ہماری غفلت کہ ہم اردو
کے ایک صاحبِ شاعر،ادیب،نقاد،طنز نگار،عالم دین، مولانا عامر عثمانی کو ان کے انتقال کے صرف 35 سال میں تقریبا"
پوری طرح بھلا بیٹھے ہیں۔مجھے ایک تحریر مولانا مرحوم کے بارے میں ملی
ہے۔جو آپ کے لیےٌ بھیج رہا ہوں۔ذرا صبر سے پڑھیۓ،ٹایپنگ کی غلطیاں بہت ہیں
ہو سکتا ہے مولانا عبدالمتین منیری صاحب کے گنج ہاۓ گراں مایہ میں عامر عثمانی مرحوم کے کچھ آثار ہوں۔
اعجازشاہین
|
|
|
عامر عثمانی ؒ مکرمی ! اہل علم حضرات جانتے ہی ہیں کہ دنےا مےں بے شمار اہل قلم و اصحاب کمال اےسے گزرے ہےں جن کی تحرےرےں ہمےشہ ہی امت کے لےے اصلاح و خےر کا سبب ثابت ہوئی ہےں۔ لےکن گزرتے وقت نے ان کے اثاثہ علمی کو گرد آلود کرکے پوشےدہ کر دےا ہے۔ اےسی ہی با کمال علمی شخصےات مےں اےک نام مدبر اسلام محقق اعظم حضرت مولانا عامر عثمانی نور اللہ مرقدہ کا بھی ہے۔ مدبر اسلام حضرت مولانا عامر عثمانی ، جنہوں نے اپنے ماہنامہ تجلی کے ذرےعہ اپنی تحرےروں کو عوام کے قلوب و اذہان مےں اےسے پےوست کر دےا تھا کہ قارئےنِ تجلی کے دلوں مےں وہ آج بھی زندہ ہےں۔مطالعہ کے شوقےن حضرات جانتے ہےں کہ ماہنامہ تجلی اردو زبان مےں نکلنے والا دنےا کا واحد اسلامی رسالہ ہے جس کی کثےر تعدادِ اشاعت اور مقبولےت آج تک کسی دوسرے مذہبی رسالے کا مقدر نہ بن سکی۔ ماہنامہ تجلی وہ رسالہ تھا کہ لوگ باقاعدہ جس کا انتظار کےا کرتے تھے۔ تاخےر ہو جانے پر ہزاروں شکاےتی خطوط مدےر تجلی کے نام ارسال ہو جاتے تھے۔ تجلی کے مضامےن پڑھنے کے لےے لوگ اےسے بے قرار و بے صبر رہتے تھے کہ گوےا تجلی ان کے لےے ان کی سانسوں کی طرح ضروری ہو۔ اس مقبولےت ،شہرت، عزت ، چاہت ، کا سبب تھا مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی صاحب کا محققانہ اور بے باک قلم ۔ مولانا عامر عثمانی صاحب ؒ کی تحرےرےں ثابت کرتی ہےں کہ برصغےر مےں ان سے بڑا قلم کار نہےں گزرا۔ ےہ جملہ کسی جوش ، غلو ، ےا جذبہ مےں نہےں لکھا بلکہ تجلی کو پڑھنے والاہر باشعور شخص خود اس بات کی گواہی دے گا کہ ےہ اےسا ہی سچ ہے جےسا سورج کے نکلنے سے دن کی شروعات کا ہونا۔اس کا سبب ےہ بھی ہے کہ ہر قلم کار کا کوئی نہ کوئی خاص موضوع ہوتا ہے جس پر وہ خوب جم کر لکھنے کی صلاحےت رکھتا ہے۔ کوئی افسانہ نگار ہے کوئی مزاح نگار ، کوئی حدےث پر عبور حاصل کےے ہوئے ہے،کوئی فن تفسےر مےں ےکتا ہے تو کوئی شاعری مےں ماہر ۔ لےکن مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی صاحبؒ کائنات مےں شاےد وہ واحد شخصےت ہےں جن کا قلم حدےث کی تشرےح کے تفہےم الحدےث لکھتا ہے تو وہ اےک محدث معلوم ہوتے ہےں۔ ےہی قلم جب طلاق کے موضوع پر بحث کرتا ہے تو وہ محقق اعظم نظر آتے ہےں۔ تفسےر ماجدی پر جب حضرت کی نظر پڑتی ہے تو ان کا قلم مفسر کی زبان بولتا ہے۔طنز و مزاح کی نگارشات کا مجموعہ ”مسجد سے مےخانے تک“ آج بھی اہل علم حضرات کے دلوں مےں گدگدی سی کر دےتا ہے۔ شاعری کے لےے قلم حرکت مےں آتا ہے تو شاعر اسلام کی حقےقی تصوےر سامنے آجاتی ہے۔مبصر کی حےثےت سے ان کا مقام بہت اونچا ہے۔ تجلی کی ڈاک مےں دےے گئے لوگوں کے سوالوں کے مفصل جواب ثابت کرتے ہےں کہ تحقےقی حوالوں کے ساتھ مفصل جواب دےنے والے ےہ شاےد پہلے اور آخری مفتی ہوںگے۔ اےسے تھے قلم کے بادشاہ ےعنی شہنشاہِ قلم مدبر اسلام حضرت مولانا عامر عثمانی ؒ ۔ حضرت کی تحرےرےں جادوئی بھی ہےں ، متنوع بھی ، قےمتی بھی ہےں اور امت کے لےے صالح بھی۔ لےکن افسوس ! گزرتے وقت کی گرد سے ان کی لازوال تحرےرےں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہےں ۔ آج مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی کی تحرےرےں کہےں نہےں مل پاتےں ۔۳۴ سال مےں کتابی شکل مےں ان کی چند تحرےرےں ہی شائع ہو پائی ہےں۔جن مےں تجلی کا طلاق نمبر، مسجد سے مےخانے تک، شاعرانہ کلام ےہ قدم قدم بلائےں، حضرت عثمان ذوالنورےن ، اور بدعت کےا ہے پر اےک مقالہ۔ اب ےہ کوتاہی کس کی رہی اس شکاےت پہ وقت ضائع کرنے سے بہتر مےں نے سوچا ہے کہ اس عظےم شخصےت کی تمام تحرےرےں باقاعدہ ترتےب دےکر کتابی شکل مےں شائع کی جائےں ۔ جس کے لےے مجھ خاکسار کو اُن خوش نصےب حضرات کی مدد چاہئے جن کے پاس آج بھی کچھ نہ کچھ ماہنامہ تجلی موجود ہے۔مےں سمجھتا ہوں کہ ۵۰ سال سے زےادہ کی عمر رکھنے والا ہر وہ شخص جو اردو کتابوں و رسائل کے مطالعہ کا شوقےن ہو تجلی سے انجان نہےں ہوگا۔ بس مےں ان تمام حضرات سے بہت ادب و احترام کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ آج جب کہ مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی ؒ کا نام بھی لوگوں کے ذہنوں مےں دھندلا ہوتا جا رہا ہے تو برائے کرم امت کی اصلاح کا درد رکھنے والے اس عظےم شخص کی عظمت آمےز تحرےروں کی بقا و سلامتی کے لےے مےری مدد کرےں اور جس شخص کے پاس بھی ماہنامہ تجلی کا کوئی بھی شمارہ موجود ہو تو برائے کرم وہ مجھے عناےت کرنے کی زحمت گوارہ فرمائے ۔ آج ماہنامہ تجلی جہاں بھی ہوگا بہت بوسےدہ حالت مےں ہوگا اور چند اور سالوں بعد شاےد ضائع ہی ہو جائے اس سے پہلے کہ ےہ نقصان ہو آپ حضرات مولانا کی تحرےروں کو کتابی شکل مےں لانے مےں تعاون فرمائےں اس کا صلہ ےہاں تو مےںدل سے نکلی ہوئی دعاﺅںاور چند روپےوں کے سوا کچھ نہ دے پاﺅں گا لےکن اللہ کے ےہاں آپ ےقےنا بے انتہا اجرو ثواب کے مستحق ہوں گے۔ انشااللہ۔اس لےے پھر گذارش ہے کہ جس کے پاس بھی ماہنامہ تجلی کا کوئی بھی شمارہ ہو وہ مجھ سے رابطہ قائم ضرور کرے۔ اگر کوئی شخص قےمت لےکر دےنا چاہے تو مےں بھی اُسے قےمت اےڈوانس دےکر خرےد نے کا خواہش مند ہوں۔ اب سوال ہے کہ مےں کون ہوں؟مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی رشتے مےں مےرے دادا ہوتے ہےں۔ مےں حضرت کہ حقےقی چھوٹے بھائی جناب عمر فاروق عاصم عثمانی صاحبؒ کا پوتا ہوں۔مےرے پاس تقرےباً ۸۰ شمارے تو ہو گئے ہےں لےکن کل ۳۱۲ شمارے ہوتے ہےںجو مولانا کے انتقال کے وقت تک جاری ہوئے تھے۔اس لےے اب بھی کافی درکار ہےں۔ لےکن مجھے اللہ کی ذات سے پورا ےقےن ہے کہ اگر آپ مےری مدد کرےں گے تو مےں انشااللہ تمام ہی شمارے جمع کرنے مےں کامےاب ہو جاﺅںگا۔ ےہ کوشش ےہ محنت صرف اس لےے کہ تاکہ ےہ علمی ذخےرہ محفوظ ہو جائے اور آنے والی نسلےں اس سے مستفےض ہوتی رہےں۔ |
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ ا لزام ہے
وہ جو قاتل تھا اب ہے وہی مد عی
قا ضی شہر نے فیصلہ د ے د یا
لاش کو نذ ر ز ند ا ں کیا جا ئے گا
اب عدالت میں یہ بحث چھڑنے کو ہے
وہ جو قاتل کو تھوڑی سی زحمت ہوئی
وہ جو خنجر میں تھوڑا سا خم آ گیا
اس کا تاوان کس سے لیا جا ئے گا
عامر عثمانی کی جب یاد آئی
مکرمی اعجاز شاہین صاحب : شکریہ
مرسلہ مضمون میں املائی غلطیاں اس قدر ہیں کہ پڑھا یا درست نہیں کیا جارہا ہے۔ اسے درست کرکے بھیجدیں۔
عامر عثمانی کا تجلی ہم نے دس سال تک خط کی طرح پڑھا ہے، انہیں انتقال سے چند روز قبل ۱۹۷۵ء میں الما لطیفی ہال کے مشاعرہ میں بھی سننے کا موقعہ ملا ، بھٹکل مشاعرے میں شرکت کے بعد بمبئی تشریف لائے تھے،اس مشاعرے میں شرکت کےلئے حفیظ میرٹھی،شمسی مینائی پروفیسر رشید کوثر فاروقی ،شعری بھوپالی پہلی مرتبہ بھٹکل تشریف لائے تھے، یہ مشاعرہ ڈاکٹر سید انور علی سابق پرنسپل انجمن کالج نے منعقد کیا تھا، اس کے لئے پروفیسر عمر حیات خان غوری صدر شعبہ اردو نے جان توڑ کوشش کی تھی ، اس کی روداد مستقل کتاب روداد بزم سخن کے عنواں سے شائع ہوچکی ہے۔
عامر عثمانی مرحوم ہمارے تایا محی الدین منیری صاحب ؒکے بڑے مداح تھے،۱۹۵۷ ء میں غالبا تجلی کا اداریہ آغاز سخن آپ کی تعریف کے لئے خاص کیا تھا ، ہمارے تایا آزادی کے بعد سے تیس سال تک صابو صدیق مسافر خانہ بمبئی میں انجمن خدام النبی کے سکریٹری اور ماہنامہ البلاغ میں قاضی اطہر مبارکپوریؒ کے شریک مدیر رہےتھے،اس زمانے میں حجاج کوٹہ سسٹم سے حج پاسپورٹ پر سفر کرسکتے تھے، زیادہ ترحاجی پانی جہاز پر سفر کرتے، اس زمانے میں حج کا ٹکٹ ملنا آسان نہیں تھا۔قرعہ کے بعد جسے ملتا وہ خود کو بڑا خوش قسمت سمجھتا ، بڑی بڑی محترم شخصیات کی موجود گی میں منیری صاحب جہاز پر امیر الحجاج بنتے ،پانی کا یہ سفر ایک ہفتے تک چلتا،حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ ،حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ ،حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی ؒ جگر مراد آبادی ، شفیق جونپوری ، زائر حرم حمید لکھنوی جیسی شخصیات نے آپ کی امارت میں حج کیا ہے۔ ( حمید لکھنوی کی نعتیں بیگم اختر کی آواز میں کبھی ہم سے سنئے گا) بھٹکل جیسے ایک چھوٹے سے قصبہ پر علمائے دین کی جو توجہات ہیں اور اس کا اہل علم میں جو تعارف ہے، حاجیوں کے لئے منیری صاحب کی یہ خدمات ان کا اہم سبب ہیں، ۱۹۵۱ء میں جب کہ شاہ فیصل شہید ؒ مملکت سعودیہ کے ابھی فرماں روا نہیں بنے تھے،ولی عہد اور والی مکہ تھے، جب عرفات کے میدان کی تپتی دھوپ میں انجمن خدام النبی بمبئی کی جانب سے حجاج کو مفت برف کی تقسیم آپ نے دیکھی تو منیری صاحب دریافت کیا کہ اتنی بڑی یہ خدمت کون انجام دے رہا ہے، جب انہیں پتا چلا کہ ہندوستان سے آئے ہوئے چند سرپھرے یہ کام انجام دے رہے ہیں تو انہیں حیرت ہوئی ،انہوں نے مکہ مکرمہ کی تمام فیکٹریوں کو حکم دیا کہ وہ اب سے برف کی تقسیم حاجیوں کے لئے ان کے حساب میں مفت کیا کریں۔ اس وقت سے یہ سلسلہ جاری و ساری ہے، اور انشاء اللہ یہ فیض تاقیامت جاری رہے گا۔
ہمارے تایا نے مایوسی کے عالم میں عامر صاحب کی حج ٹکٹ بنوانے میں مدد کی تھی، عامر عثمانی کی شہرت ایک نقاد کی تھی،ان سے ایسے تعریفی ادارئے بہت کم نکلے ہیں۔
عامر عثمانی نے ہندوستان میں اور پاکستان میں ماہر القادری نے مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒ اور جماعت اسلامی کے دفاع کو مورچہ سنبھالا تھا، لیکن جماعت کے مزاج اور اس سے وابستگان میں تنظیم سے وابستگی کی اہمیت سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے جن شخصیات نے تنظیم سے باہر رہ کر جماعت کی فکر کو قوت بخشی انہیں بھلا دیا گیا، تنظیمی لحاظ سے انکی قدر وقیمت نہ ہونے کے برابر ہے، تنظیم سے نکلنے کے بعد تو یہ حضرات خاموش بھی رہیں تو انہیں دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ،یہ حضرات جماعت کے دفاع کی وجہ سے دوسرے حلقوں میں پذیرائی نہ پاسکے اور جنہیں وہ اپنا سمجھتے تھے ان کی بے رخی کا شکار رہ کر اپنا صحیح مقام نہ پا سکے ، ورنہ ایک ایسا ماہنامہ جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہو کہ فلمی سیاسی اور کھیلوں کے مجلات کے ساتھ ساتھ چنئی (مدراس) جیسے ریلوے اسٹیشنوں کے بک اسٹالوں پر بھی دستیاب ہو ، اس طرح بھلا دیا جائے ایک المیہ سے کم نہیں۔ مزید باتیں کبھی اور ۔ یار زندہ صحبت باقی
ہماری غفلت کہ ہم اردو کے ایک صاحبِ شاعر،ادیب،نقاد،طنز نگار،عالم دین، مولانا عامر عثمانی کو ان کے انتقال کے صرف 35 سال میں تقریبا" پوری طرح بھلا بیٹھے ہیں۔مجھے ایک تحریر مولانا مرحوم کے بارے میں ملی ہے۔جو آپ کے لیےٌ بھیج رہا ہوں۔ذرا صبر سے پڑھیۓ،ٹایپنگ کی غلطیاں بہت ہیں
ہو سکتا ہے مولانا عبدالمتین منیری صاحب کے گنج ہاۓ گراں مایہ میں عامر عثمانی مرحوم کے کچھ آثار ہوں۔
--
گذارش ہے کہ شعری و نثری تخلیقات بزم قلم گوگل گروپ ممبرس کے استفادے کے لیے پوسٹ فرمایٔں۔علاوہ ازیں ادبی سرگرمیوں کی رپورٹ اور زبان و ادب سے متعلق خبریں بھی آپ پوسٹ کر سکتے ہیں۔
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com
اسماعیل اعجاز (خیال)
کا سلام آپ تمام احباب کی خدمت میں
میں نے کوشش کی ہے کہ املا کی غلطیاں درست کر کے آپ احباب تک پہنچا کر اس
کارخیر میں اپنی بساط بھر کاوشوں کے ساتھ شامل ہو سکوں
طالب دعا طالب نظر
اسماعیل اعجاز (خیال)
عامر عثمانی کی جب یاد آئی
عامر عثمانی ؒ
قلم کا دھنی علم وادب کا شناور
عبدالرحمن سیف عثمانی
مکرمی ! اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ دنیا میں ایسے شمار اہل قلم و اصحاب کمال ایسے گزرے ہیں جن کی تحریریں ہمیشہ ہی امّت کے لئے اصلاح و خیر کا سبب ثابت ہوئی ہیں۔لیکن گزرتے وقت نے ان کے اثاثہ علمی کو گرد آلودکر کے پوشیدہ کر دیا ہے۔ایسی ہی باکمال علمی شخصیات میں ایک نام مدبّرِ اسلام محقق اعظم مولانا عامر عثمانی نور اللہ مرقدہ کا بھی ہے۔مدبّرِ اسلام حضرت مولانا عامر عثمانی،جنہوں نے اپنے ماہنامہ تجلّیّ کے ذریعہ اپنی تحریروں کوعوام کے قلوب و اذہان میں ایسےپیوست کر دیاتھا کہقارئین تجلّی کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔مطالعہ کے شوقین حضرات جانتے ہیں کہ ماہنامہ تجلّی اردو زبان میں نکلنے والا دینا کا واحداسلامی رسالہ ہے جسکی کثیر تعدادِ اشاعت اور مقبولیت آج تک کسی دوسرے مذہبی رسالے کا مقدّر نہ بن سکی۔ماہنامہ تجلّی وہ رسالہ تھاکہ لوگ باقاعدہ جسکا انتظار کیا کرتے تھے۔تاخیر ہوجانے پرہزاروں شکایتی خطوط مدیرِ تجلّی کے نام ارسال ہو جاتے تھے۔تجلّی کے مضامین پڑھنے کے لئےلوگ ایسے بے قرار و بے صبررہتے تھے کہ گویاتجلّی ان کے لئے ان کی سانسوں کی طرح ضروری ہو۔اس مقبولیت،شہرت،عزت،چاہت کا سبب تھا مدبّرِ اسلام مولانا عامر عثمانی صاحب کا محققانہ اور بے باک قلم،مولانا عامر عثانی صاحب(رحمت اللہ علیہ) تحریریں ثابت کرتی ہیں کہ برصغیر میں ان سے بڑا قلم کار نہیں گزرایہ جملہ کسی جوش،غلو،یا جذبہ میں نہیں لکھا بلکہ تجلّی کو پڑھنے والا ہر باشعور شخص خوداس بات کی گواہی دے گاکہ یہ ایسا ہی سچ ہے جیسا سورج کے نکلنے سے دن کی شروعات کا ہونا۔اس کا سبب یہ بھی ہے کہ ہر قلم کار کا کوئی نہ کوئی خاص موضوع ہوتا ہے جس پر وہ خوب جم کر لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کوئی افسانہ نگار ہے کوئی مزاح نگار،کوئی حدیث پر عبور حاصل کئے ہوئے ہے،کوئی فنِ تفسیر میں یکتا ہے تو کوئی شاعری میں ماہر۔لیکن مدبّرِ اسلام مولانا عامر عثمانی (رحمت اللہ علیہ)کائنات میں شاید وہ واحد شخصیت ہیں جنکا قلم حدیث کی تشریح کی تفہیم الحدیث لکھتا ہے۔تو وہ ایک محدث معلوم ہوتے ہیں۔یہی قلم جب طلاق کے موضوع پر بحث کرتا ہے تووہ محققِ اعظم نظر آتے ہیں۔تفسیر ماجدی پر جب حضرت کی نظر پڑتی ہے توان کا قلم مفسّر کی زبان بولتا ہے۔طنزومزاح کی نگارشاتکا مجموعہ”مسجد سے میخانے تک”آج بھی اہل علم حضرات کے دلوں میں گدگدی سی کر دیتا ہے۔شاعری کے لئے قلم حرکت میں آتا ہے توشاعر اسلام کی حقیقی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔مبصّر کی حیثیت سے ان کا مقام بہت اونچا ہے۔تجلّی کی ڈاک میں دیے گئے لوگوں کے وسوالوں کے مفصّل جواب چابت کرتے ہیں کہ تحقیقی حوالوں کے ساتھ مفصّل جواب دینے والے یہ شاید پہلے اور آخری مفتی ہوں گے۔ایسے تھے قلم کے بادشاہ یعنی شہنشاہِ قلم مدبّرِ اسلام مولانا عامر عثمانی(رحمت اللہ علیہ)۔حضرت کی تحریریں جادوئی بھی ہیں،متنوع بھی،قیمتی بھی ہیں اور امّت کے لئے صالح بھی۔
لیکن افسوس ! گزرتے وقت کی گردسے ان کی لازوال تحریریں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔آج مدّبرِ اسلام مولانا عامر عثمانی کی تحریریں کہیں نہیں مل پاتیں۔34سال میں کتابی شکل میں ان کی چند تحریریں ہی شائع ہو پائی ہیں۔
جن میں تجلی کا طلاق نمبر، مسجد سے مےخانے تک، شاعرانہ کلام یہ قدم قدم بلائیں، حضرت عثمان ذوالنورین ، اور بدعت کے(ا ہے)معاملے پر ایک مقالہ۔
اب یہ کوتاہی کس کی رہی اس شکایت پہ وقت ضائع کرنے سے بہتر میں نے سوچا ہے کہ اس عظیم شخصیت کی تمام تحریریں باقاعدہ ترتیب دےکر کتابی شکل میں شائع کی جائیں ۔ جس کے لیے مجھ خاکسار کو اُن خوش نصیب حضرات کی مدد چاہئے جن کے پاس آج بھی کچھ نہ کچھ ماہنامہ تجلی موجود ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ۵۰ سال سے زیادہ کی عمر رکھنے والا ہر وہ شخص جو اردو کتابوں و رسائل کے مطالعہ کا شوقین ہو تجلی سے انجان نہیں ہوگا۔ بس میں ان تمام حضرات سے بہت ادب و احترام کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ آج جب کہ مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی ؒ کا نام بھی لوگوں کے ذہنوں میں دھندلا ہوتا جا رہا ہے تو برائے کرم امت کی اصلاح کا درد رکھنے والے اس عظیم شخص کی عظمت آمیز تحریروں کی بقا و سلامتی کے لیے میری مدد کریں اور جس شخص کے پاس بھی ماہنامہ تجلی کا کوئی بھی شمارہ موجود ہو تو برائے کرم وہ مجھے عنایت کرنے کی زحمت گوارہ فرمائے ۔ آج ماہنامہ تجلی جہاں بھی ہوگا بہت بوسیدہ حالت میں ہوگا اور چند اور سالوں بعد شاید ضائع ہی ہو جائے اس سے پہلے کہ یہ نقصان ہو آپ حضرات مولانا کی تحریروں کو کتابی شکل میں لانے میں تعاون فرمائیں اس کا صلہ یہاں تو میں دل سے نکلی ہوئی دعاﺅں اور چند روپیوں کے سوا کچھ نہ دے پاﺅں گا لیکن اللہ کے یہاں آپ یقینا بے انتہا اجرو ثواب کے مستحق ہوں گے۔ انشااللہ۔اس لیے پھر گذارش ہے کہ جس کے پاس بھی ماہنامہ تجلی کا کوئی بھی شمارہ ہو وہ مجھ سے رابطہ قائم ضرور کرے۔ اگر کوئی شخص قیمت لیکر دینا چاہے تو میں بھی اُسے قیمت ایڈوانس دےکر خرید نے کا خواہش مند ہوں۔ اب سوال ہے کہ میں کون ہوں؟مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی رشتے میں میرے دادا ہوتے ہیں۔ میں حضرت کہ حقیقی چھوٹے بھائی جناب عمر فاروق عاصم عثمانی صاحبؒ کا پوتا ہوں۔میرے پاس تقریباً ۸۰ شمارے تو ہو گئے ہیں لیکن کل ۳۱۲ شمارے ہوتے ہیں جو مولانا کے انتقال کے وقت تک جاری ہوئے تھے۔اس لئے اب بھی کافی درکار ہیں۔ لیکن مجھے اللہ کی ذات سے پورا یقین ہے کہ اگر آپ میری مدد کریں گے تو میں انشااللہ تمام ہی شمارے جمع کرنے میں کامیاب ہو جاﺅںگا۔ یہ کوشش یہ محنت صرف اس لئے ہے کہ تاکہ یہ علمی ذخیرہ محفوظ ہو جائے اور آنے والی نسلیں اس سے مستفیض ہوتی رہیں۔
Optimistic khayaal
اسماعیل اعجاز (خیال)
کا سلام آپ تمام احباب کی خدمت میں
میں نے کوشش کی ہے کہ املا کی غلطیاں درست کر کے آپ احباب تک پہنچا کر اس
کارخیر میں اپنی بساط بھر کاوشوں کے ساتھ شامل ہو سکوں
طالب دعا طالب نظر
اسماعیل اعجاز (خیال)
عامر عثمانی کی جب یاد آئی
عامر عثمانی ؒ
قلم کا دھنی علم وادب کا شناور
عبدالرحمن سیف عثمانی
مکرمی ! اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ دنیا میں ایسے شمار اہل قلم و اصحاب کمال ایسے گزرے ہیں جن کی تحریریں ہمیشہ ہی امّت کے لئے اصلاح و خیر کا سبب ثابت ہوئی ہیں۔لیکن گزرتے وقت نے ان کے اثاثہ علمی کو گرد آلودکر کے پوشیدہ کر دیا ہے۔ایسی ہی باکمال علمی شخصیات میں ایک نام مدبّرِ اسلام محقق اعظم مولانا عامر عثمانی نور اللہ مرقدہ کا بھی ہے۔مدبّرِ اسلام حضرت مولانا عامر عثمانی،جنہوں نے اپنے ماہنامہ تجلّیّ کے ذریعہ اپنی تحریروں کوعوام کے قلوب و اذہان میں ایسےپیوست کر دیاتھا کہ قارئین تجلّی کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔مطالعہ کے شوقین حضرات جانتے ہیں کہ ماہنامہ تجلّی اردو زبان میں نکلنے والا دنیا کا واحداسلامی رسالہ ہے جسکی کثیر تعدادِ اشاعت اور مقبولیت آج تک کسی دوسرے مذہبی رسالے کا مقدّر نہ بن سکی۔ماہنامہ تجلّی وہ رسالہ تھاکہ لوگ باقاعدہ جسکا انتظار کیا کرتے تھے۔تاخیر ہوجانے پرہزاروں شکایتی خطوط مدیرِ تجلّی کے نام ارسال ہو جاتے تھے۔تجلّی کے مضامین پڑھنے کے لئےلوگ ایسے بے قرار و بے صبررہتے تھے کہ گویاتجلّی ان کے لئے ان کی سانسوں کی طرح ضروری ہو۔اس مقبولیت،شہرت،عزت،چاہت کا سبب تھا مدبّرِ اسلام مولانا عامر عثمانی صاحب کا محققانہ اور بے باک قلم،مولانا عامر عثانی صاحب(رحمت اللہ علیہ) تحریریں ثابت کرتی ہیں کہ برصغیر میں ان سے بڑا قلم کار نہیں گزرایہ جملہ کسی جوش،غلو،یا جذبہ میں نہیں لکھا بلکہ تجلّی کو پڑھنے والا ہر باشعور شخص خوداس بات کی گواہی دے گاکہ یہ ایسا ہی سچ ہے جیسا سورج کے نکلنے سے دن کی شروعات کا ہونا۔اس کا سبب یہ بھی ہے کہ ہر قلم کار کا کوئی نہ کوئی خاص موضوع ہوتا ہے جس پر وہ خوب جم کر لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کوئی افسانہ نگار ہے کوئی مزاح نگار،کوئی حدیث پر عبور حاصل کئے ہوئے ہے،کوئی فنِ تفسیر میں یکتا ہے تو کوئی شاعری میں ماہر۔لیکن مدبّرِ اسلام مولانا عامر عثمانی (رحمت اللہ علیہ)کائنات میں شاید وہ واحد شخصیت ہیں جنکا قلم حدیث کی تشریح کی تفہیم الحدیث لکھتا ہے۔تو وہ ایک محدث معلوم ہوتے ہیں۔یہی قلم جب طلاق کے موضوع پر بحث کرتا ہے تووہ محققِ اعظم نظر آتے ہیں۔تفسیر ماجدی پر جب حضرت کی نظر پڑتی ہے توان کا قلم مفسّر کی زبان بولتا ہے۔طنزومزاح کی نگارشاتکا مجموعہ”مسجد سے میخانے تک”آج بھی اہل علم حضرات کے دلوں میں گدگدی سی کر دیتا ہے۔شاعری کے لئے قلم حرکت میں آتا ہے توشاعر اسلام کی حقیقی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔مبصّر کی حیثیت سے ان کا مقام بہت اونچا ہے۔تجلّی کی ڈاک میں دیے گئے لوگوں کے وسوالوں کے مفصّل جواب چابت کرتے ہیں کہ تحقیقی حوالوں کے ساتھ مفصّل جواب دینے والے یہ شاید پہلے اور آخری مفتی ہوں گے۔ایسے تھے قلم کے بادشاہ یعنی شہنشاہِ قلم مدبّرِ اسلام مولانا عامر عثمانی(رحمت اللہ علیہ)۔حضرت کی تحریریں جادوئی بھی ہیں،متنوع بھی،قیمتی بھی ہیں اور امّت کے لئے صالح بھی۔
لیکن افسوس ! گزرتے وقت کی گردسے ان کی لازوال تحریریں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔آج مدّبرِ اسلام مولانا عامر عثمانی کی تحریریں کہیں نہیں مل پاتیں۔34سال میں کتابی شکل میں ان کی چند تحریریں ہی شائع ہو پائی ہیں۔
جن میں تجلی کا طلاق نمبر، مسجد سے مےخانے تک، شاعرانہ کلام یہ قدم قدم بلائیں، حضرت عثمان ذوالنورین ، اور بدعت کے(ا ہے)معاملے پر ایک مقالہ۔اب یہ کوتاہی کس کی رہی اس شکایت پہ وقت ضائع کرنے سے بہتر میں نے سوچا ہے کہ اس عظیم شخصیت کی تمام تحریریں باقاعدہ ترتیب دےکر کتابی شکل میں شائع کی جائیں ۔ جس کے لیے مجھ خاکسار کو اُن خوش نصیب حضرات کی مدد چاہئے جن کے پاس آج بھی کچھ نہ کچھ ماہنامہ تجلی موجود ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ۵۰ سال سے زیادہ کی عمر رکھنے والا ہر وہ شخص جو اردو کتابوں و رسائل کے مطالعہ کا شوقین ہو تجلی سے انجان نہیں ہوگا۔ بس میں ان تمام حضرات سے بہت ادب و احترام کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ آج جب کہ مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی ؒ کا نام بھی لوگوں کے ذہنوں میں دھندلا ہوتا جا رہا ہے تو برائے کرم امت کی اصلاح کا درد رکھنے والے اس عظیم شخص کی عظمت آمیز تحریروں کی بقا و سلامتی کے لیے میری مدد کریں اور جس شخص کے پاس بھی ماہنامہ تجلی کا کوئی بھی شمارہ موجود ہو تو برائے کرم وہ مجھے عنایت کرنے کی زحمت گوارہ فرمائے ۔ آج ماہنامہ تجلی جہاں بھی ہوگا بہت بوسیدہ حالت میں ہوگا اور چند اور سالوں بعد شاید ضائع ہی ہو جائے اس سے پہلے کہ یہ نقصان ہو آپ حضرات مولانا کی تحریروں کو کتابی شکل میں لانے میں تعاون فرمائیں اس کا صلہ یہاں تو میں دل سے نکلی ہوئی دعاﺅں اور چند روپیوں کے سوا کچھ نہ دے پاﺅں گا لیکن اللہ کے یہاں آپ یقینا بے انتہا اجرو ثواب کے مستحق ہوں گے۔ انشااللہ۔اس لیے پھر گذارش ہے کہ جس کے پاس بھی ماہنامہ تجلی کا کوئی بھی شمارہ ہو وہ مجھ سے رابطہ قائم ضرور کرے۔ اگر کوئی شخص قیمت لیکر دینا چاہے تو میں بھی اُسے قیمت ایڈوانس دےکر خرید نے کا خواہش مند ہوں۔ اب سوال ہے کہ میں کون ہوں؟مدبر اسلام مولانا عامر عثمانی رشتے میں میرے دادا ہوتے ہیں۔ میں حضرت کہ حقیقی چھوٹے بھائی جناب عمر فاروق عاصم عثمانی صاحبؒ کا پوتا ہوں۔میرے پاس تقریباً ۸۰ شمارے تو ہو گئے ہیں لیکن کل ۳۱۲ شمارے ہوتے ہیں جو مولانا کے انتقال کے وقت تک جاری ہوئے تھے۔اس لئے اب بھی کافی درکار ہیں۔ لیکن مجھے اللہ کی ذات سے پورا یقین ہے کہ اگر آپ میری مدد کریں گے تو میں انشااللہ تمام ہی شمارے جمع کرنے میں کامیاب ہو جاﺅںگا۔ یہ کوشش یہ محنت صرف اس لئے ہے کہ تاکہ یہ علمی ذخیرہ محفوظ ہو جائے اور آنے والی نسلیں اس سے مستفیض ہوتی رہیں۔
Optimistic khayaal