مدارس اور اردو اداروں کی ویب سائٹ سے اردو ندارد مدارس اور اردو اداروں کی ویب سائٹ سے اردو ندارد مدارس اور اردو اداروں کی ویب سائٹ سے اردو ندارد

46 views
Skip to first unread message

Kamran Ghani

unread,
May 24, 2014, 11:25:19 AM5/24/14
to Aijaz .Shaheen
مدارس اور اردو اداروں کی ویب سائٹ سے اردو ندارد


تجزیہ: کامران غنی۔ چیف رپورٹر بصیرت آن لائن

اردو کی زبوں حالی ، اس کے ساتھ حکومت کا سوتیلا رویہ، اردو والوں کی
کسمپرسی ۔۔۔ایسے بے شمار موضوعات ہیں جو نئے نہیں۔ ان مسائل میں ایک اہم
مسئلہ خود اردو والوں کا اردو کے تئیں دوہرا رویہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ اردو
کے ساتھ ریاستی اور مرکزی حکومت نے کبھی منصفانہ رویہ اختیار نہیں کیا
لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اردو خود اپنے گھر میں ہی رسوا ہو رہی
ہے۔ ہندوستان میں بے شمار مدارس اسلامیہ علم و ادب کی شمع روشن کئے ہوئے
ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اردو کو زندہ رکھنے میں مدارس کا کردار نا قابل
فراموش ہے لیکن افسوس کہ جدید ٹنکالوجی کی دوڑ میں شامل ہونے کی عجلت میں
مدارس اردو کو نظر انداز کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے بے شمار
مدارس کی ویب سائٹ پر اردو کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ خاص طور پر
ریاستی سطح کے مدرسہ بورڈکی ویب سائٹ پر تو اردو کو بالکل ہی نظر انداز
کر دیا گیا ہے۔بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی ویب
سائیٹ(http://www.bsmeb.co.in/)پر لوگو(Logo) کے علاوہ ایک سطر بھی اردو
نظر نہیں آتی۔یہی صورت حال اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی ویب
سائٹ(http://www.upmsp.org/) کا ہے۔ یہاں صرف’’ یوپی مدرسہ تعلیمی
بورڈ‘‘اردو میں لکھا ہے، باقی کہیں اردو کا نام و نشان تک نہیں ہے۔
ڈائرکٹوریٹ آف مدرسہ ایجوکیشن ، مغربی بنگال کی ویب سائٹ
(http://www.wbmadrasahdte.gov.in/)پر تو ایک سطر بھی اردو نظر نہیں آ
رہی ہے۔ البتہ دارالعلوم ندوۃ العلماء(لکھنؤ)، دارالعلوم دیوبند، جامعہ
اشرفیہ(مبارک پور)، جامعہ سلفیہ (بنارس)جیسے بڑے دینی مدارس کی علیحدہ
اردو ویب سائٹ موجود ہے۔
مدارس کے علاوہ درجنوں ایسے ادارے بھی ہیں جو اردو کے فروغ کے لیے کوشاں
ہیں۔ یہ ادارے جدید ٹکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کر رہے ہیں لیکن
دانستہ یا غیر دانستہ طور پر یہ ادارے اپنی ویب سائٹ پر اردو کو نظر
انداز کرنے پر آمادہ ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد
ہندوستان کی وہ واحد یونیورسٹی ہے جو اپنے تمام کورس اردو ذریعہ تعلیم سے
کراتی ہے۔ اردو کے فروغ کے تعلق سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی
کوششیں لائق ستائش ہیں لیکن افسوس کہ Nationalised Bankکو ’’قومیایا ہوا
بینک‘‘لکھنے پر اصرار کرنے والی اس یونیورسٹی نے اپنی ویب سائٹ
(http://www.manuu.ac.in/) پر اردو کو بالکل ہی بے دخل کر دیا ہے۔کمال کی
بات تو ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی ویب سائٹ کا ہندی ورژن
موجود ہے ، اور ہندی ورژن میں تمام معلومات بھی مہیا کرائی جاتی ہیں۔ کچھ
ایسی ہی حالت جامعہ اردو ، علی گڑھ کی ویب
سائٹ(http://jamiaurdualigarh.com/)کی ہے۔ یہاں بھی ’’جامعہ اردو علی
گڑھ‘‘ کے علاوہ کچھ بھی اردو میں نہیں ہے۔ اس تعلق سے قومی کونسل برائے
فروغ اردو زبان کی کوششیں لائق ستائش ہیں۔ قومی کونسل نے اپنی ویب سائٹ
کا انگریزی کے علاوہ ہندی اور اردو ورژن بھی بنایا ہے۔ اس کے علاوہ اردو
ٹولز اور اردو کی بورڈ قومی کونسل کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ویب سائٹ پر اردو
کے تعلق سے مدارس اور اردو اداروں کی چشم پوشی اچھا شگون نہیں ہے۔
یونیکوڈ سہولت ہونے کے بعد ویب سائٹ پر اردو کا استعمال اب کوئی دشوار
معاملہ نہیں ہے۔ مدارس بورڈز اور اردو اداروں کو چاہیے کہ وہ اردو کو
ٹکنالوجی سے جوڑنے کی کوشش کریں ورنہ نئی نسل اردو اور ٹکنالوجی کو کبھی
ہم آہنگ نہیں کر پائے گی۔ (بصیرت نیوزسروس)
Urdu in Urdu Organazitions.inp
bihar madarsa board.jpg
jamia urdu aligarh.jpg
manuu.jpg
up madarsa board.jpg
west bengal directorate of madarsa education.jpg

Syed Ahmed

unread,
May 25, 2014, 8:19:42 AM5/25/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم کامران غنی صاحب                              سلام مسنون
اردو سے متعلق آپ کا مضمون اچھا، درد مندانہ اور معلوماتی ہے، اس میں خصوصی طور پر مدارس میں یونی کوڈ والا خط استعمال نہ کرنے کی کچھ وجوہ سمجھ میں آتی ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ یونی کورڈ چند سالوں سے متعارف ہوا ہے، اس لیے جو حضرات اردو کو کمپیوٹر پر ٹائپ کرکے مواد تیار کرتے ہیں وہ ان پیج کے عادی ہیں اور ہمارے ہاں عادت کا لفظ ایک ایسے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جس چیز کا ایک مرتبہ انسان عادی ہوگیا اب وہ بدلنے کے قابل نہیں رہی اسی سبب اس طرح کے لوگ  مستقل نقصان اٹھانا پسند کرتے ہیں اور اس کو وہ نقصان نہیں سمجھتے ہیں، اس کا تجربہ خود میں نے مدارس کے چند نوجوانوں کے اوپر کیا جو یوں تو کافی ذی استعداد ومتحرک تھے مگر جب کچھ کام دینا چاہا اور یونی کوڈ پر کرانا چاہا تو  وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے، پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطاطوں کی روش سے قریب ان پیج فونٹ ہے اس لیے جمیل نوری نستعلیق وعلوی نستعلیق یا اس کی علاوہ دیگر نستعلیق فونٹس میں ما بین الالفاظ والسطور کے فاصلے بھدّے اور غیر مقبول ہیں۔
یہ بات تو مسلّمہ ہے کہ مدارس والے اردو کو اردو کی اصل شکل میں دیکھنے کے قائل ہیں، چونکہ عموما اب سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگوں کو خطاط کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر کی عادت تھی جو کہیں الفاظ کو اور کہیں حروف کو ایک دوسرے پر چڑھا کر لکھا کرتے تھے اس لیے یونی کورڈ میں اگر ایسا فونٹ بن گیا اور اس کا استعمال آسان بھی رہا تو جلد مقبول ہو سکتا ہے۔ خدا اردو کی خدمت کا اجر عنایت کرے۔
والسلام
سید احمد
26-7-1435ھ
25-5-2014ء


 
)کی ہے۔ یہاں بھی ’’جامعہ اردو علی
--
To Join  BazmEQalam ,click the following link

https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM


Firoz Hashmi

unread,
May 26, 2014, 1:59:46 AM5/26/14
to BAZMe...@googlegroups.com
اردو کے دعویداروں کو ابھی تک اردو صحیح طریقے سے ٹائپ کرنا نہیں آیا ہے۔ کسی بھی اخبار کو اٹھا دیکھیے ایک لفظ کے دو ٹکڑے تو عام غلطی ہے۔ جسے کمپیوٹر کی غلطی کہہ دیا جاتا ہے۔ جب ایک ہی صفحہ دو دو تین تین اخبار میں ایک دن شائع ہو سکتا ہے تو اور کس قسم کی غلطی پر افسوس کریں؟ ابھی چند روز پہلے جو آپ نے اردو نیٹ جاپان کی سالگرہ منائی تھی تو اس میں اردو کیسے لکھا گیا تھا وہ بھی آپ نے دیکھا ہی ہوگا؟ اردو کو صحیح طریقے سے ٹائپ کرنے کے بارے میں یا کمپیوٹرکو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے بارے میں کوئی ورک شاپ منعقد کیا گیا؟ جس میں ٹائپ کرنے اور فورمیٹنگ کے طریقۂ کار سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی ہو یا کوئی لیکچر کا پروگرام کیا گیا جس میں کمپیوٹر کے استعمال کے طریقے پر غور کیا گیا ہو یا صحیح طریقےسے استعمال کرنے کے امور پر توجہ دی گئی ہو؟  اردو کونسل نے بہت کام کیا ہے۔ بے شمار کمپیوٹر آپریٹر اور پراگرامر تیار کئے ہیں۔ لیکن کتنے فیصد پرفیکٹ ہیں؟ کئی اخباریونیکوڈ  میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ سوائے بی بی سی اردو کے کتنے اخبار ہیں جن میں املا درست رہتا ہے؟
اب آئیے ان ویب سائٹوں کے بارے میں جن کو آپ نے مثال کے طور پر پیش کیا ہے کیوں انہوں نے اردو میں نہیں پیش کیا؟ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اُن کے یہاں کام کرنے والے اسٹاف جو کہ عموماً سرکاری ہوتے ہیں اردو نہیں جانتے ہوں۔ یا اُن لوگوں کو کوئی  قریبی اردو جاننے والانہیں ملا ہو جسے وہ بحال کر سکیں۔ وجہ کچھ بھی ہو۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ اردوکوجاری رکھنے، بحال کرنے، اور صحیح زبان و املا کو فروغ دینے کے سلسلے میں اقدام کیاجائے۔  بیشتر صوبوں میں قائم اردو اکیڈمیوں کو بھی اِس جانب توجہ دینا چاہئے۔ کم از کم اردو اکیڈمی ہی ورک شاپ منعقد کرا کر لوگوں کو اردو کمپیوٹنگ میں مشاق بنائے تو بہت حد تک بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔
فیروزہاشمی ۲۴ مئی ۲۰۱۴عیسوی
--
Mohammad Firoz Alam 
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
M.                   91- 9811742537
Google Talk : firoz...@gmail.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages