Re: {5477} ناصر عباس نئیر کا سرقہ اور حیدر قریشی کا فراڈ

29 views
Skip to first unread message

rasheed ansari

unread,
Aug 29, 2011, 1:48:55 AM8/29/11
to bazme...@googlegroups.com
ASAK
          Bradaram   Chauhan  Sahab,
         Aap   ki  kisi    baat   say    ekhtilaf   ka  sawal  hj   uthta   haiy.   Jo   bhi   aap  ne  likha   woh   HUQ   haiy   laikin    zaban   aur  asloab   zaroorat   say    ziyada    talkh   aur   sakht    haiy..  Apne  eaiteraz  par  mazirat    nahi   karoonga,   HUQ   KAHNE  WALA   HUQ  HI   PASAND   KARTA   HAIY    MAAZIRAT    MUNAFIQAT  AUR   baqual  MANTO   MARHOOM    "DHONG:    HAIY.
   
--- On Mon, 29/8/11, Hussain Chauhan <hussain...@yahoo.co.uk> wrote:

From: Hussain Chauhan <hussain...@yahoo.co.uk>
Subject: {5477} ناصر عباس نئیر کا سرقہ اور حیدر قریشی کا فراڈ
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>
Date: Monday, 29 August, 2011, 6:19 AM

ارشد خالد کا ای میل پڑھ کر حیرت ہوئی کہ اسے کن باوثوق ذرائع سے یہ علم ہوجاتا ہے کہ کون کس کی آئی ڈی استعمال کررہا ہے۔ اب اس نے کہا ہے کہ عمران شاہد بھنڈر اور بھی آئی ڈیز بنا رہے ہیں، ارشد خالد کو یہ خبر کہاں سے موصول ہوئی، یہ بھی بتا دیتے تو بات صاف ہوجاتی۔  پھر ارشد خالد کے پاس وہ ای میلز کیسے پہنچ گئیں جو شمس الرحمان فاروقی اور سی ایم نعیم نے حیدر کو بھیجی تھیں۔ حیدر اس حد تک اخلاقی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ تم نے اپنا ہی تماشا لگا رکھا ہے۔
میرے بارے میں جاننا چاہتے ہو تو سن لو۔ تمہارا آدھا راولپنڈی مجھے جانتا ہے اور ارشد خالد جس بینک میں چپڑاسی کا کام کرتا ہے اس بینک کے مینیجر سے میرا نام دریافت کرلینا۔ گزشتہ برس بھنڈر صاحب کی کتاب کی رونمائی پر میں نے مقالہ پڑھا تھا، اور چوبیس ستمبر کو ہونے والی ان کی دوسری کتاب پر بھی میں مقالہ پڑھ رہا ہوں، وہاں آکر مجھ سے مل لینا۔ ورنہ اگلے دن اخباروں میں دیکھ لینا۔
سب لوگ جانتے ہیں کہ ارشد خالد کے نام سے حیدر نے یہ تماشا لگایا ہوا ہے۔ ارشد خالد کو کیا پتا کہ کمپیوٹر کس چیز کا نام ہے۔  "عکاس" کے لیے پیسہ کہاں سے جاتا ہے اورکون چیک بھیجتا ہے۔ حیدر نے خود پاکستان میں اپنے ایک دوست سے کہا تھا کہ وزیر آغا نے اپنی مشہوری کے لیے اوراق ہی کی طرح ایک اور رسالہ نکال رکھا تھا اور اس میں اپنے حق میں مضامین لکھواتے تھے۔ چلیں مان لیا، مگر بات یہ ہے کہ وزیر آغا تو کچھ لکھتے تھے ا سکے بارے میں مضامین لکھوا لیتے تھے، حیدر کیا لکھتا ہے یہ آج تک کسی کو علم نہیں ہوسکا۔ ارشد خالد ایک مسکین آدمی ہے اس کے ساتھ اتنی زیادتی مت کرو۔ کسی کو پیسے بھیجنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کو بلیک میل کیا جائے۔ حیدر کو یہ جواب بھی دینا ہے کہ سعید شباب کون ہے، وہ بھی حیدر قریشی ہی ہے۔ حیدر نے اُردو رائیٹرز کے نام سے جو گروپ بنا رکھا ہے اس میں سب ای میلز انھی دو لوگوں کی طرف سے کیوں جاری کی جاتی ہیں۔ اور سب کی سب حیدر کے متعلق ہی کیوں ہوتی ہیں۔ بہت فراڈ کرلیا ہے حیدر، اب بس کرو۔ سنجیدہ علمی مباحث کی جانب آو۔ میں اس فورم کے وسیلے سے جعلساز حیدر اور سارق ناصر عباس نئیر کو دعوت دیتا ہوں کہ ہمارے ساتھ ٹی وی یا ریڈیو پر مزاکرہ کریں، جسے پوری دنیا سنے تاکہ جعلی حیدر اور سارق ناصر عباس نئیر کی اصلیت سامنے آسکے۔  سچے ہو تو ناصر عباس کے سرقے پر بات کیوں نہیں کرتے۔ لفظ بہ لفظ ترجمہ ہے۔ ایک ہی فقرے کا خیال ٹکرا سکتا ہے لیکن لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں ٹکرا سکتا۔
حیدر کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ عاشور کاظمی اور قیصر تمکین کی وفات کے بعد حیدر نی آج تک کیوں کوئی افسانہ نہیں لکھا اور کیوں شاعری لکھنی بند کردی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں مرحومین حیدر کی "اعلیٰ تخلیقات" کی مرمت کرتے تھے۔ وہ دار فانی سے کوچ کرگئے اور حیدر دائرہ ادب سے کوچ کرگئے۔  جعل سازی تو حیدر کی بطن کا حصہ ہے۔ جس شخص نے اپنا سر تک وگ سے چھپا رکھا ہو، وہ دوسروں کو کیسے جعلی کہہ سکتاہے۔ جس کا ظاہر اور باطن ہی جعلی ہو۔
نعیمہ ضیاء سے حیدر کی مرمت ہوئی۔ پھر محترم برطانیہ میں تشریف لائے اور ناٹنگھم کی ایک خاتون نے ان کی جوتا افزائی کی۔ کیا ساری دنیا سے آپ ہی کا جھگڑا بنا ہوا ہے کسی اور کو بھی موقع فراہم کریں۔ حیدر خود کو ادیب ثابت کرنے کے لیے جو رسالہ نکالتا ہے، کیا کبھی کسی نے اس کا کوئی مضمون یا افسانہ اس میں پڑھا ہے۔ اچھے ادیب یا نقاد کی تو تین تحریریں شائع ہوجائیں تو اس کے اندر کا جوہر سامنے آجاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حیدر کی وگ بھی سفید ہوگئی ہے لیکن کئی اچھی شے نہیں لکھ سکا۔
 اور کیا یہ فریاد آزر وہی شخص ہے جس کا آپ نے جرمنی سے وظیفہ لگا رکھا تھا۔ حیدر کے قریبی دوستوں نے مجھے ایسی ایسی معلومات فراہم کی ہیں کہ اگر میں ان کو لکھنا شروع کردوں تو حیدر کو انسان کہنے میں بھی دقت محسوس ہونے لگے۔
حیدر کے جھوٹ کی انتہا دیکھیں کہ کہتا ہے کہ ڈاکٹر ڈیرک نے ایک فقرے کا سرقے کی تصدیق کی ہے۔ اپنی دشمنی میں یہ شخص یہ بھی بھول گیا کہ ڈاکٹر ڈیرک اردو نہیں جانتے۔ میری ان سے دو ملاقاتیں ہوچکی ہیں، اور تیسری چوبیس تاریخ کو متوقع ہے۔
حیدر کو بھنڈر فوبیا ہوچکا ہے۔ اسے دن رات، خواب میں، جاگتے ہوئے بھنڈر ہی دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہی کیفیت رہی تو حیدر کا مستقبل مکمل طور پر تاریک ہے۔
میرے بھائی کوئی اچھا کام کرو، کوئی افسانہ لکھو، نہیں لکھ سکتے تو کسی سے مدد لے لو۔ کوئی حرج ہی نہیں ہے۔ کوئی اچھا شعر لکھ دو۔ اور اپنی اصل روپ میں سامنے آو، وگ وغیرہ اتار کر پھینک دو۔ فطرت پسند بن جاو۔
حیدر لکھتا ہے کہ نارنگ کا کام ادبی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، درست کہتا ہے۔ پھر کہتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے سچ کو سامنے لارہا ہے۔ اس کی سچائی کا پول تو اس وقت ہی کھل گیا جب اس نے ناصر عباس نئیر کے سرقے پر چپ تان لی۔ حیدر جانتا ہے کہ اس وقت شہرت بھنڈر کا نام استعمال کرنے سے ملے گی۔ وہ وقت بھی زیادہ دور نہیں ہے جب یہی شخص اسی ناصر عباس نئیر کے خلاف کمر بستہ ہوگا، بشرطیکہ اسے یقین ہوگیا کہ ناصر عباس اس کی شہرت کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن وہ اب کیا شہرت کا باعث بنے گا، ا سکا سرقہ تو سامنے آچکا ہے۔ میں نے مجید امجد کی ایک نظم پر اس کا مضمون دیکھا تھا۔ اس میں رومن جیکبسن کے چند حوالے موجود تھے۔ تحقیق کی تو آشکار ہوگیا کہ اس نے جےکبسن کا مضمون بھی لفظ بہ لفظ ترجمہ کررکھا ہے۔

From: Hussain Chauhan <hussain...@yahoo.co.uk>
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Saturday, 27 August 2011, 13:02
Subject: {5428} Nasir Abbas Nayyar ka Sarqa

محترم، ایک تو مجھے یہ اجازت دی جائے کہ میں حیدر قریشی کی اہلیہ کی جانب سے لکھا گیا تفصیلی مضمون اس فورم پر پوسٹ کرسکوں، دوسرا میں آپ سب سے انتہائی عاجزی سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ عمران شاہد بھنڈر کے مضمون کے صرف اس حصے کو دیکھ لیا جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ ناصرعباس نئیر نے سرقے کا ارتقاب کیا ہے ، تو ملاحظہ ہو عمران شاہد بھنڈر کے مضمون سے اقتباس.,
 
 
 
 
گزشتہ چند ماہ سے مجھے ڈاکٹر وزیر آغا کے ایک شاگرد ناصر عباس نےئر کی چند کتابیں موصول ہوئیں۔ جنھیں پڑھنا شروع کیا تو حیرت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ موصوف کی کتابوں میں ان کے اپنے الفاظ سے زیادہ مغربی مفکرین کے الفاظ کا ہوبہو ترجمہ ملتا ہے۔ اس مختصر تحریر میں اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے یہاں میں صرف نشاندہی کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ نےئر کا یہ مضمون سہ ماہی ’’ادراک‘‘ کے شمارہ ۸ میں شائع ہوا ہے۔ پہلے ایک اقتباس دیکھتے ہیں اور اس پھر غور کرتے ہیں کہ سرقہ کی تعریف کیا ہے۔
نےئر کیا کہتا ہے:
’’آئیڈیالوجی سے وابستہ تصورات کا اولین بیج غالباََ میکاولی (1527-1469 )نے دی پرنس میں بویا۔ اس نے کہا کہ انسانی فیصلے مفادات اور ہوس سے متاثر (اور متعین) ہوتے ہیں۔ ۔۔اس نے مذہب کو طاقت اور غلبے کی بے مہار خواہش سے جوڑا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ غلبے کے لیے فقط طاقت کافی نہیں، دھوکہ اور فریب بھی ضروری ہے۔یعنی سیاسی غلبے کے لیے عسکری قوت ناکافی ہوتی ہے، لوگوں کو اس کی مدد سے قابو میں نہیں رکھا جاسکتا اور ان کی قوتِ مزاحمت کو کچلا نہیں جاسکتا، بلکہ حکمرانوں کا ان کو یہ (جھوٹا) یقین دلانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان کا ہمدرد ہے‘‘ (ص،۵۰۔۴۹)۔
آئیڈیالوجی کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا اگر جائزہ لیں تو Jorge Larrain کی کتاب "The "Concept of Ideology" کا شمار بہترین تصانیف میں ہوتا ہے۔ نےئر نے اس کتاب سے یہ الفاظ جوں کے توں اٹھالیے ہیں۔ نےئر کا سرقہ دیکھیں :
N. Machiavelli(1469-1527), a representative of the early bourgeoisie, is perhaps the first author who dealt with matters directly connected with ideological phenomena... he relates the bias of human judgments to appetites and interests.. According to Machiavelli, princes must learn to practice deceit since force never suffices. While there is hardly a case of a humble man who acquires vasts power "simply by the use of open and undisguied force", this can quite well be done by using only fraud (Larrain, P, 17-18).
قاری جونہی ان اقتباسات کا توجہ سے جائزہ لیتا ہے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہوتی چلی جاتی ہے کہ اس نےئر نے لفظ بہ لفظ ترجمہ پیش کیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ متن کے اندر نہ لارائین کا نام ہی لیا گیا ہے اور نہ ہی جوں کے توں اٹھائے گئے الفاظ کو واوین میں رکھا گیا ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا ہو تو اسے حقیقی معنوں میں سارق کہا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ سرقے کے حوالے سے کشمکش میں مبتلاء ہیں، وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سرقہ کس کو کہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص سرقے کا مرتکب اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی کے الفاظ کا ہوبہو ترجمہ پیش کرتا ہے، اور اس ترجمہ شدہ اقتباس کا اس جگہ حوالہ پیش نہیں کرتا جہاں ان الفاظ کا اختتام ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا اقتباس میں اگر ناصر عباس نےئر یہ لکھ دیتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے وہ اس کا اپنا نہیں، نارائین کا تجزیہ ہے توالفاظ ایک جیسے بھی ہوتے تو یہ واضح ہوجاتا کہ نارائین نے ایسا کہا ہے۔ تاہم یہاں پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ناصر عباس نےئر نے نہ ہی نارائین کا نام لیا ہے اور نہ ہی ان الفاظ کو واوین میں رکھا ہے جو اس نے ترجمہ کیے ہیں۔
ایک اور مثال پر غور کرتے ہیں:
’’آئیڈیالوجی کی اصطلاح اٹھاریں صدی کے آخر میں فرانسیسی فلسفی Destutt de Tracy نے وضع کی اور اس سے مراد خیالات کی سائنس لیا۔۔۔‘‘(سہ ماہی ادراک،شمارہ،۸، ص،۴۹)
اب ذرا لارائن کے یہ فقرے ملاحظہ کریں :
Destutt de Tracy(1754-1836) the first author who uses the term author.... the science of ideas which he calls ideology (1979, P, 27).
یہاں ایک بار پھر وہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ جب نےئر نے جوں کے توں الفاظ اٹھالیے تھے، یا تو ان کو واوین میں رکھتا یا پھر اصل مصنف کا حوالہ دیتا، لیکن اس نے ایسا نہ کیا، اور خود نظریہ ساز بننے کی کوشش کی۔
نےئر صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتا۔ آگے لکھتا ہے:
’’اسی بناء پر غالباََ نپولین نے اپنے دوستوں کو آئیڈیولاگ کہا جو حقیقی دنیا سے بے خبر اور خوابوں میں رہنے والے تھے‘‘ (ص،۴۹)۔
لفظ بہ لفظ ترجمے کے لیے یہ دیکھیں:
Napoleon Disillusioned with his former friends ...turned against them and labelled them "ideologists".... that they were unrealistic and doctrinaire.
(Larrain, P, 28).
ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح نےئر نے بغیر کوئی بھی حوالہ دئیے مذکورہ اقتباس کو اپنے ہی نام کرلیا ہے۔طریقہ تو یہ تھا کہ لارائین کی کتاب میں سے حوالہ پیش کرتا۔یہاں پر چند مثالیں دینے کا مقصد صرف سرقے کی نوعیت کو واضح کرنا ہے۔ اور قارئین کے سرقے کے بارے میں خیالات کو مبہم ہونے سے روکنا ہے۔ نےئر کا سرقہ بہت زیادہ ہے۔






--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"


--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Hussain Chauhan

unread,
Aug 29, 2011, 5:53:56 AM8/29/11
to bazme...@googlegroups.com
محترم رشید انصاری صاحب،
آپ کا بے لاگ اور سچائی پر مبنی جواب پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میں ایسے لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جو صورت حال کا جائزہ غیر جانب داری سے لیتے ہیں۔
محترم معاملہ یہ ہے کہ عمران بھنڈر کے ایک آرٹیکل کے صرف ایک جملے کو بنیاد بنا کر حیدر قریشی شور مچا رہا ہے۔ وہ آرٹیکل جو آج سے تقریبا پانچ برس قبل "دی نیشن" میں شائع ہوا تھا۔ اگر اس میں بھی لفظ بہ لفظ ترجمہ ہو تو تو پھر بھی بات کر سکتے ہیں۔ لیکن صرف ایک فقرے کے خیال کو بنیاد بنا کر اتنا شور کرنے کی صرف ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس مہم کو گوپی چند نارنگ نے شروع کرایا ہے۔ حالانکہ بھنڈر نے اپنے مضمون میں اس کی وجہ وزیر آغا کے بارے اپنے مضمون کو قرار دیا ہے، لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ میرے خیال میں یہاں عمران بھنڈر غلطی پر ہیں۔ ہندوستان سے جو معلومات مل رہی ہیں، وہی سچی معلوم ہوتی ہیں۔
 حیدر کہتا ہے کہ وہ سچی بات کرتا ہے۔ اگر یہ سچی بات کرتا ہے تو ناصر عباس نئیر کے سرقے پر کیوں خاموش ہے۔ دیکھیں ایک فقرے کا خیال تو ماخوذ ہوسکتا ہے، لیکن ناصر عباس نئیر کے دس فقروں کا لفظ بہ لفظ ترجمہ اور ان فقروں کو واوین میں نہ رکھنا، کیا یہ سرقہ نہیں ہے۔ اور پھر وہ سامنے آکر یہ کہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے اور وہ اس کی تصیحح کرلے گا۔ تو بات ختم ہوجائے گی۔ اس پر بات ہی نہ کرنا اور ادھر ادھر کی ہانکتے جانا کہاں کی عقلمندی ہے۔
حیدر نے اپنے جواب الجواب میں لکھا ہے کہ بھنڈر نے ان کے صرف ایک "علمی نکتے" کا جواب دیا ہے۔ میں تمام باضمیر لوگوں سے پوچھتتا ہوں کہ حیدر کی اس تحریر میں دوسرا علمی نکتہ کون سا ہے۔ مہربانی فرما کر مطلع کریں، تاکہ ہم بھنڈر سے یہ کہنے والے بنیں کہ بھائی اس کے بارے میں وضاحت کریں۔
آپکا،
حسین چوہان

گزشتہ چند ماہ سے مجھے ڈاکٹر وزیر آغا کے ایک شاگرد ناصر عباس نےئر کی چند کتابیں موصول ہوئیں۔ جنھیں پڑھنا شروع کیا تو حیرت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ موصوف کی کتابوں میں ان کے اپنے الفاظ سے زیادہ مغربی مفکرین کے الفاظ کا ہوبہو ترجمہ ملتا ہے۔ اس مختصر تحریر میں اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے یہاں میں صرف نشاندہی کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ نےئر کا یہ مضمون سہ ماہی ’’ادراک‘‘ کے شمارہ ۸ میں شائع ہوا ہے۔ پہلے ایک اقتباس دیکھتے ہیں اور اس پھر غور کرتے ہیں کہ سرقہ کی تعریف کیا ہے۔ نےئر کیا کہتا ہے:’’آئیڈیالوجی سے وابستہ تصورات کا اولین بیج غالباََ میکاولی (1527-1469 )نے دی پرنس میں بویا۔ اس نے کہا کہ انسانی فیصلے مفادات اور ہوس سے متاثر (اور متعین) ہوتے ہیں۔ ۔۔اس نے مذہب کو طاقت اور غلبے کی بے مہار خواہش سے جوڑا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ غلبے کے لیے فقط طاقت کافی نہیں، دھوکہ اور فریب بھی ضروری ہے۔یعنی سیاسی غلبے کے لیے عسکری قوت ناکافی ہوتی ہے، لوگوں کو اس کی مدد سے قابو میں نہیں رکھا جاسکتا اور ان کی قوتِ مزاحمت کو کچلا نہیں جاسکتا، بلکہ حکمرانوں کا ان کو یہ (جھوٹا) یقین دلانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان کا ہمدرد ہے‘‘ (ص،۵۰۔۴۹)۔آئیڈیالوجی کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا اگر جائزہ لیں تو Jorge Larrain کی کتاب "The "Concept of Ideology" کا شمار بہترین تصانیف میں ہوتا ہے۔ نےئر نے اس کتاب سے یہ الفاظ جوں کے توں اٹھالیے ہیں۔ نےئر کا سرقہ دیکھیں :N. Machiavelli(1469-1527), a representative of the early bourgeoisie, is perhaps the first author who dealt with matters directly connected with ideological phenomena... he relates the bias of human judgments to appetites and interests.. According to Machiavelli, princes must learn to practice deceit since force never suffices. While there is hardly a case of a humble man who acquires vasts power "simply by the use of open and undisguied force", this can quite well be done by using only fraud (Larrain, P, 17-18). قاری جونہی ان اقتباسات کا توجہ سے جائزہ لیتا ہے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہوتی چلی جاتی ہے کہ اس نےئر نے لفظ بہ لفظ ترجمہ پیش کیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ متن کے اندر نہ لارائین کا نام ہی لیا گیا ہے اور نہ ہی جوں کے توں اٹھائے گئے الفاظ کو واوین میں رکھا گیا ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا ہو تو اسے حقیقی معنوں میں سارق کہا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ سرقے کے حوالے سے کشمکش میں مبتلاء ہیں، وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سرقہ کس کو کہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص سرقے کا مرتکب اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی کے الفاظ کا ہوبہو ترجمہ پیش کرتا ہے، اور اس ترجمہ شدہ اقتباس کا اس جگہ حوالہ پیش نہیں کرتا جہاں ان الفاظ کا اختتام ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا اقتباس میں اگر ناصر عباس نےئر یہ لکھ دیتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے وہ اس کا اپنا نہیں، نارائین کا تجزیہ ہے توالفاظ ایک جیسے بھی ہوتے تو یہ واضح ہوجاتا کہ نارائین نے ایسا کہا ہے۔ تاہم یہاں پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ناصر عباس نےئر نے نہ ہی نارائین کا نام لیا ہے اور نہ ہی ان الفاظ کو واوین میں رکھا ہے جو اس نے ترجمہ کیے ہیں۔ایک اور مثال پر غور کرتے ہیں:’’آئیڈیالوجی کی اصطلاح اٹھاریں صدی کے آخر میں فرانسیسی فلسفی Destutt de Tracy نے وضع کی اور اس سے مراد خیالات کی سائنس لیا۔۔۔‘‘(سہ ماہی ادراک،شمارہ،۸، ص،۴۹)اب ذرا لارائن کے یہ فقرے ملاحظہ کریں :Destutt de Tracy(1754-1836) the first author who uses the term author.... the science of ideas which he calls ideology (1979, P, 27). یہاں ایک بار پھر وہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ جب نےئر نے جوں کے توں الفاظ اٹھالیے تھے، یا تو ان کو واوین میں رکھتا یا پھر اصل مصنف کا حوالہ دیتا، لیکن اس نے ایسا نہ کیا، اور خود نظریہ ساز بننے کی کوشش کی۔نےئر صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتا۔ آگے لکھتا ہے:’’اسی بناء پر غالباََ نپولین نے اپنے دوستوں کو آئیڈیولاگ کہا جو حقیقی دنیا سے بے خبر اور خوابوں میں رہنے والے تھے‘‘ (ص،۴۹)۔لفظ بہ لفظ ترجمے کے لیے یہ دیکھیں:Napoleon Disillusioned with his former friends ...turned against them and labelled them "ideologists".... that they were unrealistic and doctrinaire. (Larrain, P, 28).ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح نےئر نے بغیر کوئی بھی حوالہ دئیے مذکورہ اقتباس کو اپنے ہی نام کرلیا ہے۔طریقہ تو یہ تھا کہ لارائین کی کتاب میں سے حوالہ پیش کرتا۔یہاں پر چند مثالیں دینے کا مقصد صرف سرقے کی نوعیت کو واضح کرنا ہے۔ اور قارئین کے سرقے کے بارے میں خیالات کو مبہم ہونے سے روکنا ہے۔ نےئر کا سرقہ بہت زیادہ ہے۔
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/ اردو سخن http://www.urdusukhan.com/کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/ اردو سخن http://www.urdusukhan.com/کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/ اردو سخن http://www.urdusukhan.com/کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Hussain Chauhan

unread,
Aug 29, 2011, 9:13:37 AM8/29/11
to bazme...@googlegroups.com
محترم خواتین و حضرات
آئیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا بند کریں اور ایک صحت مند علمی و ادبی مکالمے کی جانب بڑھیں۔
میں نے برطانیہ کے ایک ریڈیو اسٹیشن پر جدلیات اور مابعد جدیدیت کے تعلق کے بارے میں ایک انٹرنیشنل مزاکرے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے تمام تر اخراجات میں خود ادا کروں گا۔ میں نے سوچا ہے کہ ایک ہی پلیٹ فام پر عمران شاہد بھنڈر، گوپی چند نارنگ، حیدر قریشی اور ناصر عباس نئیر کو اکٹھا کیا جائے اور مابعد جدید تھیوری کے بارے میں ریڈیو پر تجزیاتی مباحثہ کرایا جائے۔ یہ مزاکرہ لائیو ہوگا۔ اس میں یہ سب احباب حصہ لیں۔ اس مکالمے کو پوری دنیا میں ریڈیو  پر سنا جاسکے گا۔  احباب خود فیصلہ کریں گے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔۔کس کے پاس کتنا علم ہے۔
دوسروں کی کتابوں کو سامنے رکھ کر کتاب لکھنا آسان ہے۔ انھی موضوعات پر لائیو مباحث میں سب کی علمیت کا پول کھل جائے گا۔ میری ان تمام احباب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی رضامندی کا اظہار کریں تاکہ بات آگے بڑھ سکے۔
مزاکرے کا موضوع ہوگا مابعد کانٹین ازم جنم لینے والی اثباتی جدلیات، منفی جدلیات اور اس کا مابعد جدیدیت سے تعلق۔
حیدر قریشی کے لیے اپنی علمیت کو ثابت کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔
آپکا
حسین

arshad khaid

unread,
Aug 29, 2011, 9:17:57 AM8/29/11
to Bazm e Qalam
حیدر قریشی کا وہ جواب الجواب یہاں دے رہا ہوں جو ابھی تک اس فورم پر سامنے نہیں آیا۔ اس کے جواب کے لیے عمران بھنڈر کو بار بارجمیل الرحمن صاحب نے دعوت دی اور یہ بھی یقین دلایا کہ آپ کے جواب کے بعد اس موضوع پر اور کچھ نہیں شائع کیا جائے گا۔اس کے باوجود عمران بھنڈر کو وہاں جواب لکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔یہ سب کچھ ادب کے ریکارڈ میں محفوظ ہو چکا ہے۔اب مزید جتنی جعلسازی کرتے رہیں،کراتے رہیں،جعلی ای میلز سے جی بہلاتے رہیں، عمران بھنڈر اپنے عبرتناک ادبی انجام کو پہنچ چکے ۔ہاں اب بھی اگر صرف اردو کے معروف ممتاز ادبی شہ پارے منتخب کرے،ان پر تنقیدی مضامین لکھے،بس یہیں پر بطور نقاد عمران بھنڈر کی حیثیت کا تعین ہو سکتا ہے۔اضافی طور پر قارئین کے لیے ایک نکتہ۔۔۔عمران بھنڈرکوئی مطالعاتی؍تجزیاتی مضمون ایسا بھی لکھے جس میں اس کے نصاب میں پڑھے ہوئے مفکرین کانٹ،ہیگل،مارکس سے لے کر دریدا تک کا کوئی ذکر نہ کیا جائے۔سیدھا سا متعلقہ ادبی شہ پارے کا تنقیدی مطالعہ ہو۔ یہیں پر عمران بھنڈر کی ساری اوقات ظاہر ہو جائے گی۔ اب وہ جوابی مضمون ریکارڈ کے طور پر یہاں پیش کر رہا ہوں۔جس کا جواب جمیل الرحمن صاحب کی طرف سے بار بار بلانے کے باوجود بھنڈر نے نہیں دیا تھا۔                                                                     ارشد خالد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسلسلہ فلسفی کی نوجوانی اور شیلا کی جوانی
(عمران شاہد کاعذرِ لنگ اور اس کی اصل حقیقت)

میرے مضمون ’’فلسفی کی نوجوانی اور شیلا کی جوانی‘‘ کو ادبی حلقوں میں بھر پور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔اس کے جواب میں ابھی تک نام نہاد’’ نوجوان فلسفی‘‘ کو پوائنٹ در پوائنٹ جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔البتہ اپنی بدنامی پر پردہ ڈالنے کے لیے بد زبانی سے لبریز ایک تحریر’’وزیر آغا گروپ کے روایتی ہتھکنڈے‘‘کے نام سے بعض ادیبوں کو بھیجی ہے۔اس میں ایک تو بات کو اصل موضوعات سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے اور اصل حقائق کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔صرف ایک علمی نکتہ پر اپنی صفائی دینے کی کوشش کی ہے اور صفائی دیتے ہوئی بد زبانی کی انتہا کر دی ہے۔تاہم وہ صفائی صرف حیلہ جوئی ہے۔
میرے مضمون میں عمران شاہد بھنڈرکے سرقہ کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کے مضمون کا پورا حوالہ دیا گیا ہے۔مضمون’’ادبی نقاد رولاں بارتھ کی ’مائیتھالوجی‘میں آئیڈیالوجی‘‘ از عمران شاہد بھنڈر۔مطبوعہ ’’دی نیشن‘‘۔لندن۔22؍مارچ 2007ء کا حوالہ۔بھنڈرصاحب کی جانب سے اخبار میں چھپنے والے اس مضمون میں کہیں بھی وہ وضاحتیں نہیں ہیں جو وہ اپنی کتاب کے حوالے سے دے رہے ہیں۔میں نے ان کی کتاب کا حوالہ دے کر سرقہ نشان زد نہیں کیا بلکہ ان کے ۲۰۰۷ء میں مطبوعہ مضمون پر ساری بات کی ہے۔اعتراض اخبار کے مضمون پر کیا گیا ہے، جواب میں تین سال کے بعد چھپنے والی کتاب کی بنیاد پر وضاحت کی جا رہی ہے۔(اضافی نوٹ:)’’یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی تین سال پہلے چوری کرے اور تین سال کے بعد سب سے آنکھ بچا کر چپکے سے مالِ مسروقہ کو واپس اسی جگہ رکھنے کی کوشش کرے۔‘‘
اہلِ ادب نام نہاد نوجوان فلسفی سے پوچھیں کہ اخبار میں ۲۰۰۷ء میں چھپنے والے مضمون میں سرقہ ہوا ہے یا نہیں؟۔۔۔تین سال کے بعد کتاب میں کیا لکھا اور کیا نہیں لکھا،اس سے مجھے غرض نہیں۔دی نیشن لندن کے 22 ؍مارچ 2007 ء کے شمارہ میں چھپنے والے مضمون میں سرقہ ثابت شدہ ہے۔
چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد!
جہاں تک نام نہاد نوجوان فلسفی کی دوسری باتوں اور غیر متعلقہ ہفوات کا تعلق ہے،اس کا جواب دینے کے لیے ان کی مادری زبان میں بات کرنا پڑے گی جو میرے لیے ممکن نہیں ہے۔میرے مضمون میں درج ہرالزام، واقعہ اور بیان مبنی بر صداقت ہے۔نام نہادنوجوان فلسفی ایک الزام سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو کئی اور الزامات بھی اُن پر آ پڑیں گے۔میرے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔باقی قانونی چارہ جوئی کی دھمکی عمران بھنڈر کی گیدڑ بھبکی ہے۔اور ان کے مذکورہ مضمون کی زبان خود ان کی علمی و ادبی حیثیت کو اجاگر کر رہی ہے۔
میں اپنے مضمون کا پارٹ ٹو دھیرے دھیرے لکھ رہا ہوں،اس میں عمران شاہد بھنڈر کے مزید سرقے پیش کر وں گا۔انشاء اللہ!
حیدر قریشی
(تحریر کردہ: ۹؍ اگست ۲۰۱۱ء۔انٹرنیٹ سے ریلیز کی گئی)


Date: Mon, 29 Aug 2011 10:53:56 +0100
From: hussain...@yahoo.co.uk
Subject: Re: {5488} ناصر عباس نئیر کا سرقہ اور حیدر قریشی کا فراڈ
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages