یعنی آشوب ہوشیاری کے برداشت کرنے سے حوصلہ کو عجز ہے ، اُس عجز نے
ہوشیاری و آگہی پر خطِ ایاغ کھینچ دیا ہے ، یعنی صفحۂ خاطر پر سے اُسے کاٹ
دیا ہے ، حاصل یہ کہ ایاغِ پیکر ہوشیاری کو محو کر دیتا ہے ، جام جمشید میں
خطوط تھے اس سبب سے شعر آج تک ہر جام شراب میں خط ہونا لازم سمجھتے
ہیں اور خطِ جام کے تشبیہات اور مضامین بہت کثرت سے کہے ہیں۔
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
یعنی بلبل کو خلل دماغ سمجھ کر گل اُس پر ہنستے ہیں ، کاروبار سے مراد اُس کے
حرکات ہیں مصنف نے لفظ ’ حالِ زار ، کو چھوڑکر ’ کاروبار ، اس وجہ سے کہا
کہ کار بمعنی زراعت و بار بمعنی ثمر بھی ہے اور یہ گل کے ساتھ مناسبت رکھتے
ہیں۔
تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
تر یا کئی قدیم ہوں دودِ چراغ کا
دود بمعنی فکر اور چراغ استعارہ ہے کلامِ روشن سے۔
سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
یعنی جب ہم آزاد ہوتے ہیں دل پھر گرفتار کروادیتا ہے۔
بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار
یہ میکدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
چشم میکدہ اور مے خونِ دل ہے اور چشم میں خونِ دل نہ ہونے سے موج نگاہِ
غبار بن گئی ہے ، گویا کہ میکدہ مے کی جستجو میں خراب و غبار آلودہ ہورہا ہے۔
باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل
ابرِ بہارِ خم کدہ کس کے دماغ کا
پہلے مصرع میں سے ’ ہے ، محذوف ہے ، مطلب یہ ہے کہ جب شگفتگی باغ سے
تجھے نشاط پیدا ہوتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ ابرِ بہار جس نے ساغر کو شراب
رنگ و بو سے لبریز کر دیا ہے کس کے دماغ کا خم کدہ ہوا۔ دوسرے مصرع میں
سے جو ’ ہوا ، محذوف یعنی ابرِ بہار بھی تیرے ہی دماغ میں نشہ پیدا کرنے کے
لئے ایک خم کدہ ہے یہ تجنیس بساط و نشاط صنائع خطیہ میں سے ہے۔
_______
وہ میری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
’ یہ ، بیان سبب کے لئے اور عنوان مکتوب سے پیشانی اور راز مکتوب نے غم
نہانی کو تشبیہ دی ہے۔
یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز
چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
یعنی جب سے میں گریبان کو گریبان سمجھا ، جب سے اُسے چاک کیا کرتا ہوں ،
حاصل یہ ہے کہ جب سے مجھے اتنا شعور ہوا کہ تعلقات دُنیا مانع صفائے نفس ہیں
جب ہی سے میں نے ترکِ دُنیا کیا ، لیکن اس پر بھی آئینۂ دل صاف نہیں ہوا ، بس
ظاہر میں جو آزادوں کی سینہ پر ایک الف کھینچا ہوا ہوتا ہے وہ تو ہے صفائے
باطن کچھ نہیں حاصل ہوئی اور گو بیانِ تعلقات دُنیا سے استعارہ ہے ، اس وجہ
سے کہ یہ دونوں انسان کے گلوگیر ہیں۔ سینہ پر الف کھینچنا آزادوں کا طریقہ ہے
اور یہ مضمون فارسی والے کہا کرتے ہیں اور ’ بیش نہیں ، بیان حصر کے لئے
ہے ، مگر اُردو کی نحو اس کی متحمل نہیں ، یہ فارسی کا ترجمہ ہے۔
شرح اسبابِ گرفتاری خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
شرح کے لغوی معنی کھولنے کے ہیں ، لفظ تنگ کی مناسبت سے مصنف نے یہ
لفظ باندھا ہے اور تنگیٔخاطر و انشراحِ خاطر میں بھی تقابل ہے اور گرفتگیٔخاطر
کے مقام پر گرفتاریٔ خاطر لفظ زنداں کی رعایت سے اختیار کی ہے۔
بدگمانی نے نہ چاہا اُسے سرگرم خرام
رُخ پہ ہر قطرۂ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
یعنی میری بدگمانی نے اُس کا سرگرم خرام ہونا نہ گوارا کیا ، اس لئے کہ خرام میں
جو پسینہ اُسے آیا تو میں ہر قطرہ کو یہ سمجھا کہ رقیب کی چشم حیراں اُس کے
رُخ پر پڑی ہے ، یہاں قطرۂ عرق میں مصنف نے فک اضافہ کیا ہے۔
عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بدخو ہو گا
نبض خس سے تپش شعلہ سوزاں سمجھا
عجز کو خس اور تند خوئی کو شعلہ سے تعبیر کیا ہے اور خس کو رگِ نبض سے
تشبیہ دی اور تپش سے تپِ مقصود ہے ، اس شعر کو طعن و تشنیع کے لہجہ میں
پڑھنا چاہئے ، شاعر اپنے اوپر آپ ملامت کرتا ہے کہ میں نے اپنی عجز و ناقابلیت
سے یہ سمجھ لیا کہ وہ بدمزاج و تندخو ہو گا ، اُس سے احتراز کرنا چاہئے ، گویا
نبض خس سے تپِ شعلہ کا حال معلوم کر لیا ، یہ بھی محال ہے اور وہ بھی غلط
خیال۔
سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سایہ کو میں اپنے شبستاں سمجھا
جہاں رات گذرے وہ شبستاں ہے یعنی ہر قدم پر اپنے سایہ کو دیکھ کر میں یہی
سمجھا کہ رات ہو گئی اور مقام آگیا۔
تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
دفع پیکانِ قضا اس قدر آساں سمجھا
تادمِ مرگ کی لفظ سے یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ آخر نہ بچ سکا اور پیکانِ قضا
سے مژہ کا استعارہ کیا ہے۔
دل دیا جان کے کیوں اُس کو وفادار اسد غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
بے وفا کو وفادار جان کر دل دیا یعنی غلطی سے کافر کو مسلمان سمجھا ، دل و
جان کا ضلع بھی اس میں بول گئے ہیں۔
_______
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا
دوسرے مصرع میں ’ آیا ، ’ ہوا ، کے معنی پر ہے ، فارسی کا محاورہ ہے ، اُردو
میں اس طرح محاورہ نہیں بولتے ، حاصل یہ ہے کہ دل جگر تشنۂ فریاد ہوا تو
مجھے دیدۂ تر یاد آیا کہ یہ پیاس اُسی سے بجھے گی یعنی رونا بھی فریاد کرنا ہے
، رونے سے دل و جگر کی خواہش فریاد پوری ہو جائیں گی یا دل تشنہ جگر کی
پیاس اشکِ فریاد سے بجھے گی۔
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
دم لینا یعنی ٹھہرنا اور سکون ہونا اور قیامت بے تابی و اضطراب سے استعارہ ہے
، یعنی اضطراب میں سکون ہونے نہ پایا تھا کہ پھر تیرا وداع ہونا اور سفر کرنا یاد
آگیا۔
سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
پہلے مصرع میں سے ’ دیکھو ، محذوف ہے ، کہتے ہیں میری سادگی تمنا کو تو
دیکھو یعنی جو بات کے محال ہے اور ہونے والی نہیں اُس کی خواہش و آرزو
مجھے سادگی و نادانی سے پیدا ہوئی ہے ، یعنی پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا ’ وہ ،
اشارہ ہے اس سامانِ عیش و عشرت کی طرف جسے آنکھیں دیکھ چکی ہیں اور
جسے مصنف نے یہاں نیرنگ نظر سے تعبیر کیا ہے اور لفظ سادگی سے یہ مطلب
نکلتا ہے کہ اُس عیش کے دیکھنے کی اب اُمید بھی نہیں ہے۔
عذر و اماندگی اے حسرتِ دل
نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
حاصل یہ ہے کہ اے حسرتِ دل میرے عذر و اماندگی کو قبول کر ، میں چاہتا تھا
کہ نالہ کروں مگر جگر کا خیال آگیا کہ شق نہ ہو جائے ، اس سبب سے نالہ نہ کیا ’
قبول کر ، پہلے مصرع میں محذوف ہے اور اس قسم کے محذوفات فارسی میں
ہوتے ہیں ، اُردو کی زبان اس کی مساعد نہیں ، حذف سے شعر میں حسن پیدا ہو
جاتا ہے مگر اُسی جگہ جہاں محاورہ میں حذف ہے۔
زندگی یوں بھی گذر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گذر یاد آیا
کہتے ہیں کہ تیرا راہ گذر یاد آنے سے میری زندگی گذر گئی اور یہ بات اچھی
ہوئی کہ میں زندگی سے بیزار تھا ، لیکن اُس کے یاد آنے سے ایسا اندوہ و قلق ہوا
کہ کاش کہ نہ یاد آیا ہوتا ، زندگی تو کسی نہ کسی طرح کٹ ہی جاتی۔
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
یعنی وہ خلد کو ترجیح دے گا اور میں گھر کو تیرے یا میں خلد سے نکلنا چاہوں گا
اور وہ مجھے روکے گا۔
آہ وہ جرأت فریاد کہاں
دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا
یعنی وہ جگر جو مدت ہوئی کہ خون ہو گیا دل کی بے طاقتی اور کم جرأتی دیکھ
کر یاد آگیا کہ اُس مرنے والے میں جیسی جرأتِ فریاد تھی وہ اس میں نہیں ہے۔
پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
دلِ گم گشتہ مگر یاد آیا
یعنی تیرے کوچہ ہی میں دل کے گم ہو جانے کا احتمال ہے کہ خیال اسی طرف
ڈھونڈھنے چلا ہے
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
یہاں دشت کی ویرانی میں مبالغہ اس لئے کیا کہ گھر کی ویرانی میں زیادتی لازم
آئی ، یعنی دشت میں ایسی ویرانی جیسے بعینہ میرے گھر میں تھی ، تشبیہ
معکوس ہے ، مولوی الطاف حسین صاحب حالی شاگردِ مصنف نے یہاں تشبیہ
سے اعتراض کیا ہے ، انھوں نے یہ مطلب لیا ہے کہ دشت کو دیکھ کے ڈر لگا تو
گھر یاد آیا کہ یہاں سے بھاگو یہ مطلب بھی محاورہ سے علاحدہ نہیں ہے۔
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
یعنی پھر اپنے ہی سر میں مار لیا۔
_______
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
یعنی رقیب روکے ہوئے تھا۔
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اُس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا
تقدیر کی برائی کو تشنیع کی راہ سے خوبی تقدیر کہا ہے۔
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتہ بتلادوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
وہ میں ہی ہوں۔
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں کچھ اک رنج گرانباری زنجیر بھی تھا
یادِ زلف کے مقابلے میں قیدِ زنجیر کو بہت ہی سبک کر کے بیان کیا تاکہ یادِ زلف
کی گراں باری بالتزام ظاہر ہو۔
بجلی اک کوند گئی آنکھ کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لبِ تشنۂ تقریر بھی تھا
یعنی ایک جھلک دکھا کر ہٹ گئے تو کیا بات کی ہوتی کہ مجھے اُس کی بھی تمنا
ہے ’ کرتے ، مرتے وغیرہ تمنا کے لئے ہوا کرتا ہے۔
یوسف اُس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
یعنی اس بات پر وہ اگر بگڑے کہ تم نے مجھے غلام بنایا تو جا سے ہے۔
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجہ ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
مطلب یہ کہ غیر کو برے حالوں دیکھ کر آلخ اور دوسرے مصرع میں فاعل یعنی ’
میں ، محذوف ہے اور ’ ولے ، فارسی کا محاورہ ہے ، اب اُردو میں متروک ہے۔
پیشے میں عیب نہیں رکھئے نہ فرہاد کو نام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
ہم ہی اور تم ہی اور اُس ہی اور انھیں کی جگہ پر ہمیں اور تمہیں اور اُسے اور
اُنھیں اب محاورہ میں ہے اور یہ کلمات اپنی اصل سے تجاوز کرگئے ہیں۔
ہم تھے مرنے کو کھڑے یار نہ آیا نہ سہی
آخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
یعنی پاس نہ آیا تھا تو دُور سے کوئی تیر ہی مار دیا ہوتا۔
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا ؟
’ ہمارا ، کے بعد ’ بھی ، کے لانے کا محل تھا ، مگر ضرورت شعر سے اُسے آخر
میں کر دیا ہے ، اس شعر میں محض ظرافت و لطیفہ گوئی کا قصد کیا ہے کہ کچھ
انبساطِ نفس اس سے بھی حاصل ہوتا ہے۔
ریختی کے تمہیں اُستاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
معنی ظاہر ہیں۔
_______
لب خشک در تشنگی مردگاں کا
زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
پہلے مصرع میں سے بھی ’ ہوں ، محذوف ہے اور تشنگی استعارہ ہے ، شدت
آرزو و شوق سے۔
ہمہ نا اُمیدی ہمہ بدگمانی
میں دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا
پہلا مصرع بالکل فارسی ہے ، اس سبب سے کہ ہمہ ایسے مقام پر اُردو میں نہیں
بولتے۔
_______
تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
ستمگر منادی ہے۔
چھوڑا مہ نخشب کی طرح دستِ قضا نے
خورشید ہنوز اُس کے برابر نہ ہوا تھا
یعنی خورشید ناقص ہی رہ گیا ، جس طرح مشہور ہے کہ ماہ نخشب ابن مقنع سے
ناقص رہ گیا۔
توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
یعنی اگر قطرۂ اشک بھی گوہر ہو گیا ہوتا تو یہ عزت کہاں حاصل ہوئی کہ آنکھوں
میں اُس کی جگہ ہے ، قطرۂ گوہر کی ہمت قطرۂ اشک سے کم نہ تھی ، اس وجہ
سے وہ کانوں ہی تک پہنچتا ہے ، آنکھوں میں جگہ نہیں پا سکتا۔
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
قیامت کو قیامت سے تشبیہ دی ہے کہتے ہیں کہ قدِ یار کو دیکھ کر وجود فتنۂ
محشر کا مجھے یقین آیا۔
میں سادہ دل آزردگی یار سے خوش ہوں
یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
ہر اُس کی آزردگی سے جو تجدید شوق ہوئی ، اُسے تکرارِ سبق سے تعبیر کیا ہے۔
دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
محاورہ میں گناہ گار کو تر دامن کہتے ہیں ، مطلب یہ ہے میرے دامن نے سارا
دریائے معاصی جذب کر لیا کہ وہ خشک رہ گیا اور پھر بھی گوشۂ دامن تک اچھی
طرح تر نہ ہوا یعنی جتنے معاصی تھے سب میں نے کئے اُس پر بھی میرا جی
نہیں بھرا۔
جاری تھی اسد داغ جگر سے مرے تحصیل
آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا
اس شعر میں اپنا مقابلہ سمندر سے اور داغ کا آتش کدہ سے کیا ہے اور داغ کو
ترجیح دی ہے کہ اُس سے تحصیل جاری ہے یعنی اُس کے سبب سے جو آہ و نالہ
پیہم نکلتا ہے وہی تحصیل ہے تو گویا داغ دل میری جاگیر ہے سمندر کو آتش کدہ
سے یہ فائدہ نہیں حاصل۔
_______
شب کو وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
شرشتۂ ہر شمع خار کسوتِ فانوس تھا
ناموس عصمت دراز اور لباس میں خار کا رہ جانا باعثِ بے چین ہونے کاہے ،
عرض یہ کہ اُس کے سامنے شمع بے چین ہوئی جارہی تھی گویا اُس کے لباس میں
خار تھا۔
مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اُگتی ہے حنا
کس قدر یارب ہلاکِ حسرتِ پا بوس تھا
یعنی اس کی خاک سے مہندی اُگتی ہے کہ اس طرح معشوق کے قدم تک پہنچ
جائے۔
حاصل اُلفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزو
دل بدل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا
ایک دل عاشق کا اور ایک معشوق کا دونوں مل کر لبِ افسوس بن جاتے ہیں۔
کیا کہوں بیماری غم کی فراغت کا بیاں
جو کہ کھایا خونِ دل بے منت کیموس تھا
’ کیا کہوں ، یعنی کیا کروں ’ جو کہ ، یعنی جو کچھ اور کیموس اصطلاح طب میں
ہضم جگری کو کہتے ہیں ، جس سے غذا مستحیل ہوکر خون بن جاتی ہے کہتے ہیں
میں نے جو کچھ کھایا بے کیموس ہوئے وہ خون جگر ہو گیا یعنی بیماری غم میں
میں نے خون جگر ہی کھایا اور خون جگر کھانا غم و غصہ کھانے کے مقام پر
کہتے ہیں۔
_______
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ اتنا غرور تھا
یعنی کچھ غرور نہ چلا اپنے اُوپر فریفتہ ہو گئے۔
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
اُس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
یعنی انتہائے رشک یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل بھی کرے تو نہیں دیکھا جاتا اور یہ
آرزو ہوتی ہے کہ ہمیں قتل کرے ’ اپنے ہاتھ ، کی لفظ سے مصنف نے رشک کی
طرف اشارہ کیا ہے۔
_______
عرضِ نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
یعنی بے وفائی و بے اعتنائی کے صدمے اُٹھاتے اُٹھاتے اب وہ دل ہی نہیں رہا کہ
عشق سے نیازمندی کا دعویٰ کریں۔
جاتا ہوں داغِ حسرت ہستی لئے ہوئے
ہوں شمع کشتہ درخور محفل نہیں رہا
محفل استعارہ ہے ہستی سے۔
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
ناقص و کامل دونوں کے سامنے شش جہت موجود ہے اور دونوں سرخلقت کے
سمجھنے میں حیران ہیں اور اس آئینہ میں دونوں دیکھ رہے ہیں ، دونوں کی ایک
صورت ہے ، ناقص و کامل میں یہاں کچھ فرق نہیں ، دوسرا احتمال یہ ہے کہ
روئے شش جہت کہا ہو مصنف نے اور معنی یہ ہیں کہ جس طرح آئینہ قبول عکس
میں کچھ امتیاز نہیں کرتا یہی حال ہے بہ تمثیل عارف کے دل روشن کا۔
وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقابِ حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
یعنی ناظر اور مرئی کا امتیاز جو باقی ہے یہی بس حائل ہے ، اس سبب سے کہ
آنکھ اُس کو نہیں دیکھ سکتی اور اُس کے علاوہ جو حجاب تھے وہ کثرتِ شوق نے
اُٹھادئیے۔
گو میں رہا رہین ستمہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
یعنی کسی حال میں میں تجھے نہیں بھولا۔
دل سے ہو ائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سو ائے حسرت حاصل نہیں رہا
یعنی وفا کا حوصلہ اب نہیں رہا کہ وفا کر کے حسرت کے سوا کچھ نہ پایا۔
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسد جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
یعنی جب دل نہیں رہا تو بیداد کون اُٹھائے گا۔
_______
رشک کہتا ہے کہ اُس کا غیر سے اخلاص حیف
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
یعنی عقل معشوق کی برائی مجھے سمجھاتی ہے تاکہ رشک کا قلق کم ہو جائے یہ
سمجھ کر کہ جس طرح اُس نے ہمارے ساتھ بے وفائی کی غیر سے بھی یوں نہیں
پیش آئے گا۔
ذرّہ ذرّہ ساغر میخانۂ نیرنگ ہے
گردش مجنوں بچشم کہائے لیلیٰ آشنا
یعنی عالم کا ہر ذرّہ جو گردش و انقلاب میں مبتلا ہے ، یہ نیرنگ فلک کے اشارہ
سے ہے ، یہاں لفظ ساغر سے معنی گردش نے تراوش کی اور اسی رعایت سے
نیرنگ کو میخانہ سے تعبیر کیا ہے ، اس کے بعد برسبیل تمثیل کہتے ہیں کہ
مجنوں کی گردش لیلیٰ ہی کے اشارہ سے ہے۔
شوق ہے سامان طرز نازش ارباب عجز
ذرّہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
عاجزوں کا سرمایہ ناز شوق ہے ، جس کے سبب سے ذرّہ انا البر اور قطرہ انا
البحر کہنے لگتا ہے۔
میں اور اک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
’ ہوں ، محذوف ہے یعنی میں ہوں اور وہ دل جو دشمن عافیت ہے ، ظاہر ہے کہ
آفت کوئی ایسی شئے نہیں ہے جس کا ٹکڑا بھی ہو ، مگر محاورہ میں قیاس کو دخل
ہی نہیں ، اسی طرح پری کا ٹکڑا ، حور کا ٹکڑا بھی محاورہ ہے ، چاند کا ٹکڑا
لبتہ معنی رکھتا ہے اور پہلے بھی محاورہ تھا ، اُس کے بعد پری کا ٹکڑا اور حور
کا ٹکڑا اور آفت کا ٹکڑا اسی قیاس پر کہنے لگے اور اب سب صحیح ہیں۔
شکوہ سنج رشک ہمدیگر نہ رہنا چاہئے
میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
یعنی تم آئینہ میں ہر وقت مشغول رہو تو میں شکایت نہیں کرتا اور میں ہمیشہ سر
بزانو رہوں تو تم برا نہ مانو ، شعرا زانو کو آئینہ سے تشبیہ دیا کرتے ہیں۔
کوہکن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسد سنگ سے سر مارکر ہووئے نہ پیدا آشنا
یعنی فقط نقاش تھا عاشق صادق نہ تھا نہیں تو تعجب ہے کہ سنگ سے سر مارے
اور اُس میں سے معشوق نکل نہ آئے۔
_______
ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر جو تھا رازداں اپنا
یعنی وہ بھی عاشق ہو گیا اس سبب سے ایک تو ذکر ہی دلفریب ، دوسرے اُس
شخص کی زبان سے جو فریفتہ ہورہا ہے اور پھر سحر بیان بھی ہے