عید الاضحی پر قربانی واجب عبادت ہے

0 views
Skip to first unread message

Humayun Rasheed

unread,
Sep 24, 2013, 4:20:43 PM9/24/13
to bazmeqalam
​Please find attached if not readable here.
 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی النبی و علی آلہ و اصحابہ۔

جاننا چاہئے کہ قربانی ایک عبادت ہے جوکہ اسلام کے علاوہ ملتوں میں بھی تھا۔ پس فرمایا تبارک و تعالٰی نے وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ - الحج – ٣٤ اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیئے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔ سو تمہارا معبود ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔اورعاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔ پھر اللہ تعالٰی نے جانور قربان کرنے کومحل عبادت میں بیان کیا پس فرمایا کہ قُل إِنَّ صَلاتى وَنُسُكى وَمَحياىَ وَمَماتى لِلَّهِ رَبِّ العـٰلَمينَ - الأنعام - ١٦٢ کہ دیجئے کہ بے شک میری نماز میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کیلئے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا کہ امام مجاھد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نسک سے مراد قربانی ہے حج اور عمرہ کی‘ صاحب جلالین نے بھی اسی معنی کو لیا ہے۔ اور امام ثوری اور سدی نے سعید بن جبیر رحمھم اللہ اجمعین سے روایت کیا کہ ‘نسکی‘ سے مراد ہے میرا ذبح کرنا۔ اور امام ابن کثیر نے کہا کہ کفار بتوں کی پوجا کرتے تھے اور انہی کے نام کی قربانی کرتے تھے پس اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ آپ اس طرح کہیں کہ میری نماز اور میری قربانی۔۔۔ انتہٰی کلامہ اور اس معنی کو لینے کہ وجہ وہ روایت بھی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روز عید الاضحی جانور کو ذبح کرنے لگتے تو اس آیت کو بطور نیت کے تلاوت فرماتے (عن ابن عباس عن جابر بن عبد الله قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم عيد بكبشين وقال حين ذبحهما وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين - ابن کثیر-البقرہ-١٦٣) جو اس بات پر دال ہے کہ یہاں مراد جانور کو قربان کرنا ہے ورنہ جمیع عبادات میں ان الفاظ کے ساتھ نیت مسنون طرز پر مذکور نہیں۔ گو کہ ‘نسکی‘ سے مراد حج اور عمرہ کے مناسک بھی لئے جا سکتے ہیں‘ اور بعض نے تو اس  کا ترجہ ‘عبادتیں‘ کیا ہے‘ کہ فی نفسہ یہ ترجمہ جائز ہے لیکن ظاہرالفاظ سے قربانی ہی مراد ہے اور حج میں بھی مناسک اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا اختتام قربانی پر ہوتا ہے‘ ورنہ اللہ تعالٰی نے ‘نسک‘ کو حج سے علیحدہ قربانی کے معنی میں استعمال کیا پس جو آدمی کسی وجہ سے احرام باندھنے کے بعد حج نہ کر سکا اس کیلئے فرمایا فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو بِهِ أَذًى مِن رَأسِهِ فَفِديَةٌ مِن صِيامٍ أَو صَدَقَةٍ أَو نُسُكٍ - البقرة - ١٩٦ پس جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں بیماری ہو (اور بال کاٹنا چاہتا ہو) تو وہ فدیہ دے روزہ (کے ذریعے) یا صدقہ یا جانور کی قربانی (کر کے)۔ یہاں نسک کو واضح طور پر قربانی کیلئے استعمال کیا۔ پس ان تمام وجوھات کہ وجہ سے یہاں قربانی ہی معنی لینا سب سے ٹھیک ہے اور محض عبادت کہ لینا جائز ہے‘اور یہ بھی قربانی کے عبادت ہونے پر دلیل ہے۔

جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کرنا بذات خود ایک عبادت ہے جیسا کہ فرمایا وَالبُدنَ جَعَلنـٰها لَكُم مِن شَعـٰئِرِ اللَّهِ لَكُم فيها خَيرٌ فَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيها صَوافَّ فَإِذا وَجَبَت جُنوبُها فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا القانِعَ وَالمُعتَرَّ كَذ‌ٰلِكَ سَخَّرنـٰها لَكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ - لَن يَنالَ اللَّهَ لُحومُها وَلا دِماؤُها وَلـٰكِن يَنالُهُ التَّقوىٰ مِنكُم كَذ‌ٰلِكَ سَخَّرَها لَكُم لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَبَشِّرِ المُحسِنينَ - الحج - ٣٦-٣٧ اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانی بنایا ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں۔ تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو۔ جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قانع اور سائل کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو - اللہ تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون۔ بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری (یعنی خالص اللہ کیلئے کی گئی قربانی کی نیت) پہنچتی ہے۔ اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اس کی بڑائی بیان کرو۔ اور (اے پیغمبر) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دو۔

پس معلوم ہوا کہ قربانی سے اگرچہ کھانے کو ملتا ہے اور دوسرے منافع ہیں لیکن اللہ تک جو چیز پہنچی وہ خالص عبادت ہے کیونکہ اگر خود بھی ذبح کر کے کھا لیا تو بھی عبادت ادا ہو گئی پس کسی دوسرے کو نفع پہنچنا ضروری نہیں اسی لئے دوسروں کے نفع کو اس عبادت کی علت بنانا جائز نہیں۔

عبادت کا یہ اصول ہے کہ وہ اسی طرح ادا کی جائے جیسا کہ کہا گیا ہے‘ اس کہ صورت بدلنا یا حیلے بہانوں سے نئی نئی باتیں نکالنا اور عبادت کی اصلی ہئیت کو بدلنا جائز نہیں۔ علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی چیز اس (یعنی قربانی) کی قائم مقام نہیں بن سکتی یہاں تک کہ اگر بعین یہی بکری (جو قربان کرنی تھی) یا اس کی قیمت صدقہ کر دی قربانی کے دنوں میں تو یہ قربانی کے مقابلے میں کافی نہیں کیونکہ وجوب کا تعلق خون بہانے سے ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب وجوب کسی خاص فعل سے متعلق ہو جائے تو پھر کچھ بھی اس کا قائم مقام نہیں ہو سکتا جیسا کہ نماز روزہ وغیرہ (أن لا يقوم غيرها مقامها حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الاضحية لان الوجوب تعلق بالاراقة والاصل ان الوجوب إذا تعلق بفعل معين أنه لا يقوم غيره مقامه كما في الصلاة والصوم وغيرهما– بدائع الصنائع‘ باب الاضحیہ)۔

اللہ تعالٰی نے ابراہیم علیہ السلام کی قربانی قبول فرمائی فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۔ وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۔ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۔ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۔ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۔ الصافات ۔ ١٠٣ تا ١٠٨ جب دونوں نے حکم مان لیا اور (باپ نے بیٹے کو) ماتھے کے بل لٹا دیا‘ تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم‘ تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں‘ بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی‘ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا‘ اور پیچھے آنے والوں میں اسے باقی رکھا۔ پس اس ذکر خیر میں قربانی بھی شامل ہے۔ عن زيد بن أرقم قال قلت أو قالوا يا رسول الله ما هذه الأضاحي قال سنة أبيكم إبراهيم قالوا مالنا منها قال بكل شعرة حسنة قال فالصوف قال بكل شعرة من الصوف حسنة (مسند احمد) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا یا لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ قربانی کیا ہے؟ فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے‘ کہنے لگے ہمارے لئے اس میں کیا ہے؟ تو فرمایا ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی‘ کہنے لگے اون والے جانور کے بارے میں؟ فرمایا اون کے بھی ہر ریشے پر ایک نیکی۔

احادیث میں قربانی کے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں۔ عن عمران بن حصين أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال يا فاطمة قومي إلى أضحيتك فاشهديها فإنه يغفر لك عند أول قطرة تقطر من دمها كل ذنب عملتيه وقولي إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين‘ قال عمران قلت يا رسول الله هذا لك ولأهل بيتك خاصة فأهل ذاك أنتم أم للمسلمين عامة؟ فقال لا بل للمسلمين عامة۔ مستدرک حاکم‘ کتاب الاضاحی۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فاطمہ اپنی قربانی کے جانور کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اسے دیکھو کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ بہتے ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے اور کہو إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين‘ کہا عمران رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آپ اور آپ کے اہل بیت کیلئے خاص ہے‘ کیا آپ ہی اس کے اہل ہیں یا تمام مسلمانوں کیلئے؟ پس فرمایا تمام مسلمانوں کیلئے۔

یہی روایت سعید ابن خدری رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ اسی روایت کو علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے (بدائع الصنائع‘ کتاب الاضحیہ) اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں ۔۔۔ مغفرة لكل ذنب أما إنه يجاء بدمها ولحمها فيوضع في ميزانك وسبعون ضعفا ۔۔۔ یہ مغفرت بن جائے گا تمام گناہوں کا اور اس کا گوشت اور خون میزان میں ستر گنا تک وزنی ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عظموا ضحاياكم فإنها على الصراط مطاياكم (المبسوط للسرخسی‘ باب الاضحیہ) تمہاری قربانی کی ہڈیاں بے شک بل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔

دس ذی الحج کو قربانی سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں'عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم إنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض فطيبوا بها نفسا قال وفي الباب عن عمران بن حصين وزيد بن أرقم (سنن الترمذی۔ باب ما جاء في فضل الأضحية) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوم نحر میں انسان کا کوئی بھی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے سے بڑھ کر نہیں ہے‘ بے شک یہ (قربان شدہ جانور) قیامت کے دن لایا جائے گا اپنے سینگوں کے ساتھ‘ بالوں کے ساتھ اور کھروں کے ساتھ (تاکہ میزان میں تولا جا سکے)‘ پس یہ خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ھاں مقام پا لیتا ہے پس اسے اختیار کرو۔

سب کو معلوم ہے کی قربانی دراصل اس عظیم واقعہ کی یاداشت ہے جو کہ خلیل اللہ اور ذبیح اللہ علیھم السلام کے ساتھ پیش آیا ا ور اللہ تعالٰی نے بیٹے کی بجائے جانور کی قربانی مقرر کی لہٰذا اسی کے پیش نظر جانور سے کچھ دنوں میں انسیت پیدا کر لے تاکہ قربانی کا جذبہ محسوس ہو‘ ہم نے اس دور میں بھی ایسے اللہ والوں کا حال سنا ہے جو سال پہلے جانور خرید کر اتنا مانوس کر لیتے ہیں کہ جانور ان کی آواز پہچانتا ہے اور ان سے اولاد کی طرح مانوس ہوتا ہے یہاں تک کہ ادھر قربان کرتے ہیں اور ادھر اسی انسیت کی بناء پر انسو ٹپکتے ہیں اور محسوس کرنے کو ملتا ہے کہ یہ تو جانور ہے اور ابراہیم علیہ السلام نے جب لخت جگر کو لٹایا ہو گا تو کیا گذری ہو گی‘ یوں قربانی ہی نہیں فلسفہ قربانی پر بھی عمل ہو جائے گا۔ یہ دراصل اس بات کا اعادہ ہے کہ کبھی بھی قربانی دینی پڑی تو دیں گے۔

عید الاضحٰی پر قربانی کرنا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک (اور امام مالک رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق بھی) واجب ہے اور باقی آئمہ کے نزدیک سنت (مؤکدہ) ہے' اور اس اختلاف کی صرف یہ وجہ ہے کہ دوسرے فقہاء کے نزدیک فرض اور سنت کے درمیان کوئی درجہ نہیں ورنہ تمام فقہاء اس کے لازم ہونے کے قائل ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا حکم اس آیت میں مذکور ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ الكوثر ٢  تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو۔ اس کی تفسیر میں نماز کو عید کی نماز اور نحر کو قربانی کہا گیا ہے‘ دیکھئے ابن کثیر وغیرہ۔ بعض مفسرین کے ھاں نحر کا تعلق نماز سے ہی ہے‘ جبکہ امام کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دو الفاظ جو اکٹھے استعمال ہوں تو علیحدہ معنوں پر محمول کرنا فصاحت و بلاغت کے زیادہ قریب ہے (یہ بات مختلف فیہ نہیں بلکہ علمائے ادب و بلاغت کے ھاں متداول ہے‘ فرق صرف موقع  محل کا ہے) لہٰذا وہ تفسیر جو اس اصول سے زیادہ موافق ہے وہی ہمارے ھاں اولٰی ہے (بدائع الصنائع للامام الکاسانی‘ باب الاضحیہ)۔ دوسری دلیل یہ کہ عن ابن عمر قال أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة عشر سنين يضحي (مسند الإمام أحمد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قیام کیا اور قربانی کرتے۔ تیسری دلیل؛ قربانی کرنے کیلئے صیغہ امر کا استعمال ہے جیسا کہ فرمایا ضحوا فانها سنة أبيكم ابراهيم عليه الصلاة والسلام (ابن ماجہ ثواب الاضحیہ‘ بیہقی کتاب الضحایا)قربانی کرو کیونکہ یہ تمہارے آباء ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ اور امر وجوب پر دلالت کرتا ہے اگر مطلقا ذکر ہو۔ عن حنش عن علي رضي الله عنه قال أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه أبدا (مسند الإمام أحمد) علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قربانی کروں‘پس تب سے میں ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔ چوتھی دلیل زجر ہے‘ فرمایا من لم يضح فلا يقربن مصلانا (حاکم‘ ابن ماجہ باب الاضاحی واجبہ ام لا‘ دارقطنی باب الصید والذبائح‘ بیہقی کتاب الضحایا) جو قربانی نہ کرے وہ  ہرگز ہمارے مصلے یعنی عید گاہ کے قریب بھی مت آئے۔  اور وعید اس کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ وعید کسی ضروری امر کو چھوڑنے پر ہی ہو سکتی ہے۔ پانچویں دلیل اس کی قضاء پر ہے‘ فرمایا من ذبح قبل الصلاة فليعد أضحيته ومن لم يذبح فليذبح بسم الله (بیہقی کتاب الضحایا)جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی وہ قربانی لوٹائے اور جس نے نہیں کی وہ اللہ کا نام لے کے کرے عمل کے لوٹانے کا ضروری ہونا اس کے واجب ہونے کی دلیل ہے ورنہ لوٹانے کا حکم نہ دیا جاتا۔

حديث أم سلمة أنه قال إذا دخل العشر فأراد أحدكم أن يضحي فلا يأخذ من شعره شيئا ولا من أظفاره سے استدلال کرنا کہ قربانی کرنا اور نہ کرنا جائز ہیں یہ مناسب نہیں کیونکہ یہاں مخاطب وہ ہیں جن پر قربانی واجب ہے‘ انہیں ایک ادب سکھایا جا رہا ہے کہ جب قربانی کا ارادہ کر لو تو بال اور ناخن نہ کاٹو۔گو کہ یہ لغت کی آسان سی بات ہےلیکن اب لوگ ضد پر آگئے ہیں تو قرآن سے مثال بھی دیکھ لیں‘ اللہ تعالٰی وضو کے بارے میں فرماتے ہیں؛ إِذا قُمتُم إِلَى الصَّلو‌ٰةِ فَاغسِلوا وُجوهَكُم ۔۔۔ الخ المائدة – ٦ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو چہروں کو دھو ۔۔۔ الخ اب اس سے یہ استدلال کرنا کہ نماز پڑھنا نہ پڑھنا جائز ہے‘ درست نہیں‘ کیونکہ نماز کی فرضیت کیلئے اور دلائل ہیں یہاں تو اس شخص کا بیان ہے جو نماز کی نیت سے کھڑا ہونا چاہ رہا ہے نہ کہ یہاں یہ بتایا جا رھا ہے کہ چاہو تو نماز پڑھو چاہونہ پڑھو۔ اگر آپ کی ضد یہ ہے کہ بعین آپکی مرضی کے الفاظ میں حدیث ہونی چاہئے تو ہم معذور ہیں ورنہ حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنھا بعین یہی مفہوم دے رہی ہے کہ ‘اذا اردتم الاضحیہ ۔۔۔

اسی طرح جو کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنھما نے قربانی نہیں کی تو عین ممکن ہے تب وہ صاحب نصاب نہ ہوں پس یہ ظاہر کرنے کیلئے نہ کی ہو کہ ادھار نہیں لینا اگر وسعت ہے تو کرے ورنہ نہ کرے۔

الغرض‘ قربانی ایک عبادت ہے جو کہ خوش دلی سے ادا کرنی چاہئے اور اللہ تعالٰی سے اجر کی امید رکھنی چاہئے۔ اس سے متعلق دوسری باتیں ان شاء اللہ آئندہ بیان ہوں گی۔

مع السلام

ہمایوں رشید۔

قربانی کرنا واجب عبادت ہے.pdf

Tanwir Phool

unread,
Sep 24, 2013, 8:17:33 PM9/24/13
to Aijaz .Shaheen
JAZAAK ALLAH
Wassalaam
Tanwir Phool , http://allaboutreligions.blogspot.com


2013/9/24 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Nehal Sagheer

unread,
Sep 24, 2013, 9:58:02 PM9/24/13
to BAZMe...@googlegroups.com

Qurbani par is shandar mazmoon ke liye mubarakbad
Nehal Sagheer

--

Humayun Rasheed

unread,
Sep 26, 2013, 2:06:57 PM9/26/13
to bazmeqalam
آمین


2013/9/25 Tanwir Phool <tan...@gmail.com>

Humayun Rasheed

unread,
Sep 26, 2013, 2:07:49 PM9/26/13
to bazmeqalam
شکریہ' اللہ تعالٰی سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ ان شاء اللہ اس موضوع پر مزید بھی کچھ باتیں پیش کروں گا۔


2013/9/25 Nehal Sagheer <mediac...@gmail.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages