رالف رسل از محمود ہاشمی

2 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Jan 28, 2012, 11:54:53 AM1/28/12
to 5BAZMeQALAM, arif.waqar, S R FARUQI, Maqsood Sheikh, qamar ali abbasi


خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے

رالف رسل-تحریر: محمود ہاشمی
نقوش، سالنامہ جون 1985ء



رالف رسل کا نام میں نے آج سے چالیس پینتالیس سال پہلے سنا تھا، ایک محفل میں ایک صاحب نے باتوں باتوں میں کہا۔
"یار، ایک انگریز ہے لیکن اردو بولتا ہے تو معلوم ہوتا ہے ماں کے پیٹ سے سیکھ کر آیا ہے۔"
محفل میں ایک کشمیری صاحب بیٹھے تھے، انہوں نے کہا۔
"یار، کوئی کشمیری پنڈت ہوگا، گورا رنگ دیکھ کر تم نے اسے انگریز سمجھ لیا۔"
وہ صاحب بولے۔
بابائے اردو برطانیہ پروفیسر رالف رسل
"بھئی کشمیری پنڈت ہوتا تو نام ہی سے پتا چل جاتا، رالف رسل نام تھا، کیا یہ نام کسی کشمیری پنڈت کا ہو سکتا ہے؟"

لیکن ہمارے کشمیری دوست ہر بات جھٹلانے اور کسی کی ہرگز ہرگز نہ ماننے کے موڈ میں تھے، فوراً بولے۔
"اچھا تو تم رحمت رسول کی بات کر رہے ہو، بھئی وہ واقعی کشمیری پنڈت نہیں، سوری، آئی ایم ویری ویری سوری۔ اصل میں اسکا خاندان اور ڈاکٹر اقبال کا خاندان کشمیر کی وادی سے ایک ساتھ نکلے تھے۔ ڈاکٹر اقبال کے بڑے بزرگ نے جونہی سرحد پار کی اور پنجاب کے شہر سیالکوٹ پہنچے تو وہیں ٹِک گئے لیکن رحمت رسول کے باوا نے دلی جا کر دم لیا۔ یہ رحمت رسول خالص دلی کی پیداوار ہے، پر ہے بڑا مسخرہ، بالکل انگریز لگتا ہے اور یار لوگ دوسروں کو بیوقوف بنانے کیلیے اسے لیے پھرتے ہیں، انگریز کہہ کر تعارف کراتے ہیں اور اسکا رالف رسل نام بتاتے ہیں۔"

اُن صاحب نے جنہوں نے یہ ذکر شروع کیا تھا، کچھ کہنے کیلیے اپنا منہ کھولا، لیکن محفل پر ہنسی کا ایک ایسا دورہ پڑ چکا تھا کہ اس نقار خانے میں انکی آواز طُوطی کی آواز بن کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بات آئی گئی ہو گئی۔

کچھ دن بعد پھر اُسی محفل میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہ صاحب جنہوں نے رالف رسل کو رحمت رسول بنا کر اور اس کا شجرۂ نسب کشمیر کی وادی سے دریافت کر کے دلی سے جوڑا تھا، ذرا سنجیدگی کے مُوڈ میں تھے اور باتیں رالف رسل ہی کی ہو رہی تھیں، وہ کہہ رہے تھے۔
"یار جب میں یہ سنتا ہوں کہ ایک انگریز رالف رسل اردو بولتا ہے اور صحیح بولتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے لیکن جب لوگ اُس کی اِس خوبی کا ذکر اسطرح کرتے ہیں جیسے کوئی معجزہ ظہور میں آ گیا ہو، تو جی چاہتا ہے اپنا سر پیٹ لوں یا کہنے والے کا سر پھوڑ دوں۔ میں بھی رالف رسل کی عظمت کا معترف ہوں لیکن میں اُس سے محض اس لیے متاثر نہیں ہوتا کہ وہ اردو صحیح بولتا ہے، آخر ہم میں سے بھی بہت سے اسکی مادری زبان انگریزی بولتے ہیں اور اکثر صحیح بولتے ہیں۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں میں اِس انگریز کا معترف ہوں تو اس لیے کہ اس نے اس اردو کو اپنایا ہے جسے اپنے گھر میں بھی وہ عزت اور احترام نہیں ملتا جو اسکا حق ہے۔ ہمارے لیے اردو سے زیادہ انگریزی "محترم" ہے۔ ہم انگریزی زبان میں قابلیت بڑھانے کو ترقی کی معراج سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو جو اردو کے متوالے ہیں، کمتر قسم کی مخلوق سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ اردو کروڑوں عوام کی زبان ضرور ہے لیکن ہمارے خواص اس سے بدکتے ہیں۔ وہ لوگ جو اردو میں ادب تخلیق کرتے ہیں اور شعر و شاعری کو اپنا شعار بناتے ہیں انہیں بھی ہمارے خواص ہی برداشت کرتے ہیں، کچھ اپنی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنے کیلیے اور بعض اوقات محض تفریحِ طبع اور دل بہلاوے کی خاطر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

میرا دوست بہت سنجیدہ ہو رہا تھا، اس نے کہا۔ "رالف رسل ہمارے لیے اہم ہے، بہت اہم ہے۔ ہمیں اپنی زبان کو اپنے ہاں کے خواص میں قابلِ قبول بنانے کیلیے اس جیسے خاص الخاص انگریز کی بڑی ضرورت ہے، اسکا وجود ہمیں احساس دلاتا ہے کہ دیکھو تم خواہ مخواہ احساسِ کمتری میں مارے جا رہے ہو، مجھے دیکھو، اگر تمھاری یہ اردو اتنی ہی گئی گزری ہوتی تو مجھے کیا پڑی تھی کہ اپنے منہ کا ذائقہ خراب کرتا اور اس سے محبت کی جوت جگاتا۔"
میں سمجھتا ہوں میرے اس کشمیری دوست نے غلط نہیں کہا تھا۔

یہ درست ہے کہ رالف رسل کے علاوہ اور بھی بہت سے انگریزوں نے اردو کو قابلِ توجہ سمجھا بلکہ بعض نے تو اردو میں شاعری تک کی اور حقہ پی پی کر شعر کہے، لیکن یہ عام طور پر اس زمانے کی باتیں ہیں جب انگریز اور اسکی انگریزی نے ابھی ہمیں اپنے دام میں گرفتار نہیں کیا تھا۔ ہمارا اپنا تشخص برقرار تھا اور ہمیں اس پر ناز بھی تھا۔ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں تازہ وارد تھی اور ایک نئے ملک کے لوگوں کو سمجھنے اور ان میں مقبول ہونے کے لیے انگریز اس طرح کا ہر اقدام کر رہا تھا جو اس کو مفیدِ طلب معلوم ہوتا تھا۔ ملک کا مکمل طور پر حاکم بن جانے کے بعد محبتوں کا یہ زمانہ بہت حد تک ختم ہو گیا۔ اب ہماری باری تھی اور ہم پر لازم ہونے لگا تھا کہ انگریزی کو اپنائیں، تاہم اب بھی حکمران طبقے کے کچھ لوگ اردو میں دلچسپی لینے پر مجبور تھے۔ اِن میں عام طور پر وہ پادری تھے جو "نیٹوز" میں مذہب کا پرچار کرنے کیلیے اردو سیکھتے تھے۔ انہیں زبان کے لطیف پہلوؤں سے کوئی غرض نہ تھی اور وہ ایک "کام چلاؤ" قسم کی اردو سے مطمئن تھے۔ پادریوں کے علاوہ ایک اور قابلِ ذکر طبقہ جو اردو سیکھتا تھا اور اسے "ہندوستانی" کہتا تھا، برطانوی افسران اور انکی میم صاحبائیں تھیں جو اپنے نوکروں، خانساموں اور مالیوں وغیرہ پر حکم چلانے کے لیے یہ "دردِ سر" مول لیتی تھیں۔ انکا مبلغِ علم عام طور پر اسطرح کے چند جملوں تک محدود ہوتا تھا کہ "کٹنا بجا ہے" اور "آل دی سب چیز ٹیک ہے۔"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زبان کے صحیح تلفظ، لب و لہجہ اور اسکے دوسرے لوازمات کی طرف توجہ دینے کی نہ ان میں سے کسی کو ضرورت تھی اور نہ وہ اس کیلیے محنت کرنے کیلیے تیار تھے۔ بہرحال کچھ انگریز ایسے بھی تھے اور اب بھی ہیں جنہوں نے اردو کے ساتھ اگر اپنا تعلق قایم کیا تو اسے ایک اہم زبان سمجھ کر اور نہایت خلوص کے ساتھ۔ انہوں نے رالف رسل کی طرح اردو کے قواعد و ضوابط بھی سیکھے، اسکا مزاج بھی اپنایا اور اس سے تہذیبی رشتے بھی جوڑے۔ لیکن ان کی تعداد کم۔۔۔۔۔۔۔بہت کم تھی، اور انہیں ہاتھ۔۔۔۔۔صرف ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ اب البتہ انکی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ اسکی ایک وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاصی بڑی وجہ رالف رسل ہیں۔ انگریزوں کی اردو دان برادری جو رالف رسل کے بعد پیدا ہوئی ہے اور ہو رہی ہے وہ کسی نہ کسی طرح رالف رسل ہی کا پر تو ہے۔ اس ایک چراغ سے کئی نئے چراغ جلے ہیں اور اس سلسلہ میں زندہ و تابندہ رالف رسل اور اسکی "گل افشانیِ گفتار" کا بہت بڑا دخل ہے۔

رالف رسل صاحب سے میری پہلی ملاقات ان دنوں ہوئی جب میں برطانیہ میں نووارد تھا اور یہاں کی دوسری "قابلِ دید" چیزوں کے ساتھ ساتھ ان سے ملنا اور انہیں دیکھنا ضروری کاموں میں سے ایک تھا۔ چنانچہ میں نے یہ ضروری کام کیا اور اس رالف رسل کو دیکھا جو برطانیہ کی اس انگریز دنیا میں اردو کا چراغ جلائے بیٹھا ہے۔ اسکے بعد چلتے چلاتے کی دو چار اور ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں سے ایک مجھے خاص طور پر یاد ہے۔
ہم دونوں کو اوپر کی ایک منزل سے نیچے اترنا تھا اور ہم جلدی میں تھے، کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بٹن دبانے کے بعد کچھ دیر 'لفٹ' کا انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ جونہی ہم نے بٹن دبایا لفٹ سامنے آ کھڑی ہوئی، اس پر رالف رسل صاحب نے ایک نعرہ لگایا۔
"زندہ باد!"

میں نے چونک کر انہیں دیکھا اور دل میں سوچا "یہ شخص صرف اردو بولتا ہی نہیں، اردو کے ساتھ رہنا بھی جانتا ہے۔"
لیکن انکے اصل جوہر مجھ پر پچھلے چار پانچ سال میں کھلے، جب مجھے انہیں ذرا زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور مجھے معلوم ہوا کہ یہ صرف اردو بولتے ہی نہیں اور خود اردو پڑھ کر لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز میں صرف اردو پڑھانے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ انہوں نے یہ بیڑا بھی اٹھا رکھا ہے کہ سارے برطانیہ کو اردو دان بنا کر دم لیں گے۔ اس سلسلہ میں لندن سے گلاسگو تک کا قریب قریب ہر شہر انکی زد میں ہے۔ اِس شہر میں ایشیائی بچوں کو اردو پڑھانے جا رہے ہیں تو اُس شہر میں انگریز بالغوں کیلیے اردو پڑھانے کا کورس جاری کر رکھا ہے۔ آج ایک شہر میں وہاں کے کسی سکول کے ہیڈ ٹیچر کو اس بات پر آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے سکول میں اردو کو باقاعدہ نصاب میں شامل کر لے تو کل کسی اور شہر میں وہاں کے ایجوکیشن آفیسر، انسپکٹر یا ایڈوایئزر کو برطانوی سکولوں میں اردو پڑھانے کی اہمیت کا قائل کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ رالف رسل صاحب کی بھاگ دوڑ ہی کا نتیجہ ہے کہ لندن میں ایک اردو کانفرنس ہوئی اور پھر دوسرے سال بڑے دھڑلے سے ایک اور ہوئی۔ دونوں کانفرنسوں میں ملک کے اربابِ اقتدار اور محکمۂ تعلیم کے با اثر نمائندوں کو خاص طور پر شریک کیا گیا تا کہ برطانوی ذہنوں پر اردو کے بارے میں کم علمی کے جو غلاف چڑھے ہیں وہ اتر جائیں، اور وہ بھی اپنے ہاں کے سکولوں میں اردو کو ایک باقاعدہ مضمون کی حیثیت دینے کے بارے میں سوچیں اور عملی قدم اٹھائیں۔
ایک صاحب سے جو یہاں کے سکولوں میں پنجابی زبان کو نصاب میں شامل کرنے کے بارے میں بڑے مستعد ہیں، ایک کانفرنس میں ملاقات ہوئی تو کہنے لگے۔
"برطانیہ کے ایشیائیوں میں سب سے زیادہ پنجابی بولنے والے ہیں اس لحاظ سے یہاں کے سکولوں میں پنجابی کو اردو سے پہلے اسکا جائز مقام ملنا چاہیئے لیکن معاملہ اسکے برعکس ہے۔ تم لوگ بڑے خوش قسمت ہو کہ تمہیں ایک رالف رسل مل گیا ہے ورنہ تم اردو والے تو انشاءاللہ، ماشاءاللہ والے ہو، ہر کام اللہ کے سپرد کر کے خود کچھ نہیں کرتے، اگر یہ رالف رسل نہ ہوتا تو تم بس مشاعرے ہی کرتے رہتے اور ہم تمھارے بچوں کو بھی گورمکھی رسم الخط میں پنجابی پڑھا دیتے۔"

مانچسٹر میں ایک انجمن ہے جسکا نام ہے "نیشنل ورکنگ پارٹی اون سٹیریلز فار اردو ٹیچنگ"، اسکے معتمد وہاں کے کرس لیوکی صاحب ہیں لیکن روحِ رواں ہمارے رالف رسل ہی ہیں۔ یہ انجمن اس لیے قایم کی گئی ہے کہ برطانوی سکولوں میں اردو پڑھنے والے طلباء کے لیے مناسب اور موزوں کتب کی جو کمی محسوس ہوتی ہے اس پر سوچ و بچار کرے اور اس کمی کو دور کرنے کیلیے عملی اقدامات کرے۔ مانچسٹر میں اردو کے استادوں کے گروپ نے اپنے ہاں کے سکولوں کیلیے کچھ ابتدائی کتابیں تیار کی ہیں اور اس سلسلہ میں خاصا مفید کام ہو رہا ہے۔ کچھ عرصہ ہوا، انجمن کی ایک میٹنگ میں طے پایا کہ ایک "اردو نیوز لیٹر" چھپنا چاہیئے تا کہ اردو پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ میں جو کام ہو رہا ہے اسکا دوسروں کو بھی پتا چلتا رہے۔ اب مسئلہ درمیان میں یہ آن پڑا کہ یہ "نیوز لیٹر" کون تیار کرے اور اسے متعلقہ افراد اور انجمنوں تک پہنچانے کی ذمہ داری کس کی ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم میں سے جو سگریٹ پیتے تھے انہوں نے سگریٹ اور پائپ والوں نے اپنے پائپ سلگا لیے اور ہر شخص ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ آخر کار وہ شخص جو سگریٹ پیتا ہے نہ پائپ، اور جو اسطرح کے کاموں کیلیے کسی گہری سوچ اور "اندیشہ ہائے دور و دراز" کا قائل نہیں اور جسکا نام رالف رسل ہے، آڑے آیا اور بولا۔
"یہ کام میں کر دیا کروں گا۔"
ہم سب نے عافیت کی سانس لی۔

اس انجمن کو بھی (جس کی افادیت اسکے نام ہی سے ظاہر ہے) متحرک رکھنے میں رالف رسل کا بڑا حصہ ہے ورنہ مجھ ایسے شاید محض "نشستند و گفتند و برخاستند" پر ہی مطمئن رہتے۔ رالف رسل جو خود "جاوداں، پیہم دواں اور ہر دم جواں" رہتے ہیں دوسروں کو محض "تصورِ جاناں کئے ہوئے" بیٹھے نہیں دیکھ سکتے۔ ایک مرتبہ میری جو شامت آئی تو میں نے ان سے کہہ دیا کہ "میں اردو کا ایک قاعدہ لکھ رہا ہوں۔"
جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ قاعدہ واقعی لکھا گیا۔ رالف رسل نے اس میں کچھ اسطرح دلچسپی لی کہ مجھے خیریت اسی میں نظر آئی کہ قاعدہ مکمل ہو ہی جائے تو اچھا ہے ورنہ رالف رسل صاحب سے جو تھوڑی بہت صاحب سلامت ہے وہ جاتی رہے گی۔
شروع شروع میں تو میں ان سے کہتا رہا کہ لکھ رہا ہوں، اب یہ کر رہا ہوں، اب وہ کر رہا ہوں، پھر ایک دن کہنے کو کچھ اور نہ سوجھا تو کہا۔
"بس اب مکمل ہی سمجھئے، کسی دن آپ کو فرصت ہو تو دکھاؤں گا تا کہ آپ کی رائے معلوم ہو سکے۔"
چند دن بعد ہی انکا ٹیلی فون آیا کہ۔
"میرے پاس فلاں دن خالی ہے، آپ اپنا قاعدہ لیکر یہاں آ جائیے یا میں آپ کے ہاں آتا ہوں۔"
اور پھر مقررہ دن، مقررہ وقت پر رالف رسل صاحب کاغذ، پنسل اور کاربن پیپر سے لیس لندن سے ستر میل کا سفر کر کے غریب خانہ پر پہنچ گئے، میں نے پوچھا۔
"کاغذ اور پنسل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ کاربن پیپر کس لیے؟"
بولے۔ "یہ اس لیے ہے کہ اگر کسی بات پر ہم میں اختلافِ رائے ہو تو بحث و تمحیص کے بعد ہم جس نتیجہ پر پہنچیں اسے لکھ لیں اور اسکی ایک کاربن کاپی بنا لیں تا کہ ہم دونوں کے پاس تحریر کی نقل رہے، اسطرح بعد میں چیک کرنے میں آسانی ہوگی۔"
پھر انہوں نے میرے لکھنے کی میز کا جائزہ لیا جس کے ساتھ ایک کرسی تھی، کہنے لگے، "اس کے ساتھ ایک اور کرسی لگا لیجیئے۔"
میں نے کہا۔ "یہ کس لیے؟"
"یہ اس لیے کہ ہم دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر مسودہ پڑھیں گے، میز پر یہ کام بہتر ہوگا۔"
چنانچہ یہ کام ہوا اور بہتر ہوا اور بخیر و خوبی تمام ہوا، جس جذبہ اور لگن سے انہوں نے کام کیا اور ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملہ کی جس طرح چھان پھٹک کی، وہ میرے بس کی بات نہ تھی۔ اس دوران ایک مرتبہ انہوں نے حروفِ تہجی کی بناوٹ اور لفظوں میں انکی بدلی ہوئی صورتوں پر کچھ اسطرح باتیں کیں کہ میں نے دفعتاً سوچا "اس شخص کی زبان کے بنیادی قواعد اور ان کی باریکیوں پر کتنی گہری نظر ہے، نہ جانے اپنی اردو پڑھائی کا آغاز اس نے کس قاعدے سے کیا ہوگا (ظاہر ہے وہ میرا قاعدہ تو ہو نہیں سکتا!)"۔
میں نے رالف رسل سے پوچھا۔ "آپ نے اردو کا کون سے قاعدہ پڑھا تھا؟"۔
وہ مسکرائے اور بولے، "میں نے کوئی قاعدہ واعدہ نہیں پڑھا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، آپ کا یہ قاعدہ بے حد ضروری ہے۔"
"یہ قاعدہ بیحد ضروری ہے اور اردو نصاب کے لیے وہ کتاب لکھنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔"

چنانچہ رالف رسل اس مقصد کیلیے کاغذ، پنسل اور کاربن پیپر سنبھالے ستر میل سے بھی زیادہ لمبے لمبے سفر کرتے ہیں، خود لکھتے ہیں، دوسروں سے لکھواتے ہیں اور مجھے یقین ہے برطانیہ میں اردو کا یہ "گنجِ گراں مایہ"، یونیورسٹی میں اپنے تدریسی فرائض سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنے لیے کہیں زیادہ مصروفیت پیدا کر لے گا اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک برطانیہ میں بسنے والے تمام مرد، عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے اردو بولنے، پڑھنے اور لکھنے لگیں گے۔
میری دعا ہے خدا انہیں کم از کم اتنی عمر ضرور دے کہ وہ یہ کام اپنی زندگی میں مکمل کر سکیں۔

(نقوش، سالنامہ جون 1985ء)
بشکریہ محمد وارث



Ayaz Al-Shaikh

unread,
Jan 28, 2012, 12:12:41 PM1/28/12
to bazme...@googlegroups.com
baho umda maloomati taherir hai. ummid ke mustaqbil mein bhi shaksiyat ke taruf ka ye silsila jari rahega
shukriya
ayaz

2012/1/28 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"



--
Pls Visit blog for Selected Articles both in Urdu & English
http://ayazmedia.blogspot.com

Imam Ghazali Research Foundation
(IGRF)
Research Papers Articles, Abstracts on Religion, Philosophy & Science
http://igrfoundation.blogspot.com

Vidoes at:
http://www.youtube.com/user/IGRFOUNDATION?blend=13&ob=video-mustangbase






Ahmad Ali

unread,
Jan 28, 2012, 2:48:32 PM1/28/12
to bazme...@googlegroups.com, HASAN CHISHTI, Aligarh_...@yahoogroups.com, sherosokhan, fariyad azer, adabd...@googlegroups.com, ayazfr...@gmail.com, zest...@gmail.com
یادِ رفتگاں : بیادِ رالف رسل مرحوم
مخلص
احمد علی برقی اعظمی


2012/1/28 Ayaz Al-Shaikh <ayazfr...@gmail.com>
ralf-russel.jpg

Ahmad Ali

unread,
Jan 28, 2012, 2:51:24 PM1/28/12
to bazme...@googlegroups.com, HASAN CHISHTI, Aligarh_...@yahoogroups.com, sherosokhan, fariyad azer, adabd...@googlegroups.com
یادِ رفتگاں : بیادِ رالف رسل مرحوم
مخلص
احمد علی برقی اعظمی
2012/1/29 Ahmad Ali <aab...@gmail.com>

Amin Tirmizi

unread,
Jan 28, 2012, 4:59:31 PM1/28/12
to bazme...@googlegroups.com, arif.waqar, S R FARUQI, Maqsood Sheikh, qamar ali abbasi
راشد اشرف صاحب اسلام علیکم  اپ کا مضمون پڑھا جو حسب معمول اچھا رہا لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے میری رالف رسل مرحوم سے کئی ملاقاتیں ہوئیں وہ یقیناً اردو کے اُستاد تھے لیکن جہاں تک تلفظ کی بات ہے اس میں وہ کمال نہیں تھا بلکہ اگر آپ یوسفی صاحب کی ایک تحریر ان کے بارے میں پڑھیں یا سنیں کیوںکہ میں نے تو یوسفی صاحب سے سنی ہی ہے۔ تو اس میں یوسفی صاحب نے کہا ہے [ شاید آپ کو معلوم ہو کہ یوسفی صاحب لندن میں دس سال رہے ہیں اور ان سے ڈاکٹر رالف رسل صاحب کی پچاسوں ملاقاتیں رہیں ہیں] ۔یوسفی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے رالف رسل صاحب جب  غالب کا شعر پڑھتے ہیں  تو ان پر بڑا پیار آتا ہے۔ وہ یوں ہوتا ہے " ڈرڈ کی ڈوا پائی ڈرڈ لا ڈوا پایا" دال قاف اور ڑ قسم کے الفاظ کی ادائیگی پر انہیں عبور نہیں تھا اللہ نے انہیں طویل عمر دی اور انکا انتقال نوّے برس کی عمر میں ہوا اور انہوں نے طویل عرصے اردو کی خدمت کی۔  بخالف اس کے آپ واشنگٹن میں مقیم جان ہینسن صاحب کی اردو سنئیے اور جان ہینسن صاحب کا کمال یہ ہے کہ آپ ان سے آدھے گھنٹے اردو میں بات کیجئے اور اس آدھے گھنٹے میں وہ انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولیں گے میں نے انہیں  اپنے ریڈیو پروگرام کے لئے انٹرویو کیا تھا اور بڑا لطف اندوز ہوا " سامعین کی اطلاع کے لئے بتاتا چلوں کہ میں نے راشد اشرف صاحب کو بھی انٹرویو کیا ہے" یہاں آپ اور آپ سب جان ہینسن صاحب کی اردو سنئیے اور سر دھنئے۔   امین ترمزی" 


From: Ahmad Ali <aab...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com; HASAN CHISHTI <has...@sbcglobal.net>; Aligarh_...@yahoogroups.com; sherosokhan <shero...@gmail.com>; fariyad azer <fariy...@gmail.com>; adabd...@googlegroups.com
Cc: ayazfr...@gmail.com; zest...@gmail.com
Sent: Saturday, January 28, 2012 1:48 PM
Subject: Re: {8850} رالف رسل از محمود ہاشمی

یادِ رفتگاں : بیادِ رالف رسل مرحوم
مخلص
احمد علی برقی اعظمی


2012/1/28 Ayaz Al-Shaikh <ayazfr...@gmail.com>
baho umda maloomati taherir hai. ummid ke mustaqbil mein bhi shaksiyat ke taruf ka ye silsila jari rahega
shukriya
ayaz

2012/1/28 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>






From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: arif.waqar <arif....@gmail.com>; S R FARUQI <srfa...@gmail.com>; Maqsood Sheikh <maqsood....@googlemail.com>; qamar ali abbasi <qamar...@msn.com>
Sent: Saturday, January 28, 2012 10:54 AM
Subject: {8846} رالف رسل از محمود ہاشمی

aapka Mukhlis

unread,
Jan 28, 2012, 3:51:56 PM1/28/12
to bazme...@googlegroups.com, HASAN CHISHTI, Aligarh_...@yahoogroups.com, sherosokhan, fariyad azer, adabd...@googlegroups.com
السلام علیکم
میرے خیال میں جو غیر مسلم حضرات فوت ہوچکے ہوں ان کے نام کے ساتھ آنجہانی لکھتے ہیں۔


Zamin Jafari

unread,
Jan 29, 2012, 6:21:04 AM1/29/12
to bazme...@googlegroups.com

آپ نے صحیح فرمایا ہے واقعی جان صاحب سے اردو میں گفتگو کرنے میں بہت لطف آتا ہے۔
چند برس پیشتر میں نے اُن کے ساتھ ایک مشاعرہ ہیوسٹن میں پڑھا تھا جو علیگڑھ المنائی والوں نے منعقد کِیا تھا۔ اس مشاعرے میں جان صاحب نے خمارؔ بارہ بنکوی مرحوم کی زمین میں کہی ہوئی اپنی ایک غزل نہ صرف  یہ کہ پڑھی تھی بلکہ خمارؔ صاحب کے مخصوص ترنّم کے ساتھ پڑھی تھی۔ سامعین و ناظرین کی حیرت و خوشی دونوں قابلِ دید تھیں۔
خیر اندیش
ضامن جعفری

2012/1/28 Amin Tirmizi <meri...@yahoo.com>

Amin Tirmizi

unread,
Jan 29, 2012, 9:26:05 AM1/29/12
to bazme...@googlegroups.com, zamin...@gmail.com
جعفری صاحب اسلام علیکم آپ کو غلط فہمی ہوئی وہ جن صاحب کو آپ نے ہیوسٹن میں سنا تھا وہ جان ہینسن نہیں بلکہ میک بروس صاحب ہیں یہ آسٹن یونیورسٹی میں اردو کے طالب علم ہیں بلکہ اب تو استاد بھی ہوگئے ہیں ان بھی بڑا کمال ہے میری ان سے کئی درجن ملاقاتیں ہیں اور میک کو اب فارسی میں بھی دخل ہے  ان لنک بھی لگاوں گا میک ہر سال تین ماہ لکھنو میں گزارتے ہیں بلکہ ان کا برقی ڈاک کا پتہ بھی بڑا دلچسپ ہے mackin lucknow.com  
 look on youtube "max bruce"

From: Zamin Jafari <zamin...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Sunday, January 29, 2012 5:21 AM
Subject: Re: {8863} رالف رسل از محمود ہاشمی

Amin Tirmizi

unread,
Jan 29, 2012, 11:27:02 AM1/29/12
to bazme...@googlegroups.com, zamin...@gmail.com
ضامن جعفری صاحب ہیوسٹن کے مشاعرے میں میکس پروس صاحب کی غزل سنئے

From: Amin Tirmizi <meri...@yahoo.com>
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>
Cc: "zamin...@gmail.com" <zamin...@gmail.com>
Sent: Sunday, January 29, 2012 8:26 AM

Amin Tirmizi

unread,
Jan 29, 2012, 9:01:42 AM1/29/12
to Maqsood Sheikh, bazme...@googlegroups.com
شیخ صاحب معاف کیجئے ذرا سی بات رہ گئی ہائی لائٹ کرنے کے بعد برقی چوہے کا دائیں جانب کا بٹن دبائیے ایک بلاک کھلے گا جہاں اوپن لنک لکھا ہوگا اسے کلک کرنا ہو۔ میں نے دوبارہ کھولا تو بھی وہ کُھل گیا اب آپ کِھل جائیے۔ شکریہ۔۔  محترم مستشرق ڈاکٹر رالف رسل کا مختصر سا خاکہ بھی دکھاتا چلوں بوٹا سے قد اکھرا بدن میں نے انہیں کوئی پینسٹھ کی عمر میں دیکھا تھا تمام بال سفید گفتگو میں اردو کی سی شیرینی حلیم الطبع برٹشر۔۔ باقی کام راشد  صاحب کے ذمے چھوڑ دیتا ہوں جس کا کام اسی کو ساجھے۔۔ چلئے اب جلدی سے جان ہینسن کی بات سنئیے۔


From: Amin Tirmizi <meri...@yahoo.com>
To: Maqsood Sheikh <maqsood....@googlemail.com>
Sent: Sunday, January 29, 2012 7:43 AM
Subject: Re: {8846} رالف رسل از محمود ہاشمی

بھائی مقصود شیخ صاحب اسلام علیکم میں کون ہوں کہاں ہوں کی تفصیل بعد میں آئے گی پہلے تو آپ کی سماعتوں میں رس گھولنے کے لئے آپ کو لنک کھلوادوں جو کہ بہت آسان ہے میں دوسری چیزیوں کی طرح کمپیوٹر میں بھی بس یوں ہی سا ہوں آپ کی تحریر پڑھنے کو فوراً بعد میں نے وہ لنک کھولا جو یکدم کھل گیا آپ اس لنک کو ہائی لائٹ کیجئے اور پھر کلک کر دیجئے۔ مزا نہ آئے تو پیسے واپس ۔ جان کی گفتگو سن کر بتائیے پھر بات ہوگی،ایک طالبِعلم


From: Maqsood Sheikh <maqsood....@googlemail.com>
To: Amin Tirmizi <meri...@yahoo.com>
Sent: Saturday, January 28, 2012 4:27 PM
Subject: Re: {8846} رالف رسل از محمود ہاشمی

Zamin Jafari

unread,
Jan 30, 2012, 2:01:36 AM1/30/12
to bazme...@googlegroups.com
ترمذی صاحب
میں نے جس مشاعرے میں شرکت کی تھی اس کا لنک بھیج رہا ہوں۔ یہ 2006 میں ہُوا تھا اور اس میں بھی بروس نادرؔ صاحب نے شرکت کی تھی۔ غالباً وہ بھی کہیں باہر سے تشریف لے گئے تھے اور میں کینیڈا سے گیا تھا۔ بہت مختصر ملاقات تھی۔

خیر اندیش
ضاؔمن جعفری 

2012/1/29 Amin Tirmizi <meri...@yahoo.com>

Shamim Jaffrey

unread,
Jan 30, 2012, 5:06:25 AM1/30/12
to bazme...@googlegroups.com
Muthram  Zamin Bhai Bad az Adab o Salaam

Wah Wah Bhoot khoob Bhoot umda.
MashaALLAH.

Shamim Jaffrey
Stockholm Sweden
2012/1/30 Zamin Jafari <zamin...@gmail.com>

Amin Tirmizi

unread,
Jan 30, 2012, 8:24:34 AM1/30/12
to bazme...@googlegroups.com
ضامن جعفری صاحب اسلام علیکم آپ نے میکس کی دو ہزار چھ والی جس غزل کا لنک لگا یا ہے وہ میں نے اس لئے نہیں دیکھا کہ وہ میں پہلے دیکھ چکا ہوں او مجھے اسمیں بالکل مزا نہیں آیا تھا اس وقت میکس کی شاعری بڑی کمزور تھی اور میں نے میکس سے کہا بھی تھا کہ میکس آپ شاعری نہ کیا کریں لیکن سن نو یا دس کے جس مشاعرے کا آپ نے ذکر کیا اس وقت تک میکس نے کافی بہتر کرلیا تھا بلکہ پرویز جعفری کے اس مشاعرے میں تو میں موجود نہیں تھا لیکن وہاں وسیم بریلوی صاحب کی موجود گی میں ان کی اور خمار بارہ بنکوی صاحب کی نقالی بھی بہت شاندار تھی پچھلے سال ہم نے میکس کو اپنے شہر بلا کر ایوارڈ دیا تھا اس موقع پر ہمارے دوست راجیو چکرورتی کو بھی ایوارڈ دیا گیا اور ان ایوارد کی تقسیم کی ذمہ داری کے لئے گوپی چند نارنگ صاحب اور کینیڈا سے ڈاکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر کیا نام ہے اس وقت ذہن میں نہیں آرہا انہوں نے پچھلے سال فیض فہمی کے نام سے چودہ سو صفحے کی کتاب لکھی ہے خیر وہ دونوں حضرات موجود تھے۔ باقی آئندہ طالبِ دعا ایک طالبِ علم  امین ترمذی۔

Sent: Monday, January 30, 2012 1:01 AM
Subject: Re: {8880} رالف رسل از محمود ہاشمی

Rashid Ashraf

unread,
Feb 1, 2012, 12:27:18 AM2/1/12
to bazme...@googlegroups.com


امین صاحب
شاید یہ ڈاکٹر تقی عابدی ہیں

راشد

 
2012/1/30 Amin Tirmizi <meri...@yahoo.com>

Zamin Jafari

unread,
Feb 1, 2012, 12:39:39 AM2/1/12
to bazme...@googlegroups.com

امین ترمذی صاحب، وعلیکم السلام۔
میں نے جو لنک دیا تھا وہ میکس کی شاعری کا نہیں تھا بلکہ اُس دو ہزار چھہ کے مشاعرے میں پڑھی جانے والی میری طنز و مزاح پر مشتمل ایک نظم کا تھا جو میں نے اُس مشاعرے میں سُنائی تھی۔

میکس کو آپ نے جو مشورہ عنایت فرمایا تھا وہی مشورہ آجکل بہت سے شعرا ایک دوسرے کو اکثر دیتے رہتے ہیں۔
فیض فہمی ڈاکٹر تقی عابدی صاحب کی ہے۔
خیر اندیش
ضامن جعففری

2012/1/30 Amin Tirmizi <meri...@yahoo.com>

Amin Tirmizi

unread,
Feb 1, 2012, 7:30:29 PM2/1/12
to bazme...@googlegroups.com
راشد صاحب بالکل صحیح کہا ۔ میری عابدی صاحب سے درجن بھر ملاقاتیں ہیں  تین بار انکا انٹرویو بھی کر چکا ہوں۔ مگر اس وقت لکھتے وقت نام یاد نہیں آیا شکریہ۔ امین ترمذی۔


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Tuesday, January 31, 2012 11:27 PM
Subject: Re: {8958} رالف رسل از محمود ہاشمی
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages