”بارے شوکت کا کچھ بیاں ہو جائے“

67 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Jan 22, 2024, 5:42:35 AM1/22/24
to bazme qalam
”بارے شوکت کا کچھ بیاں ہو جائے“
شوکت تھانوی پر ایک عمدہ کتاب
سہیل انجم
ماضی قریب میں جن طنز و مزاح نگاروں کا ڈنکہ بجتا تھا ان میں شوکت تھانوی سرفہرست ہیں۔ گوکہ انھوں نے بہت زیادہ عمر نہیں پائی۔ 59 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا لیکن ان کی طنزیہ و مزاحیہ تحریریں انھیں صدیوں تک زندہ رکھیں گی۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا تھا۔ حالانکہ ان کی شاعری کی ابتدا میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جسے ناحوشگوار بھی کہا جا سکتا ہے اور دلچسپ بھی۔ وہ اپنے والد کے ڈر سے چپکے چپکے شاعری کرتے رہے۔ لیکن جب ان کی شاعری کا چرچا ہوا اور ان کے والد نے بھی کسی حد تک پسندیدگی کا اظہار کیا تو انھوں نے کھل کر شاعری شروع کر دی اور مشاعروں میں بھی تواتر سے جانے لگے۔ اس دوران ان کی مضمون نگاری کی بھی ابتدا ہو گئی تھی۔ ان کے کئی مضامین اخباروں میں شائع ہوئے۔ لیکن جب 1928 میں ان کا مضمون ”سودیشی ریل“ شائع ہوا تو ادبی دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور یہ کہا جانے لگا کہ اردو ادب کو ایک شاندار اور اعلیٰ پائے کا طنز و مزاح نگار مل گیا ہے۔ سودیشی ریل چلی ہو یا نہ چلی ہو لیکن ان کی طنز و مزاح نگاری کی ریل فراٹے سے دوڑنے لگی اور پھر انھوں نے مضامین کے انبار کے انبار لگا دیے۔ سودیشی ریل والا مضمون اتنا مقبول ہوا کہ شاید ہی کوئی اردو والا ایسا بدقسمت ہوگا جس نے اسے نہ پڑھا ہو۔ شوکت تھانوی اور سودیشی ریل لازم و ملزوم بن گئے۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے سنا کہ ان کا نام شوکت تھانوی ہے تو ا س نے برجستہ کہا کہ وہی سودیشی ریل والے؟ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز اہم شخصیات نے بھی اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ متعدد بڑی شخصیات نے شوکت تھانوی سے اصرار کیا کہ وہ اس کو پھیلا کر ایک بڑے مضمون یا ناول کی شکل دے دیں اور انھوں نے ایسا کیا بھی۔
وہ زود نویس، قلم برداشتہ اور کثیر التحریر مصنف تھے۔ ان کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف ایک طنز و مزاح نگار یا شاعر ہی تھے۔ شوکت تھانوی شاعر، طنز و مزاح نگار، صحافی، کالم نگار، براڈ کاسٹراور جانے کیا کیا تھے۔ وہ زندگی بھر قلم کی مزدوری کرتے رہے۔ ان کا تعلق بڑے بڑے اہل قلم سے ہوا اور انھوں نے بابائے صحافت جالب دہلوی جیسے جید صحافی کی شاگردی میں صحافت کے اسرار و رموز سیکھے۔ وہ اپنے زمانے کے ایک بڑے اخبار ”اودھ اخبار“ کے بھی مدیر رہے جس کو منشی نولکشور نے شروع کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت تک منشی نولکشور کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کے بیٹوں میں اس اخبار کو چلانے کی بہت زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اس موقع پر وہ افسانہ نگار پریم چند کے بھی رفیق کار رہے۔ بہرحال شوکت تھانوی ایک کثیر الجہت شخصیت کا نام ہے جس نے نہ کبھی تھکنا جانا، نہ سستانا اور نہ ہی ایک جگہ بیٹھ جانا۔ وہ تازندگی قلم کی مزدوری کرتے اور اردو ادب کے سرمائے میں قابل قدر اضافہ کرتے رہے۔
زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر مشتاق اعظمی نے مرتب کی ہے۔ اس کی ترتیب میں انھوں نے انتہائی مشقت سے کام لیا ہے۔ مشقت سے اس لیے کہ انھوں نے اس میں شوکت تھانوی کی بہت سی تحریروں اور خود ان پر لکھی گئی بہت سی تحریروں کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ تحریریں مختلف رسائل میں بکھری ہوئی تھیں۔ شوکت تھانوی کی ایک کتاب ہے ”قاعدہ بے قاعدہ“۔ یہ سب سے پہلے اردو بک اسٹال لاہور سے جنوری 1950 میں شائع ہوئی تھی۔ زیر تبصرہ کتاب اسی اولین نسخے کے متن پر مبنی ہے تاہم اس کے علاوہ بھی اس میں بہت کچھ ہے۔ مشتاق اعظمی نے کتاب کی ابتدا میں ”بقلم خود“ کے زیر عنوان مضمون میں اردو میں طنز و مزاح کی روایت پر اختصار سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے شوکت تھانوی کی سوانح پر مختصراً گفتگو کی ہے اور پھر ادبی دنیا میں ان کی آمد پر بات کی ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے نسیم انہونوی سے شوکت کی دانت کاٹے کی دوستی کا ذکر کیا ہے اور پھر فرضی نام سے ایسا سلسلے وار ناول لکھنے کا حوالہ دیا ہے جسے نوجوان لڑکے و لڑکیاں چپکے چپکے پڑھا کرتے تھے اور جس نام سے وہ ناول لکھا جاتا تھا وہ ادبی دنیا میں بدنام بھی ہوا اور مشہور بھی۔ حالانکہ وہ ایک فرضی نام تھا لیکن بہت سے لوگوں کو اس کا علم تھا کہ اس پردہئ زنگاری میں کون سا معشوق ہے یا کتنے معشوق ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس سلسلے وار ناول کی مقبولیت کے پیش نظر کئی دوسرے قلمکاروں نے بھی اسی فرضی نام سے وہی سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ خیر یہ الگ معاملہ ہے۔ مشتاق اعظمی نے اپنے اس مضمون میں شوکت کے مختلف مضامین کے اقتباسات بھی پیش کر دیے ہیں۔ انھوں نے اس خوبصورتی سے یہ مضمون قلم بند کیا ہے کہ اس کو پڑھنے سے شوکت تھانوی کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے آجاتی ہے۔
شوکت تھانوی کی کتاب ”قاعدہ بے قاعدہ“ پر نقوش کے مدیر محمد طفیل نے ایک صفحے کا ابتدائیہ لکھا ہے۔ ان کے مطابق ”شوکت صاحب کی یہ کوشش تھی کہ اس قاعدہ میں صرف زندہ ادیبوں کا ذکر آئے مگر وہ اپنی کوشش میں پورے کامیاب نہیں ہوئے۔ ان میں بعض زندہ ادیب مرے ہوئے بھی ہیں“۔ انھوں نے اس کی مثال میں خود کو پیش کیا ہے۔ گویا انھوں نے بھی شوکت کی مانند چند جملوں میں طنز و مزاح نگاری کا نمونہ پیش کر دیا۔ اس کے بعد شوکت تھانوی کا ”عرض مصنف“ ہے جس میں انھوں نے اپنے عہد کے ان قلمکاروں یا ادیبوں پر گل افشانی کی ہے جن کا ڈنکہ بجتا رہا ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے نام نہاد قلمکاروں کی بھیڑ کا مذاق بھی اڑایا ہے اور لکھا ہے کہ بے شمار ادبی رسالے اور ان رسالوں میں لکھنے والوں کا ٹڈی دل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب کا پیٹ صرف علم سے ہی نہیں بلکہ جہل سے بھی بھرا جا سکتا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے ”پڑھے“ اور ”لکھے“ لوگوں کے حوالے سے بڑی دلچسپ گفتگو کی ہے۔ وہ آخر میں لکھتے ہیں کہ ”اس قاعدے کو محکمہ تعلیم منظور کرے یا نہ کرے مگر یہ قاعدہ منظورِ نظر ضرور بن کر رہے گا اس لیے کہ یہ بڑی مقصدی چیز ہے۔ ان کے بقول محکمہ تعلیم کا مقصد تو کلرک سازی ہے مگر یہ قاعدہ اردو کے محافظ، اردو کے مسیحا اور اردو کے وہ محسن پیدا کرے گا جو اردو کو اگر مار بھی ڈالیں تو بھی ادبِ اردو کو زندہ رکھیں گے“۔ یعنی ان ادیبوں کی تحریریں ایسی ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ ان سے اردو زندہ رہے۔
شوکت تھانوی نے اس ”قاعدہ بے قاعدہ“ میں حروف تہجی کے قاعدے کو اختیار کیا ہے۔ یعنی پہلا مضمون الف سے امتیاز علی تاج پر اور دوسرا بے سے بشیر احمد (میاں) پر اور اسی طرح یے سے یاس یگانہ چنگیزی تک پر مضامین ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں بیشتر مضامین دس پندرہ اور بیس سطور پر مشتمل ہیں مگر اتنی کم سطروں میں بھی ایسی ایسی باتیں کہہ دی گئی ہیں کہ جو شاید کہیں اور نہ ملیں۔ جیسا کہ عام رواج ہے کوئی بھی قاعدہ بچوں کے لیے لکھا جاتا ہے۔ شوکت تھانوی نے اس قاعدہ کو بھی ”بچوں“ کے لیے لکھا ہے۔ ہر مضمون ”بچو ان کو دیکھو“ یا ”بچو دیکھنا ذرا“ سے شروع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سعادت حسن منٹو کے بارے میں لکھتے ہیں:
”بچو یہ اپنے وقت کے سب سے بڑے افسانہ نگار مانے جاتے ہیں۔ ان کے آرٹ نے ان کو عروج پر پہنچا یا ہے۔ مگر وہ خود اپنے عروج سے گھبرا کر بار بار پستی کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا فن ان کو زندہ جاوید بنا چکا ہے مگر وہ خودکشی کی کوششوں میں دن رات مصروف نظر آتے ہیں“۔
ایک مضمون انھوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ”بچو دیکھنا ذرا یہ شوکت تھانوی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ مزاح نگار ہیں۔ اگر تم کو ان کے اس خیال پر ہنسی آگئی تو بھی یہ اس کو اپنی مزاح نگاری کی کرامت سمجھیں گے۔ بچو یہ شاعر بھی ہیں۔ جب سنجیدہ کلام رو رو کر پڑھتے ہیں تو سننے والوں کو ہنسی آجاتی ہے۔ جب مزاحیہ کلام سناتے ہیں تو لوگ عبرت پکڑتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کو عبرت پکڑ لینا چاہیے۔بچو ان کے مزاحیہ مضامین پڑھ کر اگر تم کو ہنسی نہ آئے تو اپنے کو سمجھدار سمجھنا اور اگر ہنسی آجائے تو کسی فقیر سے اپنے لیے تعویذ لکھوانے کی کوشش کرنا“۔
”بچو وہی ہیں یہ نقوش کے دھان پان ایڈیٹر محمد طفیل۔ قاضی کیوں دبلے؟ شہر کے اندیشے سے۔ طفیل کیوں دبلے؟ ایڈیٹری کے پیشے سے۔ بچو یہ وہی نازک اندام ایڈیٹر ہیں جن کا رسالہ نقوش ہمیشہ موٹا تازہ تم نے دیکھا ہوگا۔ عام رسالے اپنا ایک آدھ خاص نمبر نکالا کرتے ہیں۔ مگر طفیل کا نقوش خاص طور پر بھی عام نمبر کی صورت سے نہیں نکلتا۔ اس کا ہر عام نمبر خاص ہوتا ہے اور یہی طفیل کی خاص ادا اور عام بے ساختگی ہے۔“
”دیکھو بچو یہ بابائے اردو مولانا عبد الحق ہیں۔ یہ بابائے اردو اس لیے نہیں ہیں کہ اردو ان کی بیٹی ہے۔ البتہ جب اردو یتیم ہو گئی تو مولوی عبد الحق نے اردو کو گود لے لیا۔ کہلائے صرف بابائے اردو۔ مگر سچ پوچھو تو اردو کو ماں اور باپ دونوں بن کر پالا اور اردو کے لیے اپنی زندگی تج دی۔ اب ان بے چارے کا سوائے اردو کے اور کوئی نہیں۔ اولاد ہے تو اردو، دوست ہے تو اردو، مونس ہے تو اردو، غم گسار ہے تو اردو۔ یہ اردو ہی کے غم میں بوڑھے ہو گئے“۔
”قاعدہ بے قاعدہ“ کے بعد شوکت تھانوی کے کچھ متفرق مضامین ہیں۔ یہ مضامین تین شخصیات جگر مرادآبادی، محمد طفیل اور پنڈت مدن موہن مالوی پر ہیں۔ اس کے بعد تین طنزیہ م ضامین ہیں جن کے عناوین ہیں تعزیت، ب اور بخیالِ خویش خبطے۔ اس کے بعد ایک بہت ہی شاندار مضمون ”کچھ یادیں کچھ باتیں“ کے عنوان سے ہے۔ یہ مضمون 65 صفحات پر مشتمل ہے اور حاصل کتاب ہے۔ اس میں شوکت تھانوی نے اپنی سوانح اختصار کے ساتھ لکھی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ مضمون بذات خود ایک کتاب یا کتابچہ ہے اور اگر شوکت تھانوی پر کام کرنے والا کوئی محقق کچھ بھی نہ پڑھے صرف یہ مضمون پڑھ لے تو اسے شوکت تھانوی کے بارے میں کافی کچھ معلومات حاصل ہو جائیں گی۔ اس میں انھوں نے اپنی شاعری، مشاعروں میں شرکت، صحافت نگاری، طنزیہ و مزاحیہ مضمون کے آغاز اور اسی کے ساتھ جن جن لوگوں کے ساتھ انھوں نے کام کیا ان میں کچھ قابل ذکر افراد کے بارے میں تفصیل بڑے دلچسپ انداز میں پیش کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر وہ مولانا وصل بلگرامی کا سراپا یوں بیان کرتے ہیں:
”ایک قدِ آدم ٹماٹر، چہرہ پر نہات نورانی کھچڑی داڑھی۔ جس میں بالوں نے کچھ گنگا جمنی کیفیت پیدا کر رکھی تھی کہ کچھ بال سفید ہو چکے تھے اور باقی سفید ہونے کے لیے بھورا رنگ دے رہے تھے کہ اس تیزی میں زبان بار بار پھسلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی اور شبہ ہوتا تھا کہ خیر سے جناب ہکلے بھی ہیں۔ حالانکہ اچھے خاصے تھے۔ صرف شوق یہ تھا کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بات کر جائیں تاکہ سننے والا مفہوم کے پیچھے دوڑتا رہ جائے۔ یہ تھے مولانا وصل بلگرامی“۔
آخری باب ”بیاد شوکت“ نام سے ہے۔ اس میں شوکت تھانوی کی یاد میں آٹھ مضامین ہیں جبکہ آخری مضمون خود شوکت کا ہے جس کا عنوان ہے ”میری سرگزشت“۔ یہ مضمون تقریباً ”کچھ یادیں کچھ باتیں“ والے مضمون جیسا ہے۔ اس گوشے میں اپنے عہد کے جن نامی گرامی ادیبوں کے مضامین ہیں ان کے نام ہیں: عبد الماجد دریابادی، قدرت اللہ شہاب، قرۃ العین حیدر، حفیظ جالندھری، فیض احمد فیض اور کنہیا لال کپور۔ جبکہ دو مضامین شوکت کے اعزہ کے ہیں۔ یعنی ایک ان کی بہن خاتون ارشد کا اور دوسرا ان کے بیٹے رشید عمر تھانوی کا۔یہ دونوں تاثراتی اور یاد نگاری والے مضامین ہیں۔ خاتون ارشد شوکت سے کافی بڑی تھیں اور ان دونوں میں بڑی انسیت اور محبت بھی تھی۔ انھوں نے خاص طور پر شوکت کی شرارتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ مضمون بہت دلچسپ ہے۔ جبکہ رشید عمر کا مضمون ایک بیٹے کی جانب سے باپ کو خراج عقیدت ہے۔
مجموعی طور پر مشتاق اعظمی کی مرتب کردہ یہ کتاب انتہائی جامع اور قابل مطالعہ ہے۔ راقم الحروف نے شوکت تھانوی کے متعدد مضامین تو پڑھ رکھے تھے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کے انتقال کے بعد فیض احمد فیض، قرۃ العین حیدر، عبد الماجد دریابادی اور قدرت اللہ شہاب جیسے لوگوں نے نہ صرف تعزیتی مضامین قلمبند کیے تھے بلکہ ان میں سے کئی کے شوکت سے ذاتی مراسم تھے بلکہ دوستی تھی۔ قرۃ العین حیدر کا مضمون ایک قاری کا مضمون ہے۔ بہرحال عہد حاضر میں جبکہ اعلیٰ اور معیاری طنز و مزاح نگاری کا تقریباً خاتمہ ہو گیا ہے اور طنز و مزاح کے نام پر بیہودگی اور پھکڑپن کو رواج دیا جا رہا ہے شوکت تھانوی جیسے ادیبوں کو پڑھنا ضروری ہے۔ صرف اردو قارئین کو ہی نہیں بلکہ طنزیہ و مزاحیہ م ضامین لکھنے والوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ شوکت کو پڑھیں۔ اس حوالے سے مشتاق اعظمی کی کتاب بہت معاون ثابت ہوگی۔
کتاب: بارے شوکت کا کچھ بیاں ہو جائے
مرتب: مشتاق اعظمی
 صفحات: 256، قیمت: 200روپے
مبصر کا پتہ: 370/6A ذاکر نگر، نئی دہلی۔ موبائل: 9818195929
Title Shaukat Thanvi.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages