فاروس میڈیا کی جرات مندانہ کاوشوں کی ایک اور کڑی
سہیل انجم
سیاست اچھی چیز بھی ہے اور بری بھی ہے۔ اگر وہ عوام کے ساتھ دردمندی سے کام لے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے تو یقیناً اسے برا نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن جب یہی سیاست کسی کی کردار کشی کرنے لگے اور سیاسی مفادات کی خاطر کسی فرشتہ صفت انسان کو شیطان بنا کر پیش کرے تو یقیناً وہ بری چیز بن جاتی ہے۔ اس سیاست نے جانے کتنے اچھے انسانوں کو بدنام کیا ہے۔ کتنوں کی زندگی تہہ و بالا کر دی اور کتنوں کو برباد کر دیا۔ ایسے ہی لوگوں میں ڈاکٹر کفیل خان بھی ہیں۔ ان کو کون فراموش کر سکتا ہے۔ ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بھی کوئی نہیں بھول سکتا۔ کم از کم وہ اور ان کے اہل خانہ تو زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔
ان کا تعلق گورکھپور سے ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ بی آر ڈی میڈیکل کالج میں شعبہ امراض اطفال میں بحیثیت ڈاکٹر تعینات تھے۔ یاد رہے کہ گورکھپور اور اس کے مضافات میں ہر سال موسم باراں میں انسے فلائٹس نامی ایک خطرناک بیماری بچوں کو جکڑ لیتی ہے اور متعدد بچوں کی جان لے لیتی ہے۔ مشرقی اترپردیش کے باشندو ںکے لیے یہ بیماری ایک عام بیماری کی مانند ہے۔ کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود حکومت و انتظامیہ اس بیماری پر قابو نہیں پا سکی ہے۔ سال 2017 میں بھی اس بیماری نے گورکھپور اور مضافات میں اپنا قہر ڈھایا تھا اور سیکڑوں بچوں کی زندگیاں نگل گئی تھی۔ لیکن وہ سال اس خطرناک مرض کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے سرخیوں میں آیا۔ اور وہ وجہ تھی ایک مسیحا صفت انسان ڈاکٹر کفیل خان کی مسیحائی۔ انھوں نے جب دیکھا کہ بیماری پھیلتی اور بچوں کی جان لیتی جا رہی ہے اور بچوں کو دیا جانے والا آکسیجن ختم ہو گیا ہے تو وہ مضطرب ہو گئے۔ وہ کسی بھی طرح آکسیجن سلینڈر حاصل کرنے کی جد و جہد میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے دن کو دن سمجھا اور نہ رات کورات۔ ان کی کوششوں سے کئی معصوم بچوں کی زندگیاں بچ گئیں۔ لیکن کچھ مخصوص لوگوں کو ان کی یہ ادا پسند نہیں آئی۔
اس وقت مقامی اخباروں اور میڈیا میں ان کے بارے میں کہانیاں چھپنے لگیں۔ ان کو بی ڈی آر میڈیکل کالج کا ہیرو بتایا جانے لگا۔ چاروں طرف ان کی تعریف و ستائش ہونے لگی۔ ظاہر ہے یہ باتیں کفیل خان کے لیے باعث مسرت تھیں۔ لیکن انھیں کیا پتہ تھا کہ تعریف و ستائش کا یہ تحفہ ان کے لیے اذیتوں کا پیش خیمہ بننے والا ہے۔ وہ جو خطرناک مرض میں مبتلا بچوں کے لیے مسیحا ثابت ہو رہے ہیں، ان کی یہ قربانی انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دے گی۔ ایک ایسے شخص کو جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہ سب کچھ کر رہا تھا جو ایک ڈاکٹر کا فریضہ ہے بلکہ اس فریضے سے بھی زیادہ کچھ کر رہا تھا، اس کا انعام قید و بند کی شکل میں دیا جائے گا۔ ڈاکٹر کفیل خان نے اپنی پوری داستان انگریزی میں قلم بند کی ہے جس کا اردو ترجمہ اما محمد شعیب و ارم فاطمہ نے کیا۔ اس پر نظر ثانی محمد علم اللہ اور گلزار صحرائی نے کی۔ اس داستان مظلومیت کو اردو میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین، انگریزی اخبار ملی گزٹ کے ایڈیٹر اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے اشاعتی ادارے فاروس میڈیا نے 2023 میں شائع کیا۔ یہ ایک طرح سے ڈاکٹر کفیل خان کی خودنوشت بھی ہے اور ان کی جیل یاترا کی کہانی بھی ہے۔ ان کی مسیحائی کی داستان بھی ہے اور سیاست و حکومت کے ظالمانہ عزائم کے ہاتھوں ہیرو سے ویلن بننے کا دلدوز بیانیہ بھی ہے۔ انھیں مبینہ طور پر ایک مسلمان ہونے کے ناطے جس طرح پریشان کیا گیا وہ مسلم دشمنی کا ایک انتہائی قبیح باب ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان نے اس کتاب میں انسے فلائٹس میں بچوں کے مبتلا ہونے، یکے بعد دیگرے ایک ایک بچے کے مرنے، ان کے والدین کی آہ و بکا اور اسی کے ساتھ بہت سی ایسی باتیں درج کی ہیں جو عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔
انھوں نے 2019 میں پھیلنے والی کووڈ 19 کی وبا کو یاد کرتے ہوئے اپنی داستان غم تحریر کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ دس اگست 2017 کی وہ خوفناک رات میرے ذہن و دماغ پر چھا گئی جب میں بے چینی اور اضطراب کے عالم میں اسپتال کے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں چکر لگارہا تھا اور بڑی شدت سے آکسیجن کی سپلائی کی بحالی کا منتظر تھا تا کہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو بچایا جا سکے جو بی آرڈی میڈیکل کالج گورکھپور کے شعبہ امراض اطفال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ننھی جانوں کو بچانے کی فکر میں مجھے یہ بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ واقعات ایسا رخ اختیار کریں گے کہ مجھے اپنی خود کی جان بچانے، اپنی آزادی، اپنے پروفیشن کو جاری رکھنے اور اس شہر میں زندگی گزانے کے لیے جد وجہد کرنی پڑے گی جہاں میں اور میرے آبا واجداد نے جنم لیا تھا۔ ان کے بقول اگر دس اگست کی رات آکسیجن کے لئے زندگی اور موت کی کشمکش تھی تو گیارہ اگست کا دن میرے لیے ایک الگ طرح کا مسئلہ لے کر آیا تھا۔ میں ان لوگوں سے جو جھ رہا تھا جن میں تکبر ، لاپروائی، گھمنڈ اور سب سے بہتر اور اعلیٰ ہونے کا زعم ہوتا ہے۔ یہ صفات شاید ہمارے ملک میں صاحب منصب واقتدار کے اندر فطری طور پر پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی ان سے نہیں بچ سکتے جن کا تعلق طب جیسے مقدس پیشے سے ہو۔ میری جسمانی اور ذہنی دونوں طاقت ختم ہونے کے قریب تھی لیکن یہ تو ابھی میری آزمائش کی ابتدا تھی۔ ”سیاسی اداکاروں کی گھٹیا اور انسانیت سے گری ہوئی حرکتیں بھی میرے سامنے آئیں جو اپنے سیاسی مستقبل کی تعمیر ان مصیبتوں پر کرتے ہیں جن کا سامنا عوام کی ایک بڑی جماعت کو کرنا پڑتا ہے لیکن ان ہی مشکلات کو حل کرنے کے لئے ان کی کوششوں کا اوسط صفر ہوتا ہے۔“
ادھر جب یہ معاملہ ملک گیر سرخیوں کی زینت بن گیا اور ہر چہار جانب سے ڈاکٹر کفیل خان کی تعریف ہونے لگی تو وزیر اعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے اسپتال کا دورہ کرکے صورت حال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ اسپتال گئے اور مریضوں کے ساتھ ساتھ اسپتال کے اہل کاروں سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے دورے کے وقت مجھ سے یہ کہا گیا کہ میں اپنے کیبن میں رہوں اور وزیر اعلیٰ سے دور رہوں اس لئے کہ صرف ایچ اوڈی ہی وارڈ کی زیارت میں ان کے ساتھ رہیں گی۔ میں نے دوسروں سے سنا کہ جب وزیر اعلیٰ پہنچے تو ایک ہنگامہ ہو گیا اور جیسے ہی وہ اور جے پی نڈا گاڑی سے باہر نکلے رپورٹرز اپنے اپنے مائک لے کر ان پر کود پڑے۔ وزیر اعلیٰ ان کو نظر انداز کرتے ہوئے وارڈ نمبر 100 کی طرف بڑھے لیکن رپورٹر ز ان کے پیچھے پیچھے لگاتار دوڑتے رہے۔ جیسے ہی وزیر اعلیٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے سیکورٹی والوں نے دروازے بند کر دیے۔ صرف وزیر اعلیٰ، جے پی نڈا، راجیہ سبھا ممبر شیو پر تاپ، کمشنر ، ڈی ایم ، اور ڈی جی ایم ای کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ لیکن رپورٹرز بھی اپنی ضد پر اڑ گئے اور ان کا پیچھا کرتے رہے۔ اس افرا تفری میں انھوں نے پی آئی سی یو کے شیشے کے دروازوں کو توڑ دیا۔ وزیر اعلیٰ نے مڑ کر رپورٹروں کو دیکھا۔ پہلے ان پر چلائے اور پھر کچھ اس طرح بولے: گذشتہ تیس سالوں سے میں انسے فلائیٹس کے مریضوں کے لئے لڑتا رہا ہوں اور آپ مجھ پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ یہ ایک سازش ہے۔ میں آپ سے سب کچھ بیان کروں گا، صبر رکھئے۔ سب کو ملواو ¿ں گا والدین سے۔ پہلے ہمیں دیکھ لینے دیں۔ ڈی ایم صاحب اور وہاں جمع پولیس والوں نے اس کو ایک اشارہ سمجھ کر ہر ایک کو باہر کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پہلے روم (cubicle) میں داخل ہوئے اور پہلے مریض سے بات کی : کہاں سے ہیں ؟ کب ایڈمیشن ہوا تھا؟ کوئی دقت تو نہیں؟ دوامل جاتی ہے ؟ دس کی رات کو کیا ہوا تھا، آکسیجن کی کمی تو نہیں؟ انھوں نے کچھ اور لوگوں سے بات کی۔ پھر وہ ایچ اوڈی کی طرف مڑے اور غیر متوقع طریقہ پر پوچھا ”ڈاکٹر کفیل کون ہے؟“ میں دوسرے کیبن میں تھا لیکن میں نے یہ سوال سن لیا تھا اور چند لمحوں کے بعد ہی ایک جونیر ڈاکٹر آیا اور بولا کہ ایچ او ڈی بلارہی ہیں۔ آنے والی آزمائش سے بالکل بے خبر میں روم میں داخل ہوا جہاں وی آئی پی لوگ کھڑے تھے۔ میں نے سلام کیا۔ میرا خیال یہ تھا کہ مجھے شاباشی ملے گی مگر اس کے بجائے وہاں بالکل خاموشی تھی۔ ہر ایک مجھے گھور رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے بھی گھور کر دیکھا۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ ان کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔ تو، تو ڈاکٹر کفیل ہے؟ انھوں نے پوچھا۔ ”جی سر“ میں نے جواب دیا۔ تو نے سلنڈر کا انتظام کیا تھا ؟ جی سر، میں نے اعتراف کیا لیکن جس طرح وہ مجھے تو، تو کر کے خطاب کر رہے تھے اس سے مجھے محسوس ہونے لگا کہ معاملہ ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ ایک کنسلٹینٹ کی طرف مڑے اور پوچھا ” یہ چار پانچ سلنڈر سے کتنی زندگیاں بچالیں ؟“ کسی نے بھی جواب نہیں دیا لیکن میرے اندر سے ایک آواز چیخ کر کہہ رہی تھی کہ چار پانچ سیلنڈر نہیں بلکہ 45 گھنٹوں میں 500 سلنڈر کا انتظام کیا تھا مگر میری زبان خاموش رہی۔پھر انھوں نے کہا کہ ”تو تو سوچتا ہے کہ سلینڈر لا کے تو ہیرو بن گیا۔“ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کہوں۔ اس لیے میں خاموشی کے ساتھ کھڑا رہا۔ انھوں نے انتباہ دینے کے لہجے میں کہا ”دیکھتا ہوں تجھے“۔ ڈاکٹرکفیل کے مطابق یہ جملہ میری یادداشت میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ ہو گیا۔ کیونکہ وہی جملہ جلد ہی میری زندگی میں اتھل پتھل کرنے والا تھا۔ اگر چہ اس وقت مجھے ایسا نہیں لگا تھا مگر ہوا وہی۔
اس کے بعد انھوں نے اپنی گرفتاری، جیل کے ایام اور عدالتی کارروائیوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ان ابواب میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اکثر دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ یہ پوری کتاب انتہائی چشم کشا ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں نہ صرف اقتدار کے گلیاروں میں ہونے والی سازشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے بلکہ عدالتوں میں کس طرح مقدمات ادھر سے ادھر گھمائے جاتے ہیں اور کس طرح فاضل جج حضرات سیاست دانوں کے زیر اثر آجاتے ہیں اس کی پوری تفصیل موجود ہے۔
صفحات: 312، قیمت: 375 روپے۔ ناشر: فاروس میڈیا اینڈ پبلشنگ پرائیویٹ لمٹیڈ، جامعہ نگر، نئی دہلی۔ رابطہ: 9818120669۔