قرآن پاک کا صوتیاتی نظام

99 views
Skip to first unread message

Mehr Afroze

unread,
Jul 3, 2014, 7:33:47 AM7/3/14
to BAZMe...@googlegroups.com

قرآن پاک کا صوتیاتی نظام


قرآن پاک کا صوتیاتی نظام 
تحریر : شعبان بیدار
-----------------------قرآن پاک کتاب ہدایت ہے۔ اس کے ذریعے بندہ اپنے پروردگار کی صحیح معرفت حاصل کرتا ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر رب کی مرضی کا پتہ لگاتا ہے۔ الغرض قرآن پاک دنیا کے تمام انسانوں کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ایک خط ہے جو انسانوں کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔ 
لیکن اس کتاب ہدایت کو یا اس رسالہ مقدسہ کو ثقلین پر پیش کرنے کا اپنا ایک انداز بھی ہے۔ اسی طرح یہ رسالہ مقدسہ جن لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہے، ظاہر ہے ان کے احوال سے صرف نظر کیا گیا ہو یہ ناممکن سی بات ہے۔ اسی بنیاد پر قدیم زمانے سے ہی علماء کرام قرآن پاک میں مختلف حوالوں سے غور وفکر کرتے رہے ہیں۔ یوں گنجینہ ہائے قرآن کی رونق افروزیوں سے علم وفن کی دنیا کو منور کرنے کا ایک سلسلہ ہے جو شاید قیامت تک نہ ختم ہو۔
فکر وتدبر کی انھیں جمال آرائیوں میں سے ایک چیز قرآن پاک کے صوتیاتی نظام سے متعلق ہے جس کی مختصر توضیح مقصود ہے۔ قرآن پاک کے صوتیاتی نظام کو سمجھنے کے لیے خود قرآن پاک کے اسلوب کی تعیین بھی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ قرآن نظم بہرحال نہیں ہے کیونکہ خود قرآن نے اس باطل خیال کو شدت سے رد کردیا ہے بلکہ قرآن پاک کو شاعری کا حصہ قرار دینے والے بھی اپنے خیال پر مطمئن نہ تھے۔ اسی لیے انھوں نے قرآن پاک کو شعر کہنے پر قرار نہ پکڑا اور اس کتاب ہدایت کی دیگر تعبیریں بھی پیش کرتے رہے۔ 
چونکہ قرآن پاک نظم نہیں ہے اس لیے وہ نثر قرار پایا کہ نظم کے مقابلے میں جو چیز سامنے ہے وہ نثر ہے۔ لیکن ہمارے خیال سے قرآن کو تعیین کے ساتھ نثر قرار دینا صحیح نہیں۔ بلکہ ڈاکٹر محمود غازی کی تعبیر کے مطابق قرآن مجید مذکورہ اسلوب ہائے بیان سے قطعی جدا اور مختلف ہے۔ اور زبان وبیان کی مروجہ تمام چیزوں سے منفرد ہے۔ نہ وہ نظم ہے اور نہ نثر بلکہ ایک ایسا اسلوب ہے جو نظم سے دور اور نثر سے قریب تر ہے۔ ہمارے خیال کے مطابق قرآن کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس کے اسلوب کا پتہ نہ لگایا جاسکا۔ اعجاز قرآن کے مباحث میں کتنی ہی چیزوں کی فہرست آپ کو نظر آئے گی لیکن اصل یہ ہے کہ قرآن کے اعجاز کو محض گنایا جاسکتا ہے ، اس کے اعجاز کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ قرآن کا صوتیاتی نظام کیا ہے۔ جس طرح قرآن کا اسلوب کسی اسلوب سے مکمل طور پر میل نہیں کھاتا اسی طرح اس کا صوتی نظام بھی کسی صوتی نظام سے میل نہیں کھاتا۔ اعجاز صوتی کے حوالے سے یہ چیز قابل ذکر ہے کہ غالباً امریکہ کے ایک عربی داں شخص نے جب قرآن پاک کو پہلی بار سنا تو اس نے کہا یہ تو بہت بہترین موسیقی ہے۔ ایسی موسیقی تو میں نے اب تک نہیں سنی۔ واضح رہے وہ ایک ماہر موسیقی بھی تھا۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں بلکہ قرآن ہے تو وہ حیران رہ گیا اور کہا واقعی؟… ایسی موسیقی کوئی انسان ترتیب نہیں دے سکتا اور پھر اسلام لے آیا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک میں صوتی نظام کا بھی خیال کیا گیا ہے جو نظام انسانی ادائیگی پر منحصر نہیں ہے بلکہ خود قرآنی لفظیات اور حرکات میں ہی ایسا سسٹم رکھا گیا ہے کہ وہ پڑھنے میں بہتر محسوس ہو۔ اس فن پر ہمارے علماء کرام نے فن تجوید کے نام سے بہت سارا مواد جمع کردیا ہے۔
قرآن پاک کے صوتیاتی نظام سے مراد اس کے حرکات وسکنات، مدوں اور غنوں وغیرہ کا اس انداز سے باہم متحد ومنظم ہونا بیان کیا جاسکتا ہے جس سے کانوں کوایک عجیب طرح کی لذت ملے اور انسان ایک نرالی، پاک اور ہوش آور موسیقیت کا لطف اٹھائے۔ گویا یہ مجرد حسین آوازیں ہوں جو کانوں میں رس گھولتی چلی جارہی ہوں۔ اس لیے کوئی غیر عربی داں بھی جب کسی اچھے مجود کی قرأت سنتا ہے تو مبہوت رہ جاتا ہے اور ایک نئی لذت سماع سے آشنا ہوتا ہے۔ یہ صوتی نظام موسیقی اورشعر ہر دو سے قطعی مختلف ہے کیونکہ ہر طرز موسیقی کی تانیں اور دھنیں ایک لہر پر ہوتی ہے۔ اسی طرح لمبے قصیدے جن کے اوزان وقوافی یکساں ہوں سن کر ذہن جلد ہی اکتا جاتا ہے جبکہ الحان قرآنی مختلف النوع ہے، اس کی نغمہ سنجی نئے نئے کیفیات پیدا کرتی ہے۔
مثال کے طور پر ﴿ولقد انذرھم بطشتنا فتماروا بالنذر﴾ میں ”النذر“ … اس میں ذال اور راء دونوں پر ضمہ آنے سے ذرا سی ثقالت محسوس کی جاسکتی ہے مگر ”لقد“ میں ”ل“ پر فتحہ اور ”بطشتنا“ کے ”طاء“ میں قلقلہ اور ”فتماروا“ کے واؤ تک مسلسل فتحہ کی حرکات پھر ”بطشتنا“ اور ”فتماروا“ کے بیچ میں مد کے ذریعے فصل نے ”نذر“ کی ثقالت کو ختم کرکے آیت کے ہر ہر نقطے کو رواں بنادیا ہے۔ ہر حرف پانی کی طرح رواں اور ہر لفظ باد صبا کی طرح سبک ہے۔ یوں پڑھتے ہوئے ایک حسین لہجہ وجود پاتا ہے۔ 
(مناھل العرفان: ج1۔ص247/الفوز الکبیر: ص96۔91/التبیان: 106۔105/ محاضرات قرآنی: ڈاکٹر غازی)
قرآن پاک کا یہ صوتیاتی نظام اور سسٹم غور وفکر کی دعوت دیتا ہے مگر اب تک شاید اس حوالے سے فن تجوید کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوا ہے بلکہ خود فن تجوید پر کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ 


--

With Regards

 

Afroza.M.Kathiawari. 

Co-ordinator,

British Council Trainings,

DIET, Dharwad.Karnatak,India

http://hudafoundation.in

Zubair H Shaikh

unread,
Jul 3, 2014, 11:16:38 AM7/3/14
to BAZMe...@googlegroups.com
جزاک الله .. عمدہ تحقیق ہے - 
خاکسار 
زبیر 


Aapka Mukhlis

unread,
Jul 6, 2014, 7:36:18 AM7/6/14
to bazm qalam
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہت عمدہ مضمون ہے۔ تیسرے پیرے میں جس ماہرِ موسیقی کا ذکر ہے وہ فرانس کا واقعہ ہے۔  اس شخص نے ڈاکٹر حمیداللہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا
اس کے قبول اسلام کا واقعہ ڈاکٹر صاحب کی زبانی  خود پڑھ لیجیے ۔ یہ واقعہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب محاضراتِ قرآنی میں درج ہے۔

 غازی صاحب لکھتے ہیں:
”…آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نام سنا ہوگا، انہوں نے خود براہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ غالباً 1958-1957ء میں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ ان کی زندگی کا یہ ایک عام معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔ اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تھا تو وہ اس سے یہ ضرور پوچھا کرتے تھے کہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا ہے؟

ء 1948ءسے 1996ء تک یہ معمول رہا کہ ڈاکٹر صاحب کے دست مبارک پر اوسطاً دو افراد روزانہ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔ عموماً لوگ اسلام کے بارے میں اپنے جو تاثرات بیان کیا کرتے تھے ،وہ ملتے جلتے ہوتے تھے۔ ان میں نسبتاً زیادہ اہم اور نئی باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس قلم بند کرلیا کرتے تھے۔ اس شخص نے جو بات بتائی، وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب وغریب اور منفرد نوعیت کی چیز تھی اور میرے لیے بھی بے حد حیرت انگیز تھی۔ اس نے جو کچھ کہا ،اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔ اس شخص نے بتایا: میرا نام ژاک ژیلبیر ہے۔ میں فرانسیسی بولنے والی دنیا کا سب سے بڑا موسیقار ہوں۔ میرے بنائے اور گائے ہوئے گانے فرانسیسی زبان بولنے والی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔

آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں سب لوگ جمع ہوچکے تھے اور نہایت خاموشی سے ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔ جب میں نے وہ موسیقی سنی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ موسیقی کی دنیا کی کوئی بہت ہی اونچی چیز ہے، جو یہ لوگ سن رہے ہیں۔ میں نے خود آوازوں کی جو دھنیں اور ان کا جو نشیب وفراز ایجاد کیا ہے ،یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے، بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی دنیا کو بہت وقت درکار ہے۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہوسکتی ہے اور اس کی دھنیں آخر کس نے ترتیب دی ہیں۔ جب میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تو لوگوں نے مجھے اشارہ سے خاموش کردیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پھر یہی بات پوچھی، لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے خاموش کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران میں وہ فن موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کررہا تھا، جن سے میں واقف نہیں، کیوں فن موسیقی میرا میدان نہیں۔
قصہ مختصر جب وہ موسیقی ختم ہوگئی اور وہ آواز بند ہوگئی تو پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا ۔لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اور فلاں قاری کی تلاوت ہے۔ موسیقار نے کہا کہ یقینا یہ کسی قاری کی تلاوت ہوگی اور یہ قرآن ہوگا، مگر اس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اور یہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟ وہاں موجود مسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ قاری صاحب موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔ اس موسیقار نے جواب میں کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ قرآن مجید کا کسی دھن سے یا فن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ یہ فن تجوید ہے اور ایک بالکل الگ چیز ہے۔ اس نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ تجوید اور قراء ت کا یہ فن کب ایجاد ہوا؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ فن تو چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو قرآن مجید عطا فرمایا تھا تو فن تجوید کے اصولوں کے ساتھ ہی عطا فرمایا تھا۔ اس پر اس موسیقار نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں کو قرآن مجید اسی طرح سکھایا ہے جیسا کہ میں نے ابھی سنا ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس لیے کہ فن موسیقی کے جو قواعد اور ضوابط اس طرز قراء ت میں نظر آتے ہیں ،وہ اتنے اعلیٰ وارفع ہیں کہ دنیا ابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔ ڈاکٹر حمیداللہ صاحب فرماتے تھے کہ میں اس کی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ بعد میں ،میں نے اور بھی قراء کی تلاوت قرآن کو سنا، مسجد میں جاکر سنا اور مختلف لوگوں سے پڑھواکر سنا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اگر یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس کے لانے والے یقینا اللہ کے رسول تھے، اس لیے آپ مجھے مسلمان کرلیں۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیا لیکن میں نہیں جانتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ کس حد تک درست تھا، اس لیے کہ میں اس فن کا آدمی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میں نے ایک الجزائری مسلمان کو جو پیرس میں زیر تعلیم تھا، اس نئے موسیقار مسلمان کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور کچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔ الجزائری معلم نے مجھے بتایا کہ وہ نو مسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کا اظہار کررہا ہے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ جس بنیاد پر یہ شخص ایمان لایا تھا ،وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اب اس کے شکوک کا میں کیا جواب دوں گا اور کیسے دوں گا۔لیکن اللہ کا نام لے کر پوچھا کہ بتاؤ تمہیں کیا شک ہے؟ اس نومسلم نے کہا کہ آپ نے مجھے یہ بتایا تھا اور کتابوں میں بھی میں نے پڑھا ہے کہ قرآن مجید بعینہاسی شکل میں آج موجود ہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبر علیہ الصلاة والسلام نے اسے صحابہ کرامکے سپرد کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اب اس نے کہا کہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتنا قرآن مجید پڑھایا ہے ،اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور حذف ہوگئی ہے۔
اس نے بتایا کہ انہوں نے مجھے سورہٴ نصر پڑھائی ہے اور اس میں افواجاً اور فسبح کے درمیان خلا ہے۔ جس طرح انہوں نے مجھے پڑھایا ہے ،وہاں افواجاً پر وقف کیا گیا ہے۔ وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے جبکہ میرا فن کہتا ہے کہ یہاں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ سن کر میرے پیروں تلے زمیں نکل گئی، اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شبہ کا جواب کیا دیں اور کس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراً دنیائے اسلام پر نگاہ دوڑائی تو کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہیں آیا جو فن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور تجوید بھی جانتا ہو۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی شش وپنج کے بعد بالکل اچانک اور یکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھا کرتا تھا تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجاً پر وقف نہیں کرنا چاہیے بلکہ افواجاً کو بعد کے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے۔ ایک مرتبہ میں نے افواجاً پر وقف کیا تھا تو اس پر انہوں نے مجھے سزا دی تھی اور سختی سے تاکید کی تھی کہ افواجاً کو آگے ملا کر پڑھا کریں۔ میں نے سوچا کہ شاید اس بات سے اس کا شبہ دور ہوجائے اور اس کو اطمینان ہوجائے۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ کے جو پڑھانے والے ہیں، وہ تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔ دراصل یہاں اس لفظ کو غنہ کے ساتھ آگے سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ افواجاً فسبح۔ ڈاکٹر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا اور مجھے گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگا اور کہنے لگا کہ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔ یہ سن کر اس کو میں نے ایک دوسرے قاری کے سپرد کردیا جس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔ وہ وقتاً فوقتا ًمجھ سے ملتا تھا اور بہت سردھنتا تھا کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہ بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب اسلامی زندگی گزارنے کے بعد 1970ء کے لگ بھگ اس کا انتقال ہوگیا۔





Fazil Parvez

unread,
Jul 6, 2014, 8:28:18 PM7/6/14
to fazil hussain parvz
assalam alaikum
Meher Afroz  ka mazamoon aur mukhlis sahib ka tabsra aur izafi mazmoon maaloomaathi aur aankhein hol dene k liye kaafi hai. tajweed  ki ahmiyat ka andaza hota hai. dono mazaameen insha Allah Gawah Weekly  k saf haath ki zeenath baneengay. Gawah every thursday onine dekha jasakta hai www.gawahweekly.com
Syed Fazil Hussain parvez
Editor Gawah urdu weekly
Hyderabad India

Aapka Mukhlis

unread,
Jul 7, 2014, 2:50:35 AM7/7/14
to bazm qalam
بہت شکریہ محترم

Syed Ahmed

unread,
Jul 9, 2014, 6:56:26 AM7/9/14
to bazme...@googlegroups.com

Lailaha ill Allah
mohtaram mukhlis sahib
salam masnoon
ramazan mubarak
quraan Pak ke sautiyati nizam per jo kuch tahreer Hua bohat dilchasp aur iman afza hai is zimn main kuch maroozat arz hain.
aik yeh ke is qisseh ke siyaq main jo yeh jumla naql kiya gaya hai woh fane tajweed ke etbar se ghunnah nahin balkeh ikhfa kahlata hai na keh ghunna دراصل یہاں اس لفظ کو
غنہ کے ساتھ آگے سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ افواجاً فسبح۔
is silsile men dil chahta tha keh aap ke samne kutube tajweed maa hawale ke likhta magar mahe siyam ki wajah se sirf ishare kar ne par inhisar karta hun.
mazeed baraan tarranum ke waste wasl ka tareeqa shayed khilafe aadate paighambar sallal allaho wasallam hai, hamare han dehli se chapa quaan sharerf raij hain jis par yeh ibarat nawistah hai misle taj company Lahore, jis par jis hashiye pae yeh ibarat hai, وقف النبي صلى الله عليه وسلمneez shah fahahad marhoom wale nuskhe men أفواجا par aayate tam ka nishan hai jis ke mana yeh hoye keh bat mukammlal hogai, is tarah to is ko misal men pash karna kiyun kar durust hoga?
aghar main ghalti per hun to tasheeh farma dijiega mashkoor rahunga.
wassalam
syed ahmed
10-9-2014h
9-7-2014s



------------------------------
> *قرآن پاک کا صوتیاتی نظام*
> *Afroza.M.Kathiawari. *
>
> Co-ordinator,
>
> British Council Trainings,
>
> DIET, Dharwad.Karnatak,India
>
> *http://hudafoundation.in* <http://hudafoundation.in>

Nayeem Javed

unread,
Jul 9, 2014, 7:18:57 AM7/9/14
to BAZMe...@googlegroups.com
دوستو!
ہمیں بصری مشقتوں کے ہولناک اعصابی آزار سے بچاو۔رومن لکھائی
کی چور رستے سے ہم اپنے بچپن کو کھورہے ہیں۔ ماضی کے ہزاروں خوش رنگ 
تحریروں نے ہمیں مضامین کا بوجھ ڈھونے کا ہنر سکھایا ہے۔ صوتی سحر کو حروف کے معموں میں تلاش کرنا پڑھ رہا ہے۔کیا یہ کال جادو ہے  جو روح کو بوجھل کررہا ہے۔۔۔
خدارا! ہمیں فورم پر رہنے دیں ورنہ ہم جھر جھر آنسوں سے روتے ہوئے اس ادب زار سے کہیں  دور چلے جائیں گے۔
فقط
نعیم جاوید
دمام۔۔سعودی عرب۔

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages