Re؛ {7052} وزن.: طریقہء حساب از ڈاکٹر جاوید جمیل-1

0 views
Skip to first unread message

KAZIM Farooq

unread,
Nov 6, 2011, 3:38:38 PM11/6/11
to bazme...@googlegroups.com

جناب جمیل  صاحب

میرے تو کئی اعتراضات تھے آپ  نے صرف ایک کو تسلیم کیا باقی پر کچھ نہیں

1.    کیا آپ  بتا سکتے ہیں کہ  اس میں کونسا حسابی عمل برتا گیا ہے جو آپ اسے طریقۂ حساب کہتے ہیں؟

2.    کیا یہ کوئی   نئی اختراع ہے؟

3.    اس سے  کوئی  عروض کی تعلیم  حاصل کرسکتا ہے؟ عروضی بن سکتا ہے؟

4.    کیا  مصرعہ  کی موزونی اور غیر موزونی پر  راۓ دینے کے لیۓ آپ کو زحافات  سے واقفیت ضروری نہیں؟

5.    آپ کا  حروف  علت  کو  حروف روی قرار دینا درست ہے؟

جمیل  صاحب  آپ نے میرے تبصرہ پر اتنا   شدید ناراضگی کا ا ظہار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ورنہ ثابت  ہوگا کہ آپ تنقید ہضم     نہیں کر سکتے۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ لوگ   آپ   کے عروضی اسباق پر واہ واہ کریں یا محض خاموش رہیں؟   بزرگ شاعر اور  ماہر عروض محترم سرور عالم راز صاحب سے میں ان کی قیمتی راۓ جاننا چاہوں گا

اردو کا ایک حقیر طالبعلم

کاظم فاروق۔ ایم اے( اردو  ادب)

 



2011/11/6 javed jamil <doctor...@yahoo.com>
محترم کاظم صاحب
میں جب بھی کوئی مضمون لکھتا ہوں میرے ذہن میں کبھی یہ نہیں رہتا کہ میں جو کہ رہا ہوں وہ سو فی صد صحیح ہوگا- بڑے بڑے شعرا سے غلطیاں سرزد ہوتی  hain ، میری تو بساط کیا ہے. میں نے کبھی یہ دعوا نہیں کیا کہ  میں اس طریقہ کا موجد ہوں- میں نے جب پہلی مرتبہ یہ سلسلہ انگریزی اسکرپٹ میں شروع کیا تھا تو اس کو بہت  سے قارئین نے پسند کیا تھا- اب میں نے یہی سوچ کر اسے اردو میں شروع کیا تاکہ کچھ اور لوگوں کو اس سسلیہ اور اس کے نتیجہ کے طور پر آپ جیسے ماہرین عروض کی راے آنے سے شاید کچھ فائدہ ہو سکے-
آپ کس مصرع کی بات کر رہے ہیں مجھے معلوم نہیں مگر میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کرتا ہوں. جیسا کہ آپنے میرے مصرع کی طرف تواجه دلایی. "صفر" کا تلفّظ میرے ذہن میں جو تھا اسکی وجہ سے یہ غلطی ہوئی ہے. مجھے اعتراف کرنے من ذرا بھی جھجھک نہیں. 
جہاں  پر آپ جیسے قاری موجود ہوں مجھے لگتا ہے کہ واقعی میرے اس سلسلہ  کی کوئی ضرورت نہیں ہے. ویسے بھی دوسری مصروفیات بہت ہیں - اس لئے میں اس سلسلہ کو منقطع کر رہا ہوں .
 
آپ کی عنایت کہ آپ نے مجھے غیر ضروری مشقّت سے بچا لیا-
خیر اندیش
جاوید        


--- On Sun, 11/6/11, KAZIM Farooq <kazimfaro...@gmail.com> wrote:

From: KAZIM Farooq <kazimfaro...@gmail.com>
Subject: Re: {7051} وزن.: طریقہء حساب از ڈاکٹر جاوید جمیل-1
To: bazme...@googlegroups.com
Date: Sunday, November 6, 2011, 3:21 AM


محترم جمیل صاحب

آپ بار بار اپنے مضا مین کو  حسابی طریقہ کیوں کہتے ہیں؟ اس میں جمع ، تفریق ،تقسیم،ضرب، آخر کونسا حساب  استعمال ہوا ہے؟ آپ نے بس اتنا کیا کہ  یک حرفی صوتیے کو 1  کی علامت دی اوردو حرفی کو 2 کی۔  کوئی اس کو  + اور – بھی  کہتا ہے۔اور کوئی چاہے تو   x,yبھی کہہ لے۔یہ طریقہ بہت پہلے سے ہے۔  گستاخی معاف  آپ اس کے موجد  نہیں ہیں۔ اس طریقہ سے  علم العروض سیکھا  نہیں جا سکتا ۔ بہت سے بہت  مصرعہ کا وزن  ناپا جا سکتا ہے۔علم العروض    بحروں اور زحافات کا  تفصیلی علم ہے۔جس میں شاید آپ کو  کوئی دخل نہیں ہے۔  ورنہ اس سال    جنوری میں آپ کسی شاعر کے   ایک درست مصرعہ کو  بے دھڑک غلط قرار نہ دیتے۔آپ جن حروف  کو  حروف روی کہہ رہے ہیں  وہ  حروف روی نہیں ہے۔ انھیں حروف علت  کہتے ہیں۔حرف روی کا بیان تو  علم قافیہ میں آتا ہے۔

آپ کا مندرجہ ذیل وزن سے  خارج ہے۔
رہے میانہ روی، ہے یہی طریقھء عدل

صفرکی سمت جھکیں اور نہ انتہا کی طرف

میں ادب کا سرسری مطالعہ رکھتا ہوں۔یہاں موجود شعرأ و ادیب میری اصلاح فرمائیں اگر میں نے   کچھ غلط لکھا۔

 

 




---------- Forwarded message ----------
From: javed jamil <doctor...@yahoo.com>
Date: 2011/11/4
Subject: {7022} وزن: طریقہء حساب از ڈاکٹر جاوید جمیل-1
To:


 

عروض کا پہلا سبق

طریقہء حساب از ڈاکٹر جاوید جمیل-1

 

  1- بہت سے شائقین اردو اشعار کے وزن کے طریقہ کو تختی کہ دیتے ہیں - یہ لفظ تقطیع ہے - جسکے معنی ہیں ٹکڑے کرنے کے.      

2-  سارے الفاظ کا تلفّظ صحیح ہونا ضروری ہے- کسی لفظ کے تلفّظ کو  بحریا وزن کی ضرورت کے تحت تبدیل نہیں کیا جا سکتا- 

3 - اردوکے تمام الفاظ کو ٢ اور١ کے ٹکڑوں میں توڑا جا سکتا ہے-

4- وہ تمام الفاظ یا الفاظ کے ٹکڑے جو دو حروف سے مل کر بنے ہیں اور پہلے حرف پر زبر، زیر یا پیش اور دوسرے حرف پر ساکن ہے، ٢ رکنی ٹکڑے مانے جاینگے - جیسے جب، کب، کس، کل، گھر، گم، ضد، شب، دل، ان سب کا وزن  2 ہوا- کروٹ، بلبل، شبنم، رستم، محنت، رسوا ، رحمت،  منزل، غفلت، گرمی ، سردی، سودا، درپن، دولت، ان سب کے وزن ہوئے ٢٢- گرماہٹ، سوداگر، فرمائش ، گنجائش ، ان سب کے وزن ہوئے ٢٢٢-

5- کھا ، بھا، تھا، جھا، ٹھ، وغیرہ میں bha ، pha وغیرہ وزن کے نقطہ نظر سے ایک ہی حرف سمجھے جاینگے. کھل، بجھ، وغیرہ کا وزن ٢ ہی  رہیگا-  

6- اگر کسی ٹکرے کا دوسرا حرف ا و، ی/ ے یا ہ ہے اور یہ ٹکڑا کسی لفظ کے بیچ میں ہے تو اس ٹکڑے کا وزن ٢ ہی رہیگا- ایسے مقامات پر حرف روی کا سقوط جایز نہیں- جیسے جنوب کا نو، غریب کا ری، جمال کا ما وغیرہ     

7- ایسے تمام ٹکڑے جن پر زبر، زیر، پیش یا جزم ہے، انکا وزن ١ مانا جاےگا- جیسے گلاب کا گ اور ب، محل کا م، غزل کا غ، رواج کا ر اور ج، خلوص کا خ اور ص، نظم کا م، فضل کا ل، لحاظ کا ل اور ظ، خدا کا خ، طرف کا ط، شکار کا ش اور ر، وغیرہ    

8- ں کا عام طور پر وزن نہیں ہوتا جیسے جاں، ماں، کہاں، رواں میں ں کا کوئی الگ وزن نہیں ہے- مگر ن اور ں کے سلسلے میں کچھ خاص مقامات پر الگ اصول رائج ہوتے ہیں، جن پر پھر بحث کی جاےگی  - 

9-پرکٹس کے طور پر ان الفاظ کے وزن دیکھئے: ملاقات ١٢٢١ سفر 12، (left  to  right )، غلط 12  شرمسار 2121 خمار 121  شہاب 121  مسلسل 122  تمنا 122-

10-حروف روی یعنی ا، و، ی، ہ، وغیرہ اگر لفظ کے آخر میں آ رہے ہیں تو انکو ساقط کیا جا سکتا ہے- بالخصوص verbs یا بھی، ہی، ہے، تھا، جیسے الفاظ میں - ح یا  ع کا اسقاط سخت غلطی ہے- noun بالخصوص عربی اور فارسی سے آنے والے الفاظ میں ان حروف کا اسقاط مناسب نہیں- جیسے انتہا، التجا، باقی، خامی، غلو، رسوا خدا، سوا، خطا، نبی، صبا،  سزا، وغیرہ- میرے ذاتی خیال میں ہندی ا آنے والے nouns میں بھی اسقاط مناسب نہیں جیسے چاندی، سونا، چندا، وغیرہ  

11- مختلف مروجہ اجزاے بحور کے اوزان یوں ہونگے :  

فعلن٢٢ فا ع لن (  ٢١٢ left to right ، فا ع لاتن ٢١٢٢ مفا ع لن ١٢١٢، مفعولن ٢٢٢، متفاعلن ١١٢١٢، مستفعلن ٢٢١٢، مفاعیلن ١٢٢٢، مفتعلن ٢١١٢، فعولن ١٢٢، وغیرہ     12- اضافت کا وزن اس سے پہلے حرف کے ساتھ ملکر طے  ہوتا ہے، اور ١ یا ٢ دونوں جایز ہوتا ہے- جیسے برگ گل کا وزن ٢١٢ اور ٢٢٢ دونوں طرح جایز ہے.

 

اگلی قسط چند روز بعد، انشاءللہ

 

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"


--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

javed jamil

unread,
Nov 7, 2011, 1:02:57 AM11/7/11
to bazme...@googlegroups.com, kazimfaro...@gmail.com

 

جناب کاظم صاحب

میں نے انتہائی انکساری کے ساتھ آپ نے جس سہو کی طرف توّجہ دلیے اس کو تسلیم کر لیا تھا- یہ بھی لکھ دیا تھا کہ میں نے کبھی یہ دعوا نہیں کیا کہ یہ طریقہ میری ایجاد ہے-(حالانکہ میں یہ کہہ سکتا تھا کم میں نے کم از کم کہیں کسی کو ٢ اور ١ کے حساب کے اعتبار سے وزن سمجھاتے نہیں دیکھا-) میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ آپ جیسے ماہر عروض کی موجودگی میں میری یہ کوشش غیر ضروری ہے اس لئے اس مشقّت سے بچتے ہوے میں اس سلسلۂ کو منقطع کر رہا ہوں. مگر اب آپ کا یہ دوسرا مراسلہ دیکھا تو مجھےواقعی غصّہ آیا کہ آپکو میرے انکسار میں بھی غصّہ نظر آیا- اور اب آپ اپنے کو ام اے  اردو ادب تسلیم کرایے بغیر دم نہیں لینگے-

 بہت اچھی بات ہے کہ آپ اردو ادب کے " حقیر " طالب علم ہیں-حالانکہ اندازتو پروفیسروں سے کم نہیں ہیں. مگر دنیا جانتی ہے کہ ڈگریاں انسان کو تخلیق کار نہیں بنا سکتیں البتہ تنقید کا حوصلہ ضرور پیدہ کر دیتی ہیں- چنانچہ اردو کے نامور شعرا میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی تعداد بہت زیادہ نہیں ملیگی- 

 

آپ کا کہنا ہے کہ میں کیوں اس طریقہ  کو حساب کا طریقہ کہہ رہا ہوں تو جناب جواب یہ ہے کہ اگر میں ایسا کہہ رہا ہوں تو اسکی وجہ ہے. میں نے یہ کہا کہ صوتی بنیادوں پر ہم تمام الفاظ کو ١ اور ٢ کے ٹکڑوں میں توڑ سکتے ہیں. ١ اس لئے کیونکہ اسمیں ایک ہی حرف کی آواز نکلتی ہے اور ٢ اس لئے کیونکہ اس میں ٢ حرفوں کی آواز نکلتی ہے. اور یہ٢ اور ١ کے ایک خاص ترتیب میں جمع ہونے سے شعر بنتا ہے. کسی ایک مصرع میں ١ اور ٢ کے جوڑ کا نتیجہ اس غزل یا نظم کے تمام مصرعوں میں برابر رہنا ضروری ہے- یہی نہیں انکی ترتیب بھی وہی رہنی چاہیے. مثال لیجئے -

ابن مریم ہوا کرے کوئی - اب اسکی ترتیب ہوئ: ٢ ١ ٢ ٢ ١ ٢ ١ ٢ ٢ ٢ . کل جمع ہوا ١٧ - اب اس غزل کے ہر مصرع میں جمع یہی آنی چاہیے - اس بحر میں آخری تین ٢٢٢ میں سے بیچ والے ٢ کو ١١ میں توڑا جا سکتا ہے- مگر کل جمع ہمیشہ ١٧ ہی رہیگی- صرف آخر میں ایک ١ غیر متحرک کی اضافی اجازت رہتی ہے- کئی دوسری بحروں بالخصوص فعلن فعلن کی تکرار یعنی ٢٢ کی تکرار  والی بحروں میں کئی مقامات پر ٢ کو ١١ میں توڑا جا سکتا ہے. مگر کل جمع ہمیشہ برابر رہنا چاہیے  ورنہ مصرع وزن سے خارج ہو جاےگا- اب بتائے اگر میں اسے حساب کا طریقہ کہہ رہا ہوں تو کیا گناہ کر رہا ہوں -                     

حرف علّت کو میں نے حرف روی کہہ دیا اسکے لئے معذرت- تقریباً ١٣ سال اردو شاعری  اور ادب  سے دور رہنے کی وجہ سے کئی مرتبہ الفاظ پر پکڑ کمزور ہو جاتی ہے- میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہو رہا ہے-اردو میں بہت مرتبہ ایسے الفاظ ہوتے ہیں جنکا تلفّظ لغت میں کچھ دیا ہوتا ہے-مگر استعمال کچھ اور ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں  . پچھلے دنوں لفظ لحد پر بحث ہوئی- عربی میں ح پر ساکن ہے- لغت میں بھی اسے عقل کے وزن میں ہی دیا ہے- مگر انگنت مثالیں پیش کی گییں جن میں ح پر زبر کے طور پر لفظ  استعمال ہوا ہے. نفی کا تلفّظ لغت میں عمل کے وزن میں ہے-اور عام طور پر اردو دان اسی طرح بولتے بھی ہیں. مگر اعجاز شاہین صاحب نے عقل کے وزن میں مثالیں پیش کیں تو مجھ سمیت کئی دوسرے اعتراض کرنے والوں نے اسے تسلیم کر لیا- ابھی وحی کے سلسلہ میں بھی یہی صورت سامنے آی ہے- کیونکہ عربی میں اسے عقل کے وزن میں استعمال کیا جاتا ہے اور اردو میں عمل کے- صفر کے ساتھ بھی یہی ہے کہ اکثر لوگ اسے عمل کے وزن میں بولتے ہیں- اس لئے مجھے سہو ہوا- 

میں خود کو ایک عام سا شاعر سمجھ کر عام شعرا کے لئے کچھ آسان لگنے والا طریقہ پیش کر رہا تھا- مگر آپ نے مجھے یہ احساس دلایا کہ یہ میری کم سمجھی تھی- یہاں تو ہر کوئی ماہر فن ہے- لہذا میں نے اس سلسلہ کو منقطہ کرنے کا فیصلہ کیا-

میری طرف سے بحث کا اختتام ہے-     

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages