آج ابوالاثر حفیظؔ جالندھری کا یومِ وفات ہے۔

31 views
Skip to first unread message

Aapka Mukhlis

unread,
Dec 21, 2013, 11:29:19 AM12/21/13
to bazm qalam

Inline image 1

1958ء۔ تاشقند۔حفیظ جالندھری(بائیں جانب) ، فیض احمد فیض(بائیں سے دوسرے) 

بالکل دائیں طرف لاہور کے  ایک انقلابی حریت پسند اور ہندی ناول جھوٹا سچ کے مصنف یش پال

اداکار راج کپور(کھڑے ہوئے)


آج پاکستان کے قومی ترانے کے خالق  ابوالاثر حفیظؔ جالندھری  کا یومِ وفات ہے۔


ابو الاثرحفیظ ؔجالندھری نے  21دسمبر،1982 کو 82 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پا ئی۔

حفیظؔ 14 جنوری 1900ء میں پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شمس الدین حافظِ قرآن تھے۔ حفیظؔ مرحوم نے اپنی ابتدائی تعلیم مسجد سے منسلک مدرسے سے حاصل کی ۔ پھر ایک مقامی سکول میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ انھوں نے رسمی تعلیم محض ساتویں جماعت تک ہی حاصل کی  مگر بعد ازاں کثرتِ مطالعہ کے زور پر اپنے علم میں خوب اضافہ کیا۔شاعری میں ان کو نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء میں وہ ہجرت کر کے لاہور منتقل ہوگئے۔

حفیظؔ جالندھری1922ء سے 1929ء تک  مختلف ماہناموں کے مدیر رہے جن میں نونہال، ہزار داستان، تہذیبِ نسواں، مخزن جیسے مجلے شامل ہیں۔ ان کی شاعری  کا پہلا مجموعہ "نغمہ ء زار" 1935ء میں شائع ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہ "سونگ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ" کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس دور میں انھوں نے بہت سے ایسے نغمے اور گیت لکھے جو عوام میں بہت مقبول ہوئے۔

حفیظ ؔ جالندھری نے تحریکِ پاکستان میں  بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ انھوں نے  اس مقصد کے لیے ان ایام میں بہت سی تحریریں لکھیں جو عوام کو قیامِ پاکستان کے مقاصد سے روشناس کرنے میں بہت معاون ثابت ہوئیں۔

ان کے شاعرانہ  کارناموں میں  ایک بہت بڑا کارنامہ شاہنامہ فردوسی کے انداز میں شاہنامہ اسلام    کی تخلیق ہے جس نے ان کی شہرت کو بقائے دوام بخشا۔ اس طویل نظم میں انھوں نے اسلام کے دورِ زریں کی تاریخ بیان کی ہے۔

ان کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کے قومی ترانے کی تخلیق ہے جسےموسیقار  احمد جی چھاگلہ نے سُروں سے سجایا ہے۔ ان کی شاعری میں پائی جانے والی غنائیت  اور مشاعروں میں ان کے ساحرانہ ترنم  کی وجہ سے ان کو شعراء میں انفرادی حیثیت حاصل ہے۔ عام طور پر ان کی شاعری  میں عشق، مذہب، حب الوطنی اور قدرت   کے موضوعات پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنے موضوعات برصغیر کے مخصوص ماحول کے تناظر میں چنتے ہیں۔ ان کی زبان میں اردو اور ہندی کا بڑا خوبصورت امتزاج دیکھنے میں آتا ہے جو جنوبی ایشیا کی مخصوص ثقافت کا آئینہ دار ہے۔

حفیظ ؔ مرحوم کو ان کی خدمات کی بنا پر حکومت ِ پاکستان کی جانب سے تمغہ ء حسنِ کارکردگی اور ہلال ِ امتیاز سے نوازا  گیا۔

حفیظ جالندھری82 سال کی عمر میں لاہور میں فوت ہوئے۔  ماڈل ٹاون میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ بعد ازاں ان کی میت کو یادگارِ قراردادِ پاکستان  ، جو مینار ِ پاکستان کے نام سے معروف ہے ، کے قریب حکومت پاکستان کے تعمیر کردہ مقبرے میں منتقل کردیا گیا۔

image.png

raz...@aol.com

unread,
Dec 21, 2013, 11:47:34 AM12/21/13
to BAZMe...@googlegroups.com
Pakistan ke qaumi traane ko pahli baar Mohd. Ali Jinah ke kahne per Jagan Nath Azad ne likha tha. Hafeez Jalandhari ka likha huwa bohat baad ka hai,
 
Khalid Razvi
--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.

Humayun Rasheed

unread,
Dec 21, 2013, 1:46:07 PM12/21/13
to BAZMe...@googlegroups.com

سنا ہے کہ قومی ترانے کی دهن پہلے بنی ترانہ بعد میں لکها گیا.
عین ممکن ہے دهن پہلے والے پر بنائی گئی ہو.
اگر اس بارے میں معلومات مل سکیں؟

image.png

Mufti Irshad Ahmad Aijaz

unread,
Dec 21, 2013, 2:10:08 PM12/21/13
to BAZMe...@googlegroups.com

مجهے یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے کچھ عرصہ قبل اس بارے میں روزنامہ جنگ میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس بات کی تردید کی گئی تهی کہ قومی نغمہ سب سے پہلے جگن ناتھ صاحب نے لکها تها.
شاید بزم میں موجود کسی اور صاحب کے پاس اس معاملے میں مزید معلومات ہوں.
خیر، میرے خیال میں اب اس بحث سے کچھ خاص حاصل نہیں کہ ترانۂ پاکستان سب سے پہلے کس نے لکها، تاريخ کی تصحیح کی حد تو شاید اس کی کوئی ہو ورنہ اب یہ خاصی لایعنی بحث ہے.

ہیچمداں:

ارشاد احمد اعجاز

image.png

Irshad Ahmad Aijaz

unread,
Dec 21, 2013, 2:23:59 PM12/21/13
to BAZMe...@googlegroups.com

الحمد لله، ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا مضمون مل گیا. یہ رابطہ ملاحظہ کیجئے:

< http://jang.com.pk/jang/apr2013-daily/26-04-2013/col5.htm>

image.png

Aapka Mukhlis

unread,
Dec 22, 2013, 12:14:02 AM12/22/13
to bazm qalam
ہمایوں رشید صاحب
یہ درست ہے کہ دھن پہلے مرتب کی گئی تھی اور اس دھن کے مطابق حفیظ مرحوم نے قومی ترانہ لکھا تھا۔ دھن نشر کرکے عام دعوت دی گئی تھی کہ اس کے مطابق ترانہ لکھا جائے۔ موصولہ ترانوں میں سے حفیظ صاحب کا ترانہ منتخب ہوا تھا جو اپنے مضمون اور دھن کے لحاظ سے قومی ترانے کے تمام تقاضے پورے کرتا تھا۔
مخلص


2013/12/21 Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>
image.png
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages