معاہدے کے بعد نتن یاہو کی مشکلات میں اضافہ

9 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Jun 17, 2026, 2:09:30 AM (6 days ago) Jun 17
to bazme qalam, Dr. Naushad Usmani
معاہدے کے بعد نتن یاہو کی مشکلات میں اضافہ
پسِ آئینہ: سہیل انجم
امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے پر دستخط کے بعد پوری دنیا نے چین کی سانس لی ہے۔ اسے مشرق وسطیٰ میں دیرپا قیام امن کا پیش خیمہ تصور کیا جا رہا ہے۔ پوری عالمی برادری نے اس کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، مصر، لبنان، عراق اور اردن نے بھی خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ خطے میں دیرپا استحکام پیدا ہوگا اور سفارتی روابط میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان، قطر اور ترکی کی ثالثی کے نتیجے میں ممکن ہو سکا ہے۔ یوروپی اور مغربی ملکوں اور چین وغیرہ نے بھی اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے معاہدے کو علاقائی استحکام کی بحالی اور عالمی معیشت کے فروغ کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا۔ سلامتی کونسل کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے اسے تنازعے کے پرامن حل سے تعبیر کیا اور مذاکرات میں ثالث ملکوں کی ستائش کی۔ چین نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کا عمل خوش اسلوبی کے ساتھ جاری رہے گا۔ عالمی بازاروں نے بھی مثبت رخ کا مظاہرہ کرکے اپنی خوشی ظاہر کی ہے۔ صرف قرارداد مفاہمت پر ورچوئیل دستخط سے ہی خام تیل کی قیمتوں میں قابل ذکر حد تک گراوٹ آگئی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے معاہدے کے خیرمقدم اور اظہار مسرت کے برعکس ایک سیاست داں ایسا ہے جو اس سے خوش نہیں ہے اور جو بظاہر اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ سیاست داں جو اس پورے بحران کے مرکز میں ہے اور جس نے مشرق وسطیٰ میں امن و امان کو تباہ و برباد کیا ہے۔ وہ سیاست داں جو امریکہ کا حلیف بھی ہے اور جس نے امریکہ کی مدد سے ہی تباہی و بربادی کا کھیل کھیلا۔ اس سیاست داں کا نام ہے بنجامن نتن یاہو۔ اس معاہدے سے وہ بہت زیادہ مایوسی اور جھجلاہٹ کے شکار ہیں۔ انھوں نے اگر چہ تادم تحریر معاہدے کی کھل کر مخالفت نہیں کی ہے تاہم انھوں نے کسی مسرت کا اظہار بھی نہیں کیا بلکہ یہاں تک کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے یا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی آزادی کے اقدامات کے تحفظ تک ہی خود کو محدود نہیں رکھیں گے۔ یعنی وہ اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں اور کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔
دراصل اس پورے معاملے کا ویلن اگر کوئی ہے تو نتن یاہو ہی ہیں۔ لہٰذا کوئی ویلن اپنی شکست کیسے تسلیم کر سکتا ہے۔ اور ایسے میں جبکہ خود اسرائیل میں نتن یاہو کے سامنے مشکلات کا پہاڑ کھڑا ہے۔ راقم الحروف شروع سے ہی یہ بات لکھتا آرہا ہے کہ نتن یاہو نے اپنی کھال بچانے کے لیے غزہ میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا اور ایران کے خلاف جنگ کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو اکسایا۔ ان کو اندرون ملک متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ ان کے خلاف عدالتی کارروائی چل رہی تھی کہ حماس کے اسرائیل پر حملے نے انھیں غزہ میں حملہ کرنے اور خود کو عدالتی کارروائیوں سے وقتی طور پر بچانے کا ایک موقع دے دیا۔ فی الحال عدالتی کارروائی معطل ہے اور توقع ہے کہ حالات کے معمول پر آتے ہی ازسرنو شروع ہو جائے گی۔ ٹرمپ جانتے تھے کہ اگر نتن یاہو کو بھی معاہدے کی کوششوں میں شریک کیا گیا تو وہ روڑے اٹکائیں گے اسی لیے انھوں نے ان کو اس کوشش سے دور رکھا۔ اسے اسرائیل کے اندر نتن یاہو کی شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم لبنان اور غزہ سے نہیں نکلیں گے۔ اسرائیلی عوام اور بیشتر سیاست داں معاہدے کو ایران کی سیاسی فتح اور نتن یاہو کی شکست قرار دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں حماس اور حزب اللہ کے مسئلے کو معاہدے میں حل نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ لبنان میں جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے نے نتن یاہو کی پوزیشن کو مضحکہ خیز بنا دیا۔ اپنی جھنجلاہٹ مٹانے کے لیے ہی انھوں نے لبنان سے نہ نکلنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسرائیل کے اندر نتن یاہو کی پوزیشن سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ انھیں ’مسٹر سیکورٹی‘ کہا جا رہا تھا لیکن اب خود ان کی سیکورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اپوزیشن رہنما یائیر لیپڈ نے معاہدے کے بعد نتن یاہو کی پوزیشن کی تشریح اس طرح کی ’یا تو ہمارے سب سے بڑے اتحادی کے ساتھ براہ راست اور تباہ کن تصادم یا پھر اسرائیلی مفادات کو سرینڈر کرنا‘۔ یاد رہے کہ الیکشن میں یائیر لیپڈ ہی نتن یاہو کے مقابلے میں ہوں گے۔وہ اس معاہدے کو اسرائیل کی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کی سب سے زیادہ چونکا دینے والی ناکامیوں میں سے ایک تصور کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ ناکامی نتین یاہو کے نام رجسٹر ہوگی۔ نتن یاہو کو اپوزیشن کی تنقیدوں کا بھی سامنا ہے اور اپنی پارٹی کے سیاست دانوں کی بھی۔ ان کے دفتر نے عوامی طور پر کہا ہے کہ ہم اس عبوری معاہدے کے پابند نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ایران کو یورینیم کی افزودگی اور اپنی پراکسی تنظیموں کی فنڈنگ سے روکنے کی کوششوں میں امریکہ کے ساتھ تعاون کریں گے۔
اسرائیل کے اندر عام طور پر نتن یاہو پر اعتراضات کی بارش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ وہ وزیر اعظم کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں اکتوبر سے قبل انتخابات ہونے والے ہیں۔ لہٰذا معاہدے کو نتن یاہو حکومت کے خلاف ایک ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس معاہدے نے ان کو نہ صرف اسرائیل کے اندر بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی الگ تھلگ کر دیا ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور نتن یاہو کے حریف ایہود باراک نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نتن یاہو کی ہوس اور اندھے پن کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ ایران مضبوط ہوا اسرائیل کمزور ہوا۔ یہ نتن یاہو کی تزویراتی ناکامی ہے۔ نتن یاہو کو اپنی پارٹی کے اندر بھی تنقیدوں کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوویر کو کہنا پڑا کہ ہم ٹرمپ کے معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔ ہم اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں جس میں ہماری سیکورٹی کو یقینی نہیں بنایا گیا۔ اسرائیل اپنے تحفظ کی کوشش جاری رکھے گا۔ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک سابق اہلکار اور ایرانی امور کے ماہر سیما شینے کو اس بات پر حیرت ہے کہ امریکیوں نے اس معاہدے کو کیوں قبول کر لیا۔ ایران کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دے کر کہ لبنان میں کیا ہوگا امریکہ نے حزب اللہ کی مدد اور لبنان میں حزب اللہ کے ایک بڑے سیاسی کردار کو یقینی بنا دیا ہے۔ اس معاہدے سے نہ تو اسرائیل کے سیکورٹی ادارے خوش ہیں اور نہ ہی سیاسی رہنما۔ ان تنقیدوں سے گھبرا کر نتن یاہو کو کہنا پڑا کہ ’میں نے اپنی پوری بالغ زندگی صرف ایک مقصد کے لیے صرف کر دی اور وہ مقصد ہے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا۔ اس ہدف کے حصول کے لیے جو بھی ضروری ہوگا میں کروں گا۔‘ اس معاہدے کے بعد ٹرمپ اور نتن یاہو کے مابین کشیدگی میں اضافے کی بھی خبریں ہیں۔ ٹرمپ جہاں معاہدے کو جیت قرار دے رہے ہیں وہیں اسے اسرائیل کی شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بیان میں نتن یاہو پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے اس معاہدے کا حصہ بننے سے محروم رہ گیا۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ نتن یاہو کے پاس قوت فیصلہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ معاہدہ اپنے حتمی نتیجے تک پہنچ گیا جس کا قوی امکان ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا ایک نیا دروازہ کھولنے کے مترادف ہوگا۔ اور اسی کے ساتھ ایران کے استحکام اور اسرائیل کی کمزوری کا ایک ثبوت بھی ہوگا۔
موبائل: 9818195929


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages