اردو افسانے کا نسوانی لحن
ڈاکٹر مرزا حامد بیگ
”ہم زندگی کا احترام اُس وقت تک نہیں
کرسکتے، جب تک کہ ”ہم جنس“ کا احترام کرنا نہ سیکھیں۔“ (ڈاکٹر ہیولاک ایلس)
مشرق اور مغرب، ہر دو اطراف کے مذہبی مفکرین کا خیال ہے
کہ مرد ازل سے صاحبِ فہم و فراست ہے اور عورت ناقص العقل۔ حقوقِ نسواں کی عالمی
تحاریک کے زیرِ اثر”برابری کا درجہ“ مل پائے گا یا نہیں، کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن
ہمارا قدیم ماضی اور ماضی قریب تو کم از کم اِس بات کی گواہی نہیں دیتا۔
ہمارے ہاں عورت کو زندگی کرنے کے مساویانہ حقوق نہ ملنے
کے سبب جملہ تہذیبی نشوونما اور سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی سطح پر بھی عورت
کا تخلیقی اشتراک اُس طور میسر نہ آسکا، جیسا کہ مغرب میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے
باوجود شعری سطح پر زیب النساءمخفی(بنتِ اورنگ زیب عالمگیر) تا شاہدہ حسن، اور
افسانے کی سطح پر عباسی بیگم، نذر سجاد، آصف جہاں اور انجمن آراءسے خالدہ حسین تک
نسوانی تخلیق اظہار نے تہذیبی ، سماجی اور ادبی سطح پر بھرپور اثرات مرتب کیے۔
فرانسیسی مستشرق گارسیں دتاسی نے لکھا ہے کہ:”میں نے زیب
النساءکی اردو نظمیں دیکھیں اور پڑھی ہیں۔“(۱ ) لیکن بطور شاعرہ زیب
النساءزیبی مخفی کا ذکر اُس کے اپنے زمانے میں ممکن نہ تھا۔ خود میر محمد تقی میر
نے اپنی شاعرہ بیٹی، بیگم کا ذکر تذکرہ ”نکات الشعرائ“ میں نہیں کیا، محض اس لیے
کہ عورتوں کے جذبات کو(خواہ وہ تخلیقی اور خیالی ہی کیوں نہ ہوں) بے نقاب کرنا
سماج میں بُری نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
دوسری طرف ہوس گیری کا یہ عالم ہے کہ حکیم فصیح الدین
رنج نے جب ایک سو چُہتر اردو شاعرات کا ا وّلین تذکرہ ”بہارستانِ ناز“(۴۶۸۱ئ)
میں قلم بند کیا تو اپنے زمانے کی معروف شاعرہ مُنی بائی حجاب کا ذکر یوں کرتے ہیں:
”عمر میں ابھی انیسویں سال کی گرہ پڑی ہے۔ شاعری کے رستے
میںقدم تو رکھا ہے مگر سنبھل کر چلیں، یہ منزل کڑی ہے۔ پہلے ہم گداختہ دلوں سے
اپنا دل لگائیں۔ معشوقی کو بالائے طاق رکھیں، عاشق بن جائیں۔ آج کل کی شاعرات سے
اب بھی بہتر ہیں۔ مشتری اور زہرہ کی ہم سر ہیں۔ دُور دُور کی سیر بھی کرچکی ہیں،
پیمانہ
With Regards
Afroza.M.Kathiawari.
Co-ordinator,
British Council Trainings,
DIET, Dharwad.Karnatak,India