ہمت کررہاہون کہ مارچ کے ختم ہونے سے پہلے ناصر کاظمی کی برسی پر اسکی یاد میں ایک بلاگ لکھوں ۔
اس کے لیے میں نے اسکی کتاب ” برگ نئے ” کا مطالعہ کیا اور اس کتاب کی مشمولات میں سے چند باتیں قارئین کےسامنے پیش کر تا ہوں ۔
انتظار حسین نےلکھا : ناصر کاظمی انبالہ میں 8 دسمبر 1915 کو پیدا ہوا پھر لاہور می آکر طلوع پاکستان کو دیکھا اور مشرقی پاکستان کا زوال دیکھنے کے بعد لاہور ہی میں 2 مارچ 1972 کو آنکھ بند کرلی۔
ناصر نے” ہمایوں” رسالہ کی ادارت کی ، پھر رسالہ ” ہم لوگ ” کی ادارت کی اور ریڈیو پاکستان میں اسٹاف آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کیا۔
احمد ندیم قاسمی نے لکھا: ” غزل کو اتنا سادہ رکھکر اتنی دور کی اتنی گہرائی کی باتیں کہ جانا اردو کے جدید غزل گو شعرا میں سے صرف ناصر کاظمی کا کام تھا۔ یوں سمجھیے کہ ناصر کے ہاں میر، مصحفی ، غالب، مومن ور فراق کے اپنے اپنے منفرد حسن ادا ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ غزل کی روایت کے اس احترام کے باوجود ناصر کا ایک اپنا اسلوب ہے اور جدید غزل کےموجودہ رجحانات کے پیش نظر ناصر کا یہ اسلوب ناقابل تقلید معلوم ہوتا ہے “۔
اب میں ناصر کاظمی کی یادوں سے بھری ہوی غزلوں کے چند اشعار پیش کرکے اس عظیم شاعر کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں :
کم فرصتئی خواب ِ طرب یاد رہے گی ۔ گزری جو ترے ساتھ وہ شب یاد رہے گی
ہر چند ترا عہد وفا بھول گئے ہم ۔ وہ کشمکشِ صبر طلب یاد رہے گی
گو ہجر کے لمحات بہت تلخ تھےلیکن ۔ ہر بات بعنوانِ طرب یاد رہے گی
۔۔۔۔
سفرِ منزلِ شب یاد نہیں ۔ لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں
اولیںقرب کی سرشاری میں ۔ کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں
وہ ستار ا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول ۔ ایک صورت تھی عجب یاد نہیں
۔۔۔۔۔۔
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ۔ وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست۔ تو مصیبت می عجب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے ۔ پھر تر وعدہ ء شب یاد آیا
تیرا بھولا ہوا پیمان وفا ۔ مر رہیں گے اگر اب یاد آیا
پھر کئی لوگ نظر سے گذرے ۔ پھر کوئی شہر طرب یاد آیا
حال دل ہم بھی سنا تے لیکن ۔ جب وہ رخصت ہو تب یاد آیا
بیٹھ کر سایہ ء گل میں ناصر ۔ ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
۔۔۔۔
شبنم آلود پلک یاد آئی ۔ گل عارض کی جھلک یاد آئی
کبھی زلفوں کی گھٹا نے گھیرا ۔ کبھی آنکھوں کی چمک یاد آئی
پھر کسی دھیان نے ڈیرے ڈالے ۔ کوئی آوارہ مہک یاد آئی
ذرے پھر مائل رم ہیں ناصر ۔ پھر انھیں سیر فلک یاد آئی
۔۔۔۔۔۔
جب تک اردو اس دنیا میں زندہ ہے ، ناصر کاظمی کی شاعری اور اسکی یاد زندہ رہے گی۔
ممکن ہے کہ اس بلاگ کے پڑھنے والوں میں کوی دانشور ایسے بھی ہونگے جنھوں نے ناصر کاظمی کو دیکھا ہوگا اور اس سے اسکا کلام بھی سنا ہوگا اور اسکی کسی بات سے متاثر ہوا ہوگا ۔ اگر وہ دانشور ( یا کوی اور دانشور جس کو ناصر کاظمی کے کلام نے متاثر کیا ) اس بلاگ میں تبصرے لکھے تو اس بلاگ کے لکھنےکا مقصد پورا ہوجاے گا۔ ( ہمیشہ کی طرح میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ بلاگ کے موضوع کا تقدس برقرار رہے ) ۔
حق مغفرت کرے ناصر کاظمی بہت ہی عظیم شاعر تھا ۔
۔۔۔
INTIKHAAB-E-NASIR KAZMI
INDEX
http://www.urducl.com/Urdu-Books/969-416-201-024/index.php
--- On Sun, 9/12/10, syed.aija...@gmail.com <syed.aija...@gmail.com> wrote: |
|