باضمیر اہل قلم کے نام ایک خط-چند "غیر اہم ادیب و شاعر" مقروض پائے گئے

15 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Jul 11, 2012, 4:46:29 AM7/11/12
to 5BAZMeQALAM, Maqsood Sheikh, arif waqar

 
باضمیر اہل قلم کے نام ایک خط-چند "غیر اہم ادیب و شاعر" مقروض پائے گئے
 
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
  
کراچی سے شائع ہونے والے ایک ادبی پرچے میں صفدر صدیق رضی صاحب کا ایک کھلا خط شائع ہوا ہے۔ صفدر صاحب کراچی کے ایک بینک میں ملازم تھے جہاں سے چند برس قبل ملازمت چھوڑ چکے ہیں۔ ادب نواز اور ادب دوست انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی اسی خاصیت کو بقول ان کے چند "غیر اہم ادیبوں اور شاعروں" نے بھانپ لیا اور مختلف اوقات میں مختلف حیلوں بہانوں سے دس لاکھ روپے اینٹھنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سونا 6 ہزار روپے فی تولہ اور ڈالر 30 روپے کا تھا۔ آج یہ جنس نایاب بالترتیب 60 ہزار اور 95 روپے تک جا پہنچی ہے۔
 
اردو ادب کی تاریخ میں یقیننا ایسی کئی مثالیں موجود ہوں گی جب صدیق صاحب جیسے ادب نواز لوگ، چند مخصوص سوچ رکھنے والے "مشاہیر ادب" کے "چنگل" میں پھنسے ہوں گے اور اپنی حق حلال کی کمائی کو بے دردی سے ان پر لٹایا ہوگا۔ چونکہ تاریخ خود کو دوہراتی رہتی ہے لہذا یہ سانحہ ایک مرتبہ پھر رونما ہوتا دیکھا گیا۔ ویسے تو اس کیفیت و بہتیروں نے باندھا ہوگا لیکن سردست ہمیں مولانا کوثر نیازی کے چند اشعار یاد آرہے ہیں
 
                        جن کا ہر لمحہ گزرتا تھا مری قربت میں
                         دور و نزدیک نظر آتے نہیں اب میرے
                         مجھ سے کترا کے گزر جاتے ہیں دیرنہ رفیق
                          راستے دیکھتے ہیں سخت کٹھن جب میرے
   
یہاں فرق یہ ہے کہ صفدر صاحب کے راستے کٹھن کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ انہی حضرات کا ہے۔
 
صفدر صدیق رضی صاحب نے بحالت مجبوری مذکورہ "ادبی" پرچے میں ایک دل سوز اپیل شائع کروائی ہے۔ جسے ہم نے اپنے درد مند قارئین کے لیے زیر نظر پیغام کے ہمراہ منسلک کردیا ہے۔
 
تازہ ترین (11 جولائی، 2012 ، دس بجے صبح) اطلاع یہ ہے کہ چند روز قبل شائع ہونے والی اس اپیل کے نتیجے میں صفدر صاحب کو ان کے دو عدد قرض دار بالترتیب 45 اور 15 ہزار روپے واپس کرگئے ہیں۔ ہمارے اور "پبلک" دونوں کے بیحد اصرار کے باوجود صفدر صاحب ان حضرات میں سے کسی کا نام بتانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ یہ ضرور کہا کہ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں کہ ان کے قرب و جوار میں رہتے ہیں بلکہ ایک تو "تقریبا" ان کا پڑوسی ہی ہے۔ ایک صاحب تو ایسے ہیں جنہوں نے بقول جناب صفدر رضی، ان سے دو لاکھ پینتالیس ہزار روپے اپنی بیٹی کی شادی کے نام پر ادھار لیے تھے، بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس رقم سے انہوں نے خود اپنی خانہ آبادی کرلی۔ واللہ اعلم بالصواب
 
اب یہ لوگ رضی صاحب سے کتراتے ہیں۔ دور سے دیکھ کر رستہ بدل لیتے ہیں۔ بقول جناب رضی، یہ وہ لوگ ہیں جو ادبی محفلوں اور آرٹس کونسل کراچی کے اسٹیج پر اکثر تقاریر کرتے ہیں۔ یہ پڑھ کر ہم ٹھنکے کہ آنے والے اتوار کے روز ہماری جناب ابن صفی پر کتاب "کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" پر ایک مذاکرہ آرٹس کونسل میں رکھا گیا ہے۔ پھر خیال آیا کہ کتاب کی اشاعت کے بعد ہمارے پلے بچا ہی کیا ہے جو کسی میں بانٹیں، دل مطمعئن ہوا۔۔۔۔
  
یقیننا  صفدر صدیق رضی صاحب کے یہ تمام مہربان، ان کے قرض دار ہونے کے باوجود شاعری بھی کرتے ہوں گے، گویا مشق سخن اور تخلیق ادب، قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود بھی جاری رہتی ہوگی بلکہ شاید اس میں مزید نکھار آ گیا ہو۔
 
مذکورہ پرچے میں شائع ہوئی ایک تصویر بھی منسلک ہے۔ یہ پروفیسر آفاق صدیقی کی اس وقت کی تصویر ہے جب وہ ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل تھے جہاں معالجوں نے ان کی انتہائی نازک حالت کے پیش نظر کسی بھی قسم کی ملاقات پر سختی سے پابندی عائد کررکھی تھی۔ مذکورہ تصویر کے اتروائے جانے کے بعد پروفیسر صاحب انتقال کرگئے تھے۔  

apeal-f.jpg
afaq siddiqui-icu.jpg

Nadir Khan Sargiroh

unread,
Jul 12, 2012, 2:38:36 AM7/12/12
to bazme...@googlegroups.com, rashid ashraf
راشد اشرف صاحب
غالباََ وہ حضرات اِس خوش فہمی میں ہوں کہ ۔ ۔ ۔ مقروض ہوں گے تو غالب ہوں گے۔
لیکن صفدر صاحب کی اپیل یہ کہہ رہی ہے کہ غالب ہونے کے لیے محض مقروض ہونا کافی نہیں۔
 
ایسے کتنے ہوں گے جو خود کو صفدر صاحب کی صف میں پائیں گے۔
غیر اہم ادیب و شاعر،  یا یوں کہیے کہ بعض لوگ مصلحتاََ کوئی شوق پال لیتے ہیں تاکہ اُنہیں شرفا کا قرب و اعتماد حاصل ہو۔
 ایسے لوگ بعض جماعتوں اور فلاحی تنظیموں میں بھی سرایت کر جاتے ہیں۔ بھولے بھالے سیدھے سادے لوگوں کے ساتھ تعلق ’ پیدا ‘ کرتے ہیں اور اُس تعلق کو ’ پروان چڑھاتے  ‘ہیں ۔ کاروبار ، لین دین کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ پھرجب حقیقت سامنے آتی ہے تب تک سونے کا بھاؤ سرسے اوپر اُٹھ چکا ہوتا ہے۔ بلکہ آسمان چھو رہا ہوتا ہے۔
 
یہ جان کر بڑا افسوس ہوا کہ صفدرصدیق رضی صاحب کا کھیت(اَدبی ) چڑیا چُگ گئی ۔
 
 غم میں (قرض میں نہیں ) برابر کا شریک
نادر خان سرگروہ 
------------------------------------------------------------------------------------------------


Nadir Khan Sargiroh

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"


Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 15, 2012, 3:21:41 AM7/15/12
to bazme...@googlegroups.com
راشد بھائ ان میں  ایک نام ذرہ  حیدرابادی کا بھی شامل کر لیں
اس نے امریکہ میں مجھ سے ایک ہزار ڈالر ادھار لیے اور
اسے تو میرے چار کالموں میں ذکر کے باوجود شرم تک نہیںآئ
بخشالوی
2012/7/11 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

zaheer uddin danish

unread,
Jul 15, 2012, 6:52:10 AM7/15/12
to bazme...@googlegroups.com
badi afsoos ki baat hai magar ye log sach much ke adeeb naheen hain jo apni islah na karsaka khud ko na sanwar saka apne akhlaq sudhar na saka wo meri nazar main adeeb naheeN beadab hai 

zaheer danish umari
8/209-5,almas pet,bismilla nagar
kadapa 516001 (a.p)
india
cell:9701065617
my blog
http://zaheerdanishumary.blogspot.com


--- On Sun, 15/7/12, Gul Bakhshalvi <gulbak...@gmail.com> wrote:
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages