براے اشاعت

0 views
Skip to first unread message

Aftab Ahmad

unread,
May 13, 2020, 5:30:50 AM5/13/20
to BAZMe...@googlegroups.com

کرونا کے بہانے تعمیر نو کی  فکرکیجیے______________ آفتاب احمد آفاقی 

لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں ہم داخل ہوچکے ہیں. اس ناگہانی مصیبت میں پوری دنیا مبتلا،  غیر یقینی کا ایسا ماحول دنیا نے پہلی بار دیکھا، ہر لمحہ ہم غیر یقینی کی غار میں اترتے جارہے ہیں، سناٹے اورہو کا عالم ہے، کل تک جو سپر پاور ہونے کے دعویدار تھے، ان کی حیثیت کیا ہوچکی ہے یہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں،کتنے امیراور ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کی صف میں جگہ پائیں گے اور ترقی پذیر بھوک و افلاس کے سبب لاتعداد اپنے شہریوں کی جانیں تلف ہوتے دیکھیں گے؟ اس کا فی الحال اندازہ لگانا مشکل ہے.اس وائرس کے متعلق جتنے منھ اتنی باتیں ہیں. ہمیں نہیں معلوم کہ اس وبا  کے وائرس کسی تجربہ گاہ میں بنے یا پھریہ ،قہر الہی ہے؟ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس نے انسانوں کی اوقات بتا دی ہے ، یہ بھی بآور کیا کہ ہمارے دعوے کتے کھوکھلے اور ہمارا تکبر کتنا بھونڈا ہے،صبح سے شام تک جن چیزوں کی تلاش میں ہم، اپنا قیمتی وقت، اپنی صحت اور اخلاقیات کی تمام حدود لانگھتے ہیں، ان کی وقعت کیا ہے؟ صفحہ ہستی سے مٹانےکا دعویٰ کرنے والے، ظلم و زیادتی کو حق سمجھنے والے بھی اپنی جان بھیک مانگنے میں مصروف ہیں. سیرو و تفریح کے لیے مہنگی گاڑیوں کو دوڑانے والے اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں، ہوٹل، مال اور بازار کی تمام رونقیں معدوم ہوچکی ہیں، عبادت گاہیں مقفل ہیں.بڑی بڑی کمپنیاں اپنی ساکھ بچانے کی جدوجہد کررہی ہیں، کروڑوں مزدور بھوکے ننگے سڑک پر آچکے ہیں. سڑکیں ویران ہیں جن پر آوارہ مویشیوں اور کتوں نے قبضہ کر لیا ہے.اب انسانی خوف کا بیانیہ بدل چکا ہے. کل تک چور، ڈاکو اور اچکوں سے ہم خوفزدہ تھے، کورونا عہد میں، ہر شخص ایک دوسرے سے خوفزدہ ہے.رشتے ناتے، دوست احباب سے

 ہم دوری بنا چکے ہیں، ہر ایک کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہنے میں ہی عافیت نظر آرہی ہے. اگرآج کوئ جگہ آباد ہے تو  وہ اسپتال ہے. یہ کیسا دن دیکھنے کو ملا ہے کہ عزیزوں کی لاشیں لینے سے لوگ کترانے لگے ہیں، کاندھا دینے کو چار آدمی ملنا مشکل، قبرستان اور شمشان گھاٹ پر میت کی جو دردشا ہورہی ہے وہ انسان کے لیے بے حد عبرتناک، جس کے تصور محض سے رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں. 

ایسے ناموافق حالات، صرف ہمیں دکھ نہیں پہنچاتے بلکہ عمل کے لیے اکساتے بھی ہیں، اگر عذاب الٰہی ہی ہے تو اس کی رضا کے بغیر اس قہر سے نجات ناممکن ہے اور خدا کی رضا یہی ہے کہ ہم اس کی زمین کو ہر طرح کے فساد سے پاک رکھیں، کرونا کو اعمال کے احتساب کے طور پر بھی لیا جاسکتا ہے. کہیں ہم اپنے اعمال کا نتیجہ نہیں جھیل اور بھوگ رہے؟کیا زمین والوں پرظلم و زیادتی، قتل و غارت، جھوٹ، بددیانتی اور مکروفریب کی پاداش میں آسمان والے  نے یہ عذاب مسلط تو نہیں کیا ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ انسانی اقدار کو جس طرح ہم نے تار تار کیا ہے اور ظلم جس طرح ہمارے معاشرے کا اٹوٹ حصہ بن گیا ہےاس کی نظیر پچاس برس پہلے نہیں ملتی. 

یہ درست ہے کہ ہم ایک بد ترین دور سے گزر رہے ہیں لیکن محض شکوہ کرنے، نوحہ اور سینہ کوبی سے ہمیں اس سے چھٹکارا نصیب ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں. اس کے لیے مرض کی تشخیص اورعلاج لازم ہے، نجات پانے کی جدوجہد تب ثمر آور ثابت ہو سکتی ہے جب عمل اور تدبیر کو روا رکھا جائے، اس کے لیے گفتار سے زیادہ کردار پر توجہ دینے اور اپنے اعمال کے لیکھا جوکھا کو ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے. اگر بیماری نئ ہے تو آپ اس وقت تک اس سے محفوظ نہیں ہوسکتے جب تک کوئ ویکسن ایجاد نہ ہوجائے، احتیاط بیماری پر قابو پانے کا ایک طریقہ محض ہے آپ کو ہر حال میں ٹیکہ ایجاد کرنا ہوگا. 

جہاں تک ہندوستان کے تناظر میں امت مسلمہ کا سوال ہے کورونا کی آڑ میں منظم سازش کے تحت ان کی جس طرح کردار کشی کی گئ ہے وہ تقسیمِ ہند کے وقت بھی نہیں دیکھی گئی. یہ درست ہے کہ کشت و خون کی نوبت ابھی نہیں آئ لیکن معاشی تنگی خود کشی کو جنم دیتی ہے، نفرت انسانوں کو بے وقعت اور خوف ذہن و فکر کے سوتے سکھا دیتا ہے. یہ میڈیا کا، ایک طبقہ خاص کی معاشی، سیاسی اور مذہبی زندگی پر یلغار، وہ بھی جب پوری دنیا اور پوراملک جوجھ رہا ہو، بے مقصد نہیں ہے بلکہ ایک غایت پوشیدہ ہے. منفی طاقتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ لاک ڈاون میں ہرشخص جب اپنے اپنے گھروں میں قید ہو چکا ہے تو ٹی-وی  کو ایک مرکزی حیثیت حاصل گئ ہے، یہ منورجن کے پہلو بہ پہلو ذہنی تربیت کا جدید آلہ بھی ہے. یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف رامائن سیریل شروع کرکے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حکومت ہر حال میں اکثریتی طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لئے پابند ہے اور سیاست اسی طبقے کے مذہب کی روشنی میں کام کر رہی ہے. دوسری طرف کرونا جیسی بیماری کے پھیلنے کے اصل محرک مسلمان کو قرار دیے کر ممکن حد تک نفرتیں پھیلائی گئیں. اس نفرت نے مسلمانوں کے خلاف صرف سوشل بائیکاٹ کو ہی ہوا نہ دی بلکہ ان کی معاشی زندگی کو بھی تنگ کرنے میں معاون ثابت ہورہی ہے. لاک ڈاون کہ بعد اس نفرت کی کیسی تصویر سامنے آئے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ نفرت کا  جو ایک نیا اذدھا جنم لے چکاہے ، اگر اس پر قدغن نہ لگایا تو یہ ہماری نئ نسلوں کی راہ میں سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا. یہ شوشل ڈسٹنس کورونا کے مریض کے لیے نہیں بلکہ مسلم ، غریبوں، تاجروں اور طالب علموں کے لیے ضروری قرار دیا جائے گا، جو خبریں موصول ہو رہی ہیں تالابندی کے دوران صرف سبزی فروشوں کا ہی بائیکاٹ نہیں کیا گیا ہے بلکہ بڑی تعداد میں مختلف کل کارخانوں کے مزدوروں نے اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں. گروگرام میں گزشتہ ہفتے گارمینٹ کاریگروں کے دروازے اس لیے مقفل کردیئے گیے کہ وہ روزہ دار ہیں، کئ کراے دار مسلم ہونے کےسبب گھروں سے نکالے جا چکے ہیں. 

ظاہر ہے یہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے جس پر جذباتی ہونے کے بجائے ہمیں بڑی سنجیدگی سے غور و فکر کر کے عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے. لاک ڈاؤن کے اس وقفے کو بامعنی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم تمام مسلکی، گروہی علاقائی تحفظات کو تج کر تعمیرمعاشرہ کا کام شروع کریں، ہمارے ائما، علما، ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں کا یہ ایم فریضہ ہے کہ وہ قوم و ملت کے اختلافات کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں. مساجد نفاق کی جگہ اتحاد اور نفرت کے بجائے محبت کا مرکز بن جائیں تو ہم متحدہ قوم بن کر ابھریں گے. یہ امر قابل ذکر ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیاں اختلافی نظریہ رکھنے کے  باوجود عام مفاد کے حق کی دہائی دے کر متحد ہوسکتی ہیں تو پھرایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والے افراد اپنے معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں متحد کیوں نہیں ہوسکتے؟ ہمیں ہر حال میں جنت اور دوزخ کی سرٹیفیکیٹ تقسیمِ کرنے والوں، نفاق پیدا کرنے والوں اور اسلام کی دہائی دے کر لوٹ کھسوٹ کرنے والوں پر قدغن لگانا ہوگا، مساجد، مدارس اور خانقاہوں کی ذمہ داری دولت مندوں، بے ایمانوں کے بجائے تعمیری فکر رکھنے والے، خدا ترس، تعلیم یافتہ اور ایماندارلوگوں کے ہاتھوں میں دینا لازمی ہے. ان اداروں کو اصلاح معاشرہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جائے، ہر محلے کی مسجد کو محض نماز ہی نہیں بلکہ نئ نسل کی ذہنی و فکری تربیت گاہ کے طور پر استعمال کرنا وقت کا تقاضہ ہے. پنچ سالہ منصوبہ بنا کر ایک نکاتی پروگرام" تعلیم سب کے لیے" پر کام کیا جائے. عصری تقاضوں کے تحت سپر 30 کے طرزِ پر میڈیکل اور انجینئر ینگ کی کوچینگ کا بندوبست کی جائے جس میں برادران وطن کی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کیا جائے. 

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک بے حد خوبصورت ہے ہم اس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی جان کو نچھاور کرنے کا جزبہ بھی رکھتے ہیں اس لیے ملک میں امن و شانتی قائم رہے، اتحاد اور بھائ چارہ کی فضا ہر حال میں بحال رہے اس کے لیے کوشش کرنا بھی ضروری ہے، ہماری مشترکہ تہذیب زندہ رہے انتھک محنت بھی کرنی ہے. ہم بلا تفریق مذہب و ملت تعمیری کاموں کو ترجیح دیں. دوریاں نفرتوں کو ہوا دیتی ہیں اورقربت سے خدشات اور بدگمانیاں دور ہوتی ہیں. ہمیں ہر حال میں مثبت اور تعمیری فکررکھنا ہے. شعلے آگ سے نہیں پائی سے بجھاےجاتے ہیں اور محبت سے نفرت پر قابو پایا جاسکتا ہے. اپنے اندر احساس کمتری پیدا نہ ہونے دیں، حوصلہ اور یقین رکھیے. رات کتنی ہی تاریک اور لمبی کیوں نہ ہو صبح تو ہوگی ہی. 

( صدر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی)





ak khusro

unread,
May 14, 2020, 8:49:27 AM5/14/20
to bazmeqalam
--
www.kitaabistan.com
 
www.hudafoundation.org/
www.urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
www.bhatkallys.com/kutub-khana/?lang=ur
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.
To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/BAZMeQALAM/CALq2xThNU3oTfTBE-mzqtDrdENunMiph%3DUFE7z%2BNQ%3D%2B7KPyesw%40mail.gmail.com.
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages