باضمیر اہل قلم کے نام ایک خط-چند "غیر اہم ادیب و شاعر" مقروض پائے گئے
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
کراچی سے شائع ہونے والے ایک ادبی پرچے میں صفدر صدیق رضی صاحب کا ایک کھلا خط شائع ہوا ہے۔ صفدر صاحب کراچی کے ایک بینک میں ملازم تھے جہاں سے چند برس قبل ملازمت چھوڑ چکے ہیں۔ ادب نواز اور ادب دوست انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی اسی خاصیت کو بقول ان کے چند "غیر اہم ادیبوں اور شاعروں" نے بھانپ لیا اور مختلف اوقات میں مختلف حیلوں بہانوں سے دس لاکھ روپے اینٹھنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سونا 6 ہزار روپے فی تولہ اور ڈالر 30 روپے کا تھا۔ آج یہ جنس نایاب بالترتیب 60 ہزار اور 95 روپے تک جا پہنچی ہے۔
اردو ادب کی تاریخ میں یقیننا ایسی کئی مثالیں موجود ہوں گی جب صدیق صاحب جیسے ادب نواز لوگ، چند مخصوص سوچ رکھنے والے "مشاہیر ادب" کے "چنگل" میں پھنسے ہوں گے اور اپنی حق حلال کی کمائی کو بے دردی سے ان پر لٹایا ہوگا۔ چونکہ تاریخ خود کو دوہراتی رہتی ہے لہذا یہ سانحہ ایک مرتبہ پھر رونما ہوتا دیکھا گیا۔ ویسے تو اس کیفیت و بہتیروں نے باندھا ہوگا لیکن سردست ہمیں مولانا کوثر نیازی کے چند اشعار یاد آرہے ہیں
جن کا ہر لمحہ گزرتا تھا مری قربت میں
دور و نزدیک نظر آتے نہیں اب میرے
مجھ سے کترا کے گزر جاتے ہیں دیرنہ رفیق
راستے دیکھتے ہیں سخت کٹھن جب میرے
یہاں فرق یہ ہے کہ صفدر صاحب کے راستے کٹھن کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ انہی حضرات کا ہے۔
صفدر صدیق رضی صاحب نے بحالت مجبوری مذکورہ "ادبی" پرچے میں ایک دل سوز اپیل شائع کروائی ہے۔ جسے ہم نے اپنے درد مند قارئین کے لیے زیر نظر پیغام کے ہمراہ منسلک کردیا ہے۔
تازہ ترین (11 جولائی، 2012 ، دس بجے صبح) اطلاع یہ ہے کہ چند روز قبل شائع ہونے والی اس اپیل کے نتیجے میں صفدر صاحب کو ان کے دو عدد قرض دار بالترتیب 45 اور 15 ہزار روپے واپس کرگئے ہیں۔ ہمارے اور "پبلک" دونوں کے بیحد اصرار کے باوجود صفدر صاحب ان حضرات میں سے کسی کا نام بتانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ یہ ضرور کہا کہ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں کہ ان کے قرب و جوار میں رہتے ہیں بلکہ ایک تو "تقریبا" ان کا پڑوسی ہی ہے۔ ایک صاحب تو ایسے ہیں جنہوں نے بقول جناب صفدر رضی، ان سے دو لاکھ پینتالیس ہزار روپے اپنی بیٹی کی شادی کے نام پر ادھار لیے تھے، بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس رقم سے انہوں نے خود اپنی خانہ آبادی کرلی۔ واللہ اعلم بالصواب
اب یہ لوگ رضی صاحب سے کتراتے ہیں۔ دور سے دیکھ کر رستہ بدل لیتے ہیں۔ بقول جناب رضی، یہ وہ لوگ ہیں جو ادبی محفلوں اور آرٹس کونسل کراچی کے اسٹیج پر اکثر تقاریر کرتے ہیں۔ یہ پڑھ کر ہم ٹھنکے کہ آنے والے اتوار کے روز ہماری جناب ابن صفی پر کتاب "کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" پر ایک مذاکرہ آرٹس کونسل میں رکھا گیا ہے۔ پھر خیال آیا کہ کتاب کی اشاعت کے بعد ہمارے پلے بچا ہی کیا ہے جو کسی میں بانٹیں، دل مطمعئن ہوا۔۔۔۔
یقیننا صفدر صدیق رضی صاحب کے یہ تمام مہربان، ان کے قرض دار ہونے کے باوجود شاعری بھی کرتے ہوں گے، گویا مشق سخن اور تخلیق ادب، قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود بھی جاری رہتی ہوگی بلکہ شاید اس میں مزید نکھار آ گیا ہو۔
مذکورہ پرچے میں شائع ہوئی ایک تصویر بھی منسلک ہے۔ یہ پروفیسر آفاق صدیقی کی اس وقت کی تصویر ہے جب وہ ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل تھے جہاں معالجوں نے ان کی انتہائی نازک حالت کے پیش نظر کسی بھی قسم کی ملاقات پر سختی سے پابندی عائد کررکھی تھی۔ مذکورہ تصویر کے اتروائے جانے کے بعد پروفیسر صاحب انتقال کرگئے تھے۔