| رشيد احمد جامي | ![]() | ![]() | ![]() |
| تحریر اوصاف سعید | |||||
| Sunday, 09 March 2008 | |||||
صفحہ 1 از 3 كچھ برس ادھر كي بات هے۔
هوٹل كے ايك گوشہ ميں بھانت بھانت كے لوگوں كے درميان چھريرے بدن كا ايك سانولا سا آدمي هاتھوں كو نچاتا هوا كسي ادبي شخصيت كو مذاق كا هدف بنارها تھا۔ اس كے چهرے پر زمانے كے نشيب و فراز كي ايك كهنه تاريخ درج تھي۔ وه عجيب و غريب انداز ميں هنس رها تھا اور اس كے تتّبع ميں سامنے بيٹھے هوے اس كے شاگرد بھي بے پناه انداز ميں قهقهے لگا رهے تھے۔ جب كھنكتے هوے قهقهے آهسته آهسته كھوكھلے هونے لگے تو اس نے شيرواني كي نچلي جيب ميں بڑے هي پُر اسرار انداز ميں هاتھ ڈالا۔ پھر فاتحانه انداز ميں ادھر ادھر نظريں دوڑائيں اور ديكھتے هي ديكھتے ٹيبل پر كاغذوں كا ايك پلنده آگيا۔ پهلے تو ميں سمجھا كه يه شخص كچھ كرتب دكھائے گا۔ يا
پھر غزليں سنائے گا مگر اس نے نہ كوئي كرتب هي دكھا يا اور نه غزليں هي سنائيں۔ اس نے پلنده ميں سے ايك پرچي بڑي هي احتياط سے نكالي اور سامنے بيٹھے هوے ٫٫چهيتوں٬٬ كے هاتھ ميں تھمادي۔ جب يہ تماشہ ختم هوا تو ميں نے آگے بڑھ كر اسے اپنے وجود كا احساس دلايا۔ ٫٫ميں اگر بھول نهيں رها هوں تو آپ هي كو ٬٬ ميرے ادھورے جملے كو اس نے ايك Adjective لگا كر اس انداز سے پورا كيا كه ميں اُس كي زنده دلي كا قائل هو كر ره
گيا۔ پھر اس نے بيرے كو اشارے سے دو چائے كا آرڈر ديا۔ بيرے نے خلافِ توقع
كمزور آواز ميں هانك لگائي اور اپني ميلي بوسيده دائري ميں ٢٥٥ كا بڑا هندسه نوٹ كر كے نيچے ايك لمبي لكير كھينچ دي اس نے اپنے احباب سميت صبح سے دو پهر تك كچھ اتني چائے پي لي تھي كه بيرے نے اپنے حافظہ پر بھروسہ نہ كرتے هوے احتياطاً چائے كي پياليوں كي تعداد اور قيمت غالباً درج كرلي تھي۔ وه چائے كي چسكياں ليتا هوا باتوںميں مشغول هوگيا۔ ميں نے ايك غزل گو شاعر كي تعريف
كرتے هوے اس كي رائے بھي دريافت كي۔ اب اس كا go سر چڑھ كر بول رها تھا۔
٫٫كيا كهه رهے هيں آپ، غزل ان كے باپ نے بھي نه كهي هوگي۔ وه كيا كهيں گے ۔
غزل ________ هيں هيں ﴿منھ سے نكلتي هوي سرسراهٹ﴾ غزل تو اب دربدر كي ٹھوكريں كھاكر ايك ايسي هتھني بن گئي هے جو بغير آنكس كے دو قدم چل بھي نهيں سكتي۔٬٬ يہ كهه كر اس نے غصّے كے عالم ميں مجھے اپني چند غزليں سنائيں جو اتني خوب صورت اور بھر پور تھيں كه جي چاهتا تھا كہ اس سے غزليں هي سنتے رهيں۔ ليكن وه داد و تحسين سے بے نياز ابھي تك اس شاعر كے پيچھے پڑا هوا تھا جس كا ذكر تھوڑي دير پهلے ميں نے اس سے كيا تھا۔ ميں نے جب اپنے سر پر ڈولتے هوے Fan كو اچانك بند هوتے هوے ديكھا تو ميں نے بيرے كو آواز دينے كي كوشش كي ليكن اس نے هاتھ كے اشارے سے مجھے روك ديا۔ ٫٫يه سالے سب بدتميز هيں۔ يہ شاعر كا احترام كيا جانيں۔ چلو كسي دوسرے رستوران ميں جگه ديكھيں۔٬٬ مختلف هوٹلوں كا چكّر كاٹتے كاٹتے
جب ميں گھر پهنچا تو آدھي رات گزرچكي تھي اس پهلي ٫٫هوش ربا٬٬ ملاقات كے بعد پته نهيں ميں كيوں اُن سے مُنه چھپاتا رها۔ جب تك ميري رهائش پرانے شهر ميں رهي كهيں نہ كهيں ان سے مڈبھيڑ هوجايا كرتي تھي۔ آفس آتے جاتے كهيں ان پر نظر پڑجاتي اور ميرا هاتھ اچانك سلام كے ليے اُٹھ جاتا۔ وه بڑے خاص انداز ميں سلام كا جواب ديتے۔ جيسے پوچھ رهے هوں۔ ٫٫شام كو تو ملاقات هوگي نا۔٬٬ پھر ايك دن راستے ميں انھيں آتا ديكھ كر ميں كني كاٹ هي رها تھا كہ هجوم ميں سے كسي نے هاتھ لهرايا۔ ميں نے دل ميں سوچا۔ اپني هي انا كي بھٹّي ميں جلے بھنے رهنے كے باوجود اس آدمي كي ذات مين ابھي اگلي شرافتيں باقي هيں۔ جامي صاحب كو چائے سے كهيں زياده چائے خانہ كي عادت تھي۔ مالكانِ هوٹل انھيں كس نگاه سے ديكھتے تھے وه تو
وهي جانيں۔ ليكن بيرے ان كي بڑھياٹِپ كو پاكر بڑے خوش دكھائي ديتے تھے۔ پرانے شهر كي هوٹلوں ميں بيروں كو ٹپ دينے كي ابتدائ شايد جامي صاحب هي نے كي هو۔ پچھلا - اگلا >> | |||||
| < پچھلا | اگلا > |
|---|