دو غزلیں از ڈاکٹر جاوید جمیل 1.
گفتار میں ہو کبر فقط، عاجزی نہ ہو ہے آدمی کہاں وہ اگر آدمی نہ ہو
ہو اعتماد خود پہ مگر خود سری نہ ہو احساس کمتری نہ ہو اور برتری نہ ہو
اے جاذب نظر یہ ملاقات خوب تھی پہلی تھی یہ، خدا کرے کہ آخری نہ ہو
اچّھا ہوا کہ بیچ کی دیوار گر گئی آؤ دعا کریں یہ کبھی پھر کھڑی نہ ہو
منزل کی جستجو میں نکلنا فضول ہے دل میں اگر جنوں نہ ہو دیوانگی نہ ہو
اے نو جوان! گھومنا پھرنا برا نہیں ہے شرط صرف اتنی کہ بے رہ روی نہ ہو
جاوید ہم نے دیکھی ہے دنیا قریب سے دنیا ہے اسکی، جسکو غم دنیوی نہ ہو
2.
طویل غم کا زمانہ گزر گیا شاید وہ میرے صبر کی قوّت سے ڈر گیا شاید
وہ سنگسار ہوا ہے ضمیر کے ہاتھوں وہ اپنے عھد وفا سے مکر گیا شاید
تمہاری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے آخر تمہارے ضبط کا پیمانہ بھر گیا شاید
دکھائی دیتا ہے رومال سبکی ناکوں پر کسی مقام پہ پانی ٹھہر گیا شاید
ہے سجدہ ریز بھی جاوید چشم نم بھی ہے غرور ٹوٹ کے اسکا بکھر گیا شاید |
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"