آج ذرائع اور سماجی ابلاغ کی بنیاد پرساری دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے، کسی کو انصاف کے کٹھرے میں لانے سے لے کر کسی کو اس کے برے کام کی سزا دلوانے تک کی ذمہ داری ان ہی ذرائع کی مرہون منت سجھائی دیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہت سارے ایسے امور اچانک سے شامل کر دئیے جاتے ہیں جن کی نا تو ہم نے کوئی تربیت حاصل کی ہوتی ہے اور نا ہی اس کا تذکرہ درسگاہوں سے میسر ہوتا ہے، سماجی ابلاغ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی بہتات سے ہمارا معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرتی اقدار کو پہنچا ہے، ہماری نئی نسل اجتماعی زندگیوں سے نکل کر انفرادی ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی کمرے میں موجود لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں مصروف دیکھے جاسکتے ہیں اور تقریباً فیصلے سماجی ابلاغ پر ہی کرلئے جاتے ہیں۔
بظاہر حالات کی سنگینی میں کسی قسم کی کمی محسوس نہیں کی جارہی، البتہ مذاکرات کا چرچا ضرور سنائی دے رہا ہے اورغیر مصدقہ اطلاعت کے مطابق امریکہ نے ایران کو اپنا پندرہ رنقاطی امن معاہدہ بھیج دیا ہے اور ایران نے اپنے چھ مطالبے ساری دنیا کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ ان حالات کی سنگینی کو انتہائی تدبر کیساتھ ہمارے ذرائع ابلاغ نے سنبھالا ہوا ہے اورہر قسم کی ہنگامی صورتحال کو بہت خوبی سے سنبھالا ہوا ہے اور یہ کردار قابل ستائش ہے۔خبروں کا ایسا توازن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ جو طاقتور ہوتا ہے اسی کی خبریں اور اسی کی کامیابی دیکھائی اور بتائی جاتی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ جو بظاہر زمین پر طاقت کا منبہ سمجھے جاتے ہیں اور جہاں چاہتے رہے ہیں اپنی مرضی سے حملہ آور ہوجاتے رہے ہیں، اسی متکبر سوچ کے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے ایران پر چڑھائی کردی، ایک اندازے کے مطابق ان کا سمجھنا تھا دودن یا پھر زیادہ سے زیادہ تین دن میں ایران گھٹنے ٹیک دیگا اور ان سے امن کی بھیک مانگے گایا پھر ایران میں اندرونی خلفشار پیدا ہوجائے گا(جس طرح عراق، لیبیا اور دیگر ممالک میں ہوتا آیا ہے) لیکن وقت گواہی دے گا کہ ایک ایسا ملک جس پر تقریبا تین دہائیوں سے زیادہ سے بے شمار پابندیاں لگی ہوئیں تھیں ایسامقابلہ کر رہا ہے کہ حملہ آوروں کی نیندیں حرام کردی ہیں اور انہیں اب اپنے ملک میں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ ایران نے عزم شہادت کا ایسا علم بلند کر رکھا ہے کہ ان کے رہنما شہید ہورہے ہیں لیکن علم کو نیچے نہیں گرنے دیا جا رہا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک اولولازم میدان میں تیار کھڑا دیکھائی دیتا ہے۔ایران کا نظریہ شھادت ہے جس کی بدولت کوئی خوف انہیں جھکنے پر آمادہ نہیں کرسکتا۔ ایران کے عزم اور حوصلے کی بدولت آمریکہ اور اسرائیل کو دنیا نے ان کی اس مسلط کی ہوئی جنگ میں پہلی دفعہ تنہا چھوڑ دیا ہے اوردنیا کے امن کی خاطر غیر جانبدار رہنے کا واضح فیصلہ کر لیا ہے۔اب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ختم کرنا چارہے ہیں انہیں اسرائیل کی پسپائی دیکھائی دینا شروع ہوگئی ہے، لیکن اب ایران جو عرصہ دراز سے اس فیصلہ کن معرکہ کے انتظار میں تھا،جسکی وجہ سے ایران اس مسلط شدہ جنگ کو لمبا کرنا چاہتاہے اورانجام کیلئے اپنی شرائط منوانے تک جنگ کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔ایران دنیاکو واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ ایران نا تو کسی کے خوف میں مبتلاء رہا ہے اور نا ہی کسی کے ساتھ کا محتاج ہے۔آبنائے ہرمز نے دنیا کی شہہ رگ کا کام کیا ہے جس کا تعلق ایران سے ہے یہاں ایران نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے اور امریکہ اور اسرائیل پر بھرپور دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ صورتحال کو کس خوبی اور بہترین جنگی حکمت عملی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔شائد اسی حکمت عملی کو سمجھنے کیلئے امریکی صدر نے کچھ وقت کیلئے حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔
آمریکہ کا یہ دعوی کے ایران اس جنگ کو روکنا چاہتا ہے کہاں تک درست ہے آنے والے کچھ دنوں میں پتہ چل جائے گا۔ کیا یہ جنگ امریکہ کے دئے گئے پندرہ نکاتی معاہدے کے تحت اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی یا پھر ایران کے دئیے گئے چھ نکات اس جنگ پر اثر انداز ہونگے۔دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر جب ایٹم بم مارا تھا اس وقت جاپان مستحکم و منظم حکمت عملی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، امریکہ اگر ایٹم بم نا مارتا تو آج دنیا کی صورتحال مختلف ہوتی اور طاقت کا توازن بھی۔ دنیا کو یہ ضرور ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اگر ایران جیسا ملک پسپائی کی طرف جائے گا تو وہ اپنی پوشیدہ بھرپور صلاحیت کے ساتھ جہاں تک ممکن ہوسکے گا حملہ کرے گا(ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبییں گے)۔ ایران کیلئے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج تک مسلم دنیا اپنا ایک موقف واضح کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔کیا یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی، کیا قرب قیامت کی نشانیاں پوری ہوچکی ہیں، اسرائیل نے تو اپنی اس جنگ کو مذہبی لڑائی قرار دے دیا ہے اور وہ اسے اپنے نجات دہندہ (دجال) کے آنے تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔آمریکہ اس جنگ میں تیل پر قبضہ کرنے کی خواہش لے کر کھڑا ہوا ہے جبکہ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بننے میں جن جن ممالک سے خطرہ ہے وہ ان سے لڑرہے ہیں۔ یعنی دواتحادی (امریکہ اور اسرائیل)پوشیدہ طور پر دو الگ الگ مقاصد کے حصول کیلئے دنیا کے امن کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔
Regards,
Sh. Khalid Zahid
0302-8639557
Associate General Secreatry, Hamariweb Writers Club (HWC)
Member Pakistan Federal Union of Columnists (PFUC)
https://www.jasarat.com/blog/author/shaikh_khalid_zahid/http://hamariweb.com/articles/ebook/Sheikh-Khalid-Zahid