مولوی نذیر احمد از شاہد احمد دہلوی
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
مولوی احمد حسن صاحب،احسن التفاسیر، مولوی نذیر احمد کے خویش تھے۔ ایک دن مولوی نذیر احمد کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مولوی احمد حسن نے دیکھا کہ ڈپٹی صاحب کی کہنیاں بہت میلی ہورہی ہیں اور ان پر میل کی ایک تہہ چڑھی ہوئی ہے۔ مولوی صاحب سے نہ رہا گیا، بولے "" اگر آپ اجازت دیں تو جھانوے سے آپ کی کہنیاں ذرا صاف کردوں۔"
ڈپٹی صاحب نے اپنی کہنیوں کی طرف دیکھا اور ہنس کر کہنے لگے "" میاں احمد حسن! یہ میل نہیں ہے۔ میں جب بجنور سے آکر پنجابی کٹرے کی مسجد میں طالب علم بنا تھا تو رات رات بھر مسجد کے فرش پر کہنیاں ٹکائے پڑھا کرتا تھا۔ پہلے ان کہنیوں میں زخم پڑے اور پھر گٹے پڑ گئے۔لو دیکھ لو، اگر تم انہیں صاف کرسکتے ہو تو صاف کردو۔""
اسکے بعد وہ اپنا زمانہ یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے۔ اور مولوی احمد حسن بھی رونے لگے۔
-----------------------
مولانا محمد حسین آزاد اواخر عمر میں ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔ ایک دن اپنے گھر سے غائب ہوگئے۔ پہلے لاہور میں انہیں تلاش کیا گیا پھر اور شہروں میں۔ مگر ان کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ کئی مہینے غائب رہنے کے بعد وہ ایکاایکی دلی میں نمودار ہوئے۔ لبریاں لگی ہوئی، ننگے پاؤں۔ پیروں میں چھالے۔منہ پر خاک، چہرے پر وحشت، لال لال دیدے! سیدھے منشی ذکاء اللہ کے مکان میں گھس گئے۔ منشی ذکاء اللہ سے ان کا بچپن کا یارانہ تھا۔ وہ انہیں اس جنون کی کیفیت میں دیکھ کر لرز گئے۔ فورا ان کے کپڑے بدلوائے۔ منہ ہاتھ دھلوایا۔ معلوم ہوا کہ لاہور سے پیدل چکے تھے اور خدا جانے کہاں کہاں کی خاک چھانتے دلی پہنچ گئے۔
ایک دن مولوی نذیر احمد، منشی ذکاء اللہ کے ہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مولانا آزاد ایک مونڈھے پر بیٹھے ہیں اور دوسرے مونڈھے پر منشی ذکاء اللہ بیٹھے نائی سے حجامت بنوا رہے ہیں۔ نہ جانے مولانا آزاد کو کیا خیال آیا کہ اٹھے اور نائی سے استرا چھین لیا اور بولے: " ابے تو کیا حجامت بنائے گا، ہم بنائیں گے۔"
یہ کہہ کر منشی ذکاء اللہ کا گلا بنانے لگے اور سارا خط بھی بنا دیا۔
مولوی نذیر احمد نے بعد میں منشی جی سے کہا " اماں تم نے کیا غضب کیا کہ اس جنونی کے آگے
اپن گلا کردیا، اور جو وہ اڑا دیتا ?"
منشی ذکاء اللہ نے کہا " نہیں،آزاد تو ہمارا دوست ہے۔ ہمارا گلا نہیں کاٹ سکتا۔"