امریکہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرکے پھنس گیا

5 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Mar 4, 2026, 3:00:10 AM (yesterday) Mar 4
to bazme qalam
امریکہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرکے پھنس گیا
پسِ آئینہ: سہیل انجم
ا س وقت پوری دنیا کی نظریں ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر مرکوز ہیں۔ دنیا سانس روکے جنگ کے جلد از جلد ختم ہونے کی منتظر ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا اور یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گئی اور پھر نسبتاً چھوٹی عالمی جنگ میں تبدیل ہو گئی تو دنیا کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ اگر ایسا ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عاید ہوگی۔ امریکہ نے یہ جنگ شروع تو کر دی لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس کی مٹھی سے ریت پھسل رہی ہے۔ اس نے جو توقعات باندھی تھیں وہ سب ایک ایک کرکے دم توڑتی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا خیال تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تین روز کے اندر ایران کو نمٹا دیں گے۔ لیکن جیسا کہ ایران نے کہا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ دشمن کو دنداں شکن جواب دے گا، وہ اپنی اس دھمکی کو مسلسل عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ خلاف توقع امریکہ اور اسرائیل کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کے تین ایف15 جنگی طیارے مار گرائے گئے ہیں۔ اس کا جانی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ ادھر نیتن یاہو نے غزہ میں جو مناظر پوری دنیا کو دکھائے اب وہی مناظر وہ اپنے ملک میں دیکھنے پر مجبور ہیں۔
دراصل امریکہ اور اسرائیل نے یہودیوں کی روایتی فطرت کے مطابق دھوکے سے کام لیا۔ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں تھے اور توقع تھی کہ سمجھوتہ طے پا جائے گا۔ لیکن امریکہ نے مذاکرات کی بساط الٹ دی اور جنگی جنون کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے اور اس کی حصولیابی کے بالکل قریب ہے۔ اگر ا س نے جوہری ہتھیار بنا لیا تو پوری دنیا کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے لیکن اس نے ہمیشہ کہا کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن ہے۔ لیکن جس طرح امریکہ نے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا الزام لگا کر عراق کو تاخت و تارج کیا اور عین عید الاضحیٰ کو صدر صدام حسین کو پھانسی پر لٹکا دیا وہی سلوک وہ ایران کے ساتھ بھی کرنا چاہتا تھا۔ جس طرح بعد میں امریکہ نے بڑی چالاکی کے ساتھ یہ اعتراف کرکے اپنا دامن صاف کرنے کی کوشش کی کہ اس کو وسیع ہتھاروں کی موجودگی کی جو اطلاع ملی تھی وہ غلط تھی، اسی طرح اس کا خیال تھا کہ وہ ایران کو تباہ و برباد کرکے یہ اعلان کر دے گا کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کے تعلق سے موصولہ اطلاعات درست نہیں تھیں۔ اسرائیل نے یہ کہتے ہوئے ایران پر حملہ کیا کہ یہ پیشگی کارروائی ہے کیونکہ ایران حملہ کرنے والا تھا۔ لیکن اب امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگن نے کہا ہے کہ اس کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ایران حملہ کرنے والا تھا۔ ایران پر حملے کے پس پردہ امریکہ کا مقصد وہاں کی حکومت کا تختہ پلٹ کر اپنی پسند کی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا تھا۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ جوں ہی رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ہلاک کیا جائے گا وہاں کے عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے۔ عوام سڑکوں پر نکل کر آئے ضرور لیکن تختہ پلٹنے کے لیے نہیں بلکہ رہبر اعلیٰ کی شہادت پر سوگ منانے کے لیے آئے۔ صرف ایران ہی میں نہیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان سمیت متعدد ملکوں میں لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے لگے۔ پاکستان میں تو یہ احتجاج پرتشدد ہو گیا جس میں متعدد افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بھی خیال تھا کہ اعلیٰ قیادت کے خاتمے کے بعد پاسداران انقلاب میں پھوٹ پڑ جائے گی اور متعدد جنرلز بغاوت کرکے امریکہ میں پناہ حاصل کر لیں گے۔ لیکن ان کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔
لیکن اس جنگ کا تشویش ناک پہلو ایران کی جانب سے خلیجی ملکوں میں حملے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ سویلین علاقے بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ برج خلیفہ اور دیگر اہم مقامات کے پاس دھماکے اس بات کا اندیشہ پیدا کرتے ہیں کہ ایران کہیں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی آڑ میں خلجی ملکوں کو تو اپنا ہدف نہیں بنا رہا۔ سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، عمان، متحدہ عرب امارات وغیرہ میں حملے ہوئے ہیں۔ کئی تجارتی مراکز اور ہوٹلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی سرکاری کمپنی آرامکو کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ حالانکہ وہاں کوئی امریکی اڈہ نہیں ہے۔ ایران کا یہ دعویٰ کہ اس نے صرف امریکی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں لوگوں کے گلے نہیں اتر رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ممالک اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ نہیں ہیں اور یہ ان کی جنگ نہیں ہے۔ خلیجی ملکوں کے رہنما سوال کرتے ہیں کہ انھیں کیوں جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد خلیجی ملکوں میں غصہ ہے۔ لیکن وہاں کے حکمراں گومگو کی حالت میں ہیں۔ اگر وہ ایرانی کارروائی کے جواب میں کوئی کارروائی کرتے ہیں تو یہ تاثر جائے گا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہیں، جبکہ وہ نہیں ہیں۔ اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو انھیں حملوں کے خلاف عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خلیجی ملکوں میں حملوں کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایران کو امریکہ پر حملہ کرنا چاہیے نہ کہ ان ملکوں پر۔ لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ دراصل ان ملکوں میں امریکی اڈے اس کی رینج میں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایران ان حملوں کے ذریعے ان ملکوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اپنے یہاں امریکی اڈوں کی اجازت نہ دیں۔ ایران کا خیال ہے کہ اب خلیجی ممالک امریکہ پر دباو ڈالیں گے کہ وہ جنگ کو روکے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے اقدامات کرے۔ لیکن اس کی یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں کہا نہیں جا سکتا۔ حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ خلیجی ملکوں اور بالخصوص سعودی عرب کے تعلقات خوشگوار ہو گئے تھے۔ ایسے میں ان ملکوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی مصلحت ناقابل فہم ہے۔ اس سے ایک طرف خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے اور دوسری طرف خلیجی ملکوں سے ایران کے دوستانہ تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ اگر یہ ملک بھی اس جنگ میں کود پڑتے ہیں تو پھر امریکہ کو ایک سنہرا موقع مل جائے گا کہ وہ قیام امن کے نام پر خلیجی ملکوں میں اپنی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کر دے۔ اس بات کا احساس ان ملکوں کو بھی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایران کے اس قدم کو اس کے ’دیرینہ عزائم‘ کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس کو ان ملکوں پر حملے کی پلاننگ سے قبل اس کے تمام تر عواقب و مضمرات کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے تھا۔ ادھر ایسی اطلاعات ہیں کہ خلیجی ملکوں میں اس بات کے لیے امریکہ سے ناراضگی پیدا ہو رہی ہے کہ وہ ان کے یہاں ذخیرہ کیے گئے ہتھیاروں کا استعمال ان کو بچانے کے بجائے اسرائیل کو بچانے میں استعمال کر رہا ہے۔
بہرحال اب جبکہ امریکہ و اسرائیل کی توقعات کے برعکس معاملہ ان کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف لمبی جنگ کی بات کرنے لگے ہیں اور دوسری طرف ایران کے ساتھ مذاکرات کی تجدید کا اشارہ بھی دینے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ایران نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اس کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہونے والا ہے کہ یہ جنگ امریکہ نے شروع کی لیکن اسے ختم ہم کریں گے۔ گویا امریکہ ایران پر حملہ کرکے اس جنگ میں پھنس گیا ہے اور اب وہاں سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔
موبائل: 9818195929
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages