شہر کوفے کا ایک آدمی

0 views
Skip to first unread message

Ainee Niazi

unread,
Nov 1, 2014, 7:56:02 AM11/1/14
to Bazm e Qalam

شہر کوفے کا ایک آدمی

اسد محمد خان کا ایک عظیم افسانہ جو آج بھی دل مِں تیر کی طرح پیوست ہو جاتا ہے ۔

ایک ایسے آدمی کا تصور کیجیئے جس نے کوفے سے امامؓ کو خط لکھا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ دارالحکومت میں تشریف لایئے حق کا ساتھ دینے والے آپ کے ساتھ ہیں ۔ وہ آدمی اپنے وجود کی پوری سچائی کے ساتھ اس بات پر ایمان بھی رکھتا ہو ، لیکن خط لکھنے کے بعد وہ گھر جا کر سو گیا ۔

جب دس ہزار دنیا زادوں نے امامؓ کے مقابل صف بندی شروع کی تو یہ آدمی زیتون کے روغن میں روٹی چور چور کر کے کھا رہا تھا ۔ پاس ہی دودھ بھرے پیالے میں حلب کے خرمے بھیگے پڑے تھے ۔ شیشے کے ایک ظرف میں کوئی مشروب تھا ۔

جب اسے خبر ملی کہ اشرار آمادہ فساد ہیں تو اس آدمی نے روغن سے ستے ہوئے دونوں ہاتھ طمانیت کے ساتھ چہرے پر ملے اور بولا امامؓ حق پر ہیں اور حق غالب آنے والا ہے ۔ اس نے پھر ڈکار لی اور امامؓ کو یاد کیا ۔ان کی حمایت کے لئے اللہ سے نصرت طلب کی ۔اور دستر خوان کے برابر پڑے ہوئے تکئے پر ٹیک لگا سو گیا ۔

جب خبر آئی کہ بچوں پر پانی بند کر دیا گیا ہے تو روتے روتے اس نے ہاتھ کی ضرب سے عرق کا ظروف الٹا دیا اور کہنے لگا ” وائے افسوس ! سگ دنیا ابن زیاد نے ، اس کے کتوں نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے “۔ اس بار وہ بہت دیر تک رویا اور کرب و انتشا میں جاگتا رہا ۔ پو پھٹنے کے قریب اسے نیند آئی ۔

جب اسے پتہ چلا کہ ایک پاکیزہ خصلت نوجوان بچوں اور بیماروں کے لئے پانی سے بھرا مشکیزہ لاتا تھا کہ بد خصالوں کے ہاتھوں شہید ہوا ، تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ اب کے اس نے ایک پہر نالہ و شیون کیا اور سینہ کوبی کی ۔ اس کی بھوک پیاس رخصت ہو گئی اور وہ سوچتا رہا کہ کچھ کرے کیونکہ ان صادقوں کے لئے اس کا دل خون کے آنسو روتا تھا ۔

اس نے اور کچھ نہیں کیا بس گڑگڑا کر دعا کی “بارالہا ! تیرے محبوب ﷺ کی آل اپنے گھروں سے نکلی ہے ۔ تو ہی ان کا حامی و ناصر ہے ۔ وہ کیونکہ اس کاوش سے تھک گیا تھا ۔ اس لئے روتے روتے اس نے کچھ دیر آرام کیا اور دیوار سے ٹکے ٹکے سو گیا ۔

جب کسی نے پکار کر کہا کہ سگ دنیا شمر ذوالجوشن نے بھیانک ارادے کے ساتھ اپنا گھوڑا امام کی طرف بڑھا دیا ہے تب ، اسی وقت وہ چیخ مار کر اٹھا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ کھڑا ہو گیا اور اس نے عجیب کام یہ کیا کہ اپنے چھپر کو سہارنے والی تھونی جھٹکے سے اکھاڑ لی ۔ وہ اسے گرز کی مانند گردش دیتا ہوا نہر فرات کی طرف بڑھ گیا ۔اور حق تو یہ ہے کہ اس نے لمحے بھر کے لئے بھی یہ نہیں سوچا کہ اس چھپر کے نیچے اس کے بیوی بچے بیٹھے ہوئے ہیں ۔

امام ؓ کے لئے اس کی محبت بلاشبہ حد درجہ تھی ۔

وہ چھپر کی تھونی اٹھائے دوڑا چلا جا رہا تھا ۔ شریروں ، بد خصالوں اور قاتلوں کے لئے اس کی زبان پر ناملائم کلمات تھے اور کبھی کبھی وہ فحش کلامی بھی کرتا تھا کیونکہ سخت آزردہ تھا ۔لگتا تھا کہ وہ ان ہزاروں سگان دنیا کو اپنی مغلظات سے پارہ پارہ کر دے گا جو بچوں اور گواہی دینے والوں کو قتل کرنے آئے تھے ۔اس کی فحش کلامی جاری رہی پھر بند ہو گئی ۔اس لئے کہ آگے مقام ادب آ گیا تھا ۔وہ مطہر سماعتیں آگے تھیں جنہوں نے مقدس رسول ﷺ کو کلام فرماتے سنا تھا ۔

اسی لمحے اس کی وابستگی اور اس کے باطن کی سچائی نے ظہور کیا اور اس اگلے لمحے میں جب شمر نجس کا وار امامؓ پر ہوتا اور انسانی تاریخ کا سب سے بھیانک جرم سرزد ہو جاتا ، اس اگلے لمحے وہ آدمی امام ؓ اور قاتل کے درمیان کھڑا ہو گیا ۔اس نے دل دہلا دینے والا نعرہ بلند کیا اور اپنی ٹیڑھی میڑھی لاٹھی سے شمرذولجوشن پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ نجس اپنے خود کی چوٹی سے لے کر اپنے مرکب کے زنگ آلود نعلوں تک ہل کر رہ گیا ، لیکن لکڑی ٹوٹ گئی ۔

شمر نے تب اپنے گھوڑے کو آگے بڑھایا اور اسے ، جو تاخیر سے نہتا ہی اپنے ذی حشم مہمان کی سپر بننے آیا تھا ، روندتا مسلتا ہوا اپنے آخری جرم کی طرف بڑھ گیا ۔وہ آدمی گر گیا اور دودھ ، پنیر ،شہد ، روغن زیتون اور تازہ خرموں پر پلا ہوا اس کا بدن امام پر نثار ہو گیا ۔

اور پھر وہ آخری جرم سرزد ہوا جس نے ترائی پر چمکنے والے سورج کو سیاہ کر دیا اور رات آ گئی ۔ رات کے کسی وقت بلند قامت حر بن ریاحی کے قبیلے والے آئے اور اپنے آدمی کا لاشہ اٹھا لے گئے ۔

اس کے بعد زمرد ، یاقوت اور مشک و عنبر کے بہتر تابوت لے کر تاریخ آئی اور اس نے بہتر آسمان شکوہ لاشے سنبھالے ۔ اس میں ایک سر بریدہ لاشہ صبر و رضا والے ، استقامت والے امام ؓ کا تھا جن کا قدم بلندی پر تھا ، اسی لئے انہیں بادلوں پر جگہ ملی ۔

اس کے بعد سگان دنیا کے ورثا اپنے مسخ شدہ حرام کے مردے کھینچ کر لے گئے اور میدان خالی ہو گیا ۔لیکن وہ آدمی جس کی کہانی میں سنا رہا ہوں ، وہیں پڑا رہا ۔شمر کے گھوڑے کی لید میں لت پت اس کا بھیجہ ، قیمہ اور سری پائے وہیں پڑے رہ گئے ۔ صبح سویرے جب چیونٹیوں کی پہلی قطار نے انہیں دریافت کیا ، تو آہستہ آہستہ انہیں منہدم کرنا شروع کر دیا اور یہ انہدام دیر تک جاری رہا ۔

آپ ایک ایسے شخص کا تصور کریں جس نے امامؓ کو خط لکھا اور خط لکھنے کے بعد گھر جا کر سو گیا ، لیکن آخری لمحے میں اپنے باطن کی سچائی اور وابستگی کا اظہار کرتا ہے اور عجب طریقے سے مقبول بارگاہ ہو جاتا ہے ۔ ایک ایسے آدی کا تصور کریں تو وہ جیم الف ہو گا(جیم الف ۔ عربی ۔ عام آدمی) ۔جس کی کہانی میں آپ کو سنا رہا ہوں لیکن یہ تھا ماضی کا جیم الف ۔

آج کا جیم الف کو ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں کچھ لکھ لکھا کر اپنے کنبے کو پال رہا ہے ۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی سبک باتوں سے گاتی گنگناتی ، دکھ سہتی غزلیں لکھتا ہے اور انہیں چھوٹی چھوٹی اشاعتوں والے رسالوں میں چھاپ دیتا ہے ۔ وہ پکی روشنائی میں اپنا نام دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے اور مشاعروں میں گانا بجا لیتا ہے ۔اس سے بڑے گناہ سرزدنہیں ہوئے ہیں اور نہ اس خیر کا کوئی بڑا کام کیا ہے ۔اس کا گذارہ چھوٹی موٹی نیکیوں اور ہلکے پھلکے گناہوں پر ہے ۔ میں نے سیدالشہدا کے نام نامی کے ساتھ اس شخص کے تذکرے کی جسارت اس لئے کی ہے کہ میں اس کی سچائیاں اور وابستگیاں بتانا چاہتا ہوں ۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ایک دفعہ اس آدمی کو ایک مشاعرے میں بلوایا گیا تو وہ میزبانوں سے یہ کہنے لگا کہ یہاں سے اللہ کا گھر بہت قریب ہے مجھے عمرہ کروا دو ۔ تمہارا زیادہ خرچہ نہیں ہو گا ۔ پھر وہ عمرہ کرنے گیا ۔ طواف کرتے ہوئے وہ بے ڈھنگے پن سے دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ۔ آپ یہ سمجھیں ساری عمر میں اس یہی نیکی ہوئی تھی لیکن رونے کو آپ اس کی بے بسی بھی کہ سکتے ہیں ۔

جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھے بتایا کہ کہ میں نے حرم شریف میں دنیا کے پہلے مظلوم اور مستقیم آدمی سے لے کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کے دعا کی ۔ لیکن مجھے اپنی ذلالت اور بے بسی پر رونا بھی آیا کہ اگر میں کربلا کے سن ہجری میں ہوتا تو اپنے گھر میں پڑا کُڑھتا رہتا اور یقینا مجھ میں اتنی استقامت بھی نہ ہوتی کہ جلانے کی لکڑی کھینچ کر ہی ظالموں کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا ۔

اس نے کہا دیکھ لو ، میں یاسر عرفات کے سن ہجری میں ہوں اور گالیاں بکنے اور دعائیں مانگنے کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتا ۔میں کسی جارح ٹینک کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت نہیں کر سکتا ۔ مجھے گڑگڑاتی ہوئی لوہے کی اس پٹی سے خوف آتا ہے جو لمحہ بھر میں قیمہ بنا دیتی ہے ۔ لیکن میں ضمیر اس گڑگڑاتی آواز سے بھی قیمہ ہو جاتا ہوں جو ہم سے اکثر کو اندر سے سنائی دیتی ہے ۔

اس نے آخری بات مجھ سے یہ بھی کہی ، بھائی میرے ! میں بھی ، تم بھی اور ہم سب اصل میں اپنی اپنی مصلحت اور منافقت کے کوفے میں آباد ہیں اور حق کے لئے جنگ کرنے والے کسی وجود سے آنکھیں نہیں ملا سکتے چاہے وہ استقامت کی سب سے بڑی علامت حسین ؓ ہوں یا موجودہ تاریخ کے فلسطینی اور کشمیری ۔

یہ سن کر میں اس کا شانہ قلم سے چھوتا ہوں ۔ یہ بھی نائٹ بنانے کی ایک رسم ہے ۔ پہلے اس موقع پر قلم کی جگہ تلوار استعمال ہوتی تھی ۔ تو میں اسے مایوسی اور بے بسی کا نائٹ مقرر کرتا ہوں اور اسے کہتا ہوں ” پیارے جیم الف ! ہمیں پنیر ، روغن زیتون اور خرمے کھا گئے ہیں ۔ اب تم بھی گھر جاو اور کھانا کھا کر آرام کرو ۔

Gul Bakhshalvi

unread,
Nov 2, 2014, 10:09:58 PM11/2/14
to BAZMe...@googlegroups.com
عینی نیازی ،،،،، آداب ،،،  صبح کی پہلی کرن کے ساتھ آپ کی پسند اسد محمد خان کا افسانچہ پڑھا ، تو اپنے ضمیر  اور اپنی بھ حسی پر ماتم کرنے لگا،،، موجودہ حالات کے تناظر میں اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے قلم تو اٹھا سکتے ہیں ،،،،،،، گل بخشالوی

Ainee Niazi

unread,
Nov 4, 2014, 2:59:25 AM11/4/14
to Bazm e Qalam
 گل بھا ئی  مشکورا  ............ آپ نے درست فر مایا  ہم قلم تو اٹھا سکتے ہیں ایک مضمون میں نے بھی لکھا تھا ۔
.................................................................................................................
.عینی نیازی
خون شہا دت فنا نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  مو لانا ابولکلام آزاد نے فر مایا ’’ کہ دنیا میں ہر چیز مر جا تی ہے کہ فا نی ہے مگر خون شہا دت کے ا ن قطروں کے لئے جو اپنے اندر حیات الہیہ کی روح رکھتے ہیں کبھی فنا نہیں ‘‘ میدان کر بلا وہ داستان غم ہے جس پر ساری دنیا تا قیامت اشک فشاں رہے گی حضرت امام حسینؑ اور کربلا کی۲۷ جانثار وں کے حمایت حق ، عزم و استقلال اور صبر و ثبات پر ڈ ٹے رہنے کا سبق تا قیامت سمجھنے وا لوںکو درس دیتا رہے گا کہ میدان کر بلا محض ایک خونی معرکہ ہی نہیں بلکہ اپنے دامن میں ہم سب کے لیے ایک سبق لیے ہو ئے ہے کہ کس طرح حضرت امام عا لی مقاؑم اور ان کے سا تھیوں نے امر با لمعر وف ونہی عن ا لمنکرکے لیے جام شہادت نوش فرمایا ہر سال محر م الحرام کے مہینے میں آپکی دا ستان شجا عت آپؑ کی طرز زندگی کو یاد کر کے تمام مسلما ن درس نصیحت لیتے ہیں۔    
   دنیا کی تا ریخ میںدو عظیم انسانوں کے خطبے ایسے ہیں جو ہمارے لیے مشعل راہ تو ہیں لیکن انھیں جب بھی سنیں تو دل پرایک پرسوز گداز کیفیت طا ری ہو جا تی جس کے ہر الفا ظ سے حکمت کے مو تی بر ستے ہیں پہلا خطبہ ہما رے پیا رے نبیؐ کا  حجتہ الوداع کاخطبہ ہے جو پوری دنیاکے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا بہترین منشور ہے جب کہ دوسرا  حضرت امام حسینؑ کا وہ خطبہ جو آپ ؑ نے دشمن کے قریب آنے پر قرآ ن پاک کو سامنے رکھ کر دیا ایک ایسا خطبہ جسے سننے وا لے آج بھی سنیں تو بے چین و بے قرارہو جا ئیںان کے آخری جملوں پر نظر ڈا لئے آپ ؑ فر ماتے ہیں ’’واللہ اس وقت رو ئے زمین پر بجز میرے کسی نبی ؐکی بیٹی کا لڑکا مو جو د نہیں ،میں تمھارے نبی ؐکا بلا وا سطہ نو اسہ ہوں مجھے کس لئے ہلاک کرنا چا ہتے ہو !کیا میں نے کسی کی جان لی ہی؟ کسی کا خون بہا یا ہے ؟کسی کا مال چھینا ہے ؟ کہوکیا با ت ہے  آخر میرا قصور کیا ہے ؟ ‘‘کیا یہ ایسے الفا ظ نہیں کہ شقی القلب کا دل بھی دہل جائے لیکن ان ظالموں کو رحم نہ آیا انھوں نے اہل بیت کے پر وہ مظالم ڈھا ئے جو رہتی دنیا تک کے انسا نیت کا سر شرم سے جھک گیا یزید کانام قہر وبر بریت اور لعنت وملامت کی علا مت بن گیا ۔
 چاروں خلفاء راشدین کے بعد امیر معاویہ تخت نشین ہو ئے تو ان کے دل میں نسل در نسل نظام حکومت اپنے خاندان میں منتقل رکھنے کی خواہش کروٹ لینے لگی چنا چہ اس نے اپنے بعد نا اہل بیٹے یزید کو اپنا جا نشین مقر ر کر دیا یزید کو اپنے اقتدار کے لیے نو اسہ رسول ؐسے  سب سے زیادہ خطرہ تھا کہ وہ ان کے حق میں بیعت نہیں کریںگے تخت نشین ہو تے ہی یز ید نے اپنی سا زشوں کا جال دو نوں بھا ئیوں حضرت امام حسین ؑ اور امام حسن ؑ کے گرد بننا شروع کر دیا تھا سب سے پہلے اس نے حضرت اما م حسن ؑ کو زہر دلواکر جام شہا دت دلوایا اور اسکے فورا بعد اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں لوگ اس کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں کہ اسلا م ورا ثتی حکومت کے سخت خلاف ہے اس کا اقتدار خطرہ میں نہ پڑ جا ئے اس بات کا بھی اسے علم تھا کہ اس خلافت کے صیح جا نشین حضرت امام حسینؑ ہیں اس نے آپؑ سے بیعت کا مطا لبہ کیا حضرت امام حسینؑ یزید کی نا اہلی اور اخلاقی پستی سے وا قف تھے اس لیے آپؑ نے اس بیعت سے انکا ر کیا اور کوشش کی کہ جلد از جلد اس کی پہنچ سے دور نکل جائیں آپؑ نہیں چا ہتے تھے کہ آپؑ کی حمایت کرنے والے دوستوں کو کسی قسم کی تکلیف ہو اور خون ریزی میں بے گناہ لوگ ما رے جا ئیں حضرت امام حسین ؑ اپنے گھر والوں اور سا تھیوں کے ہمراہ کوفہ روانہ ہو ئے ۲۷ افراد کے اس پرامن قافلے نے جب کر بلا کی سر زمین پر قدم رکھا تو یزید نے اپنی چار ہزار فوجوں کو آپؑ کا راستہ روکنے اور شہید کر نے کے لئے بھیجا آپؑ نے ان کو تین شر طیں پیش کی جن کے مطا بق آپ نے یزید سے اپنا معاملہ خود طے کرنے ، واپس جانے اور کسی مسلمان ملک کی سر حد پر جانے کی پیش کش شامل تھی مگر ابن زیا د نے آپؑ کو یزید کے ہا تھوں بیعت کر نے یا پھر جنگ کے لیے تیار ہو نے کی شر ط رکھی آپؑ کسی ایسے نااہل کو مسلمانوں کا امیر تسلیم کر نے کو تیار نہ تھے آپؑ نے دوسری شر ط کو تسلیم کیا۔المختصر دسویں محرم کو بعد نماز فجر عمر بن سعد اپنی چارہزا فو جیں لے کر نکلا امام عا لی مقام نے بھی اپنے ۲۷ ساتھیوں کی مختصر فوج کو صف آرا کیا پہلا تیر لشکر امام حسینؑ پر عمربن سعد نے چلایا پھر ایک  کے بعد ایک جا نثاران امام حسینؑ شہید ہو تے گئے لیکن شہید ہو نے سے پہلے دشمن کے کئی سپا ہی دا خل جہنم کر دیتے جب عمر بن سعد نے جنگ کا یہ نقشہ دیکھا کہ اس طرح تو میرے سینکڑوں سپاہی ما رے جا ئیں گے تو اس نے ایک ساتھ حملہ کا حکم دے دیا خاندان اہل بیت نے انتہا ئی بہا دری سے شہادت کو قبول کیا یہاں تک کے آخری اہل بیت حضرت امام حسین ؓنے بھی جام شہادت نو ش فرمایا عمر بن سعد نے حکم دیا کہ امام حسین ؑ کی نعش مبارک کو گھوڑے کی ٹا پوں سے روند دیاجا ئے دس سپاہیوں نے گھوڑے دوڑا کر آپؑ کی لا ش مبار ک کوروند ڈالا دوسرے دن سعد بن عمر نے میدان جنگ سے کوچ کیا تو اہل بیت کی خواتین اور بچوں کو اسیر بنا کر کو فہ جانب روانہ ہوا شہداء کے سر کاٹ لئے گئے امام حسین ؑ اور آپ کے خاندان نے اپنی جا نیںقربان کر دیں لیکن ظالم و جا بر حکومت کی اطا عت ووفاداری کسی طور قبو ل نہیں کی نواسہ رسول ؐ ہونے کی بناء پر یہ آپؑ کی تربیت کا حصہ تھی کہ قا نون شریعت کی بقاء اور استحکام کے لیے جان ومال کی قربانی کو ئی معنی نہیں رکھتی اگر اسلامی مملکت قرآن کے احکامات کے مطابق نہ ہو تو اس کی اطا عت ہر گز تسلیم نہ کی جا ئے خواہ حکومت وقت کتنی ہی قوت و شوکت سے مر عوب کر نا چا ہے اس کی طا قت سے کبھی نہیں ڈرنا چا ہئے واقعہ کر بلا یزید کے دامن حکومت پروہ بد نما دا غ ہے جو قیامت تک کسی کے مٹائے نہیں مٹ سکتا  ۔
 آپ ؑکی شہا دت اور اپنے مو قف پر قا ئم رہنا ہم آج کے مسلما نوں کو کئی درس دیتا ہے کہ کس طرح آپؑ نے شہادت قبول کر لی مگر دعوت حق و حریت کی راہ نہ چھوڑی آپ جا نتے تھے فتح ہمیشہ حق کی ہو تی ہے با طل کو بہ ظاہر تھوڑی دیر کے لیے فروغ حا صل ہو بھی جا ئے پھر بھی سچ  جاننے و سمجھنے والے کی نگاہ میں حق کو فتح حاصل ہو تی ہے دنیا نے دیکھا کہ فتح یزید کی ہوئی یا امام عا لی مقام کی ہو ئی حضرت امام حسینؑ اور ان کے سا تھیوں کو ایسی فتح نصیب ہو ئی کہ مسلم و غیر مسلم سب کے لئے حضرت امام حسین ؑحق وشجاعت کا سمبل بن گئے ہر سال محر م الحرام کے مہینے میں آپکی دا ستان شجا عت آپ ؑکے اسوء حسنہ کو یاد کر کے تمام مسلما ن درس نصیحت لیتے ہیں شہیدان کر بلاؓ نے حق وصداقت کی راہ میں جس عزم و ثبات کا ثبوت دیا وہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہے سچ ہے کہ اہل بیت کے خون شہادت کے قطروں کو تا قیامت فنا نہیں ۔   

Shazia Andleeb

unread,
Nov 4, 2014, 5:21:16 AM11/4/14
to Bazm e Qalam
Wah Aini ap nai khoob likha such or haq likha or na sirf qalam othaya bal k ap nai to alam bhi otha liya hai.
shazia andleeb

Ainee Niazi

unread,
Nov 4, 2014, 6:44:25 AM11/4/14
to Bazm e Qalam
شازیہ اتنے اچھے کمنٹس پر بہت شکر گزار ہوں   ایک بار پھر شکریہ  خوش رہئے آباد رہئے 

عینی نیازی

Gul Bakhshalvi

unread,
Nov 5, 2014, 7:11:53 AM11/5/14
to BAZMe...@googlegroups.com
عینی نیازی آپ کا مضمون پڑ رہا ہوں  میں نے بھی لکھا تھا ،، آپ بھی پڑہیں 
Imam Hussain 34.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages