محترم، ایک تو مجھے یہ اجازت دی جائے کہ میں حیدر قریشی کی اہلیہ کی جانب سے لکھا گیا تفصیلی مضمون اس فورم پر پوسٹ کرسکوں، دوسرا میں آپ سب سے انتہائی عاجزی سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ عمران شاہد بھنڈر کے مضمون کے صرف اس حصے کو دیکھ لیا جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ ناصرعباس نئیر نے سرقے کا ارتقاب کیا ہے ، تو ملاحظہ ہو عمران شاہد بھنڈر کے مضمون سے اقتباس.,
گزشتہ چند ماہ سے مجھے ڈاکٹر وزیر آغا کے ایک شاگرد ناصر عباس نےئر کی چند کتابیں موصول ہوئیں۔ جنھیں پڑھنا شروع کیا تو حیرت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ موصوف کی کتابوں میں ان کے اپنے الفاظ سے زیادہ مغربی مفکرین کے الفاظ کا ہوبہو ترجمہ ملتا ہے۔ اس مختصر تحریر میں اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے یہاں میں صرف نشاندہی کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ نےئر کا یہ مضمون سہ ماہی ’’ادراک‘‘ کے شمارہ ۸ میں شائع ہوا ہے۔ پہلے ایک اقتباس دیکھتے ہیں اور اس پھر غور کرتے ہیں کہ سرقہ کی تعریف کیا ہے۔
نےئر کیا کہتا ہے:
’’آئیڈیالوجی سے وابستہ تصورات
کا اولین بیج غالباََ میکاولی (1527-1469 )نے دی پرنس میں بویا۔ اس نے کہا کہ انسانی فیصلے مفادات اور ہوس سے متاثر (اور متعین) ہوتے ہیں۔ ۔۔اس نے مذہب کو طاقت اور غلبے کی بے مہار خواہش سے جوڑا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ غلبے کے لیے فقط طاقت کافی نہیں، دھوکہ اور فریب بھی ضروری ہے۔یعنی سیاسی غلبے کے لیے عسکری قوت ناکافی ہوتی ہے، لوگوں کو اس کی مدد سے قابو میں نہیں رکھا جاسکتا اور ان کی قوتِ مزاحمت کو کچلا نہیں جاسکتا، بلکہ حکمرانوں کا ان کو یہ (جھوٹا) یقین دلانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان کا ہمدرد ہے‘‘ (ص،۵۰۔۴۹)۔
آئیڈیالوجی کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا
اگر جائزہ لیں تو Jorge Larrain کی کتاب "The "Concept of Ideology" کا شمار بہترین تصانیف میں ہوتا ہے۔ نےئر نے اس کتاب سے یہ الفاظ جوں کے توں اٹھالیے ہیں۔ نےئر کا سرقہ دیکھیں :
N. Machiavelli(1469-1527), a representative of the early bourgeoisie, is perhaps the first author who dealt with matters directly connected with ideological phenomena... he relates the bias of human judgments to appetites and interests.. According to Machiavelli, princes must learn to practice deceit since force never suffices. While there is hardly a case of a humble man who acquires vasts power "simply by the use of open and undisguied force", this can quite well be done by using only fraud (Larrain, P, 17-18).
قاری جونہی ان اقتباسات کا توجہ سے جائزہ لیتا ہے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہوتی چلی جاتی ہے کہ
اس نےئر نے لفظ بہ لفظ ترجمہ پیش کیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ متن کے اندر نہ لارائین کا نام ہی لیا گیا ہے اور نہ ہی جوں کے توں اٹھائے گئے الفاظ کو واوین میں رکھا گیا ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا ہو تو اسے حقیقی معنوں میں سارق کہا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ سرقے کے حوالے سے کشمکش میں مبتلاء ہیں، وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سرقہ کس کو کہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص سرقے کا مرتکب اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی کے الفاظ کا ہوبہو ترجمہ پیش کرتا ہے، اور اس ترجمہ شدہ اقتباس کا اس جگہ حوالہ پیش نہیں کرتا جہاں ان الفاظ کا اختتام ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا اقتباس میں
اگر ناصر عباس نےئر یہ لکھ دیتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے وہ اس کا اپنا نہیں، نارائین کا تجزیہ ہے توالفاظ ایک جیسے بھی ہوتے تو یہ واضح ہوجاتا کہ نارائین نے ایسا کہا ہے۔ تاہم یہاں پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ناصر عباس نےئر نے نہ ہی نارائین کا نام لیا ہے اور نہ ہی ان الفاظ کو واوین میں رکھا ہے جو اس نے ترجمہ کیے ہیں۔
ایک اور مثال پر غور کرتے ہیں:
’’آئیڈیالوجی کی اصطلاح اٹھاریں صدی کے آخر میں فرانسیسی فلسفی Destutt de Tracy نے وضع کی اور اس سے مراد خیالات کی سائنس لیا۔۔۔‘‘(سہ ماہی ادراک،شمارہ،۸، ص،۴۹)
اب ذرا لارائن کے یہ فقرے ملاحظہ کریں :
Destutt de
Tracy(1754-1836) the first author who uses the term author.... the science of ideas which he calls ideology (1979, P, 27).
یہاں ایک بار پھر وہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ جب نےئر نے جوں کے توں الفاظ اٹھالیے تھے، یا تو ان کو واوین میں رکھتا یا پھر اصل مصنف کا حوالہ دیتا، لیکن اس نے ایسا نہ کیا، اور خود نظریہ ساز بننے کی کوشش کی۔
نےئر صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتا۔ آگے لکھتا ہے:
’’اسی بناء پر غالباََ نپولین نے اپنے دوستوں کو آئیڈیولاگ کہا جو حقیقی دنیا سے بے خبر اور خوابوں میں رہنے والے تھے‘‘ (ص،۴۹)۔
لفظ بہ لفظ ترجمے کے لیے یہ دیکھیں:
Napoleon Disillusioned with his former friends ...turned against them and labelled them
"ideologists".... that they were unrealistic and doctrinaire.
(Larrain, P, 28).
ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح نےئر نے بغیر کوئی بھی حوالہ دئیے مذکورہ اقتباس کو اپنے ہی نام کرلیا ہے۔طریقہ تو یہ تھا کہ لارائین کی کتاب میں سے حوالہ پیش کرتا۔یہاں پر چند مثالیں دینے کا مقصد صرف سرقے کی نوعیت کو واضح کرنا ہے۔ اور قارئین کے سرقے کے بارے میں خیالات کو مبہم ہونے سے روکنا ہے۔ نےئر کا سرقہ بہت زیادہ ہے۔
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد
http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب
سے بڑا ذخیرہ
www.urduaudio.comسہ ماہی اثبات
http://www.esbaat.com/ اردو سخن
http://www.urdusukhan.com/کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیے
www.urdu.ca -
www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives
https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to
bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to
bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"