
شورش کاشمیری
22 دسمبر، 2013
جناب شورش کاشمیری کو 1946 میں دیئے گئے انٹرویو کا پہلا حصہ
سوال۔ ہندو مسلم مناقشات (اختلافات) اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ جانبین (مخالفین) میں مفاہمت کی دوسری تمام راہیں ناپید ہوکر پاکستان ناگزیر ہو چکا ہے۔
جواب۔ہندو مسلم مناقشات (اختلافات) کا حل پاکستان ہوتا تو میں خود اس کی حمایت کرتا ۔ ہندوؤں کاذہن بھی اسی طرف پلٹ رہا ہے۔ ایک طرف آدھا پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان اور دوسری طرف آدھا بنگال دے کر انہیں سارا ہندوستان مل جائے تو بڑی سلطنت سیاسی حقوق کے ہر فرقہ وار قضیے سےمحفوظ ہوجاتی ہے۔ اس طرح ہندوستان ایشیاء میں چین کے بعد لیگی اصطلاح کےمطابق ایک بڑی ہندو ریاست ہوگا۔ کسی حد تک عملاً بھی اور بڑی حد تک مزاجاً بھی ۔یہ کوئی ارادی چیز نہ ہوگی بلکہ اس کےمعاشرہ کا خاصا ہوگا۔ آپ ایک معاشرے کو جس کی آبادی 90 فیصد ہندو ہو کسی اور سانچے میں کیونکر ڈھال سکتے ہیں جب کہ زمانہ قبل از تاریخ سے وہ اسی سانچے میں ڈھلی ہو اور اس کی سب سے برُی عصبیت (قرابت، رشتہ داری) ہو۔ وہ چیز جس نے معاشرے میں اسلام کی داغ بیل ڈالی اور اس کی آبادیوں میں سے اپنی ایک طاقتور اقلیت پیدا کی، اس تقسیمی سیاست کی پر زور نفرت نےاشاعت اسلام کے دروازے ا س طرح بند کر دیئے ہیں کہ ان کے کھلنے کا سوال ہی نہیں رہا ۔ گویا اس سیاست نےمذہب کی دعوت ختم کردی ہے۔ مسلمان قرآن کی طرف لوٹ رہے ہیں ، اگر وہ قرآن کی طرف لوٹ رہے ہیں، اگر وہ قرآن و سیرت کے مسلمان ہوتے اور اسلام کی آڑ میں خود ساختہ سیاسی عصبیتوں کو استعمال نہ کرتے تو اسلام ہندوستان میں رُکتا نہیں، بڑھتا اور پھیلتا ۔ اورنگزیب کے وقت میں ہم مسلمان ہندوستان میں غالباً سوا دو کروڑ تھے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم۔ مغلیہ سلطنت ختم ہوئی، انگریز کاغلبہ ہوا تو مسلمان آج کا (1946) 65 فیصد تھے۔ غرض تحریک خلافت کے آغاز تک مسلمان بڑھتے ہی رہے۔ لوگوں نےاسلام قبول کیا، افزائش نسل ہوئی۔ اگر ہندو مسلم منافرت یا سیاسی مسلمانوں کے لب و لہجہ سے تندو تلخ نہ ہوتی اور سرکار ی مسلمان انگریزوں کی سیاست کو پروان چڑھا نے کے لئے ہندو مسلم نزاع کو وسیع ومتحارب نہ کرتے تو عجب نہ تھا کہ مسلمانوں کی تعداد موجودہ تعداد سے ڈیوڑھی ہوتی ۔ ہم نے سیاسی نزع پیدا کرکے تبلیغ اسلام کے دروازے اس طرح بند کئے گویا اسلام اشاعت کے لئے نہیں سیاست کیلئے ہے۔ اُدھر انگریزوں کےہتھے چڑھ کر کہ وہ مسلمانوں کی آبادی میں وسعت نہ چاہتے تھے ہم نےاسلام کو ایک محصور مذہب بنادیا پھر یہودیوں ، پارسی اور ہندو ؤں کی طرح ہم ایک موروثی ملّت بن گئے کہ یہودی، پارسی او رہندو بن کرنہیں پید ا ہوتے ہیں ۔ ہندوستان مسلمانوں نے دعوت اسلام کو منجمد کردیا پھر کئی فرقوں میں بٹ گئے ۔ بعض فرقے استعمال پیداوار تھے ان سب میں حرکت وعمل کی جگہ جمود و تعطل پیدا ہوگیا اور وہ ذہنی طور پر اسلام سے محرومی کی زندگی داخل ہوگئی ان کا وجود جہاد سے تھا لیکن یہی چیز ان کے وجود سے خارج ہوگئی ۔ اب وہ بِدعات و سیاست کاشکار ہیں ۔ وہ مسلمان عقائد کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں، دوسرے دین کےنہیں سیاست کے مسلمان ہیں۔ انہیں قرآنی دین نہیں سیاسی دین پسند ہے۔
پاکستان ایک سیاسی موقف ہے اس سےقطع نظر کہ پاکستان ہندوستانی مسلمانوں کےمسئلے کا حل ہے کہ نہیں؟ اس کامطالبہ اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اسلام نےکہا ں اورکب دین کےنام پر جغرافیائی تقسیم کامطالبہ کیا اور کفر و اسلام کی بستیاں بسائی ہیں۔ کیا یہ تقسیم قرآن میں ہے کہ حدیث میں؟ صحابہ نے کس مرحلے میں اس کی نیو ( بنیاد) اٹھائی ؟ فقہائے اسلام میں سےکس نے خدا کی زمین کو کفر و اسلام میں باٹنا؟ اگر اسلام میں کفر و اسلام کے اصول پر زمین کی تقسیم ہوتی تو اسلام ہمہ گیر ہوتا؟ مسلمانوں کی اتنی وسعت ہوتی؟ خود ہندوستان میں اسلام داخل ہوتا اور یہ مسلمان جو آج مسلمان ہونے کی بنا پر پاکستان کامطالبہ کرتے ہیں ان کے اجداد مسلمان ہوتے؟
جغرافیائی تقسیم صرف لیگ کی اختراع ہے۔ وہ اس کو سیاسی موقف قرار دے تو اس طرح بحث و نظر کا جواز ہوسکتا ہے لیکن قرآناً یا اسلاماً جغرافیائی تقسیم کاجواز کہیں نہیں اور کوئی نہیں۔ مسلمان اسلام کی اشاعت کے لئے ہیں یاسیات کی اساس پہ کفر و اسلام کی جغرافیائی تقسیم کے لئے؟ پاکستان کے مطالبہ نے مسلمانوں کو اسلاماً کیا فائدہ پہنچایا ، اب تک کچھ نہیں؟ پاکستان بن گیا تو اسلام کو کیافائدہ پہنچے گا، اس کاانحصار اس علاقہ کی سیاست پر ہے کہ اسےکس سرشت کی لیڈر شپ ملتی ہے۔ ہم جس ذہنی بحران سے گزر رہے ہیں، دنیائے اسلام کی جو حالت ہے اور مغربی ابتلانے جس طرح عالمی اذہان ( ذہنوں) پر قبضہ کر رکھا ہے اس کے پیش نظر مسلم لیگ کی لیڈ ر شپ کےآپ وگل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اس طرح تقسیم ہوا تو پاکستان میں اسلا م نہیں رہے گا۔ اور ہندوستان میں مسلمان نہیں ہوگا۔ یہ ایک سیاسی اندازہ ہے جو ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کےعلم میں ہے لیکن پاکستان میں اولاً مذہبی تصادم پیدا کئے جائیں گے۔ ثانیاً وہاں اس قسم کے لوگ مسند اقتدار پر فروکش ہوں گےجن سے دین کو سخت دھچکا لگے گا۔ عجب نہیں کہ نئی پود پر اس کا رد عمل ہو اور و ہ عصری تحریکوں کے لادین فلسفے کی ہوجائے ۔ ہندوستان کے ہندو صوبوں میں مذہب سے جو لگاؤ یادین سے جو شغف(لگاؤ) مسلمانوں کو ہے وہ پاکستان کےمسلمان صوبوں میں نہیں ۔ پاکستان میں علماء کی مزاحمت کے باوجود دین کی طاقت کمزور رہے گی حتیٰ کہ پاکستان کی شکل بدل جائے گی۔
سوال ۔ ‘‘ لیکن بعض علماء بھی تو قائد اعظم کے ساتھ ہیں’’۔
جواب ۔ علماء اکبر اعظم کےساتھ بھی تھے ، اس کی خاطر انہوں نے ‘‘ دین اکبری’’ ایجاد کیاتھا، اس شخصی بحث کو چھوڑ و ، اسلام کی پوری تاریخ علماء سےبھری پڑی ہےجن کی بدولت اسلام ہر دور میں سسکیاں لیتا رہا ۔ راست باز زبانیں چند ہی ہوتی ہیں ۔ پچھلے تیرہ سو برس کی تاریخ میں کتنے علماء ہیں جنہیں تاریخ نے تو قیر کےخانے میں جگہ دی ہے، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ تو ایک ہی تھے اور ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ بھی واحد ہی تھے ، ہندوستان میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کا خاندان ہی زندہ رہا باقی سب محو ہوگئے ۔ الاّ ماشا ءاللہ ۔ مجد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی حق گوئی پائندہ ہے لیکن جن لوگوں نے شکایتوں کے انبار لگا کر انہیں گوالیار کے قلعہ میں ڈلوایا تھا وہ بھی علماء تھے، اب کہاں ہیں؟ ان کے لئے کسی زبان پر کلمہ احترام ہے؟’’
سوال ۔ ‘‘ مولانا! پاکستان اگر سیاستاً قائم ہوجائے تو اس میں عیب کیا ہے؟ اسلام کا نام تو مسلمانوں کی ملّی و حدت کو محفوظ رکھنے کے لئے بولا جارہا ہے’’۔
جواب ۔ آپ اسلام کا نام ایک ایسی چیز کےلئے بول رہے ہیں جو اسلام ہی کی رو سے درست نہیں ۔ جنگ جمل میں قرآن نیزے پر لٹکا ئے گئے وہ درست تھے ؟ کربلا میں اہل بیت شہید کئے گئے ان کے قاتل مسلمان تھے ۔ کیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حلقہ بگوشی کے دعویدار نہ تھے ۔ حجاج مسلمان تھا اس نے بیت اللہ پر پتھراؤ کرایاتھا کیا اس کا فعل صحیح تھا؟ کسی بھی مقصد باطل کیلئے کوئی سا کلمہ حق درست نہیں ہوتا۔ پاکستان مسلمانوں کیلئے سیاستاً درست ہوتا تو میں اس کی حمایت کرتا لیکن خارجی اور داخلی کسی اعتبار سے بھی اس کےمضمرات مسلمانوں کے لیے خوشگوار نہیں، میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا۔
لیکن میں جو دیکھ رہا ہوں اس سے پھرنا میرے لئے ممکن نہیں لوگ طاقت کی مانتے ہیں یا تجربے کی ، جب تک مسلمان پاکستان کے تجربے سے نہیں گزریں گے ان کے لئے پاکستان کےبارےمیں کوئی دوسری بات جو اس کی نفی پر ہو، قابل قبول نہ ہوگی۔ وہ آج دن کو رات کہہ سکتے ہیں لیکن پاکستان سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، ایک بات ہوسکتی ہے کہ سرکاری طاقت پاکستان بنانے سے انکار کردے اور و ہ اس کے پلان پر راضی ہوجائیں یا خود مسٹر جناح ان کےذہن کو پھیر دیں او رسمجھوتے کی جو صورت سامنے آئے اس پر صادر کردیں۔
ہندوستان تقسیم ہوا، جیسا کہ مجھے ورکنگ کمیٹی کے بعض رفقاء کی ذہنی روش سےمحسوس ہورہا ہے تو ہندوستان ہی کا بٹوارہ نہ ہوگا ، پاکستان بھی بٹے گا۔ تقسیم آبادی کے اعتبار سے ہوگی، ان میں قدرتی حد بندی کیاہوگی؟ کوئی دریا کوئی پہاڑ، کوئی صحرا؟ کچھ نہیں ۔ ایک لکیر کھینچ جائے گی ۔ کب تک؟ کچھ کہنا مشکل ہے لیکن جو چیز نفرت پر ہوگی وہ نفرت پر قائم رہے گی اور نفرت ان کے مابین ایک مستقل خطرہ ہوگی ، اس صورت میں کسی بڑی تبدیلی ، تغیر یا کاٹ کے بغیر پاکستان اور ہندوستان کبھی دوست نہ ہوں گے۔ دونوں کے دل میں تقسیم کی فصیل ہوگی۔ تو سارے ہندوستان کےمسلمانوں کو سنبھالنا پاکستان کےلئے مشکل ہے کہ اس کی زمین ا س کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی لیکن مغربی پاکستان میں ہندوؤں کاٹھہرنا ممکن نہ ہوگا وہ نکالےجائیں گے یا خود چلے جائیں گے ، ان دونوں صورتوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی نگاہ پاکستان پر ہوگی پھر اس حالت میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے تین راستے ہوں گے۔
1۔ وہ لٹ لٹا یا پٹ پٹا کر پاکستان جائیں لیکن پاکستان کتنےمسلمانوں کو جگہ دے گا۔ 2۔ وہ ہندوستان میں اکثریت کےبلوائی ہاتھوں سے قتل ہوتے رہیں ۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایک طویل مدّت تک قہر و غضب کی قتل گاہ سے گزرے گی تا کہ تقسیمی تلخیوں کی وارث پود عمر طبعی گزار کر ختم ہو جائے۔ 3۔ مسلمانوں کی ایک تعداد ابتری ، سیاسی در ماندگی اور علاقائی غارت گری کا شکار ہو، وہ اسلام چھوڑ کر مرُتد ہوجائے ۔ وہ مسلمان جو لیگ کے حلقوں میں نمایاں ہیں پاکستان صنعت و تجارت کوہاتھ میں لے کر پاکستان کی معاشیات کے اجارہ دار ہوجائیں گے لیکن ہندوستان میں تین کروڑ کے لگ بھگ مسلمان رہ جائیں گے، لیگ کے پاس اس کےمستقبل کی ضمانت کیا ہے؟ کیا محض کاغذی معاہدہ ان کے لئے کافی ہوگا؟ ان کےلئے وہ حالت تو اور خطرناک ہوگی جو ہندوؤں او رسکھوں کےمغربی پاکستان سے نکل آنے کےبعد ہندوستان میں پیدا ہوگی ۔ پاکستان کئی ابتلاؤں کاشکار ہوگا۔ سب سے بڑا خطرہ جو محسوس ہوتا ہے وہ اندر خانہ عالمی طاقتوں کا اس پر کنٹرول ہوگا اور ہمہ قسم تغیرات کے ساتھ اس کنٹرول میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ہندوستان کا بھی اس سے اتفاق ہوگا کیونکہ وہ پاکستان کو اپنے لئے خطرہ گردان کر عالمی طاقتوں سے سیاسی جوڑ توڑ کرے گا لیکن پاکستان کا خطرہ شدید اور نقصان عظیم ہوگا۔ (جاری)
22 دسمبر، 2013 بشکریہ: روز نامہ جدید خبر، نئی دہلی
URL for English article:
URL for this article:
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
شورش کاشمیری کے انٹرویو کے ساتھ مولانا ابو الکلام آزاد کی یہ تقریر بھی ضرور سماعت فرمائے
http://www.bhatkallys.com/audio/1/?preacher=1&service=0&series=0
عبد المتین منیری
Director " BHATKALLYS"
Bhatkal , Karnataka
Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals
--
بہتر ہے ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کی ترقی کا راز خود اعتمادی میں ہے اور الحمد للہ اس کے بہتر نتائج نظر آرہے ہیں ۔ اقلیت اور اکثریت پر بحث کرتے ہوئے مجھے جناب سید حامد صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی کی بات یاد آتی ہے جو آپ نے ایک سندھی مفکر کے حوالے سے نقل کی تھی کہ دنیا کی تمام اقلیتیں علمی ، ،اقتصادی اور دیگر میدانوں میں اکثریت سے کئی گنا زیادہ محنت کرتی ہیں ، اور اکثریت سے زیادہ منظم ہوتی ہیں سوائے ہندوستان کی مسلم اقلیت کے ،یہ مسابقت اور محنت کے جذبے میں اکثریت سے پیچھے ہے ۔
لیکن یہ صورت حال اب آہستہ آہستہ بد ل رہی ہے ، اس کا اندازہ خلیجی ممالک میں مختلف میدانوں میں کام کرنے والے مسلمانوں سے کیا جاسکتا ہے ۔
رہی بات مولانا ابو الکلام آزاد کی توآپ کے بارے میں افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے ، ہماری نظر میں اب تک کوئی ایسی کتاب سامنے نہیں آئی ہے جو عقیدت سے بلند ہوکر تحقیق کے اعلی معیار کے مطابق منصفانہ انداز سے لکھی گئی ہو، اور تعجب کی بات ہے ہندوستان کے مسلمانوں نے آزاد سے کوئی زیادہ اعتنا نہیں برتا ، صرف بس مالک رام نے آپ کی کتابوں پر کام کیا ، اور ان کی کتابوں کو ساہتیہ اکیڈمی سے شائع کیا ، لیکن پاکستان کی صورت حال مختلف ہے ، یہاں مولانا آزاد کا دفاع اور ان کےآثار کا احیاء بڑے جذباتی انداز میں ہوا ، مولانا غلام رسول مہرنے باقیات جمع کیں ، مولانا نصر اللہ خان عزیز مدیر ایشاء نے خطبات آزاد مرتب کئے ، مولانا محمد اسحاق مدنی نے الہلال کی فائل کی ریپرنٹ سب سے پہلے شائع کی ، ڈاکٹر اسرار احمد تقریروں میں آپ کی ثناء کرتی رہے ، کراچی کے ایک صاحب کمال الدین ہندستان اور پاکستان کے مستقبل پر مولانا آزاد کی کتابوں کے انتخابات شائع کرتے رہے ، ابو سلمان شاہ جہانپوری کی تحریروں کا آزاد مرکزی عنصر رہے اور شورش کاشمیری نے تو خود کو مولانا آزاد کے لئے وقف کردیا ، وہ اس موضوع پر بڑے جذباتی تھے ، اپنے دوستوں کو بھی نہیں بخشتے تھے، مولانا آزاد پر شورش کی کتاب کو اردو کی چند موثر ترین سوانح عمریوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
مولانا رئیس احمد جعفری نے مولانا آزاد کی کتاب انڈیا ونس فریڈم کی اشاعت کے فورا بعد اس کی عبارتوں کا انتخاب کرکے اس پر نوٹس لکھے تھے ، اور اس وقت دعوی کیا تھا کہ اس کے بعد مولانا آزاد کی کتاب کے تیس صفحات کی چنداں ضرورت نہیں ہوگی ۔
مولانا آزاد پر کوئی رائے قائم کرنے کے لئے یہ کتاب کافی مفید ہے ، رئیس احمد جعفری ندوی روزنامہ خلافت ممبئی کے مدیر تھے اور غالبا مولانا محمد علی جوہر کے سکریٹری بھی رہے تھے ، مرارجی دیسائی جب بمبئی کے گورنر تھے تو رئیس احمد جعفری کو ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کیا تھا،
موصوف اس زمانے کے سیاسی صورت حال کے عینی گواہ تھے ۔آپ کی محمد علی جناح پر لکھی کتاب کو تاج کمپنی کراچی نے جو کہ ابتدا میں محمد علی روڈ ممبئی میں واقع تاج آفس شروع ہوئی تھی اس کے ابتدائی ایام میں بڑے پیمانے پر شائع کی تھی ۔
محترم خادم علی ہاشمی صاحب
بہت بہت مہربانی جو آپ نے ہمارے منتشر خیالات کو بھی قابل اعتناء سمجھا ، غالبا ہم سے تسامح ہوگیا ہے ، رئیس احمد جعفری کی محمد علی جوہر پر لکھی کتاب ہمارے مطالعہ سے کافی عرصہ قبل گذر چکی ہے ، ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ جعفری صاحب نے جناح پر بھی ایک کتاب لکھی ہے ، دراصل ہمارے تایا
محی الدین منیری صاحب مرحوم نے ہمیں بتایا تھا کہ رئیس احمد جعفری کی کتاب محمدعلی کو جسے تاج کمپنی ممبئی نے شائع کیا تھا اسے سائکلوں پر لادکر بمبئی کی گلی گلی میں فروخت کیا تھا۔ اس وقت کتاب کی قیمت ایک روپیہ تھی ، کمیشن فی کتاب ایک آنہ ملتا تھا ، یہ ان کی نوکری کے علاوہ پہلی آزاد کمائی تھی، منیری صاحب کو ممبئی پھر کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا طاہر قاسمی ، مولانا مفتی محمد شفیع ، مولانا ظفر احمد انصاری ، علامہ سید سلیمان ندوی وغیرہ کے ساتھ رہنےاور ان کی خدمت کرنے کا موقعہ ملا تھا ، یہ حضرات بھنڈی بازار کے کھڑک بمبئی کے قریب ایک بھٹکلی محمد سائب صدیقی مرحوم کے فلیٹ میں آزادی سے قبل ٹہرا کرتے تھے ،ہمارے تایا آزادی کے بعد چند عرصہ جمعیت علمائے اسلام ممبئی کے سکریٹری بھے رہے او ر تقسیم ہند کے بعد رونما ہونے والے فسادات کے موقعہ پر بڑی خدمت کی ۔ وہ ۱۹۶۵ تک جب کہ ہندوستان و پاکستان کے معمول کے مطابق تجارتی تعلقات قائم تھے تب تاج کمپنی کراچی کے ایجنٹ تھے ، ان کی دکان ایجنسی تاج کمپنی علماء و اہل علم کا ممبئی میں ایک اہم مرجع تھی ۔ آپ کے سسر مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی مصنف عرب و دیار ہند مولانا رئیس احمد جعفری ندوی کے ہم درجہ تھے ، سنا ہے کہ روزانہ شام کے وقت خواجہ صاحب سے ملنے دکان پر آتے تھے ، وہ بھی جمعیت علمائے اسلام ممبئی کے صدر رہے تھے ۔
اس وقت ممبئی کو برصغیر میں مرکزی حیثیت حاصل تھی ، خلافت ہاوس یہیں پر قائم تھا ، اب میلاد النبی کا جلوس اس کی یاد کارکے طور پر باقی رہ گیا ہے ، کوئی تیس سال قبل ہمارا خلافت ہاوس جانا ہوتا تھا، علی برادران کے آخری رفیق مرزا عبد الستار بیگ ابھی تا بہ حیات تھے ، مولانا غلام جیلانی ندوی اسے متحرک رکھنے کی ممکنہ کوشش کررہے تھے ، بی اماں کی قبر سے متصل خلافت ہاوس بڑا جذباتی ماحول پیدا کرتا تھا، اس وقت مولانا عبد الماجد دریابادی کی محمد علی ذاتی ڈائری ہماری نظر سے گذر چکی تھی ، اس کے بعد خلافت ہاوس کی زیارت پر دل پہ جو گذرتی تھی ، اسے بیان نہیں کیا جاسکتا ، خلافت ہاوس کی چہار دیواری پر خلافت تحریک کے زمانے اور تحریک آزادی کے مراحل کے تاریخی فوٹو ز آویزاں تھے ، ایسا لگتا تھا کہ کارواں سامنے سے گذر رہا ہے ۔ پتہ نہیں اب اس کا کیا حال ہے، شاید بلڈوزروں نے برصغیر کی سب سے بڑی اسلامی تحریک کے اس نشان کو زمین دوز کردہا ہو اور اس پر بلند و بالا عمارت کی تعمیر ہوچکی ہو۔ گذشتہ دنوں راشد اشرف کی رہنمائی مین جاوید صدیقی کے خاکے پڑھنے کا موقعہ ملا ، مولانا شوکت علی کے جانشین خلافت کے مدیر زاہد علی کو از سر نو زندہ کردیا ہے ، بڑا موثر خاکہ ہے۔