jami

0 views
Skip to first unread message

hasan furrukh

unread,
Nov 4, 2011, 4:04:15 PM11/4/11
to bazm qalam
 
h f khan(a h khan)
رشيد احمد جاميPDFپرنٹ کریںای-میل
تحریر اوصاف سعید   
Sunday, 09 March 2008
فہرست مضامین
خورشيد احمد جامي
صفحہ 2
صفحہ 3
صفحہ 1 از 3

    كچھ برس ادھر كي بات هے۔ هوٹل كے ايك گوشہ ميں بھانت بھانت كے لوگوں كے درميان چھريرے بدن كا ايك سانولا سا آدمي هاتھوں كو نچاتا هوا كسي ادبي شخصيت كو مذاق كا هدف بنارها تھا۔ اس كے چهرے پر زمانے كے نشيب و فراز كي ايك كهنه تاريخ درج تھي۔
 
    وه عجيب و غريب انداز ميں هنس رها تھا اور اس كے تتّبع ميں سامنے بيٹھے هوے اس كے شاگرد بھي بے پناه انداز ميں قهقهے لگا رهے تھے۔ جب كھنكتے هوے قهقهے آهسته آهسته كھوكھلے هونے لگے تو اس نے شيرواني كي نچلي جيب ميں بڑے هي پُر اسرار انداز ميں هاتھ ڈالا۔ پھر فاتحانه انداز ميں ادھر ادھر نظريں دوڑائيں اور ديكھتے هي ديكھتے ٹيبل پر كاغذوں كا ايك پلنده آگيا۔ پهلے تو ميں سمجھا كه يه شخص كچھ كرتب دكھائے گا۔ يا پھر غزليں سنائے گا مگر اس نے نہ كوئي كرتب هي دكھا يا اور نه غزليں هي سنائيں۔ اس نے پلنده ميں سے ايك پرچي بڑي هي احتياط سے نكالي اور سامنے بيٹھے هوے ٫٫چهيتوں٬٬ كے هاتھ ميں تھمادي۔
 
    جب يہ تماشہ ختم هوا تو ميں نے آگے بڑھ كر اسے اپنے وجود كا احساس دلايا۔
    ٫٫ميں اگر بھول نهيں رها هوں تو آپ هي كو            ٬٬
 
    ميرے ادھورے جملے كو اس نے ايك Adjective لگا كر اس انداز سے پورا كيا كه ميں اُس كي زنده دلي كا قائل هو كر ره گيا۔
 
    پھر اس نے بيرے كو اشارے سے دو چائے كا آرڈر ديا۔ بيرے نے خلافِ توقع كمزور آواز ميں هانك لگائي اور اپني ميلي بوسيده دائري ميں   ٢٥٥ كا بڑا هندسه نوٹ كر كے نيچے ايك لمبي لكير كھينچ دي
    اس نے اپنے احباب سميت صبح سے دو پهر تك كچھ اتني چائے پي لي تھي كه بيرے نے اپنے حافظہ پر بھروسہ نہ كرتے هوے احتياطاً چائے كي پياليوں كي تعداد اور قيمت غالباً درج كرلي تھي۔
 
    وه چائے كي چسكياں ليتا هوا باتوںميں مشغول هوگيا۔ ميں نے ايك غزل گو شاعر كي تعريف كرتے هوے اس كي رائے بھي دريافت كي۔
 
    اب اس كا go سر چڑھ كر بول رها تھا۔ ٫٫كيا كهه رهے هيں آپ، غزل ان كے باپ نے بھي نه كهي هوگي۔ وه كيا كهيں گے ۔
 
    غزل ________ هيں هيں ﴿منھ سے نكلتي هوي سرسراهٹ﴾ غزل تو اب دربدر كي ٹھوكريں كھاكر ايك ايسي هتھني بن گئي هے جو بغير آنكس كے دو قدم چل بھي نهيں سكتي۔٬٬ يہ كهه كر اس نے غصّے كے عالم ميں مجھے اپني چند غزليں سنائيں جو اتني خوب صورت اور بھر پور تھيں كه جي چاهتا تھا كہ اس سے غزليں هي سنتے رهيں۔ ليكن وه داد و تحسين سے بے نياز ابھي تك اس شاعر كے پيچھے پڑا هوا تھا جس كا ذكر تھوڑي دير پهلے ميں نے اس سے كيا تھا۔
    ميں نے جب اپنے سر پر ڈولتے هوے Fan كو اچانك بند هوتے هوے ديكھا تو ميں نے بيرے كو آواز دينے كي كوشش كي ليكن اس نے هاتھ كے اشارے سے مجھے روك ديا۔
 
    ٫٫يه سالے سب بدتميز هيں۔ يہ شاعر كا احترام كيا جانيں۔ چلو كسي دوسرے رستوران ميں جگه ديكھيں۔٬٬
    مختلف هوٹلوں كا چكّر كاٹتے كاٹتے جب ميں گھر پهنچا تو آدھي رات گزرچكي تھي اس پهلي ٫٫هوش ربا٬٬ ملاقات كے بعد پته نهيں ميں كيوں اُن سے مُنه چھپاتا رها۔ جب تك ميري رهائش پرانے شهر ميں رهي كهيں نہ كهيں ان سے مڈبھيڑ هوجايا كرتي تھي۔ آفس آتے جاتے كهيں ان پر نظر پڑجاتي اور ميرا هاتھ اچانك سلام كے ليے اُٹھ جاتا۔ وه بڑے خاص انداز ميں سلام كا جواب ديتے۔ جيسے پوچھ رهے هوں۔ ٫٫شام كو تو ملاقات هوگي نا۔٬٬
 
    پھر ايك دن راستے ميں انھيں آتا ديكھ كر ميں كني كاٹ هي رها تھا كہ هجوم ميں سے كسي نے هاتھ لهرايا۔ ميں نے دل ميں سوچا۔ اپني هي انا كي بھٹّي ميں جلے بھنے رهنے كے باوجود اس آدمي كي ذات مين ابھي اگلي شرافتيں باقي هيں۔
 
    جامي صاحب كو چائے سے كهيں زياده چائے خانہ كي عادت تھي۔ مالكانِ هوٹل انھيں كس نگاه سے ديكھتے تھے وه تو وهي جانيں۔ ليكن بيرے ان كي بڑھياٹِپ كو پاكر بڑے خوش دكھائي ديتے تھے۔ پرانے شهر كي هوٹلوں ميں بيروں كو ٹپ دينے كي ابتدائ شايد جامي صاحب هي نے كي هو۔
  

پچھلا - اگلا >>

 
< پچھلا اگلا >

Amin Tirmizi

unread,
Nov 4, 2011, 5:33:51 PM11/4/11
to bazme...@googlegroups.com, Al Noor Int
جامی صاحب  اسلام علیکم دیکھئے اس سےقبل کہ میں گفتگو شروع کروں  اس بات کا اعتراف بالکل صدق دلی سے کرتا ہوں کہ آپ اُستاد ہیں اور اگر میں آپ کے آگے خود کو شاگرد بھی لکھوں تو گویا میں اپنے تئیں بڑی شیخی بگھار رہا ہوں  اس کے بعد ایک نشاندہی ضروری سمجھوں گا جسے غلطی کہنے کی جسارت تو نہیں کرسکتا ۔محض قابلِ توجہ سمجھ لیجئے۔۔ اور جس جانب نشاندہی ہے وہ بہت سے لوگ کرتے ہیں اور اس پر یوں کہہ لیتے ہیں کہ "چلتا ہے" دیکھئے چلتا ہے اس صورت میں درست مانا جا سکتا ہے جب کوئی چلتا پھرتا آدمی ایسا کرے لیکن ایسے لوگ جو بزمِ اہلِ قلم کے ممبر ہوں ان کا لکھا ہوا مستند سمجھا جاتا ہے اور اس کی مثال دی جاتی ہے ۔یا دی جاسکتی ہے۔ اب میں عرضِ مُدعا کی جانب آنے کی جسارت کرتا ہوں۔
اُردو زبان کا کوئی لفظ جی ہاں کوئی لفظ دو چشمی"ھ" سے شروع نہیں ہوتا  لغت دیکھی جاسکتی ہے۔اس میں دو چشمی ھ کا خانہ خالی ملے گا  اور ہ ہوز اور دو چشمی ھ کا استعمال بھی واضح ہے مثلاً "گھر" اور "گہر"  ۔ گھرا اور گہرا۔بھاری اور بہاری ۔ کھا اور کہا۔ بھرا اور بہرا۔ گھی اور دہی۔ تو معلوم ہوا کہ دو چشمی ھ سے پہلے آنے والا لفظ اگر دو چشمی ھ کے ساتھ مل کر پڑھا جارہا ہے مثلاً بھ گھ دھ جھ چھ تو دوچشمی ھ کا استعمال درست ہے لیکن اگر ابتدائی حرف مل نہیں رہا مثلاً "کہ" چہ"رہ" دہ" مہ"سہہ" ان الفاظ میں "ہ" الگ سے محسوس ہورہا ہے نہ کہ ابتدائی حرف سے ملا ہوا اس طرح "ھوا" ھے
" ھندوستان" ھجرت" اسی طرح ھنسنا ۔کُھنہ۔اور آھستہ اورقھقھےیا ھاتھ۔ چھرے نہ کہ چہرے جیسا کہ درج ذیل ہے۔  ایک جملہ لکھا ہے کہ اس کے چھرے پر تاریخ درج تھی میں تو اُسے چاقو سمجھا نہ کہ چہرا بمعنی شکل پر تاریخ درج تھی قسم کے الفاظ غلط ہیں بخلاف اس کے  چھریرا یا بھانت بالکل درست ہیں  آپ نے دیکھا چہرے اور چھرے سے معنی میں کتنا ابہام آگیا۔ "یہ کہا" اور "یہ کھا" اس ہجے سے معلوم ہوا کہ بات کہنے کی ہے یا کھانے کی؟  فرق دیکھ لیجئے  اور اگر میں غلط ہوں تو طفلِ مکتب سمجھ کر نظر انداز کیجئے مگر دونوں صورتوں میں آپ کی جانب سے سیکھنے کا متمنی رہوں گا دو سطور لکھ کر مجھے کچھ سیکھنے کا موقع عطا کیجئے، شکریہ ۔ ایک تشنہء علم ۔ امین ترمذی


From: hasan furrukh <hasanf...@yahoo.co.in>
To: bazm qalam <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Friday, November 4, 2011 3:04 PM
Subject: {7027} jami

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages