SHAB O ROZ

0 views
Skip to first unread message

Nadeem Siddiqui

unread,
Aug 4, 2017, 1:02:01 PM8/4/17
to
 مزار کا اُکھڑا ہواکتبہ  اور فکر و فن کی دائمی تختی
 آدمی  کاخمیر مٹّی ہی ہے  وہ  دُنیا میں چاہے جو کچھ بن جائے  شاہ  یا گدا مگر انجام مٹّی ہے۔ گزشتہ اتوار کو اندھیری  کے  ورسوامسلم قبرستان سے جب ہم  ظفر گورکھپوری کو مٹی دے کر لوٹ رہے تھے تو پیچھے سے عزیزم عبیدِ اعظم اعظمی نے آواز دِی کہ’’ ارے بھائی!  یہاں آپ کا کوئی  اور عزیز بھی  اپنے ندیم کا منتظر ہے۔‘‘ ہم نے  سوالیہ نگاہوں سے اُنھیں دیکھا  تو جواب ملا کہ’’ کیفی صاحب ( اعظمی)۔‘‘ ہم اُلٹے  قدموں عبید  صاحب کے ساتھ گورستان کی طرف پلٹ گئے ۔ 
  عبید میاں نے قبروں کو گنتے ہوئے ایک جگہ ہاتھ سے اشارہ کیا کہ یہ کیفی صاحب کا  مرقد ہے۔ کیفی  صاحب جسمانی طور پر بھی قد و قامت کے آدمی تھے وہ ایک چھوٹی سی کچی  قبر میں کیسے سماگئے۔۔۔!!۔۔۔ نہ کوئی کتبہ، نہ کوئی نشانی!! عبید میاں نے قبرستان کی دائیں دیوار کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دیکھیے ،تو دیکھا کہ ایک کتبہ کنارے پڑا ہوا ہے جس  پر کیفی صاحب کا نام  ِ نامی اسم گرامی کندہ تھا اور نیچے مرحوم کا  یہ شعر
         خارو خس تو ہٹیں راستہ تو چلے
میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے
 یہ شعر ہم پڑھ ہی رہے تھے کہ اسی  (غزل)کا دوسرا شعر عبید ؔمیاں کے   لبوں   سے ہمارے کانوں تک پہنچا۔
     بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں
 میں کہاں دفن ہوں کچھ پتہ تو چلے
 بلکہ کیفی  صاحب کی   اپنی آواز اور آہنگ کے ساتھ یہ دونوں مصرعے  اب تک گونجتے محسوس ہور ہے ہیں۔
    ترقی پسند تحریک کےعروج کا زمانہ اور انکے مشاعرے سب کچھ ذہن کے اسکرین پر کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔ کیفی صاحب جس مشاعرے میں ہو ں اورانہوں نے کلام سنا دِیا ہو تو اس وقت  ناظمِ مشاعرہ کےلئے بڑی مشکل کی گھڑی ہوتی تھی کہ جس شاعر کو  زحمت ِکلام دی جائے تو وہ مائک پر نہیں قربان گاہ پر نظر آتا تھا۔
      قبرستان میں آدمی  اپنے  انجام کو  سوچ کر  یو ں بھی افسردہ رہتا ہے مگر اس افسردگی میں کیفی صاحب کی قبر اور ان کےکتبے نے   ہماری افسردگی کا دورانیہ   طویل کر دِیا بلکہ اس کےاثرات تو آج چھٹے دن بھی  ہمارے ذہن پر کہیں نہ کہیں باقی ہیں یہ تحریر ہی اس کی  شاہد بنی ہوئی ہے۔ 
 ادب و فن میں کسی بھی  منصب پر پہنچنا  آسان نہیں ، فن کار ہی نہیں فن پارے کو دیکھنے اور پڑھنے والی  آنکھ بھی  ایک منصب پر پہنچ جاتی ہے اگر ذوقِ لطیف کے ساتھ قدرت نے خلوص کی نعمت بھی دِی ہو۔اس وقت ایک شخص برجیندر سیال بھی یاد آگئے جو  بظاہرنہ  ادیب، نہ شاعر مگر صرف اپنی فہم ِ شعر اور اپنے اندازِ شرح کے سبب ’ مکتبِ غالب‘ کے ایک مثالی  طالب علم کی حیثیت سے تاریخ میں درج ہو  گئے ہیں  وہ  مختلف   ہیئت  کےپتھروں اور سیپیوں کو اس طرح سجاتے  ہی نہیں تھے بلکہ اس کے نیچے غالب ؔکے کسی شعر کو یوں لکھ دیتے تھے کہ آپ  وہ شعر پڑھیے  اور ان پتھروں کو دیکھیے ، پتھروں کو دیکھیے اور پھر شعرِ غالب  پڑھیے۔۔۔۔  اور اگر قدرت نے آپ کو بھی ذوق ِلطیف  سے سرفراز کیا ہے تو بس داد دیتے ہی بنے گی۔  برجیندر سیال کا ذوق انھیں کہاں کہاں بھٹکاتا رہتا تھا وہ دہلی سے ممبئی جوہو ساحل ہی نہیں مختلف سَمُندَر کنارے پتھروں کی  تلاش میں گھومتے رہتے تھے کہ وہ پتھر ہاتھ لگ جائے  جسے قدرت نے شعرِ غالب کی شرح بنا دِیا ہو۔ کل پرسوں ہی شکیل بدایونی کی سالگرہ کا دن بھی گزرا ہے ہمارے معاصر اخبار نے مرحوم پر دو دِن تک ایک تفصیلی مضمون شائع کیا جو یقیناً حق ِشکیل تھا۔ ہم نے پڑھا کہ بدایوں میں ان کی یادگاریں ہیں، ایک بار جب شکیل بدایوں پہنچے تو ان کا استقبال جس طرح سے کیا گیا وہ  اتنا مثالی تھا کہ شاید ہی کسی  شاعر  و ادیب کو  اپنے وطن میں یہ اعزاز ملا ہو۔
     شکیل مرحوم کی مقبولیت اور شہرت ہم نے سنی ہی نہیں کچھ دیکھی بھی ہے کئی شہروں میں ان کے نام سے انجمنیں قائم تھیں۔ جس ٹرین سے وہ   سفر کر رہے ہوں  اُن  کےمداح باخبر رہتے تھے ان کی منزل کوئی اور شہر ہوتا تھا مگر راستے کے کئی اسٹیشنوں پر ان کے  چاہنے والےہار پھول لیے خیر مقدم کو بیتاب رہتے تھے۔ بدایوں علم و ادب کے حوالے سے تاریخ میں مدینۃ الاولیا کے نام سے درج ہے۔ کیسے کیسے اہلِ علم و ادب اس سرزمین نے پیدا کیے۔ مگر کسی اہل ِعلم ، کسی شاعر، کسی  ادیب کو  اس کی  زندگی ہی میں ایسی مقبولیت شکیل کے  علاوہ(ہمارے ناقص خیال کے مطابق) نہیں ملی۔   بدایوں کا نام آتے ہی ہم جیسے شعرو ادب سے تعلق  رکھنے والوں کے ذہن میں فاؔنی (بدایونی)کا نام اپنے اس شعر کے ساتھ اُبھر آتا ہے:
  ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
  زندگی کاہے کو ہے  خواب  ہے دیوانے کا
 زندگی کے ساتھ دولت اورشہرت کے عوامل اتنے دلکش اور حسین ہوتے ہیں کہ  زندگی کی حقیقتیں بسا اوقات ماند پڑتی نظر آتی ہیں مگر صداقت اس کے بر عکس ہے، اصل تو عزت  ہے ۔۔۔ یہ وہ اعزاز ہے جو آدمی کو عمرِ طویل تر، دیدیتا ہے۔  سو پچاس برس کی عمر تو ملتی ہی  ہے مگر  قدرت جسے اپنے اعزاز سے  سرفراز کر دے تو وہ اس پچاس سو سال کی عمر ہی میں زندگی کی’ اصل‘ کو پالیتا ہے اور  پھر یہ زندگی اس کے ساتھ اپنے رنگ   و نور لئے بہت  آگے تک  سفر کرتی  ہے۔
 پرسوں ہی  ایک خبر نے ہماری آنکھیں پھر نم کر دیں۔ہماری ایک بزرگ خاتون مرضیہ بیگم جو’ زائرہ‘ کے  نام  نامی اسم ِگرامی سے  مومنین کے دلوں میں گھر کیے ہوئے تھیں۔   95  برس جینا خود ایک  اہم بات ہے مگر  پھر اس حقیقت کی  صداقت  اُن کے وہ اوصافِ حمیدہ ہیں جنہوں نے ایک مرضیہ کو زاؔئرہ بنا دِیا۔ ایک عالمِ عَالم کی بیٹی اور کلب ِ عابد  اور کلبِ صادق جیسے جیدعلما کی بہن، شکیل شمسی جیسے ممتاز صحافی و شاعر کی والدہ مرضیہ بیگم کا رخصت ہونا کوئی عجب نہیں کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ہی مگر قدرت کے کرم  سے بعض کردار و عوامل  ایسے زندگی دیدیتے ہیں کہ  یہ پچاس سو برس کی زندگی  از خود گم ہوجاتی ہے۔ زائرہ محترمہ کے  لکھے ہوئے نوحے اور سلام دلوں  میں عزا کے چراغ روشن رکھیں گے اور یہی وہ زندگی ہے  جو  سب کو نہیں ملتی،مگر ملتی ہے۔ ہم نے بات کیفی صاحب سے شروع کی تھی کیفی صاحب اپنی فکر، شکیل  صاحب اپنے نغمو ں، فانی اپنے غم اور برجیندر سیال جیسے لوگ اپنی  بصیرت  میں زندہ و تابندہ ہیں۔ قبر کا کتبہ اکھڑ تا رہے،اُکھڑ جائے۔ فکرو فن کی تختی تو زندگی کی امین  بنی  ہوئی ہے۔   جسے ہم خود کندہ کرتے ہیں اب ہم  جیسے  یہ سوچیں کہ  یہ عمل کر بھی  سکے۔!!                 
   ندیم صدیقی


--
NadeemSiddiqui
Shab o Roz-05-08-17.pdf
Shab o Roz-05-08-17 copy.jpg

umar shaikh

unread,
Aug 5, 2017, 6:32:20 AM8/5/17
to BAZMe...@googlegroups.com

بہت خوب لکھا ہے ندیم صاحب قبر کا کتبہ اکھڑتا ہے اکھڑتا رہے ۔۔فکرو فن کی تختی تو زندگی کی امین بنی ہوئی ہے

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages