مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان (پہلی قسط)

0 views
Skip to first unread message

sami rahman

unread,
Mar 4, 2014, 9:28:13 AM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
Maulana Abul Kalam Azad: The Man Who Knew The Future Of Pakistan Before Its Creation (مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان (پہلی قسط

 

 

 

 

 

 

 

شورش کاشمیری

22 دسمبر، 2013

جناب شورش کاشمیری کو 1946 میں دیئے گئے انٹرویو کا پہلا حصہ

سوال۔ ہندو مسلم مناقشات (اختلافات) اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ جانبین (مخالفین) میں مفاہمت  کی دوسری تمام راہیں  ناپید ہوکر پاکستان ناگزیر ہو چکا ہے۔

جواب۔ہندو مسلم مناقشات (اختلافات) کا  حل پاکستان ہوتا تو میں خود اس کی حمایت کرتا ۔ ہندوؤں کاذہن بھی اسی  طرف پلٹ رہا ہے۔ ایک طرف آدھا پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان اور دوسری طرف آدھا بنگال دے کر انہیں سارا ہندوستان مل جائے تو بڑی سلطنت سیاسی حقوق کے ہر فرقہ  وار قضیے سےمحفوظ ہوجاتی ہے۔ اس طرح ہندوستان ایشیاء میں چین کے بعد لیگی  اصطلاح کےمطابق  ایک بڑی ہندو ریاست ہوگا۔ کسی حد تک عملاً بھی اور بڑی حد تک مزاجاً بھی ۔یہ کوئی ارادی چیز نہ ہوگی بلکہ اس کےمعاشرہ کا خاصا ہوگا۔ آپ ایک معاشرے کو جس کی آبادی 90 فیصد ہندو  ہو کسی اور سانچے  میں کیونکر ڈھال سکتے ہیں جب کہ زمانہ قبل از تاریخ  سے وہ اسی سانچے میں ڈھلی ہو اور اس کی سب سے برُی عصبیت  (قرابت، رشتہ داری) ہو۔ وہ چیز  جس نے معاشرے میں اسلام کی داغ بیل ڈالی اور اس کی آبادیوں  میں سے اپنی  ایک طاقتور اقلیت پیدا کی، اس تقسیمی  سیاست کی پر زور نفرت نےاشاعت اسلام کے دروازے ا س طرح بند کر دیئے ہیں کہ ان کے کھلنے کا سوال ہی نہیں رہا ۔ گویا اس سیاست نےمذہب  کی دعوت ختم کردی ہے۔ مسلمان قرآن کی طرف لوٹ رہے ہیں ، اگر وہ قرآن کی طرف لوٹ رہے ہیں، اگر وہ قرآن و سیرت کے مسلمان ہوتے اور اسلام کی آڑ میں خود ساختہ سیاسی عصبیتوں کو استعمال نہ کرتے تو اسلام ہندوستان میں رُکتا نہیں، بڑھتا اور پھیلتا ۔ اورنگزیب کے وقت میں ہم مسلمان ہندوستان میں غالباً سوا دو کروڑ تھے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم۔ مغلیہ سلطنت ختم ہوئی، انگریز کاغلبہ ہوا تو مسلمان آج کا (1946) 65 فیصد تھے۔ غرض تحریک خلافت کے آغاز تک مسلمان بڑھتے ہی رہے۔ لوگوں نےاسلام قبول کیا، افزائش نسل ہوئی۔ اگر ہندو مسلم منافرت یا سیاسی مسلمانوں کے لب و لہجہ  سے تندو تلخ نہ ہوتی اور سرکار ی مسلمان انگریزوں کی سیاست کو پروان چڑھا نے کے لئے ہندو مسلم نزاع  کو وسیع ومتحارب نہ کرتے تو عجب نہ تھا کہ مسلمانوں  کی تعداد موجودہ تعداد سے ڈیوڑھی ہوتی ۔ ہم نے سیاسی نزع پیدا کرکے تبلیغ اسلام کے دروازے اس طرح بند کئے گویا اسلام اشاعت کے لئے نہیں  سیاست کیلئے  ہے۔ اُدھر انگریزوں کےہتھے چڑھ کر کہ وہ مسلمانوں کی آبادی  میں وسعت نہ چاہتے تھے ہم  نےاسلام کو ایک محصور مذہب بنادیا پھر یہودیوں ، پارسی اور ہندو ؤں کی طرح ہم ایک موروثی  ملّت بن گئے کہ یہودی، پارسی او رہندو بن کرنہیں پید ا ہوتے  ہیں ۔ ہندوستان مسلمانوں نے دعوت اسلام کو منجمد  کردیا پھر کئی فرقوں  میں بٹ گئے ۔ بعض فرقے استعمال  پیداوار تھے ان سب میں حرکت وعمل کی جگہ  جمود و تعطل پیدا ہوگیا اور وہ ذہنی  طور پر اسلام سے محرومی کی زندگی  داخل ہوگئی ان کا وجود جہاد سے تھا لیکن یہی  چیز ان کے وجود سے خارج ہوگئی ۔ اب وہ بِدعات و سیاست کاشکار ہیں ۔ وہ مسلمان عقائد  کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں، دوسرے دین کےنہیں سیاست کے مسلمان ہیں۔ انہیں قرآنی دین نہیں سیاسی دین پسند ہے۔

پاکستان ایک سیاسی موقف ہے اس سےقطع نظر کہ پاکستان ہندوستانی مسلمانوں  کےمسئلے  کا حل ہے کہ نہیں؟ اس کامطالبہ اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اسلام نےکہا ں اورکب دین کےنام پر جغرافیائی تقسیم کامطالبہ کیا اور کفر و اسلام کی بستیاں بسائی ہیں۔  کیا یہ تقسیم قرآن میں ہے کہ حدیث  میں؟ صحابہ  نے کس مرحلے میں اس کی نیو ( بنیاد) اٹھائی ؟ فقہائے اسلام میں سےکس نے خدا کی زمین کو کفر و اسلام میں باٹنا؟ اگر اسلام میں کفر و اسلام کے اصول پر زمین کی تقسیم ہوتی تو اسلام ہمہ گیر ہوتا؟ مسلمانوں کی اتنی وسعت ہوتی؟ خود ہندوستان میں اسلام داخل ہوتا اور یہ مسلمان جو آج مسلمان ہونے کی بنا پر پاکستان کامطالبہ کرتے ہیں ان کے اجداد مسلمان ہوتے؟

جغرافیائی تقسیم صرف لیگ کی اختراع  ہے۔ وہ اس کو سیاسی موقف قرار دے تو اس طرح بحث و نظر کا جواز ہوسکتا ہے لیکن قرآناً یا  اسلاماً جغرافیائی تقسیم کاجواز کہیں  نہیں اور کوئی نہیں۔ مسلمان اسلام کی اشاعت کے لئے  ہیں یاسیات کی اساس پہ کفر و اسلام کی جغرافیائی تقسیم کے لئے؟ پاکستان کے مطالبہ نے مسلمانوں کو اسلاماً کیا فائدہ پہنچایا ، اب تک کچھ نہیں؟ پاکستان بن گیا تو اسلام کو کیافائدہ پہنچے گا، اس کاانحصار اس علاقہ کی سیاست پر ہے کہ اسےکس سرشت کی لیڈر شپ ملتی ہے۔ ہم جس ذہنی بحران سے گزر رہے ہیں، دنیائے اسلام کی جو حالت ہے اور مغربی ابتلانے جس طرح عالمی اذہان ( ذہنوں) پر قبضہ کر رکھا ہے اس کے پیش نظر مسلم لیگ کی لیڈ ر شپ کےآپ  وگل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اس طرح تقسیم ہوا تو پاکستان میں اسلا م نہیں رہے گا۔ اور ہندوستان میں مسلمان نہیں ہوگا۔ یہ ایک سیاسی اندازہ  ہے جو ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کےعلم میں ہے لیکن پاکستان میں اولاً مذہبی تصادم پیدا کئے جائیں گے۔ ثانیاً وہاں اس قسم کے لوگ مسند اقتدار  پر فروکش ہوں گےجن سے دین کو سخت دھچکا  لگے گا۔ عجب نہیں کہ نئی پود پر اس کا رد عمل ہو اور و ہ عصری تحریکوں کے لادین فلسفے کی ہوجائے ۔ ہندوستان کے ہندو صوبوں میں مذہب سے جو لگاؤ یادین سے جو شغف(لگاؤ) مسلمانوں  کو ہے وہ پاکستان  کےمسلمان صوبوں میں  نہیں ۔ پاکستان میں علماء کی مزاحمت کے  باوجود دین کی طاقت کمزور رہے گی حتیٰ کہ پاکستان کی شکل بدل جائے گی۔

سوال ۔ ‘‘ لیکن بعض علماء بھی تو قائد اعظم کے ساتھ ہیں’’۔

جواب ۔ علماء اکبر اعظم کےساتھ بھی تھے ، اس کی خاطر انہوں نے ‘‘ دین اکبری’’ ایجاد کیاتھا، اس شخصی بحث کو چھوڑ و ، اسلام کی پوری تاریخ علماء سےبھری پڑی ہےجن کی بدولت اسلام ہر دور میں سسکیاں لیتا  رہا ۔ راست باز زبانیں چند ہی ہوتی ہیں ۔ پچھلے تیرہ سو برس کی تاریخ میں کتنے علماء  ہیں جنہیں تاریخ نے تو قیر کےخانے میں جگہ  دی ہے، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ تو ایک ہی تھے اور ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ بھی واحد ہی تھے ، ہندوستان میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کا خاندان ہی زندہ رہا باقی سب محو ہوگئے ۔ الاّ ماشا ءاللہ ۔ مجد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ  کی حق گوئی پائندہ ہے لیکن جن لوگوں نے شکایتوں کے انبار لگا کر انہیں گوالیار کے قلعہ  میں ڈلوایا تھا  وہ بھی علماء تھے، اب کہاں ہیں؟  ان کے لئے کسی زبان پر کلمہ احترام  ہے؟’’

سوال ۔ ‘‘ مولانا! پاکستان اگر سیاستاً قائم ہوجائے تو اس میں عیب کیا ہے؟ اسلام کا نام تو مسلمانوں کی ملّی و حدت کو محفوظ رکھنے کے لئے  بولا جارہا ہے’’۔

جواب ۔ آپ اسلام کا نام ایک ایسی چیز کےلئے بول رہے ہیں جو اسلام ہی کی رو سے  درست نہیں ۔ جنگ  جمل  میں قرآن نیزے پر لٹکا ئے گئے وہ درست تھے ؟ کربلا  میں اہل بیت شہید کئے گئے ان کے قاتل  مسلمان تھے ۔ کیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی حلقہ بگوشی  کے دعویدار نہ تھے ۔ حجاج مسلمان تھا اس نے  بیت اللہ پر پتھراؤ کرایاتھا کیا اس کا فعل  صحیح تھا؟ کسی بھی مقصد باطل کیلئے کوئی سا کلمہ  حق درست نہیں ہوتا۔ پاکستان مسلمانوں کیلئے سیاستاً درست ہوتا تو میں اس کی حمایت کرتا لیکن خارجی  اور داخلی کسی اعتبار  سے بھی اس کےمضمرات مسلمانوں کے لیے خوشگوار نہیں، میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا۔

لیکن میں جو دیکھ رہا ہوں اس سے پھرنا میرے لئے  ممکن  نہیں لوگ طاقت کی مانتے ہیں یا تجربے کی ، جب تک مسلمان پاکستان کے تجربے سے نہیں گزریں گے ان کے لئے پاکستان کےبارےمیں کوئی دوسری بات جو اس کی نفی پر ہو، قابل قبول نہ ہوگی۔ وہ آج  دن کو رات کہہ سکتے ہیں لیکن پاکستان سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، ایک بات ہوسکتی  ہے کہ سرکاری طاقت  پاکستان بنانے سے انکار کردے اور و ہ اس کے پلان پر راضی ہوجائیں یا خود مسٹر جناح ان کےذہن  کو پھیر دیں او رسمجھوتے  کی جو صورت سامنے آئے اس پر صادر کردیں۔

ہندوستان تقسیم ہوا، جیسا کہ مجھے ورکنگ کمیٹی کے بعض رفقاء کی ذہنی روش سےمحسوس ہورہا ہے تو ہندوستان ہی کا بٹوارہ نہ ہوگا ، پاکستان بھی بٹے گا۔ تقسیم آبادی  کے اعتبار سے ہوگی، ان میں قدرتی  حد بندی  کیاہوگی؟ کوئی دریا کوئی پہاڑ، کوئی صحرا؟ کچھ نہیں ۔ ایک لکیر کھینچ جائے گی ۔ کب  تک؟ کچھ کہنا مشکل ہے لیکن جو چیز نفرت پر ہوگی وہ نفرت پر قائم رہے گی اور نفرت ان کے مابین  ایک مستقل خطرہ ہوگی ، اس صورت میں کسی بڑی تبدیلی ، تغیر یا کاٹ کے بغیر پاکستان اور ہندوستان  کبھی دوست نہ ہوں گے۔ دونوں کے دل میں تقسیم کی فصیل  ہوگی۔ تو سارے ہندوستان کےمسلمانوں کو  سنبھالنا پاکستان  کےلئے  مشکل ہے کہ اس  کی زمین ا س کی متحمل  ہی  نہیں ہوسکتی لیکن مغربی پاکستان  میں ہندوؤں کاٹھہرنا ممکن  نہ ہوگا وہ نکالےجائیں گے یا خود چلے جائیں گے ، ان دونوں صورتوں  میں ہندوستانی  مسلمانوں کی نگاہ پاکستان پر ہوگی پھر اس حالت میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے تین راستے ہوں گے۔

1۔ وہ لٹ لٹا یا پٹ پٹا  کر پاکستان جائیں لیکن پاکستان کتنےمسلمانوں کو جگہ دے گا۔ 2۔ وہ ہندوستان  میں اکثریت کےبلوائی ہاتھوں سے قتل ہوتے رہیں ۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایک طویل  مدّت تک قہر  و غضب کی قتل گاہ سے گزرے گی تا کہ تقسیمی  تلخیوں کی وارث پود عمر طبعی گزار کر ختم ہو جائے۔ 3۔ مسلمانوں کی ایک تعداد ابتری ، سیاسی در ماندگی اور علاقائی غارت گری کا شکار ہو، وہ اسلام چھوڑ کر مرُتد ہوجائے ۔ وہ مسلمان جو لیگ کے حلقوں میں نمایاں ہیں پاکستان صنعت و تجارت کوہاتھ  میں لے کر پاکستان کی معاشیات  کے اجارہ دار ہوجائیں گے لیکن  ہندوستان  میں تین  کروڑ کے لگ بھگ مسلمان رہ جائیں گے، لیگ  کے پاس اس کےمستقبل  کی ضمانت  کیا ہے؟ کیا محض  کاغذی  معاہدہ  ان کے لئے  کافی ہوگا؟ ان کےلئے وہ حالت تو اور خطرناک  ہوگی جو ہندوؤں او رسکھوں کےمغربی پاکستان سے نکل آنے کےبعد ہندوستان میں پیدا ہوگی ۔ پاکستان کئی ابتلاؤں کاشکار ہوگا۔ سب سے بڑا خطرہ جو محسوس  ہوتا ہے وہ اندر خانہ عالمی طاقتوں کا اس پر کنٹرول  ہوگا اور ہمہ  قسم تغیرات کے ساتھ  اس کنٹرول  میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ہندوستان کا بھی اس سے اتفاق ہوگا کیونکہ وہ پاکستان کو اپنے لئے خطرہ گردان کر عالمی  طاقتوں سے سیاسی  جوڑ توڑ  کرے گا لیکن پاکستان  کا خطرہ شدید اور نقصان عظیم ہوگا۔ (جاری)

22 دسمبر، 2013  بشکریہ: روز نامہ جدید خبر، نئی دہلی

URL for English article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/maulana-abul-kalam-azad--the-man-who-knew-the-future-of-pakistan-before-its-creation/d/2139

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/shorish-kashmiri-شورش-کاشمیری/maulana-abul-kalam-azad--the-man-who-knew-the-future-of-pakistan-before-its-creation-(مولانا-ابوالکلام-آزاد-اور-پاکستان-(پہلی-قسط/d/35655

 


--
With best regards

S.Rahman

9711276891

saleem kidwai

unread,
Mar 4, 2014, 11:51:37 AM3/4/14
to bazmeqalam
A wonderful article


--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.



--
Dr Saleem Kidwai
American Studies Division
School of International Studies
Jawaharlal Nehru University
New Delhi-110067,India
Cell No- +91-11-9953529424,
91-11-22719699

Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 4, 2014, 3:07:04 PM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com

شورش کاشمیری کے انٹرویو کے ساتھ  مولانا ابو الکلام آزاد کی یہ تقریر بھی ضرور سماعت فرمائے

http://www.bhatkallys.com/audio/1/?preacher=1&service=0&series=0

 

عبد المتین منیری

Director " BHATKALLYS"

Bhatkal , Karnataka

Our urdu News, Audio’s, And Video’s Portals

www.akhbaroafkar.com 

www.urduaudio.com

www.urduvision.com

--

Khalid Nadeem

unread,
Mar 4, 2014, 9:12:57 PM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
مرحوم عبدالکلام آزاد کی تمام تر سیاسی بصیرت کا اندازہ مسلم ریاست کے قیام اور اس کے مستقبل کے بارے میں ان کے فرمودات سے لگایا جاتا رہا ہے، اگر تھوڑی دیر کے لیے مقبوضہ کشمیر سمیت ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کے موجودہ حالات اور ان کے ساتھ ملکی اکثریت کے سلوک کو بھی دیکھ لیا جائے تو ان کے جملہ کمالات کا زیادہ درست طور پر اندازہ لگایا جا سکے گا۔ آزاد کی ذہنی تنگ نظری اور تاریخی مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر ہی ان کے ارشادات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

Abdullah Salman

unread,
Mar 4, 2014, 8:09:07 PM3/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com
Assalamu Alaikum
Muniri Sab
aap ki website nai andaz me dekh kar khushi hui, 
Dusri baat maine aap ko 1 mail kiya tha ki aap ki urdu khidmat ke taluq se mujhe kuch information chahiye the
uska jawab abi tak nahi mausool hua.

Wassalam
--
Abdullah Salman Riyaz
Scholars Multi Services
Bangalore
Cell: 9341378921 / 9341378953

Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 5, 2014, 2:00:03 AM3/5/14
to Bazm E Qalam Group
ہماری سمجھ میں اس قسم کے سوالات کے جوابات نہیں سوجھتے ، ہم نے کوشش بھی نہیں کی کہ اپنی خدمات کا حساب لگائیں۔ سینکڑوں کے آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ کئے لیکن کبھی ویڈیو پر خود کودکھانے کا  نہیں سوچا ۔
 اردو آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ کوشش کی ہے ماضی کو حال و مستقبل سے جوڑا جائے ، عملی شکل میں شعر و ادب و فکر کی اعلی اور معیاری مثالیں پیش کی جائیں جو مشعل راہ بن سکیں ، کیونکہ عملی مثالوں کی موجودگی میں مشکل راہوں پر چلنا آسان ہوجاتا ہے  ، اللہ نے 1981 میں اس قسم کے اولین سلسلے پیغام اسلام کیسٹ سیریز کو شروع کرنے کی توفیق دی ، خدا کا شکر ہے ان کوششوں کو کامیابی ملی ، اور سیکڑوں شخصیات کے واضح نقوش نئی نسلوں کے سامنے آگئے
، ہمارے تایا محی الدین منیری صاحب نے  جو کہ جامعہ اسلامیہ بھتکل کے بانی و ناظم بھے تھے اور بڑے بڑوں کی آنکھیں دیکھے ہوئے تھے ہدایت کی چونکہ ہماری معاش کتابوں سے وابستہ رہی ہے لہذا ان تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے جامعہ کی لائبریری کی کتابوں سے تزیین کی زمہ داری اپنے سر لوں ، الحمد للہ اس لائبریری کا شمار معیاری اور منتخب لائبریریوں مین ہونے لگا ہے ۔ لائبریری کے حصہ میں  مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی خوب دعائیں آئیں  جب یہاں شیخ محمد رشید رضا مصری کے انییسویں صدی کے اواخر میں شروع کئے گئے مجلہ المنار کی چالیس سالہ فائل مکمل  طور پر ملی ، اس میں مولانا کی سولہ سترہ سال کی عمر میں آج سے کوئی چوراسی سال قبل چھپا آپ کا پہلا مضمون پہلی مرتبہ دیکھا ۔ 
گذشتہ دو سالوں سے ہمارے سامنے جامعہ ہی میں بچوں کی معیاری لاٗئبریری کا قیام ہے ۔ اس سلسلے میں پیش رفت ہورہی ہے ، اور ایک اچھا خاصہ مجموعہ جمع ہوگیا ہے، جس سے طلبہ استفادہ کررہے ہیں ، جامعۃ الصالحات بھٹکل جو کہ ہمارے تایا ہی کا قائم کردہ نسوان کا ادارہ ہے، اس میں بھی ایک معیاری لائبری کے قیام کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے لیکن رفتار سست ہے ۔
بحث ونظر پٹنہ ، تحقیقات اسلامی علی گڑھ اور ترجمان القرآن لاہور میں مختلف اوقات میں نئی عربی کتابوں پر تبصرے شائع ہوتے رہے ہیں ، احباب  کا اصرار ہے کہ اس سلسلے کو جاری رکھیں ، لیکن کاہلی مانع آرہی ہے ۔ اس وقت ارمغان جامعہ مین رہنمائے کتب کے عنوان سے تعارف کتب کا ایک سلسلہ جاری ہے ، جس کا مقصد ہمارے طلبہ مدارس عربیہ فارغین و مدرسین کی ایسی کتابوں تک رسائی ہے جو ان کے علمی و تحقیقی کے معیار کو بڑھانے کے لئے لازمی ہیں ، جن کتابوں کا تعارف دیا گیا ہے ان کے پی ڈی یف کی لنک بھتکلیس کے کتب خانے میں دینے کا ارادہ ہے ۔
لکھنے کے لئے جس ماحول کی ضرورت ہے اس سے محروم ہوں لہذا کم ہی لکھنا ہوتا ہے ۔ ہمارے مضامین اور خاکے  ساحل آن لائن پر دیکھے جاسکتے ہیں  ۔ 
ہماری تحقیق کا اہم موضوع اندلس کے زوال کے بعد یورپ کی نشات ثانیہ اور پرتگالی استعمار ہے ، عربی انگریزی پرتغالی لٹریچر سے کافی مواد کا ترجمہ ہوچکا ہے ، ترتیب کی دیر ہے ، پتہ نہیں کب اس کو مکمل کرنے کا موقعہ ملے ، اس پروجکٹ کی تکمیل کی صورت میں  ممکن ہے بہت سے تاریخی نظرئے بدل جائیں ، اور برصغیر پر سامراج کے قبضہ کی ایک نئی تاریخ رقم ہو۔ 
شکریہ
عبد المتین منیری

 Abdul Mateen Muniri
Director " BHATKALLYS"
Bhatkal , Karnataka
Our urdu Audio And Video Web Sights 
Skype: ammuniri

Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 6, 2014, 1:34:37 PM3/6/14
to BAZMe...@googlegroups.com

بہتر ہے ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کی ترقی کا راز خود اعتمادی میں ہے  اور الحمد للہ اس کے بہتر نتائج نظر آرہے ہیں ۔ اقلیت اور اکثریت پر بحث کرتے ہوئے مجھے جناب سید حامد صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی کی بات یاد آتی ہے جو آپ نے ایک سندھی مفکر کے حوالے سے نقل کی تھی کہ دنیا کی تمام اقلیتیں  علمی ، ،اقتصادی اور دیگر میدانوں میں  اکثریت سے کئی گنا زیادہ محنت کرتی ہیں ، اور اکثریت سے زیادہ منظم ہوتی ہیں سوائے ہندوستان کی مسلم اقلیت کے ،یہ  مسابقت اور محنت کے جذبے میں  اکثریت سے پیچھے ہے ۔

لیکن یہ صورت حال اب آہستہ آہستہ بد ل رہی ہے ، اس کا اندازہ خلیجی ممالک میں مختلف میدانوں میں کام کرنے والے مسلمانوں سے  کیا جاسکتا ہے ۔

رہی بات مولانا ابو الکلام آزاد کی  توآپ کے بارے میں افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے ،  ہماری نظر میں اب  تک کوئی ایسی کتاب سامنے نہیں آئی ہے جو عقیدت سے بلند ہوکر تحقیق کے اعلی معیار کے مطابق منصفانہ انداز سے لکھی گئی ہو، اور تعجب کی بات ہے ہندوستان کے مسلمانوں نے آزاد سے  کوئی زیادہ اعتنا نہیں برتا ،  صرف بس مالک رام نے آپ کی کتابوں پر کام کیا ، اور ان کی کتابوں کو  ساہتیہ اکیڈمی سے شائع کیا  ، لیکن پاکستان کی صورت حال مختلف ہے ،  یہاں مولانا آزاد کا دفاع اور ان کےآثار کا احیاء  بڑے جذباتی انداز  میں  ہوا ، مولانا غلام رسول مہرنے باقیات جمع کیں ، مولانا نصر اللہ خان عزیز مدیر ایشاء نے خطبات آزاد مرتب کئے ، مولانا محمد اسحاق مدنی نے الہلال کی فائل کی ریپرنٹ  سب سے پہلے شائع کی ، ڈاکٹر اسرار احمد تقریروں میں آپ کی ثناء کرتی رہے ، کراچی کے ایک صاحب کمال الدین ہندستان اور پاکستان کے مستقبل پر مولانا آزاد کی کتابوں کے انتخابات شائع کرتے رہے ، ابو سلمان شاہ جہانپوری کی تحریروں کا آزاد مرکزی عنصر رہے  اور شورش کاشمیری نے تو خود کو مولانا آزاد کے لئے وقف کردیا  ، وہ اس موضوع پر بڑے جذباتی تھے ، اپنے دوستوں کو بھی نہیں بخشتے تھے، مولانا آزاد پر شورش کی کتاب کو اردو کی چند موثر ترین سوانح عمریوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

مولانا رئیس احمد جعفری نے مولانا  آزاد کی کتاب انڈیا ونس فریڈم کی اشاعت کے فورا بعد اس کی عبارتوں کا انتخاب کرکے اس پر نوٹس لکھے تھے ، اور اس وقت دعوی کیا تھا کہ اس کے بعد مولانا آزاد کی کتاب کے تیس صفحات کی چنداں ضرورت نہیں ہوگی ۔

مولانا آزاد پر کوئی رائے قائم کرنے کے لئے یہ کتاب کافی مفید ہے ، رئیس احمد جعفری ندوی روزنامہ خلافت ممبئی کے مدیر تھے اور غالبا مولانا محمد علی جوہر کے سکریٹری بھی رہے تھے ، مرارجی دیسائی جب بمبئی کے گورنر تھے تو رئیس احمد جعفری کو ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کیا تھا،

موصوف اس زمانے کے سیاسی صورت حال کے عینی گواہ تھے ۔آپ کی محمد علی جناح پر لکھی کتاب کو تاج کمپنی  کراچی نے جو کہ ابتدا میں محمد علی روڈ  ممبئی میں   واقع تاج آفس شروع ہوئی تھی  اس کے ابتدائی ایام میں بڑے پیمانے پر شائع کی تھی ۔

Khadim Ali Hashmi

unread,
Mar 6, 2014, 8:41:46 PM3/6/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم منیری صاحب
سلام مسنون۔ نیٹ پر آپ کی کاوشوں کا خاموش خوشہ چیں ہوں۔ آپ کی ویب سائٹ سے علم و ادب کے موتی چنتا رہتا ہوں۔ جن کے لیے بصد خلوص شکرگزار ہوں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے انٹرویو کے بارے میں کئی مقامات پر اختلافِ رائے کی گنجائش ہے۔ تاہم  یہ پیغام آپ کے ایک سہو کی جانب اشارہ کرنے کے لیے ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ رئیس احمد جعفری نے قائدآعظم محمد علی جناح کی سوانح مرتب کی تھی، جس میں آپ کو تسامح ہوا ہے۔ جعفری صاحب نے، جب وہ جامعہ ملیہ کے طالب علم تھے، مولانا محمد علی جوہر کی سوانح حیات لکھی تھی، اس سے بہتر مولانا جوہر کی کوئی سوانح میری نظر سے نہیں گزری اور غالباً جعفری صاحب کا بھی یہ کتاب شاہکار ہے۔
آپ اردو زبان و ادب اور اسلامی ورثے کی جس طرح خدمت کر رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے۔
دعائوں کے ساتھ
خادم علی ہاشمی

Abdul Mateen Muniri

unread,
Mar 7, 2014, 6:52:25 AM3/7/14
to BAZMe...@googlegroups.com

محترم خادم علی ہاشمی  صاحب

بہت بہت مہربانی جو آپ نے ہمارے منتشر خیالات کو بھی قابل اعتناء سمجھا ، غالبا ہم سے تسامح ہوگیا ہے ، رئیس احمد جعفری کی محمد علی جوہر پر لکھی کتاب ہمارے مطالعہ سے کافی عرصہ قبل گذر چکی ہے ، ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ جعفری صاحب نے جناح پر بھی ایک کتاب لکھی ہے ، دراصل ہمارے تایا

محی الدین منیری صاحب مرحوم  نے ہمیں بتایا تھا کہ رئیس احمد جعفری کی کتاب محمدعلی کو جسے تاج کمپنی  ممبئی نے شائع کیا تھا اسے سائکلوں پر لادکر  بمبئی  کی گلی گلی  میں فروخت کیا تھا۔ اس وقت کتاب کی قیمت ایک روپیہ تھی ، کمیشن فی کتاب ایک آنہ ملتا تھا ، یہ ان کی نوکری کے علاوہ پہلی آزاد کمائی تھی، منیری صاحب کو ممبئی پھر کراچی  میں مولانا شبیر احمد عثمانی،  مولانا طاہر قاسمی ، مولانا مفتی محمد شفیع ، مولانا ظفر احمد انصاری ، علامہ سید سلیمان ندوی وغیرہ کے ساتھ رہنےاور ان کی خدمت کرنے کا موقعہ ملا تھا ، یہ حضرات بھنڈی بازار  کے کھڑک بمبئی کے قریب ایک بھٹکلی محمد سائب صدیقی مرحوم کے فلیٹ میں آزادی سے قبل ٹہرا کرتے تھے ،ہمارے تایا آزادی کے بعد چند عرصہ جمعیت علمائے اسلام ممبئی کے سکریٹری بھے رہے  او ر تقسیم ہند کے بعد رونما ہونے والے فسادات کے موقعہ پر بڑی خدمت کی ۔ وہ ۱۹۶۵ تک جب کہ ہندوستان و پاکستان کے معمول کے مطابق تجارتی تعلقات قائم تھے تب تاج کمپنی کراچی کے ایجنٹ تھے ، ان کی دکان  ایجنسی تاج کمپنی  علماء و اہل علم کا  ممبئی میں ایک اہم مرجع تھی ۔ آپ کے سسر مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی  مصنف عرب و دیار ہند     مولانا رئیس احمد جعفری ندوی کے ہم درجہ تھے ، سنا ہے کہ روزانہ شام کے وقت خواجہ صاحب سے ملنے دکان پر آتے تھے ، وہ بھی جمعیت علمائے اسلام ممبئی کے صدر رہے تھے ۔

اس وقت ممبئی کو برصغیر میں مرکزی حیثیت حاصل تھی ، خلافت ہاوس یہیں پر قائم تھا ، اب میلاد النبی کا جلوس اس کی یاد  کارکے طور پر باقی رہ گیا ہے ، کوئی تیس سال قبل ہمارا خلافت ہاوس جانا ہوتا تھا، علی برادران کے  آخری رفیق مرزا عبد الستار بیگ ابھی تا بہ حیات تھے ، مولانا غلام جیلانی ندوی اسے متحرک رکھنے کی ممکنہ کوشش کررہے تھے ، بی اماں کی قبر سے متصل خلافت ہاوس بڑا جذباتی ماحول پیدا کرتا تھا، اس وقت مولانا عبد الماجد دریابادی کی محمد علی ذاتی ڈائری ہماری نظر سے  گذر چکی تھی ، اس کے بعد خلافت ہاوس کی زیارت پر دل پہ جو گذرتی تھی ، اسے بیان نہیں کیا جاسکتا ، خلافت ہاوس کی چہار دیواری پر خلافت تحریک کے زمانے اور تحریک آزادی کے مراحل کے تاریخی فوٹو ز آویزاں تھے ، ایسا لگتا تھا کہ کارواں سامنے سے گذر رہا ہے ۔ پتہ نہیں اب اس  کا کیا حال ہے، شاید بلڈوزروں نے  برصغیر کی سب سے بڑی اسلامی تحریک  کے اس نشان کو زمین دوز کردہا ہو اور اس پر بلند و بالا عمارت کی تعمیر ہوچکی ہو۔ گذشتہ دنوں راشد اشرف کی رہنمائی مین جاوید صدیقی کے خاکے پڑھنے کا موقعہ ملا ، مولانا شوکت علی کے جانشین خلافت  کے مدیر زاہد علی کو از سر نو زندہ کردیا ہے ، بڑا موثر خاکہ ہے۔

Khadim Ali Hashmi

unread,
Mar 7, 2014, 7:19:01 AM3/7/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم منیری صاحب
آپ نے کیا ذکر چھیڑ دیا جو ہماری تاریخ کا روشن باب بھی ہے اور تاریک بھی! تحریک خلافت، مولانا محمد علی، شوکت علی کی رہنمائی میں کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ اس دور کے لیڈر اپنی جیب سے خرچ کرکے سفر کرتے۔ مولانا حسرت موہانی ہمیشہ تھرڈ کلاس کے ریل کے ڈبے میں سفرکیا کرتے تھے۔ یہی کیفیت احرار لیڈروں کی تھی۔وہ لوگ جذباتی تھے، جس جواں مردی سے سرکارانگلیشیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے اور جس آن کے ساتھ جیل چلے جاتے وہ انہی کاحصہ تھا، اور یہ سب جذباتیت یا ایمان کی پختگی ہی تو تھی کہ گلی گلی چندہ مانگ رہے ہوتے یا تقریروں کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو جگارہے ہوتے۔
آپ کی باتیں ماجی کے دریچوں کو وا کرتی چلی گئی ہیں اللہ آپ کو خوش رکھے۔
خیراندیش
خادم علی ہاشمی
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages