کتابوں کا اتوار بازار-22 جنوری 2012 - حکومت پاکستان کے ایک ریٹائرڈ سیکرٹری سے ملاقات

0 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Jan 23, 2012, 2:55:37 AM1/23/12
to 5BAZMeQALAM, qamar ali abbasi, Maqsood Sheikh, arif.waqar

خدا رکھے کہ بزم کی رونق عروج پر ہے، کشور ہفت رنگ، اقلیم رنگ رنگ ۔ ۔ ۔۔ لوگ آرہے ہیں، لوگ جارہے ہیں، محفل سجی ہوئی ہے، پہیا گھوم رہا ہے اور ایندھن جل رہا ہے

ادھر کچھ عرصے سے محسوس کیا ہے کہ اتوار بازار میں طلبگاران کتب کا ہجوم بڑھتا جارہا ہے، گزشتہ دنوں جناب عقیل عباس جعفری صاحب نے ایک مزے دار بات کی

" بھئی یہ آپ جو اتوار بازار کا احوال لکھ رہے ہیں، آپ کو معلوم ہے کہ اس کے نتائج کیا برآمد ہوئے ہیں ? بازار میں رش بڑھ گیا ہے، چلیے وہ تو اچھی بات ہے لیکن یہ ہرگز اچھی بات نہیں کہ لوگ صبح بلکہ علی الصبح آکر ہاتھ صاف کرجاتے ہیں اور ہمارے پہنچتے، کچھ بچتا ہی ہیں۔"

عقیل صاحب نے درست کہا، حقیقتا ایسا ہی ہوا ہے بلکہ ایک صاحب کہ 1987 سے اس بازار میں آتے ہیں اور میرے دوست بن گئے ہیں، گلہ کررہے تھے کہ کتب فروشوں کے تو دماغ بالکل ہی خراب ہوگئے ہیں، میں اتنے عرصے سے آرہا ہوں، ایسا حال کبھی نہیں دیکھا، میں نے تو دو ایک کا بائکاٹ کررکھا ہے، میں ان سے (کتب فروشوں سے) کہتا ہوں کہ تم لوگ تو یہاں اب ڈالروں میں قیمت وصول کررہے ہو۔"

کل ہمارے اس دوست کے الفاظ کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا اور حیران رہ گیا، یہ منظر وہاں موجود احباب کو بھی دکھایا، ایک کتب فروش کتاب کی قیمت کسی عرب ملک کی کرنسی میں وصول کررہا تھا، پہلے تو آنکھوں پر یقین نہیں آیا لیکن پھر کرنا پڑا۔ غالبا" اس کے ‘شکار‘ کے پاس پاکستانی روپے نہیں رہے ہوں گے۔     

اچانک ایک جانب سے پروفیسر سحر انصاری کے ڈانٹنے کی آواز آئی، ادھر متوجہ ہوئے تو وہ ایک کتب فروش پر برس رہے تھے کہ وہ قیمت زیادہ بتاتا تھا اور پروفیسر صاحب کی بتدریج بلند ہوتی آواز اس کی آواز پر غالب آتی جارہی تھی:
" سب کے 50، 50 روپے دوں گا، اس سے زیادہ ایک پیسہ نہیں، سمجھے"

ہائے یہ اعصاب کو پارہ پارہ کرتی گرانی کہ جس نے 400 صفحات کی کتاب (جستجو کیا ہے) کی قیمت 900 تک جا پہنچائی۔ اور اس کے ذمہ دار ? ان کی بلا سے جو ہوتا رہے سو ہوتا رہے، پنجاب میں ایک رکشے والے نے اپنے رکشے کی پشت پر لکھوا لیا تھا:
 ہارن آہستہ بجائیے، یہ قوم سو رہی ہے"


کیا مادی ناتوانی کے نتیجے میں آخر کہیں روپوش ہوجانا پڑے گا ?

        اے  موج   بلا   ان   کو   بھی   دو   چار   تھپیڑے "زور" سے
        کچھ لوگ ابھی تک ساحلوں سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں

         (معین احسن جذبی سے معذرت کے ساتھ)


کتابوں کے بازار سے ملنے والے خزانے کا احوال ذرا آگے آتا ہے، لیکن اس سے قبل ذکر حکومت پاکستان کے ایک ریٹائرڈ سیکرٹری سے ملاقات کا ۔ ۔ یہ ملاقات اتوار کے روز اتوار بازار سے واپسی پر ہی ہوئی لہذا اس کا احوال بھی یہیں نتھی کردیا ہے

یہ ہیں محمد منصور کاظم صآحب سابق سی ایس پی، جن کی خودنوشت ‘میری داستان‘ 2003 میں شائع ہوئی تھی، منصور صاحب 3 جنوری 1930 کو پٹنہ میں پیدا ہوئے، تعلیم لاہور اور آکسفورڈ میں حاصل کی، مشرقی پاکستان میں رہے، کراچی اور اسلام آباد کی کئی اہم وزارتوں میں خدمات سرانجام دیں، چار برس چیف سیکریٹری آزاد کشمیر رہے، چالیس سالہ ملازمت کے آخری دور میں سیکریٹری الیکشن کمیشن اور سیکریٹری السمای نظریاتی کونسل تعینات رہے۔ 1992 میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ عرصہ دراز سے اسلام آباد میں مقیم تھے، قریب دو برس پہلے، کراچی منتقل ہوگئے ہیں۔

محمد منصور کاظم، عشرت رومانی صاحب کے خالو ہیں!

اتوار بازار سے سید معراج جامی نے عشرت صاحب کے گھر کا رخ کیا اور انہیں اپنے ہمراہ لے کر کاظم صاحب کے گھر کی جانب چلے۔

عشرت صاحب نے راقم کو گاڑی ایک گھر کے سامنے روکنے کا کہا، وہ تذبذب کا شکار تھے کہ جامی صاحب کی کاظم صاحب سے چہرہ آشنائی نہ ہونے کے باوجود آواز آئی ‘ وہ رہے کاظم صاحب‘
ہم نے پلٹ کر دیکھا تو ایک بزرگ (زیر نظر پوسٹ میں محمد منصور کاظم صاحب کی دو عدد تصاویر شامل ہیں، دوسری تصویر میں دائیں جانب عشرت رومانی، معراج جامی کھڑے ہیں, کاظم صاحب کی خودنوشت میری داستان کا سرورق بھی شامل ہے)

سرما کی دھوپ میں ایک ضعیف انسان، ویل چیئر پر بیٹھا تھا، یہ منصور کاظم تھے جن کی کتاب بعد ازاں ہمیں ان کے بیٹے نے پیش کی۔
میں وہیں گھر سے باہر ہی منصور صاحب کے قدموں میں بیٹھ گیا، ہم ان سے باتیں کرتے رہے، ہماری آمد پر وہ اس قدر خوش تھے کہ بیان سے باہر، بار بار رقم کا ہاتھ تھام کر کہتے تھے کہ آپ کا بہت شکریہ کہ میری کتاب کے سلسلے میں تشریف لائے!

منصور کاظم صاحب نے ایوب خان کے ساتھ بھی کام کیا ہے، عشرت رومانی نے بتایا کہ منصور کاظم اس سلسلے میں کئی دلچسپ باتیں بتاتے ہیں جو انہوں نے پینشن میں کسی قسم کی رکاوٹ کے خوف سے کتاب میں نہیں لکھیں۔

ہم نے کہا کتاب پر دستخط کردیجیے، یہ جانے بنا کہ وہ فالج کے حملے کا شکار ہوئے ہیں، انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے نام لکھا، پھر بے بسی سے میری جانب دیکھ کر بولے:
"معاف کیجیے گا، میں اب لکھ نہیں سکتا"

میں ان سے آہستگی کے ساتھ باتیں کرتا رہا، سرما کی ہوا ٹھنڈی تھی، گاہے گاہے ایک ہلکی سی کپکپی ان کے جسم میں دوڑ جاتی تھی، گہرے سیاہ رنگ کا ایک ملازم لڑکا وقفے وقفے سے ان پر بیٹھنے والی مکھیاں اڑا رہا تھا، اسے اسی کام کے لیے رکھا گیا تھا۔ دوڑ دوڑ کر خدمت کرنے والا ایک مستعد نوجوان!
 
منصور کاظم ایک موقع پر کہنے لگے:
" میں کمشنر تھا تو سب جھک کر ملتے تھے، اب دیکھیے کہ کس حال میں ہوں، اٹھ نہیں سکتا" ۔ یہ کہتے ہوئے یک لحظہ ان کی بڑی بڑی آنکھیں ذرا سی نم ہوئیں

ہم ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور اندر ہی اندر ہمارا اپنا حوصلہ ہمارا ساتھ چھوڑتا رہا۔
     
                                              -------                                          

اتوار بازار سے ملنے والی کتابوں کی تفصیل یہ ہے:


جہاد زندگانی
خودنوشت
مولوی فیروز الدین احمد (بانی فیروز سنز لمیٹڈ)
ناشر: فیروز سنز لاہور
سن اشاعت: 1959
صفحات: 380


کاروان حیات
خودنوشت
مصنف: ڈاکٹر حبیب الرحمان خان
ناشر: اکادمی آف ایجوکیشنل ریسرچ کراچی
سن اشاعت کتاب میں درج نہیں
صفحات: 160

ساغر نظامی-فن اور شخصیت
مصنف و مولف: ضامن علی خان
ناشر: ساغر نظامی میموریل اکیڈمی نئی دہلی
سن اشاعت: 1985
صفحات: 543

ماہنامہ بیاض لاہور
ہاجرہ مسرور نمبر
جنوری 2011
صفحات": 208
(یہ محض نام کا ہاجرہ مسرور نمبر ہے، سرورق پر ہاجرہ مسرور کی تصویر ہے، ان کے چند افسانے ہیں اور بس، بقیہ صفحات کو ‘مختلف النوع حضرات‘  کی دل کو پژمردہ کردینے والی شاعری سے پُر کیا گیا ہے۔)  


کارنامے نواب تیس مار خاں کے
یعنی جرمنی کے مشہور افسانوی کردار، دنیا کے سب سے بڑے گپ باز معلی المقاب بیرن منُش ہاؤزن
BARON MUNCHHAUSEN
کی لن ترانیاں

مترجم: ابن انشاء
ناشر: نیشنل پبلشنگ ہاؤس، کراچی
صفحات: 84
سن اشاعت: جون 1971

جرمنی سے نکل  بیرن منُش ہاؤزن کی شہرت اکناف عالم میں پھیلی۔
یہ کتاب پہلی مرتبہ انگریزی میں 1785 میں شائع ہوئی تھی، چند ماہ میں چار ایڈیشن نکل گئے، کہا جاتا ہے کہ اگے ایڈیشنز میں مختلف لوگ اس میں اسی طرح اضافہ کرتے گئے جیسا ہیر وارث شاہ میں ہوا تھا۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا اصل مصنف پروفیسر راسپ ہے جو جرمنی سے بھاگ کر انگلستان چلا گیا تھا۔ پروفیسر رڈولف ایرک راسپ 1737 میں پیدا ہوا۔

بیرن منُش ہاؤزن کون تھے ?
انشاء جی لکھتے ہیں کہ یہ ہنوور میں بوڈن ورڈر کے مقام پر 1720 میں پیدا ہوئے اور روسی فوج میں توپ خانے کے افسر کے طور پر 1840 اور 1841 میں ترکوں کے خلاف لڑے۔ 1760 میں ریٹائر ہو کر اپنی جاگیر پر آگئے اور یہاں سے ان کی داستاں سرائی کا آغاز ہوا، جہاں یاروں کا جلسہ ہوا، فرمائش ہوئی کہ نواب صاحب اپنے کارنامے سنائیں، پھر دیکھیے گل افشانی گفتار

1797 میں نواب صاحب کا انتقال ہوا اور 1970 میں انشاء جی نے بیرن منُش ہاؤزن کو مشرف بہ اردو کردیا۔  

خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے

jihad e zindagani-maulvi feroz uddin ahmed-feroz sons lhr-1959.jpg
karvan e hayat-dr habib ur rehman khan-al pak edu conference khi-.jpg
karnamay nawab tees mar khankay-ibne insha-nat pub house khi-1971.jpg
saghar nizamifan aur sakhsiyat-zamin ali khan-saghar nizami memo academy new dehli-1985.jpg
m mansoor kazim-writer meri dastan-22 jan, 2012.jpg
left-ishrat romani, miraj jami, m mansoor kazim-22 jan, 2012.jpg
meri dastan-mansoor kazim-daira ilm o adab pak khi-sept 2003-TITLE.jpg

Rashid Ashraf

unread,
Jan 23, 2012, 11:01:51 AM1/23/12
to 5BAZMeQALAM


کتابوں کے اتوار بازار کے احوال میں انشاء جی کی کتاب کے بیان میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، لکھا گیا:


"انشاء جی لکھتے ہیں کہ یہ ہنوور میں بوڈن ورڈر کے مقام پر 1720 میں پیدا ہوئے اور روسی فوج میں توپ خانے کے افسر کے طور پر 1840 اور 1841 میں ترکوں کے خلاف لڑے۔ 1760 میں ریٹائر ہو کر اپنی جاگیر پر آگئے اور یہاں سے ان کی داستاں سرائی کا آغاز ہوا" 

جہاں  1840 اور 1841 لکھا گیا ہے، اسے 1740 اور 1741 پڑھا جائے تو بہتر ہوگا، بصورت دیگر 120 برس کی عمر میں نواب صاحب توپ خانے میں تھے، اس بیان کو بھی نواب صاحب کی لن ترانی سمجھ کر ہضم کرنا پڑے گا"

دوسری جگہ راقم کا ہاتھ، رقم کا ہاتھ ہوگیا جسے جناب منصور کاظم نے پکڑا تھا

راشد

Syed Anis ul Hassan ANIS HASSAN

unread,
Jan 23, 2012, 11:22:11 AM1/23/12
to bazme...@googlegroups.com
i can understand the efforts and time you put for this blog.daily so many emails and attachments proves your dedication. 
anis

2012/1/23 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Shamim Jaffrey

unread,
Jan 23, 2012, 4:50:00 PM1/23/12
to bazme...@googlegroups.com
Rashid Bhai Bad az Salaam

Waqi Bhoot umda Bhoot umda Bazar ka samya payash
ker dya La jawab Waqi la jawab.
Min App ka bhoot mashkur hon perdais main bhee dess ka
lutif app ki therer se mil jata hay Shukerya.

Onece again many thanks for your Sunday Bazar reporting.
Wish you good luck .
With best regards wsalaam
Shamim Jaffrey
Stockholm.


2012/1/23 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages