنی گائے کی آہوتی دی جاتی ہے۔
گجراتی ہوٹل مالکان تو بھلے ہی کہیں بھی رہیں اپنے ہوٹل اور کھانوں میں اسے پابندی سے چھڑکتے ہیں۔ یہی حال مارواڑی ( راجستھانی ) لوگوں میں کا بھی ہے۔ اب جب سے ہندوتواوادی تحریکات نے زور پکڑاہے اس کا استعمال بڑی بڑی ادویاتی کمپنیوں میں بھی شروع ہوچکا ہے ۔ ہندوستان کی مشہور آیور ویدک ادویاتی کمپناں بشمول ڈابر اور بیدناتھ کے سبھی گائے کے پیشاب کا استعمال کرنے لگی ہیں۔ جڑی بوٹیوں کو سڑانے ، ان کے عرق نکالنے ، کشید کرنے کے لیے گؤ متر کا استعمال ان ادویاتی کمپنیوں میں عام ہے۔ ہر غیرمسلم میڈیکل اور ہوسکتا ہے کہ مسلم میڈیکلس میں بھی اس قسم کی ادویات دستیاب ہیں۔
اس لیے ہند کے مسلمانوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ یونانی ( مسلم) کمپنیوں کے ہی ادویات استعمال کریں۔

اللہ ایسی ادویات اور غذاؤں سے ہماری حفاظت فرمائیں ۔
-------------------------- عبدالمقیت عبدالقدیر ، بھوکر سخن فروش ہوں داد ہنر کمانی ہے
 
 
 
From: Abida Rahmani <abidar...@yahoo.com> Date: 2012/12/13 Subject: {17148} گئو ماتا To: bazme...@googlegroups.com, adabd...@googlegroups.com, joinpa...@googlegroups.com, press-gallery- <press-g...@googlegroups.com>, diplomati...@gmail.com

گئو ماتا

عابدہ رحمانی
اس مضمون سے کسی کی دل آزاری ہرگز  مقصودنہیں--

بچپن میں اسمٰعیل میرٹھی کی نظم پڑھتے تھے - رب کا شکر ادا کر بھائی ، جس نے ہماری گائے بنائی-
آج کل پاکستان میں بھارت سے برآمد شدہ اشیاء کے خلاف ایک مہم چلی ہوئی ہے خاص طور پر اشیاۓ خورد و نوش اور کاسمیٹکس وغیرہ، اسکے تصویری ثبوت اور حقائق مہیا کئے گئے ہیں کہ ا ن اشیاء میں گائے کے پیشاب اور گوبر کی آمیزش ہے- اس حقیقت سے کسی کو انکار نھیں کہ گائے کا گوبر اور پیشاب ہندو دھرم میں پاک پوتر سمجھا جاتاہے-میں خود کبھی بھارت یاترا پر نہیں گئی اور ان مناطر کی چشم دید گواہ نہیں ہوں-لیکن بہت کچھ سننے اور پڑھنے میں آتا ہے- بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے لئیے بھی گائے کا گوشت ایک نعمت غیر مترقبہ ہے- بوڑھی گایوںکوبیو پاری پاکستان کے بیوپاریوںکے ہاتھ سستے داموں بیچ دیتے ہیںاور یوں لوگوں کو کافی بیکار گوشت ملتا ہے - گائے کے ذبح پر بھارت میں کئی ہندو مسلم فسادات ہو چکے ہیں- اسلئے لوگوں نے اہنی تسلی کے لئے یہ کہنا شروع کیا ،" ہم بڑا گوشت نہیں کھاتے" جبکہ مغرب میں بڑا گوشت یعنی بیف انتیہائی پسندیدہ اور مہنگا ہے----
 آپ لوگوں نے جے لینو کا ٹو نائیٹ شو دیکھا ہوگا بسا اوقات دلچسپ مذاق ہوتے ہیں- کہنے لگے،" انڈیا سے ہائی ٹیک اندسٹری اور اعلےٰ تعلیم کے لیے جو ھندو بچے آتے ہیں انکو متبرک بنانے کے لئے گائے کے پیشاب سے نہلا کر امریکہ بھیجا جاتا ہے،" اور اسکے ساتھ اسنے کافی کراہئت دکھائی- "they are actually drenched in cow's urine." جبکہ یہی بچے یہاں کی ہایئ ٹیک اور دوسرے شعبوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیئت سے ہیں اور رفتہ رفتہ یہآں کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں-مشہوربھارتی وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کا پسندیدہ مشروب خود انکا اپنا------تھا -وہ اسے ایک ٹانک اور آب حیات کا درجہ دیتے تھے،  اسکے طبی اور نفسیاتی فوائید پر اکثر بحث کرتے اور اپنے اس فعل پر کافی فخر کرتے تھے، بلکہ اپنی لمبی اور صحتمند زندگی کا راز اسی کو بتاتے تھے- اکثر ہندو مٹھائی والوں کے بارے میں مشہور ہے کہ دھی کے کونڈوں اور مٹھائی کی ہانڈیوں کو تبرکا گوبر لگاتے ہیں- ڈھا کے میں ایک مشہور رس ملائی والا کالا چاند تھا اسکے بارے میں یہی مشہور تھا کہ تمام ہانڈیوں کو پہلے گوبر لگا لیا جاتاہے- یہ قصہ بھی اسی سے متعلق ہے-

ہمارے پیچھے کی طرف نئے مکانوں میں ایک خاندان آیا تھا -کھڑکیوں سے تاک جھانک ہوتی تھی-اگلے روز ہی مٹھائی کا ڈبہ لئیے ہوۓ کانتا بائی آئیں -احمد آباد گجرات سے تعلق تھا- وہاں کے ہندو مسلم فساد کی بازگشت تازہ تازہ تھی-اسکے باوجود مجہے انکی گرمجوشی اور پہل کرنا اچھا لگا-اور پھر تو یہ روز کا معمول ہوگیا کہ وہ بلا تکلف جب جی چاھتا ، دروازہ کھٹکھٹا کر آجاتی تھیں- جو کچھ انھوں نے پکایا ہوتا اس میں ہمارا حصہ ضرور ہوتا-زیادہ تر دالیں لوبیا، سبزیاں ،کھانوں میں ہلکی سی مٹھاس رہتی،بتایا کہ وہ لوگ کھانے میں گڑ ضرور ڈالتے ہیں- ہم نے واپس انکو جب بھی پکا کر بھیجا تو منع کر دیتی تھیں، " ارے میری بہو نہیں کھاتی کہ انھی برتنوں میں پکایا ہوگا جس مین گوشت پکاتے ہیں- لیکن ھمارے منع کرنے کے باوجود وہ ہمارا حصہ ضرور کرتیں- بتاتی تھیں  بیٹا بہو یہاں آکر دھرم میں اور چست ہوگئے- ڈاؤن ٹاؤن میں ایک بڑا مندر بن رہاتھا ہر ویک اینڈ پر جا کر وہاں کام کرتے تھے ، 500 ڈالر ماہوار مندر کو دیتے بیٹے نے قسم کھائی تھی کہ جب تک مندر تیار نہیں ہوتا وہ میٹھا نہیں کھائے گا - مجہے تو یہ جان کر بڑی حیرت ہوئ کہ وہ لوگ ہندی فلمون کے سخت خلاف تھے ، گانے بھی سننا پسند نہ کرتے، بتاتیں کہ بس بھجن ، کیرتھن سن لیتے ہیں - بیٹا کیمیکل انجینئر تھا،" پائی جوڑ جوڑ کر پرھایا ہے"بہو کینیڈیئن شہری تھی ، پہلے بیٹا آیا ، بعد میں ماں باپ اور دو بھائیوں کو سپانسر کیا-ھلاکوخان قسم کی بہو تھی کینیڈئن شہریئت نے اسکا کچھ خاص نھیں بگاڑا تھا- اٹھتے بیٹھتے اپنا احسان جتلاتی تھی- خود کسی فیکٹری میں ملازم تھی کانتا با ئی گھر کا سب کام کرتی، کھانا پکانا،گھر کی صفائی ، بچوں کی دیکھ بھال-  ابھی ان مکانوں میں جنگلے نہیں لگے تھے- نئی نئی آئی تھیں یہاں کے طور طریقوں سے واقف نہیں تھیں ، بہار کا موسم آیا تو ہمارے گلابوں میں بھر کر پھول آئے  ،اکثر صبح صبح آدھمکتیں دو گلاب کے پھول دیدٰیں بھگوان کے چرن چڑھانے ہیں ! سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ عمر میں مجھ سے 6،8 سال بڑی تھیں ، لیکن میرے بچوں کی دیکھا دیکھی امی پکارنے لگیں ،مجھے انکی سادگی اور محبت بہت بھائی- ایک روز آئیں آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے ، بیحد دکھی لہجے میں کہنے لگیں،' بہو نے بہت تنگ کیا ہوا ہے، انڈیا بیٹی سے بات کرنی ہے ، فون میں کچھ گڑ بڑ کر گئی ہے- میں کارڈ لائی ہوں اگرآپ ملادینگی--میں نے ملایا کافی دیر اپنی زبان میں باتیں کرتی رہیں - ؐمین اوپر تھی جب اندازہ ہوا کہ انکی بات ختم ہوگئی تو نیچے آنے لگی - سیڑھیوں کے پاس کھڑی تھیں
جھٹ سے میرے پاؤں پکڑ کر اوپر سر رکھ لیا-" ارے کانتا بائی خداکے لئے یہ آپ کیا کر رھی ہیں؟ "آج تو آپ میرے بھگوان ہو" وہ فرط جذبات سے کیا کیا کہتی رہیں - میں استغفار پڑھتی رہی اور انکو گلے لگایا - دیکھیے آپ مجھے گنہگار کر رھی ہیں آپ میری بہن کی طرح ہیں- میں نے کافی کوشش کی کہ انکو اپنے سنٹر لے جاکر  مختلف پروگراموں میں شامل کر دوں ہما رے اس ملٹی کلچرل کونسل میں عمر رسیدہ خواتین کے لیے کافی دلچسپ پروگرام تھے ، اسکے علاوہ ESL ( english as a second language) کی کلاسز ہوتی تھیں اگر آپ لوگوں نے انگریزی کا مزاحیہ پروگرام ( Mind your language) دیکھا ہو تو بالکل وہی حال ہوتا ہے، اسکے علاوہ ہم نئے آنے والوں کو انکےشہری حقوق اور فرائض کے بارے میں بہی آگاہی دیتے،آنے جانے کے لئے بس کے فری ٹکٹ میسر تھے - لیکن انکو سیوا کرم سے فرصت کہاں تھی؟ ھندی اور گجراتی جانتی تھیں-- لیکن انگریزی سے نابلد تھیں--
ہمارے ہاں دعوت تھی کھانا شروع ہونے ہی والا تھا کہ کانتا بائی لوبئے کا پیالہ لے آئیں میں نے وہ بھی میز پر لگادیا- فرزانہ کہنے لگیں آپ لوگ انکا کھانا کھا لیتے ہیں ؟ ہاں کیوں؟ " آپ نہیں جانتیں یہ تو کھانے میں گائے کا پیشاب ڈالتے ہیں" اتنا کافی تھا
لوبیا تو کوڑے کی نذر ہوا لیکن یقین پھر بہی  نہیں آیا -اگلے روز کانتا بائی کو ایک لمبی چھل قدمی پر لے جانے کی پیش کش کی ، شکر ہے وہ تیار ہو گئیں- " کانتا بائی آپ لوگ گاۓ کا گوشت نہیں کھاتے ، کیا اسکو ناپاک سمجھتے ہیں ؟ " " گائے تو ماتا ہے ہمیں دودھ دیتی ہے ہمیں پالتی ہے ،ہم اسکی سیوا کرتے ہیں اسکا بہت خیال کرتے ہیں ، اسکو کاٹنا تو بہت بڑا پاپ ہے"- " اور اسکا گوبر اور پیشاب وغیرہ اسکو آپ کیا کرتے ہیں؟ " اسکو ہم پوتر سمجھتے ہیں ، پیشاب گھر میں چھڑک دیتے ہیں اور گوبر سے گھن نہین کرتے ، پھلے تو جب کچے فرش ہوتے تھے تو گوبر سے لیپ لیتے تھے-کانتا بائی صاف گوئی کے موڈ میں تھیں--اور اب کبھی دیوار پر تھوڑا سا لگالیتے ہیں یا گھر کے باہر کی طرف لگاتے ہیں"- "اورکھانے مین بھی ڈالتے ہیں؟" وہ کچھ خاموش ہویئں " نہیں کھانے میں نہیں دالتے" نمعلوم کیوں مجھے لگا جیسے وہ  اب غلط بیانی کر رہی ہیں-" تو یہاں پر آپ لوگ کیا کرتے ہیں" " ارے یہاں کہاں یہ سب ملے گا " لیکن فرزانہ نے بتایا کہ یہ لوگ بوتل میں لے آتے ہیں اور تبرکا ایک قطرہ،دو ڈالتے ہیں-
پھر میری ہیوسٹن میں رہنے والی ایک دوست نے بتایا کہ ایک روز وہ لوگ ایک فارم پر دودھ خریدنے گئے -فارم والوں نے انہیں انڈئین سمجھا اور پوچھا کہ کیا گائے کا پیشاب بھی چاہئے؟ یہ کافی حیران ہوئے اسپر انہوں نے کہا " ہمارے انڈئین گاہک ہم سے کنستر میں پیشاب رکھوا لیتے ہیں اور پھر لے جاتے ہیں-اسکے بعد کانتا بائی سے دوستی تو قائیم رہی لیکن انکا کھانا حلق سے نہین اترا--لیکن اس سے بھی بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ انڈیئن ریستوراں کا کھانا ہم بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور اب بھی کھاتے ہیں جب وہ ہمیں یقین دہانی کرا دیتے ہیں کہ strictly vegetarian ہیں اور کبھی یہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ کیا آپ گئو ماتا کا پوتر موتر ڈالتے ہیں؟------واللہ اعلم اسپربھارتی باشندے بہتر تبصرہ کر سکتے ہیں--------------




Abida Rahmani



-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ http://www.urduaudio.com/ سہ ماہی اثباتhttp://www.esbaatpublications.com/ کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےhttp://www.urdu.ca/ - http://www.mbilalm.com/ http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE" http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics   بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے     To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite   To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE" http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup    
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE" http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE" http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics

بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے


To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite

To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup


aapka Mukhlis

unread,
Dec 16, 2012, 5:49:33 AM12/16/12
to BAZMe...@googlegroups.com
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترمی ۔ علم کسی انسان کا کامل نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ ہم سب اسی طرح ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
طب یونانی میں جو متبادل پیش کیے گئے ہیں وہ ہزار درجے بہتر ہیں ان نجس اشیاء سے۔
میرے خیال میں میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی کرلی ہے کہ وہ ان اشیاء میں موجود کارگر اور موثر اجزاء کے بارے میں جان کر لیبارٹری میں ہی ان
کیمیائی اجزا پر مشتمل ادویہ تیار کی جاسکتی ہیں اور صنعتی پیمانے پر ان کی پیداوار شروع کی جاسکتی ہے۔
والسلام
مخلص

From: muqeet24 <muqe...@ibibo.com>
To: BAZMeQALAM <BAZMe...@googlegroups.com>
Cc: wasif.ansari1991 <wasif.an...@yahoo.co.in>
Sent: Sunday, December 16, 2012 9:38 AM
Subject: {17259} Reply:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہٗ
جناب مجھ جیسے کم علم کی بات کو اس بزم پر اہمیت نہ دی جائے تو بہتر ہوگا۔ میں نے پہلے ہی واضح کردیا کہ میری بات کو دیوار پر مارو اس کے حدیث نہیں ہونے کا مجھے علم نہیں تھا۔ اپنی جہالت پر میں شرمندہ ہوں۔
ہندؤں میں بھی گائے کے پیشاب پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ آیوروید اور طب یونانی میں صرف فرق اتنا ہی ہے کہ آیور وید والے گائے کا پیشاب ، بھسم (انسانی راکھ ) کا استعمال کیا جاتاہے ۔ جبکہ طب یونانی میں ان کاموں کے لیے دہی، گلاب کا پانی وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔
اگر ان احادیث سے استدلال کیا جائے تو کیا حلال جانور (گائے) کا پیشاب بہ حالت مرض استعمال کیا جاسکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟
،،
------------------

aapka Mukhlis

unread,
Dec 16, 2012, 5:52:59 AM12/16/12
to BAZMe...@googlegroups.com
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترمی ۔ علم کسی انسان کا کامل نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ ہم سب اسی طرح ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
طب یونانی میں جو متبادل پیش کیے گئے ہیں وہ ہزار درجے بہتر ہیں ان نجس اشیاء سے۔
میرے خیال میں میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی کرلی ہے کہ وہ ان اشیاء میں موجود کارگر اور موثر اجزاء دریافت کر کے لیبارٹری میں ہی ان
کیمیائی اجزا پر مشتمل ادویہ تیار کی جاسکتی ہیں اور صنعتی پیمانے پر ان کی پیداوار شروع کی جاسکتی ہے۔
والسلام
مخلص

From: muqeet24 <muqe...@ibibo.com>
To: BAZMeQALAM <BAZMe...@googlegroups.com>
Cc: wasif.ansari1991 <wasif.an...@yahoo.co.in>
Sent: Sunday, December 16, 2012 9:38 AM
Subject: {17259} Reply:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہٗ
جناب مجھ جیسے کم علم کی بات کو اس بزم پر اہمیت نہ دی جائے تو بہتر ہوگا۔ میں نے پہلے ہی واضح کردیا کہ میری بات کو دیوار پر مارو اس کے حدیث نہیں ہونے کا مجھے علم نہیں تھا۔ اپنی جہالت پر میں شرمندہ ہوں۔
ہندؤں میں بھی گائے کے پیشاب پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ آیوروید اور طب یونانی میں صرف فرق اتنا ہی ہے کہ آیور وید والے گائے کا پیشاب ، بھسم (انسانی راکھ ) کا استعمال کیا جاتاہے ۔ جبکہ طب یونانی میں ان کاموں کے لیے دہی، گلاب کا پانی وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔
اگر ان احادیث سے استدلال کیا جائے تو کیا حلال جانور (گائے) کا پیشاب بہ حالت مرض استعمال کیا جاسکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟
،،
------------------

aapka Mukhlis

unread,
Dec 16, 2012, 8:47:17 AM12/16/12
to BAZMe...@googlegroups.com
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترمی ۔ علم کسی انسان کا کامل نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ ہم سب اسی طرح ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
طب یونانی میں جو متبادل پیش کیے گئے ہیں وہ ہزار درجے بہتر ہیں ان نجس اشیاء سے۔
میرے خیال میں میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی کرلی ہے کہ وہ ان اشیاء میں موجود کارگر اور موثر اجزاء دریافت کر کے لیبارٹری میں ہی ان
کیمیائی اجزا پر مشتمل ادویہ تیار کی جاسکتی ہیں اور صنعتی پیمانے پر ان کی پیداوار شروع کی جاسکتی ہے۔
والسلام
مخلص

From: muqeet24 <muqe...@ibibo.com>
To: BAZMeQALAM <BAZMe...@googlegroups.com>
Cc: wasif.ansari1991 <wasif.an...@yahoo.co.in>
Sent: Sunday, December 16, 2012 9:38 AM
Subject: {17259} Reply:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہٗ
جناب مجھ جیسے کم علم کی بات کو اس بزم پر اہمیت نہ دی جائے تو بہتر ہوگا۔ میں نے پہلے ہی واضح کردیا کہ میری بات کو دیوار پر مارو اس کے حدیث نہیں ہونے کا مجھے علم نہیں تھا۔ اپنی جہالت پر میں شرمندہ ہوں۔
ہندؤں میں بھی گائے کے پیشاب پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ آیوروید اور طب یونانی میں صرف فرق اتنا ہی ہے کہ آیور وید والے گائے کا پیشاب ، بھسم (انسانی راکھ ) کا استعمال کیا جاتاہے ۔ جبکہ طب یونانی میں ان کاموں کے لیے دہی، گلاب کا پانی وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔
اگر ان احادیث سے استدلال کیا جائے تو کیا حلال جانور (گائے) کا پیشاب بہ حالت مرض استعمال کیا جاسکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟
،،
------------------
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages