امام غزالی

0 views
Skip to first unread message

بزم قلم

unread,
Dec 24, 2010, 2:03:02 AM12/24/10
to BAZMe...@googlegroups.com

امام غزالی

عمر ابن عبدالعزیز کے بعد سیاست و حکومت کی باگیں مستقل طور جاہلیت کے ہاتھوں میں چلی گئیں اور بنی امیہ، بنی عباس اور پھر ترکی النسل پادشاہوں کا اقتدار قائم ہوا۔ ان حکومتوں نے جو خدمات انجام دیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف یونان، روم اور عجم کے جاہلی فلسفوں کو جوں کا توں لے کر مسلمانوں میں پھیلا دیا اور دوسری طرف علوم و فنون اور تمدن و معاشرت میں جاہلیت اولیٰ کی تمام گم راہیوں کو اپنی دولت اور طاقت کے زور سے شائع و ذائع کیا۔ عباسی خاندان کے تنزل نے مزید نقصان یہ پہنچایا کہ ابتدائی عباسی “خلفاء” کے بعد دنیوی اقتدار کی باگیں جن لوگوں کے ہاتھوں میں آئیں وہ علوم دینی سے بالکل ہی کورے تھے۔  ان میں اتنی صلاحیت بھی نہ تھی کہ قضا اور افتاء کے عہدوں کے لیے اہل آدمیوں کو منتخب کرسکتے۔ اپنی جہالت اور سہولت پسندی کی وجہ سے وہ احکام شریعہ کی تنقید کا کام ایسے لگے بندھے طریقوں  پر کرنا چاہتے تھے جن مین کسی کدو کاوش کی ضرورت نہ ہو اور اس کے لیے تقلید جامد ہی کا راستہ موزوں تھا۔ مزید برآں دنیا پرست علما نے انہیں مذہبی مناطروں کی چاٹ بھی لگادی اور پھر شاہی سرپرستی میں یہ مرض اتنا پھیلا کہ اس نے تمام مسلم ممالک میں فرقہ بندی، اختلاف اور سر پھٹول کی وبا پھیلادی۔ امراوسلاطین کے لیے تو مذہبی مناظرے، مرغ بازی اور بٹیر بازی کی طرح محض ایک تفریح تھے، مگر عام مسلمانوں کے لیے یہ  وہ قینچیاں تھین جنہوں نے ان کی دینی وحدت کو پارہ پارہ کردیا۔ پانچوین صدی تک پہنچتے پہنچتے یہ حال ہوگیا کہ:

(1) یونان فلسفے کی  اشاعت سے عقائد کی بنیادیں ہل گئیں۔ محدثین و فقہا علوم عقلیہ سے ناواقف تھے اس لیے نظام دین کو مقتضائے زمانہ کے مطابق معقولی انداز سے نہ سمجھاسکتے تھے اور زجر و توبیخ سے اعتقاد گم راہیوں کو دبانے کی کوشش کرتے تھے۔ علوم عقلیہ میں جن لوگوں کے کمال  کاشہرہ تھا وہ نہ صرف یہ کہ علوم دینیہ میں کوئی بصیرت نہ رکھتے تھے بلکہ خود علوم عقلیہ میں بھی انہیں کوئی مجتہدانہ نظر حاصل نہ تھی۔ وہ فلاسفہ یونان کے بالکل غلام تھے۔ ان میں کوئی ایسا بالغ النظر آدمی نہ تھا جو تنقید کی نگاہ سے اس یونانی لٹریچر کا جائزہ لیتا۔ انہوں نے وحی یونانی کواٹل سمجھ کر جوں کا توں تسلیم کرلیا اور وحی آسمانی کو توڑنا مروڑنا شروع کیا تاکہ وہ وحی یونانی کے مطابق ڈھل جائے۔ ان حالات کا عام مسلمانوں پر یہ اثر ہوا کہ وہ دین کو ایک غیر معقول چیز سمجھنے لگے، اس کی ہر چیز انہیں مشکوک نظر آنے لگی اور ان میں یہ خیال جاگزیں ہوتا چلا گیا کہ ہمارا دین ایک چھوئی موئی کا درخت ہے جو عقلی امتحان کی ایک ذرا سی ٹھیس ہی سے مرجھا جاتا ہے۔ امام ابو الحسن اشعری اور ان  کے متعبین نے اس رو کو بدلنے کی کوشش کی، مگر یہ گروہ متکلمین کے علوم سے تو واقف تھا لیکن معقولات کے گھر کا بھیدی نہ تھا، اس لیے وہ اس عام بے اعتقادی کی رفتار کو بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکا بلکہ معتزلہ کی ضد میں اس نے بعض ایسی باتوں کا التزام کرلیا جو فی الحقیقت عقائد دین میں سے نہ تھے۔

(2) جاہل  فرماں رواؤں کے اثر سے اور علوم دینی کو مادی وسائل کی تائید بہم نہ پہنچنے کے سبب سے اجتہاد کے چشمے خشک ہوگئے، تقلید جامد کی بیماری پھیل گئی، مذہبی اختلافات نے ترقی کرکے ذرا ذرا سے جزئیات پر نئے نئے فرقے پیدا کردیے اور ان فرقوں کی باہمی لڑائیوں سے مسلمانوں کی یہ حالت ہوگئی کہ گویا يہ علی شفا حفرۃ من النار ہیں۔

(3)  مشرق سے مغرب تک مسلم ممالک میں ہر طرف اخلاقی انحطاط رونما ہوگیا جس کے اثر سے  کوئی طبقہ خالی نہ رہا۔ قرآن اور نبوت کی روشنی سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی بڑی حد تک خالی ہوگئی۔ علما، امرا، عوام سب بھول گئے کہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت بھی کوئی چیز ہے جس کی طرف ہدایت و راہ نمائی کے لیے کبھی رجوع کرنا چاہیے۔

(4) شاہی درباروں، خاندانوں اور حکم ران طبقوں کی عیاشانہ زندگی اور خود غرضانہ لڑائیوں کی وجہ سے عموماً  رعایا تباہ حال ہورہی تھی۔ ناجائز ٹیکسوں کے بار نے معاشی زندگی کو نہایت خراب کردیا تھا۔ تمدن کو حقیقی فائدہ پہنچانے والے علوم و ضائع روبہ تنزل تھے اور ان فنون کا زور تھا جو شاہی درباروں میں قدر منزلت رکھتے تھے مگر اخلاق و تمدن کے لیے غارت گر تھے۔ آثار سے صاف معلوم ہورہا تھا کہ عام تباہی کا وقت قریب آلگا ہے۔

یہ حالات تھے جب پانچویں صدیی کے وسط میں امام غزالی –1- پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدا اسی طرز کی تعلیم حاصل کی جو اس زمانہ میں دنیوی ترقی کا ذریعہ  ہوسکتی تھی۔ انہی علوم میں کمال پیدا کیا جن کی بازار میں مانگ تھی۔ پھر اس جنس کو لے کر وہیں پہنچے  جہاں  کے لیے تیار ہوئے تھے اور ان بلند ترین مراتب تک ترقی کی جن کا تصور اس زمانہ میں کوئی عالم کرسکتا تھا دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی۔۔۔۔ نظامیہ بغداد۔۔۔۔کے ریکٹر مقرر ہوئے۔ نظام الملک طوسی، ملک شاہ سلجوقی اور “خلیفہ” بداد کے درباروں میں اعتماد حاصل کیا۔ وقت کے سیاسیات میں یہاں تک دخیل ہوئے کہ سلجوقی فرماں روا اور عباسی “خلیفہ” کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوتے تھے  انہیں سلجھانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ دنیوی عروج کے اس نقطہ پر پہنچ جانے کے بعد ان کی زندگی میں انقلاب رونما ہوا۔ اپنے زمانہ کی علمی، اخلاقی، مذہبی، سیاسی اور تمدنی زندگی کو جتنی گہری نظر سے دیکھتے گئے اسی قدران  کے اندر بغاوت کا جذبہ ابھرتا چلاگیا اور اسی قدر ان کے ضمیر نے زیادہ زور سے صدالگانی شروع کی کہ تم اس گندے سمندر کی شناوری کے لیے نہیں ہو بلکہ تمہارا فرض کچھ اور ہے۔ آخرکار ان تمام اعزازات، فوائد و منافع اور مشاغل پر لات ماردی جن کے جنجال میں پھنسے ہوئے تھے۔ فقیر بن کر سیاحت کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ گوشوں او رویرانوں میں غور و خوض کیا۔ چل پھر کر عام مسلمانوں کی زندگی کا گہرا مشاہدہ کیا۔ مدتوں تک مجاہدات و ریاضات سے اپنی روح کو صاف کرتے رہے۔ 38 سال کی عمر میں نکلے تھے ، پورے دس برس کے بعد 48 سال کی عمر میں واپس ہوئے۔ اس طویل غور و فکر و مشاہدہ کے بعد جو کام کیا وہ یہ تھا کہ بادشاہوں کے تعلق اور ان کی وظفہ خواری سے توبہ کی، جدال و تعصب سے پرہیز کرنے کا دائمی عہد کیا، ان تعلیمی ادارات میں کام کرنے سے انکار کردیا جو سرکاری اثر میں ہوں او رطوس میں خود اپنا ایک آزاد ادارہ قائم کیا۔ اس ادارہ میں وہ چیدہ افراد کو اپنے خاص طرز پر تعلیم و تربیت دے کر تیار کرنا چاہتے تھے مگر غالبا ان کی یہ کوشش کوئی بڑا انقلاب انگیز کام نہ کرسکی کیوں کہ پانچ چھے سال سے زیادہ انہیں اس طرز خاص پر کام کرنے کی اجل ہی نے  مہلت نہ دی۔

امام غزالی کے تجدیدی کام کا خلاصہ یہ ہے:

اولا،  انہوں نے فلسفہ یونان کا نہایت گہرا  مطالعہ کرکے اس پر تنقید کی اور اتنی زبردست تنقید کی کہ اس کا وہ رعب جو مسلمانوں پر چھاگیا تھا، کم ہوگیا اور لوگ جن نظریات کو حقائق سمجھے بیٹھے تھے، جن پر قرآن و حدیث کی تعلیمات کو منطبق کرنے کے سوا دین کے بچاؤ کی کوئی صورت انہیں نظر نہ آتی تھی، ان کی اصلیت سے بڑی حد تک آگاہ ہوگئے۔ امام کی اس تنقید کا اثر مسلم ممالک ہی تک محدود نہ رہا بلکہ یورپ تک پہنچا اور وہاں بھی اس نے فلسفہ یونان کے تلسط کو مٹانے اور جدید دور تنقید و تحقیق کا باب فتح کرنے میں حصہ لیا۔

ثانیاً،  انہوں نے ان غلطیوں کی اصلاح کی جو فلاسفہ اور متکلمین کی ضد میں اسلام کے وہ حمایتی کر رہے تھے جو علوم عقلیہ میں گہری بصیرت نہ رکھتے تھے۔ یہ لوگ اسی قسم کی حماقتیں کر رہے تھے جو بعد میں یورپ کے پادریوں نے کیں، یعنی مذہبی عقائد کے عقلی ثبوت کو بعض صریح غیر معقول باتوں پر موقوف سمجھ کر خواہ مخواہ انہیں اصول موضوعہ قرار دے لینا، پھر ان اصول موضوعہ کو بھی عقائدین میں داخل کرکے ہر اس شخص کی تکفیر کرنا جو ان کا قائل نہ ہو اور ہر اس برہان یا تجربے یا مشاہدہ کو دین کے لیے خطرہ سمجھنا جس سے ان خود ساختہ اصول موضوعہ کی غلطی ثابت ہوتی ہو۔ اسی چیز نے یورپ کو بالآخر دہریت کی طرف دھکیل دیا اور یہی مسلم ممالک میں بھی شدت کے ساتھ کار فرما تھی اور لوگوں میں بے اعتقادی پیدا کر رہی تھی۔ مگر امام غزالی نے بروقت اس کی اصلاح کی اور مسلمانوں کو بتایا کہ تمہارے عقائد دینی کا اثبات ان غیر معقولات کے التزام پر منحصر نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معقول دلائل موجود ہیں۔ لہٰذا ان چیزوں  پر اصرار فضول ہے۔

ثالثاً، انہوں نے اسلام کے عقائد اور اساسیات (Fundamentals) کی ایسی معقول تعبیر پیش کی جس پر کم از کم اس زمانہ کے اور بعد کی کئی صدیوں تک کے معقولات کی بنا پر کوئی اعتراض نہ ہوسکتا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے احکام شریعت اور عبادات و مناسک کے اسرار و مصالح بھی بیان کیے اور دین کا ایک ایسا تصور لوگوں کے سامنے رکھا جس سے وہ غلط فہمیاں دور ہو گئیں جن کی بنا پر یہ گمان ہونے لگا تھا کہ اسلام عقلی امتحان کو بوجھ نہیں سہار سکتا۔

رابعاً، انہوں نے اپنے وقت کے تمام مذہبی فرقوں اور ان کے اختلافات پر نظر ڈالی اور پوری تحقیق کے ساتھ بتایا کہ اسلام اور کفر کی امتیازی سرحدیں کیا ہیں، کن حدود کے اندر انسان کے لیے رائے وتاویل کی آزدی ہے اور کن حدود سے تجاوز کرنے کے معنی اسلام سے نکل جانے کے ہیں۔ اسلام کے اصلی عقائد کون سے ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جنہین خواہ مخواہ عقائددین میں داخل کرلیا گیا ہے۔ اس تحقیقات نے ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے  اور تکفیر بازی کرنے والے فرقوں کی سرنگوں میں سے بہت سی بارود نکال دی اور لوگوں کے زاویہ نظر میں وسعت پیدا کی۔

خامساً، انہوں نے دین کے فہم کو تازہ کیا۔ بے شعور مذہبیت کو فضول ٹھرایا۔ تقلید جامد کی سخت مخالفت کی۔ لوگوں کو کتاب اللہ و سنت رسول اللہ  کے چشمہ فیض کی طرف پھر سے توجہ دلائی، اجتہاد کی روح کو تازہ کرنے کی کوشش کی اور پنے عہد کے تقریباً ہر گروہ کی گم راہیوں اور کمزوریوں پر تنقید کرکے اصلاح کی طرف عام دعوت دی۔

سادساً، انہوں نے اس نظام تعلیم پر تنقید کی جو بلکل فرسودہ ہوچکا تھا اور تعلیم کا ایک نیا نظام تجویز کیا۔ اس وقت تک مسلمانوں میں جو نظام تعلیم قائم تھا اس میں دو قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک یہ کہ علوم دنیاو علوم دین الگ الگ تھے اور اس کا نتیجہ لامحالہ تفریق دنیا و دین کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا جو اسلامی نقطہ نظر سے بنیادی طور پر غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ شرعی علوم کی حیثیت سے بعض ایسی چیزیں داخل درس تھیں جو شرعی اہمیت نہ رکھتی تھیں۔ اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دین کے متعلق لوگوں کے تصورات غلط ہورہے تھے  اور بعض غیر جنس کی چیزوں کو اہمیت حاصل ہو جانے کی وجہ سے فرقہ بندیا ں پیدا ہور رہی تھیں ۔ امام غزالی نے ان خرابیوں کو دور کرکے ایک سمویا ہو نظام بنایا جس کی ان کے ہم عصروں نے  سخت مخالفت کی مگر بالآخر تمام مسلم ممالک میں اس کے اصول تسلیم کرلیے گئے اور بعد میں جتنے نئے نظامات تعلیم بنے وہ تمام تر انہی خطوط پر بنے جو امام نے کھینچ دیے تھے ۔ اس وقت تک مدارس عربیہ میں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے اس کی ابتدائی خط کشی امام غزالی ہی کی رہین منت ہے۔

سابعاً، انہوں نے اخلاق عامہ کا پورا جائزہ لیا۔ انہیں علما، مشائخ، امراسلاطین، عوام، سب کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے خوب مواقع ملے تھے۔ خود چل پھر کر وہ مشرقی دنیا کا ایک بڑا حصہ دیکھ چکے تھے ۔ اسی مطالعے کا نتیجہ ان کی کتاب احیاء العلوم ہے جس میں انہوں نے ہر  طبقہ کی اخلاقی حالت پر تنقید کی ہے، ایک ایک برائی کی جڑ اور  اس کے نفسیاتی اور تمدنی اسباب کا کھوج لگایا ہے اور اسلام کا صحیح اخلاقی معیار پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ثامناً، انہوں نے اپنے عہد کے نظام حکومت پر  بھی  پوری آزادی کے ساتھ تنقید کی۔ براہ راست حکام وقت کو بھی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے رہے اور عوام میں بھی یہ روح پھونکنے کی کوشش کرتے رہے کہ منفعلانہ انداز سے جبر و ظلم کے آگے سر تسلیم خم نہ کریں بلکہ آزاد نکتہ چینی کریں۔ احیا میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ”ہمارے زمانہ میں سلاطین کے تمام یا اکثر اموال حرام ہیں۔” ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ “ان سلاطین کو نہ اپنی صورت دکھانی چاہیے، نہ ان کی دیکھنی چاہیے۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ ان کےظلم سے بغض رکھے، ان کی بقا کی بقا کو پسند نہ کرے، ان کی تعریف نہ کرے، ان کے حالات سے کوئی واسطہ نہ رکھے اور ان کے ہاں رسائی رکھنے والوں سے بھی دور رہے۔” ایک اور جگہ ان آداب پرستش و عبودیت پر نکتہ چینی کرتے ہیں جو درباروں میں رائج تھے، اس معاشرت کی مذمت کرتے ہیں جو بادشاہوں اور امرا نے اختیار کر رکھی تھی، حتیٰ کہ ان کے محلات، ان کے لباس، ان کی آرائش، ہر چیز کو نجس بتلاتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ انہوں نے اپنے عہد کے بادشاہ کو ایک مفصل خط لکھا جس میں اسے اسلامی طرز حکومت کی طرف دعوت دی، حکمرانی کی ذمہ داریاں سمجھائیں۔ اور اسے بتایا کہ تیرے ملک  میں جو ظلم ہو رہا ہے، خواہ تو خود کرے یا تیرے اعمال کریں، بہرحال اس کی ذمہ داری تجھ پر ہے۔ ایک دفعہ مجبورا ً دربارشاہی میں جانا پڑا تو ودران گفتگو میں بادشاہ کے منہ در منہ کہا کہ:

“تیرے گھوڑوں کی گردن سازِ زرّیں سے نہ ٹوٹی تو کیا ہوا، مسلمانوں کی گردن تو فاقہ کشی کی مصیبت سے ٹوٹ گئی۔”

ان کے آخری زمانہ میں جتنے وزرا مقرر ہوئے، قریب قریب سبھی کو انہوں نے خطوط لکھے اور رعایا کی تباہ حالی کی طرف توجہ دلائی۔ ایک وزیر کو لکھتے ہیں:

ظلم حد سے گزرچکا ہے۔ چوں کہ مجھے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھنا پڑتا تھا اس لیے تقریباً ایک سال سے میں نے طوس کا قیام ترک کردیا ہے تاکہ بے رحم و بے حیا ظالموں کی حرکات دیکھنے سے خلاصی پاؤں۔

ابن خلدون کے بیان سے یہاں  تک معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے قیام کے خواہاں تھے جو خالص اسلامی اصول پر ہو، خواہ دنیا کے کسی گوشے میں ہو۔ چنانچہ مغرب اقصیٰ میں موحدین کی سلطنت انہی کے اشارہ سے ان کے ایک شاگرد نے قائم کی۔ مگر امام موصوف کے کارنامے میں یہ سیاسی رنگ محض ضمنی حیثیت رکھتا تھا۔ سیاسی انقلاب کے لیے انہوں نے کوئی باقاعدہ تحریک نہیں اٹھائی، نہ حکومت کہ نظام پر کوئی خفیف سے خفیف اثر ذال سکے۔ ان کے بعد جاہلیت کی حکمرانی میں مسلمان قوموں کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔ یہا تک کہ ایک صدی بعد  تا تاری طوفان کے دروازے ممالک اسلامیہ پر ٹوٹ پڑے اور اس نے ان کے پورے تمدن کو تباہ کرکے رکھ دیا۔

امام غزالی کے تجدیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے  چند نقائص بھی تھے اور وہ تین عنوانات پر تقسیم  کیے جاسکتے ہیں۔ ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کم زور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے –1-، دوسری  قسم ان نقائص کی جوان کے ذہن پر عقلیات کے غلبہ کی وجہ سے تھے اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔

1- تاج الدین سبکی نے طبقات الشافعیہ میں ایسی تمام احادیث کو جمع کردیا ہے جنہیں امام غزالی نے احیا العلوم میں درج کیا ہے اور جن کی کوئی سند نہیں ملتی۔ (ملاحظہ ہو طبقات، حصہ چہارم، ص 145 تا ص 182)     

ان کمزوریوں سے بچ کر امام موصوف کے اصل کام یعنی اسلام کی ذہنی و اخلاقی روح کو زندہ کرنے اور بدعت و ضلالت کی آلائشوں کو نظام فکر و نظام تمدن سے چھانٹ چھانٹ کر نکالنے کے کام کو جس شخص نے آگے بڑھایا وہ ابن تمیمہ تھا۔
(تجدید و احیاۓ دین)
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages