
1958ء۔ تاشقند۔حفیظ جالندھری(بائیں جانب) ، فیض احمد فیض(بائیں سے دوسرے)
بالکل دائیں طرف لاہور کے ایک انقلابی حریت پسند اور ہندی ناول جھوٹا سچ کے مصنف یش پال
اداکار راج کپور(کھڑے ہوئے)
آج پاکستان کے قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظؔ جالندھری کا یومِ وفات ہے۔
ابو الاثرحفیظ ؔجالندھری نے 21دسمبر،1982 کو 82 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پا ئی۔
حفیظؔ 14 جنوری 1900ء میں پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شمس الدین حافظِ قرآن تھے۔ حفیظؔ مرحوم نے اپنی ابتدائی تعلیم مسجد سے منسلک مدرسے سے حاصل کی ۔ پھر ایک مقامی سکول میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ انھوں نے رسمی تعلیم محض ساتویں جماعت تک ہی حاصل کی مگر بعد ازاں کثرتِ مطالعہ کے زور پر اپنے علم میں خوب اضافہ کیا۔شاعری میں ان کو نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء میں وہ ہجرت کر کے لاہور منتقل ہوگئے۔
حفیظؔ جالندھری1922ء سے 1929ء تک مختلف ماہناموں کے مدیر رہے جن میں نونہال، ہزار داستان، تہذیبِ نسواں، مخزن جیسے مجلے شامل ہیں۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ "نغمہ ء زار" 1935ء میں شائع ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہ "سونگ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ" کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس دور میں انھوں نے بہت سے ایسے نغمے اور گیت لکھے جو عوام میں بہت مقبول ہوئے۔
حفیظ ؔ جالندھری نے تحریکِ پاکستان میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے ان ایام میں بہت سی تحریریں لکھیں جو عوام کو قیامِ پاکستان کے مقاصد سے روشناس کرنے میں بہت معاون ثابت ہوئیں۔
ان کے شاعرانہ کارناموں میں ایک بہت بڑا کارنامہ شاہنامہ فردوسی کے انداز میں شاہنامہ اسلام کی تخلیق ہے جس نے ان کی شہرت کو بقائے دوام بخشا۔ اس طویل نظم میں انھوں نے اسلام کے دورِ زریں کی تاریخ بیان کی ہے۔
ان کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کے قومی ترانے کی تخلیق ہے جسےموسیقار احمد جی چھاگلہ نے سُروں سے سجایا ہے۔ ان کی شاعری میں پائی جانے والی غنائیت اور مشاعروں میں ان کے ساحرانہ ترنم کی وجہ سے ان کو شعراء میں انفرادی حیثیت حاصل ہے۔ عام طور پر ان کی شاعری میں عشق، مذہب، حب الوطنی اور قدرت کے موضوعات پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنے موضوعات برصغیر کے مخصوص ماحول کے تناظر میں چنتے ہیں۔ ان کی زبان میں اردو اور ہندی کا بڑا خوبصورت امتزاج دیکھنے میں آتا ہے جو جنوبی ایشیا کی مخصوص ثقافت کا آئینہ دار ہے۔
حفیظ ؔ مرحوم کو ان کی خدمات کی بنا پر حکومت ِ پاکستان کی جانب سے تمغہ ء حسنِ کارکردگی اور ہلال ِ امتیاز سے نوازا گیا۔
حفیظ جالندھری82 سال کی عمر میں لاہور میں فوت ہوئے۔ ماڈل ٹاون میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ بعد ازاں ان کی میت کو یادگارِ قراردادِ پاکستان ، جو مینار ِ پاکستان کے نام سے معروف ہے ، کے قریب حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ مقبرے میں منتقل کردیا گیا۔
مجهے یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے کچھ عرصہ قبل اس بارے میں روزنامہ جنگ میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس بات کی تردید کی گئی تهی کہ قومی نغمہ سب سے پہلے جگن ناتھ صاحب نے لکها تها.
شاید بزم میں موجود کسی اور صاحب کے پاس اس معاملے میں مزید معلومات ہوں.
خیر، میرے خیال میں اب اس بحث سے کچھ خاص حاصل نہیں کہ ترانۂ پاکستان سب سے پہلے کس نے لکها، تاريخ کی تصحیح کی حد تو شاید اس کی کوئی ہو ورنہ اب یہ خاصی لایعنی بحث ہے.
ہیچمداں:
ارشاد احمد اعجاز
الحمد لله، ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا مضمون مل گیا. یہ رابطہ ملاحظہ کیجئے:
< http://jang.com.pk/jang/apr2013-daily/26-04-2013/col5.htm>