خامہ بگوش کا تحقیق نامہ سلمان فیصل ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اس جہان آب و گل کے ہر میدان میں ایسی بے شمار شخصیتیں پیدا ہوئیں
جو مختلف النوع صفات کی حامل تھیں۔ اسی طرح اردو زبان و ادب کے ہر شعبے میں بھی ایسے ماہرین نظر آئیں گے جو ہرفن مولا کہے جاسکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت مشفق خواجہ کی ہے ۔ وہ بیک وقت ادیب، انشا پرداز، ناقد، محقق، شاعر اور مزاح نگار تھے۔ یوں تو مشفق خواجہ اپنے طنزیہ مزاحیہ ادبی کالم نگاری کے لیے بہت مشہور ہیں لیکن انھوں نے تحقیق کے میدان میں قدم رکھا تو یہاں بھی ان مٹ نقوش چھوڑگئے۔تحقیق کے میدان میں محمود شیرانی، مولوی عبد الحق، مسعود حسن رضوی ادیب، امتیاز علی عرشی،رشید حسن خاں، محی الدین قادری زور، قاضی عبدالودود ، مسعود حسین خاں اور
گیان چند جین جیسے نابغہ فن پیش پیش ہیں، اسی صف میں مشفق خواجہ بھی نظر آتے ہیں۔ مشفق خواجہ کو تحقیق و تنقید سے بہت لگاؤ تھا ۔ ان کی تحقیقی کتابوں میں سعادت خاں ناصرکے ’’تذکرہ خوش معرکہ زیبا‘‘ اور احمد دین کی تصنیف ’’اقبال‘‘ کی تدین کے علاوہ’’ کلیات یگانہ‘‘ اور ’’جائزہ مخطوطات اردو‘‘(جلد اول)شامل ہیں۔ ’’تحقیق نامہ ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تحقیق نامہ
مشفق خواجہ کے چھ طویل تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ ابتدائی تین مضامین تین قدیم شعرا پر مشتمل ہے:محمد رضا قزلباش خاں امید، شاہ قدرت اللہ قدرت اور مرزا جعفر علی حسرت۔ چوتھا مضمون ’’تذکرہ گلشن مشتاق‘‘ پر ہے اور پانچواں و چھٹا مضمون ان کی دو مدوَّن کتابوں پران کا لکھا ہوا مقدمہ ہے۔ ایک سعادت خاں ناصر کے تذکرہ ’’خوش معرکہ زیبا‘‘ اور دوسرا احمد دین کی کی تصنیف ’’اقبال‘‘ پر۔ مشفق خواجہ نے تحقیق نامہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ان چھ مضامین کو ا س کتاب میں شامل کرنے کے وقت ان میں سے کچھ میں خاصی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور کچھ میں نظر ثانی کا عمل زبان و بیان کی حد تک رہا ہے ۔ نیز پانچواں مضمون سعادت خاں ناصر کو بقول مشفق خواجہ انھوں نے از سر نو لکھا ہے ۔ تحقیق نامہ میں مستعمل زبان یکسر تحقیقی ہے۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ خامہ بگوش کے نام سے طنزیہ ومزاحیہ ادبی کالم لکھنے والے مشفق خواجہ کی تحریر ہے۔ دونوں کا اسلوب جداگانہ ہے۔ ابتدائی تین مضامین میں تین
قدیم شاعروں کے حالات زندگی اور ان کی شاعری کے بارے میں خامہ فرسائی کی گئی ہے ۔ ہر بات کو دلیل اور مختلف تذکروں کے حوالے کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ اگر کسی بات پر مختلف تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف ہے تو تمام اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد ترجیح کی صورت مع دلیل درج کی ہے۔ مشفق خواجہ نے کئی جگہ کثرت سے اختلافات کا ذکر کیا ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے بہت زیادہ تذکروں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور ترجیح کی صورت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مشفق خواجہ کو تذکرہ نگاروں سے بہت زیادہ واقفیت تھی۔ مشفق خواجہ جب بھی کوئی بات یا حقیقت درج کرتے ہیں تو
اس کو کن کن تذکرہ نگاروں نے بیان کیا ہے ، بریکٹ میں سبھی تذکروں کے اسماء اور کبھی تذکرہ نگاروں کے نام بھی درج کرتے جاتے ہیں، جس سے معلو م ہوتا ہے کہ یہ بات فلاں فلاں تذکروں میں موجود ہے۔ مشفق خواجہ صاحب جب اقتباسات نقل کرتے ہیں تو اس بات کاضرور اہتمام کرتے ہیں کہ اگر اقتباس میں کسی شخصیت کا ذکر ہے جس کے بارے میں وضاحت ضروری ہے یا کوئی ایسی بات جس کے قاری کی فہم تک نہ پہنچ
سکنے کا اندیشہ ہے تو اس کی وضاحت حاشیہ میں ضرور کرتے ہیں جس سے پوری طرح اقتباس کا مفہوم واضح ہو جاتاہے۔ اقتباسات کے حوالے دینے کا انداز بھی جداگانہ ہے۔ کبھی تو اقتباس کے آخر میں ہی حوالہ درج کردیتے ہیں جس میں کتاب کا نام اور صفحہ نمبر شامل ہوتا ہے اور کبھی سنہ اشاعت۔۔۔ دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اقتباس کے آخر میں نمبر درج کرکے مضمون کے آخر میں حواشی میں حوالہ درج کرتے ہیں جس میں کتاب کا نام، مصنف کا نام، سنہ اشاعت اور صفحہ نمبر شامل ہوتاہے۔ مشفق خواجہ کی یہ کتاب تحقیق نامہ ان چھ لوگوں کے حالات زندگی پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جن کا ذکر اس کتاب میں کیا گیا ہے ۔ بقول مشفق خواجہ اس سے پہلے ان لوگوں پر کبھی بھی یکجا تفصیل سے کچھ نہیں لکھا گیا۔ اس طرح یہ کتاب ان پر ثانوی مآخذ میں سب سے اہم، قوی اور قابل تقلید کتاب کا درجہ رکھتی ہے ۔ تحقیق نامہ کا پہلا مضمون’’مرزا محمد رضاقزلباش خاں امید‘‘ پر ہے جن کی سوانح، شخصیت اور شاعری کے بارے میں احوال پیش کرنے کے لیے مشفق خواجہ نے متعدد تذکروں کے علاوہ چار مخطوطات سے بھی استفادہ کیا ہے ۔ قزلباش خاں امید کے احوال درج کرتے وقت تمام تذکروں کے اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد ترجیح کی صورت بھی پیش کی ہے جو اس کتاب کی بڑی خوبی ہے۔ قزلباش خاں کے نام کے سلسلے میں مشفق خواجہ لکھتے ہیں: ’’امید کانام تذکروں میں محتلف طرح آیا ہے۔ ’’محمد رضا‘‘ (مجمع النفائس، ریاض الشعرا، صحف ابراہیم، گلشن ہندلطف، سفینہ ہندی،) ’’مرزامحمد رضا‘‘ (سرو آزاد) ’’قزلباش خان‘‘ ( سفینہ خوش گو، مخزن نکات، گلشن ہند حیدری، تذکرہ عشقی، عمدہ منتخبہ، ریاض الفصحا، مجموعۂ نغز) ’’محمد رضا قزلباش خان‘‘ ( تحفۃ الشعرا) ’’آقا رضا‘‘ ( آتش کدۂ آذر، سفینۃ الحمود)۔ صحیح نام’’ محمد رضا‘‘ ہے جو امید سے ذاتی واقفیت رکھنے والے تمام تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے۔ مغل ہونے کی بنا پر ’’میرزا‘‘ خاندانی نام ہے۔ اور پورے نام کا جزو اول ہے۔ (جیسا کہ آزاد بلگرامی نے لکھا ہے) ’’قزلباش خان‘‘ جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا ، خطاب ہے‘‘ (ص:۱۱) اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ مشفق خواجہ حقائق کو پیش کرنے میں کتنی احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ اس مضمون میں امید کے اصل وطن کے بارے میں بتایا گیاہے کہ وہ ہمدان میں پیدا ہوئے، وہاں سے اصفہان آئے اور پھر ہندوستان آمد ہوئی۔ ہندوستان میں کہاں کہاں قیام رہا اس کی بھی تفصیل موجود ہے۔ متعدد تذکر وں اور مخطوطوں کے حوالے سے شخصیت کی عکاسی کی گئی ہے کہ وہ رنگین شخصیت کے مالک تھے۔ یارباشی، حسن پرستی اور مجالس آرائی کی صفات رکھتے تھے اور ساتھ ساتھ غریبوں اور
ضرورت مندوں کے بھی کام آتے تھے۔ امید کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے مشفق خواجہ نے ان کے فارسی کلام کے آٹھ نسخوں کی تفصیل پیش کی ہے ۔ مضمون کے آخر میں مشفق خواجہ نے ’’پس نوشت‘‘ کے عنوان کے تحت تین تذکروں کا ذکر کیا ہے جن سے وہ استفادہ نہیں کر سکے ۔ اس کتاب کا دوسرا مضمون ’’شاہ قدرت اللہ قدرت‘‘ پر ہے۔ اس مضمون میں بھی واقعات و حقائق کو پیش کرنے کا وہی طریقہ کا ر ہے جو پہلے
مضمون میں تھا۔ شاہ قدرت کے خاندان کے بارے میں قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ شاہ قدرت دہلی کے رہنے والے تھے ۔ انھوں نے یہاں سے نکل کر لکھنؤ، پٹنہ اور مرشدآباد کا بھی سفر کیااور آخری دنوں میں وہ مرشدآباد میں قیام پذیر رہے۔ تمام اسفار کے احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔ تذکرو ں کے اقتباسات کے ذریعہ شاہ قدرت کی سیرت اور کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ میر حسن:’’ بلند پایہ وقوی مایہ.....درویش وضع، خلیق طبع، رتبہ قدرش وسیع....مردے خوب است‘‘ (شعرائے اردو، ص:۱۳۳) علی ابراہیم خلیل:’’در آشنا پرستی و آزادہ حالی از اماثل خویش ممتاز‘‘ (گلزار ابراہیم، ص:۳۵۹) قاسم:’’مرد درویش نہاد، والانژاد، آزاد منش، پاکیزہ روش، ذکی الطبع، صاحب فکر سلیم، قویم الفکر، مالک طبع مستقیم بود‘‘ ۔( مجموعہ نغز،دوم، ص:۱۲۳) شاہ قدرت نے رواج کے مطابق ابتدائی مشق سخن فارسی میں ہی کی۔ لیکن ان کے فارسی اشعار میں سے صرف آٹھ ہی محفوظ رہ گئے جو ریاض الوفاق میں موجود ہیں۔ شاہ قدرت کی شاعری کے بارے میں تقریباً سبھی تذکرہ نگاروں نے اچھی رائے کا اظہار کیاہے۔ تمام اقتباسات مندرج ہیں۔ بقول مشفق خواجہ دیوان قدرت کے چار نسخے دریافت ہوئے ہیں جن کی تفضیل مضمون میں موجود ہے۔ تذکرہ نگاروں نے قدرت کے ایک ہی دیوان کا ذکر کیا ہے مگر مشفق خواجہ کو دوسرا دیوان بھی دستیاب ہوا جس کو شاہ قدرت نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں مرتب کیا تھا۔ بقول مشفق خواجہ یہ بھی اہم دیوان ہے کیونکہ اس میں جا بجا اصلاحات اور اضافے ہیں جو قدرتؔ کی طرف سے ہیں۔ اس مضمون کے آخر میں شاہ قدرت کے آٹھ شاگردوں کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ تحقیق نامہ میں شامل تیسرا مضمون مرزا جعفر علی حسرت کی زندگی اور ان کی شاعری پر مشتمل ہے۔ اس مضمون میں عنوانات کے تحت احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔ جیسے نام اور خاندان، پیدائش، تعلیم، استاد، ترک قیام دہلی، حسن علی خاں سے تعلق، مرزا جہاں دار سے تعلق، سودا سے معرکہ آرائی، مصحفی سے معرکہ آرائی، پیشہ، معاشی حالات ، ترک دنیا، وفات، کردار وشخصیت، شاگرد،
شاعری،کلام حسرت کے مخطوطے، مطبوعہ کلیات،فارسی گوئی وغیرہ وغیرہ۔۔ بقول مشفق خواجہ حسرت دبستان لکھنؤ کے بانیوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں اور لکھنؤ کے ادبی ماحول کی تعمیر وتشکیل میں ان کا اہم کردار ہے۔ لیکن بعد کے زمانوں میں حسرت طاق نسیاں ہی کی زینت بنے رہے۔ حسرت کی پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ کسی بھی تذکرہ نگار نے قطعیت سے تاریخ نہیں بیان کی ہے۔ حسرت دہلی سے نکل کر فیض آباد اور لکھنؤ میں بھی قیام پذیر رہے۔ لکھنؤ کے ادبی ماحول کی پرورش و پرداخت کے ساتھ سودا اور مصحفی سے معرکہ آرائیاں بھی کیں، جن کی تفصیل مضمون میں موجود ہے۔ رائے سر ب
سکھ دیوانہ اور مرزا فاخر مکیں حسرت کے اساتذہ میں سے ہیں اور ان کے شاگردو ں میں ۱۸ لوگوں کے نام بتائے گئے ہیں۔ حسرت کے خوش گو شاعر اور استادِ فن ہونے کے بارے میں تقریباً سبھی تذکرہ نگارمتفق ہیں۔ مشفق خواجہ نے کلام حسرت کے ۹ قلمی نسخوں کی تفصیل بیان کی ہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی نے ایک کلیات مرتب کی ہے جو ۱۹۶۶ میں سرفراز پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی ہے ۔ حسرت نے طوطی نامہ کے نام سے ڈھائی ہزار اشعار پر مشتمل ایک مثنوی بھی لکھی ہے ۔ ا س مثنوی کے بار ے میں مشفق خواجہ نے تفصیل سے خامہ فرسائی کی ہے۔ تحقیق نامہ کا چوتھا مضمون ’’تذکرہ گلشن مشتاق ‘‘ہے۔ بقول مصنف تحقیق نامہ تذکرہ گلشن مشتاق سے متعلق مشفق خواجہ کا مضمون پہلی مرتبہ ۱۹۷۴ میں شائع ہوا تھا۔ یہی مضمون خاصی تبدیل شدہ صورت میں تحقیق نامہ میں شامل ہے۔ اس مضمون کے دو حصے کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حصے میں مشتاق کے احوال زندگی، ان کے خاندان، ان کے دواوینِ اردو اور فارسی کے بارے میں قدرے تفصیل سے بیان کیاگیاہے۔ نیز اسی حصے میں ’’چمنستان
افکار‘‘ کے نام سے شعرائے فارسی کے ایک انتخاب کا ذکر ہے ۔ بقول مشفق خواجہ اس مجموعے میں مشتا ق نے ایران و ہند کے جدید و قدیم اساتذہ کی ہم طرح غزلوں کو ردیف وار مرتب کیاہے اور ہر زمین کی غزلیات کے آخر میں اپنی بھی ایک غزل درج کی ہے۔ اس انتخاب میں تقریباً ۱۰۰ شعرا کی غزلیں ملتی ہیں اور بعض شعرا کی متعدد غزلیں شامل ہیں۔اس مضمون کا دوسرا حصہ تذکرہ گلشن مشتاق پر مبنی ہے۔ مشفق خواجہ نے اس تذکرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ا س کے آغاز اور خاتمے کی نثری عبارت کا نمونہ بھی پیش کیا ہے ۔ مشفق خواجہ نے مشتاق کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ’’اساتذہ سلف و خلفِ
اہل فارس و شعرائے ہند‘‘ کا تذکرہ ہے۔شعرا کے تراجم کی مجموعی تعداد ۸۹۳ہے۔ ا س تذکرے کا بنیادی مآخذ عاشقی کا ’’نشتر عشق‘‘ہے جس میں شعرا کے تراجم کی تعداد ۱۴۷۰ ہے۔ بقول مشفق خواجہ مشتاق نے ’’مخز ن الغرائب ‘‘ سے بھی بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ مؤلف گلشن مشتاق نے زیادہ تر توجہ انتخاب اشعار پر دی ہے۔ شعرا کے حالات کے تعلق سے مجموعی طور پر کوئی خاص اہتمام نہیں کیا ہے۔ ا س تذکرے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مؤلف نے حتی الامکان شعرا کی سنین وفات درج کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کا پانچواں مضمون ’’سعادت خاں ناصر اور اس کا تذکرہ خوش معرکہ زیبا‘‘ہے۔ یہ تحقیق نامہ کا سب سے طویل مضمون ہے۔ سعادت خان ناصرکے حالات زندگی پر بہت کم تذکرہ نگاروں نے روشنی ڈالی ہے ۔ ناصرنے اپنے تذکرے ’’خوش معرکہ زیبا‘‘ میں اپنے بارے میں اتنے اختصار سے لکھا ہے کہ اس میں بنیادی باتیں بھی نہیں ہیں جیسے پیدائش، ولدیت، تعلیم، مشاغل وغیرہ۔اس مضمون میں مشفق خواجہ نے ناصر کی شخصیت، اس کی سیرت اور اس کی ادبی خدمات کو تفصیل سے بیان
کیاہے۔ناصر کا علمی وادبی ذوق اعلی معیار کا تھا۔ اہل بیت سے عقیدت تھی مگر اس کے مذہبی خیالات میں اعتدال پایاجاتاتھا۔ ناصرمذہب سے دلچسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ رنگین طبع بھی تھے۔ ناصر کی شخصیت کے تعلق سے مشفق خواجہ نے کئی واقعات اس مضمون میں درج کیے ہیں۔اس مضمون میں ناصر کی مختلف تصانیف کے بارے میں قدرے تفصیل سے بیان کیاگیا ہے۔ ناصر کی شاعری پر بحث کی گئی ہے ۔ ناصر کی مثنویات کی خصوصی طور پر تفصیل موجود ہے۔ قصہ اگر گل کے بارے میں بہت تفصیل سے اظہار خیال کیاگیا ہے ۔ مشفق خواجہ نے تذکرہ خوش معرکہ زیباکے بارے میں بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے ۔ بقول مشفق خواجہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خوش معرکہ زیبا پہلا اردو تذکرہ ہے جوکسی فارسی تذکرے کا ترجمہ یا چربہ نہیں ہے ۔ اس تذکرے کا سال آغاز ۱۲۶۱ھ اور سال اختتام ۱۲۶۲ھ ہے لیکن بعد میں بھی اس میں اضافے کیے گئے ہیں۔ اس تذکرے میں شعرا کی تعداد ۸۲۶ ہے۔ لکھنوی شعرا کے تراجم کی کثرت ہے۔ اس میں ایک سو ایسے لکھنوی شعرا کے تراجم ہیں جن کاذکر کہیں اور نہیں ملتا ۔ اس تذکرے کے مکمل
ہونے کے بعد اس کی شدیدمخالفت ہوئی۔ مشفق خواجہ نے مخالفت کے تمام اسباب کی وضاحت کی ہے۔ مخالفت کے باجود اس کی تعریف بھی بہت ہوئی۔ اس تذکرے کے مآخذ پر مشفق خواجہ نے طویل بحث کی ہے اور چار ایسے تذکروں کے نام بتائے ہیں جن سے زیادہ استفادہ کیا گیا ہے ۔ان چار کے علاوہ بھی کئی تذکروں سے ناصر خاں نے استفادہ کیا ہے ۔ بقول مشفق حواجہ ناصر نے عام طور پر شعرا کے حالات زندگی پر تفصیلات مہیا نہیں کیں، لیکن بعض شعرا کے سلسلے میں ایسی تفصیل سے کام لیا جس کی مثال اس سے پہلے شعرائے اردو کے کسی تذکرے میں نہیں ملتی۔ اس تذکرے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے
طنزو مزاح کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس طریق کار نے تذکرے میں عام بیانیہ انداز کی بے روح فضا پیدا نہیں ہونے دی۔مشفق خواجہ نے ناصر کی طنزیات پر بھی بحث کی ہے ۔ مشفق حواجہ نے اس تذکرے کی کمیوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ اور اس کے ثبوت مہیا کیے ہیں۔ ناصر خاں انتخاب کے معاملے میں کسی بھی اصول کی پابندی سے آزاد رہا ہے ۔ مشفق خواجہ نے تذکرہ خوش معرکہ زیبا کے چار مخطوطوں
کی تفصیل بیان کی ہے ۔ اور ان کے مندرجات کے بارے میں کئی اہم باتیں بیان کی ہیں۔ جوچاروں مخطوطوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔مشفق خواجہ نے اس تذکرے کے تین مطبوعہ نسخوں کے بارے میں روشنی ڈالی ہے۔ایک تدوین تو خود مشفق خواجہ کی ہے ۔ شمیم انہونی نے اس کی تدوین کرکے لکھنؤ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اور پروفیسر عطا کاکوری نے تذکرے کے نسخۂ پٹنہ کا خلاصہ مرتب کرکے شائع کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں حضرات نے تقریبا ایک ہی وقت میں آگے پیچھے اپنے اپنے نسخوں کی اشاعت کی اور تینوں ایک دوسرے کی تدوین و اشاعت سے بے خبر
رہے۔ تحقیق نامہ کا آخری مضمون ’’احمد دین‘‘ ہے۔اس مضمون میں احمد دین کے بارے میں عنوانات کے تحت کچھ تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ جیسے خاندان، پیدائش و تعلیم، صحافت ملازمت اور وکالت،احباب،شخصیت،اقبال سے تعلقات، علمی ادبی خدمات،تصانیف اور وفات وغیرہ۔ علامہ اقبال سے احمد دین کے تعلقات کو مختلف خطوط کے حوالے سے اجاگر کیا گیا ہے۔ احمد دین کی تصانیف میں ۲۰ کتابوں کی فہرست دی گئی ہے اور ان کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔ احمد دین کی دو کتاب ’سرگذشت الفاظ‘‘ اور ’’اقبال‘‘ پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے ۔مشفق خواجہ نے احمد دین کی تصنیف ’’اقبال‘‘ کی تدوین کی ۔ اور یہ مضمون اسی کتاب پر مشفق خواجہ کا لکھا ہوا مقدمہ ہے۔یہ کتاب مشفق خواجہ کے مقدمے کے ساتھ ۱۹۷۹ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس مضمون کے آخر میں احمد دین کے اسلوب پر بھی مشفق خواجہ نے اظہار خیال کیا ہے ۔ ......................................... پتہ: 370/6 ذاکر نگر، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی ۔ ۲۵ sfai...@gmail.com 9891681759 26982601 |