پسِ آئینہ: سہیل انجم
قارئین کو تین چار سال قبل کاوہ واقعہ تو یاد ہوگا جب مسلم خواتین کو بدنام کرنے کے لیے آن لائن مہم چلائی گئی تھی اور یہ پروپیگنڈہ کیا گیا تھا کہ یہ خواتین آن لائن فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ گھناونی مہم سُلّی ڈیل اور بُلّی بائی ایپ کے ذریعے چلائی گئی تھی۔ جب اس پر کافی ہنگامہ ہوا تو کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا لیکن پھر ان کا کیا ہوا کسی کو نہیں معلوم۔ مسلم خواتین کو بدنام کرنے کی مہم اب بھی جاری ہے اور ایسی مہموں میں ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کیے جاتے ہیں، آن لائن پیچھا کیا جاتا ہے، ٹرول کیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ قتل کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ پر، اب ان کو بدنام کرنے کے لیے اے آئی یعنی آرٹی فیشیل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اے آئی کی مدد سے ان کی عام تصاویر لے کر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے، ان کو فحش اور جنسی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، ان کی میمز بنائی جاتی ہیں، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ بعض معاملات میں ان کو جسم فروش تک بتایا جاتا ہے۔ واشنگٹن میں کام کرنے والے ایک ادارے ’مطالعات برائے منظم منافرت‘ (سی ایس او ایچ) نے مئی 2023 سے مئی 2025 کے درمیان ایکس، فیس بک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود 297 عوامی اکاونٹس سے پوسٹ کی گئی مسلم خواتین کی ایسی 1326 ویڈیوز کا تجزیہ کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ فحش اور جنسی انداز میں اے آئی سے بنائی گئی ان ویڈیوز کو ساٹھ لاکھ سے زائد صارفین نے دیکھا اور لائک یا شیئر کیا۔ ایک ریسرچر زینت خان کے مطابق یہ ویڈیوز جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتی ہیں سیکنڈوں میں وائرل ہو جاتی اور پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہیں۔ ان ویڈیوز کے ساتھ انتہائی منافرانہ بیا نیہ بھی چلایا جاتا ہے۔ ایک میڈیا ادارے ’اسکرول ڈاٹ اِن‘ نے ’ریڈ اِٹ‘ نامی ویب سائٹ پر شائع اے آئی سے تیار کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کو اپنی رپورٹ میں شامل کیا ہے۔ ان میں سے ایک مِیم میں ایک برقعہ پوش خاتون کو ایک جینس پوش غیر مسلم مرد کو بوسہ دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی کا حوالہ دیا گیا ہے اور اسے کشمیر پر ہندووں کے سیاسی کنٹرول کو علامت بتایا گیا ہے۔ ایک دوسری مِیم میں ایک ہندو تنظیم کے ایک لیڈر کو ایک مسلم بیوہ کے ساتھ دکھایا گیا ہے جو اسے سنسکاری ہوجانے کی نصیحت کرتا ہے۔ برقعہ پوش خواتین کو مردوں سے گھرا ہوا دکھایا جاتا ہے، کیپشن میں ناجائز تعلقات کا ذکر ہوتا ہے اور مسلمانوں کو بداخلاق اور بد کردار بتایا جاتا ہے۔ مردوں کے ساتھ کھڑی برقعہ پوش خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گاہک تلاش کر رہی ہیں۔
عالمی میڈیا ادارے ’الجزیرہ‘ نے اس سلسلے میں ایک مفصل رپورٹ شائع کی ہے جس میں ایک کشمیری خاتون کا واقعہ، جو کہ فری لانس ماڈل ہیں تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ سال اپنے فون پر اسکرولنگ کر رہی تھیں کہ ان کے ایک دوست نے انسٹا گرام پر موجود ایک کلپ ان کو ارسال کی۔ اس میں دہلی میں گزری ان کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ اس پر کیپشن بھی ہے اور اس کی ہیڈنگ بھی بنائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں وائس اوور بھی ہے یعنی بیک گراونڈ سے آواز آتی ہے جس کے ذریعے اس خاتون کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ وہ ایک فرضی ویڈیو ہے لیکن بالکل اصلی لگ رہی ہے۔ اس خاتون نے بتایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں حصول تعلیم کے دوران ان کا پیچھا کیا گیا اور ہر لمحے کی جیسے کہ گروپ پروجکٹ، الوداعی تقریب اور سیلفی کی بھی تصاویر لی گئیں۔ اے آئی سے تیار کردہ آواز میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک مسلم خاتون ہے جو ہندو مردوں کو اپنا جسم بیچ رہی ہے۔ تصویر میں موجود ان کے بھائی کو دلال بتایا گیا ہے۔ خاتون نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو اتنی حقیقی لگتی ہے کہ اگر اس کے والدین دیکھیں تو وہ بھی اسے اصلی ہی مانیں گے۔ الجزیرہ نے نشانہ بنائی گئی کئی خواتین سے رابطہ کیا۔ لیکن وہ شرم و حیا اور بدنامی کے خوف سے ریکارڈ پر بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ ممبئی کے ایک ادارے رتی (RATI) فاونڈیشن کی جانب سے چلائی جانے والی ایک ہیلپ لائن ’میری ٹرست لائن‘ نے بھی اس قسم کے واقعات میں اضافے کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس نے اپنی ایک رپورٹ میں اس سلسلے میں اپنائے جانے والے طریقہ کار کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے مطابق میڈیا جہاں سیلیبریٹیز اور سیاست دانوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے وہیں کچھ لوگوں کے ذریعے غیر معروف خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کی امیج بنائی جاتی ہے اور ان کو غلط طریقے سے پیش کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کو حقیقی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ ’سی ایس او ایچ‘ کی تحقیق کے مطابق مذہبی شناخت والے لباس میں ملبوس مسلم خواتین کو ہندو مردوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اکثریتی فرقے کے مردوں نے ان خواتین کو بداخلاق مسلم مردوں سے بچایا ہے۔ میونخ کی لُڈوِگ میکسی ملین یونیورسٹی میں ایک میڈیا ماہر بشریات سہانہ اوڈوپا کے مطابق یہ رجحان اقلیتی خواتین کو فحش انداز میں پیش کرنے کی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ دائیں بازو کے ڈیجیٹل ادارے مزاح، میمز اور جنسی تصاویر کے سہارے خواتین کو بدنام کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کی مہم گزشتہ دس بارہ برسوں میں کافی تیز ہوئی ہے۔ شروع میں تعلیم یافتہ مسلم خواتین کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارموں سے تفصیلات حاصل کی جاتیں اور پھر ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال کر بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ان کی آن لائن فروخت کا واقعہ اسی مہم کا حصہ تھا۔ لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ دیگرے طریقے بھی اختیار کیے جانے لگے ہیں۔ ان میں سب سے آسان، گھناونا اور خطرناک طریقہ ان خواتین کو بدنام کرنے کے لیے اے آئی کا سہارا لینا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کسی کو اے آئی میں ذرا بھی مہارت حاصل ہے تو وہ فرضی امیجز یا میمزبنا کر کسی کو بھی بدنام کر سکتا ہے۔ اس قسم کے جرائم کو روکنے کے لیے جگہ جگہ سائبر سیل قائم کیے گئے ہیں۔ دہلی میں جو سائبر سیل ہے وہ رپورٹ درج تو کرتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ البتہ اگر کسی نے اپنے خلاف چلائی جانے والی مہم پر زیادہ شور مچایا تو اس سے متعلق مواد سوشل میڈیا سے ہٹانے کو کہہ دیا جاتا ہے اور بس۔ ایک قانون داں اور ’انٹرنیٹ فریڈم فاونڈیشن‘ کے بانی اپار گپتا کے مطابق فرضی امیجز سے بھی متعلقہ شخص کو جو نقصان ہوتا ہے وہ حقیقی ہوتا ہے۔ ہندوستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66E کے مطابق اگر کسی شخص کی نجی زندگی کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر لی جاتی ہے یا اسے شائع کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی ہو سکتی ہے لیکن اگر کسی شخص کے جسم کو اے آئی کی مدد سے نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے خلاف مذکورہ دفعہ نافذ نہیں ہوتی۔ مسلم خواتین کے خلاف اس رجحان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ایسے لوگوں کی درپردہ پشت پناہی ہے۔ یہ پشت پناہی دائیں بازو کے ساست داں بھی کرتے ہیں اور انتظامیہ کے متعصب افسران بھی۔ اگر ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو اور ان کو سبق سکھایا جائے تو ممکن ہے کہ اس پر کچھ روک لگائی جا سکے۔ لیکن جب حکومت و انتظامیہ میں شامل لوگ ہی ان جرائم کی حوصلہ افزائی کریں تو پھر کوئی کیا کر سکتا ہے۔ آج اے آئی کی مدد سے مہم چلائی جا رہی ہے کل کوئی اور طریقہ اختیار کر لیا جائے گا۔
موبائل: 9818195929