ژینت-قیصر تمکین کی ایک یادگار کہانی

2 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Oct 25, 2012, 12:37:49 AM10/25/12
to 5BAZMeQALAM


سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر شکیل عادل زادہ نے نوے کی دہائی میں اپنے شہرہ آفاق ڈائجسٹ "سب رنگ" میں قیصر تمکین کی کہانی "ژینت" شائع کی تھی۔ "ژینت" ایک جداگانہ نوعیت کی تحریر ہے، سفاک بھی ہے، دلچسپ بھی۔ ع۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک, راقم کی نظر میں اگر یہ عموان بھی ہوتا تو کچھ ایسا برا معلوم نہ ہوتا۔ بچپن میں لڑکے لڑکیوں کا اپنے کسی نوجوان کزن کو آئڈئیل بنا لینا ایک عام سی بات ہے۔ ژینت کا مسئلہ بھی کچھ اسی نوعیت کا تھا۔ ہمارے سامنے اس کی ایک حالیہ مثال تو نواب پٹودی کے اکلوتے چشم و چراغ سیف علی خان کی ہے۔ کرینہ سے دھوم دھام سے شادی کی۔ یہ وہی لڑکی ہے جو چھوٹی سی عمر میں اکیس برس قبل "چھوٹے نواب" کی شادی میں اسٹیج پر دلہن و دولہا کو دیکھنے کے شوق میں چلی گئی تھی۔ روای کے مطابق جب کرنیہ نے نوبیاہتا جوڑے کو مبارکباد دی تو چھوٹے نواب نے جواب میں کہا تھا " تھینک یو بیٹا"

 
 لکھنؤ اور لندن کے گرد گھومتی اس کہانی کے کردار ایسے ہیں جیسے حقیقی ہوں، انداز بیان سادہ مگر دلنشین ہے۔ کہانی میں دلچسپی کا عنصر آغآز ہی سے قائم ہوجاتا ہے۔ بقول شکیل عادل زادہ، "زینت" میں کیا نہیں ہے، دھیمے دھیمے لہجے میں کیسی سوزش اور شورش ہے، وہ بڑی بڑی بات کیسے چپکے چپکے کہہ جاتے ہیں۔ ژینت اودھ کے کھنڈروں کی بازگشت ہے۔"

واقعہ تو یہ بھی ہوا تھا کہ شکیل عادل زادہ کے جریدے سب رنگ کے جن اراکین   نے انتخاب، کتابت اور پروف ریڈنگ کے دوران "ژینت" کو پڑھا، انہوں نے قیصر تمکین کی درازی عمر کے لیے دعا کی تھی۔ اور اسد محمد خان تو یہ کہہ بیٹھے تھے کہ " کسی تحریر میں ایسی جاں سوزی ہو ہی نہیں سکتی جب تک مصنف خود اس کا جزو، اس کا کردار نہ ہو۔"      

شکیل عادل زادہ کا، قیصر تمکین کے بارے میں کہنا ہے کہ:
"ایک ادیب، ایک آدمی اور ایک صحافی۔ بہت نرم و نازک، نہایت معتبر و محترم۔"       

یکم جنوری 1938 کو لکھنؤ میں پیدا ہونے و الے شاعر، ادیب و صحافی شریف احمد قیصر تمکین علوی نے 25 نومبر 2009 کو لیڈز برطانیہ میں آخری سانسیں لیں۔ برطانیہ میں وہ 1965 میں جابسے تھے لیکن تازہ بستیاں آباد کرنے کے باوجود ان کا دل "نکھلئو" ہی میں دھڑکتا رہا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ کہنے والے نے کہا کہ لکھنؤ پہلے ایک تہذیب تھا، اب محض ایک شہر ہے۔ گومتی ایک دریا اور شام اودھ بس ایک افسانہ۔ وہ شبستاں نہ پری چہرگاں . . . . جس دن جان عالم پیا تخت سے اترے تھے، لکھنؤ کو اسی دن خزاں نے آلیا تھا۔ نہ جنوں رہا نہ پری رہی یہاں تک کہ شاخ نہال غم بھی کمھلا گئی۔ 
راقم الحروف کا خیال قدرے مختلف ہے۔ لکھنؤ میں اور کچھ ہو نہ ہو، اردو زبان کو زندہ رکھنے کی کوشش میں مصروف سید ظفر ہاشمی اور ان کا "گلبن" تو ہے۔ بزم قلم کے لکھنوی احباب گواہ ہیں۔

ایک انٹرویو میں قیصر تمکین سے سوال کیا گیا:

۔ ۔ س : افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ آپ بطور صحافی بھی مختلف اخبارات سے وابستہ رہے ہیں آپ نے اپنی افسانہ نگاری کو صحافتی اثبات سے کس طرح محفوظ رکھا؟

جواب ملاحظہ ہو:
جب کوئی شخص سائیکل سے گر کر کسی حادثے سے دوچار ہوتا ہے تو ایک صحافی اس واقعے کی رپورٹ لکھ کر خبر بنا دیتا ہے اور جب ایسا واقعہ کسی حساس شخص یا لکھنے والے کے ذہن کو جھنجھناکے رکھ دیتا ہے تو پھر وہاں صحافت ختم ہو جاتی ہے اور کہانی آ جاتی ہے ۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میری کہانیوں میں جرنلزم نہ آئے اور ہر کہانی میں کوئی نہ کوئی بات کہہ جاؤں میں نے اس ضمن میں خواجہ احمد عباس اور کرشن چندر سے سبق حاصل کیا ہے کیونکہ یہ دونوں لکھنے والے اپنی کہانیوں میں نعرے بازی کرتے ہیں اور اپنی بات ٹھیک سے نہیں کہہ پاتے اور اپنی باتوں کو بڑے خوبصورت پیرائے میں شفیق الرحمن کہہ جاتے ہیں۔ اُن کے ایک ایک جملے پر انسان سوچتا رہ جاتا ہے ، فنکار وہی ہوتا ہے جس کی تحریر چونکا دے اور انسان تنہائی میں اس کے بارے میں سوچتا رہے جب کوئی شخص مشاعرے میں جاتا ہے تو وہ کئی اشعار سن کر واہ واہ کرتا ہے لیکن دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا وہ اشعار اُسے تنہائی میں بھی یاد آتے ہیں۔ تنہائی میں تو صرف غالب یاد آتا ہے، اقبال یاد آتا ہے۔

 
قیصر تمکین کی تخلیقات میں مندرجہ ذیل کتب شامل ہیں:

جگ ہنسائی (افسانے) 1957
سواستگا (افسانے) 1987
اللہ کے بندے (افسانے) 1989
یروشلم، یروشلم (افسانے) 1993
او یاسمین (افسانے) 1997
شعر و نظر (تنقید) 1997
صدی کے موڑ پر - افسانے
پس نوشت - افسانے

کفن کھسوٹ کو قیصر تمکین اپنا بہترین افسانہ قرار دیتے ہیں۔ کفن کھسوٹ، بریڈ فورڈ کے مجلے مخزن کے دوسرے (2002) شمارے میں شائع ہوا تھا۔ 
 
ان کے علاوہ قیصر تمکین نے اپنی خودنوشت بھی "خبر گیر" کے عنوان سے تحریر کی۔ خبر گیر، اورینٹ پبلشر لاہور سے جون 1987 میں شایع ہوئی تھی۔

"ژینت" پیش خدمت ہے۔ ایسے سینکڑوں فن پارے "ڈائجسٹی ادب" میں بکھرے پڑے ہیں۔ وہ ڈائجسٹی ادب جسے ادب عالیہ کے سنگھاسن کے قدموں تلے بھی کہیں جگہ نہ ملی، یہ الگ بات ہے کہ یہ معتوب ادب اپنے لاکھوں قارئین کو زبان سکھا گیا۔

خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے



Zeenat-kaiser tamkeen.pdf

Rashid Ashraf

unread,
Oct 30, 2012, 12:59:34 AM10/30/12
to rehan alavi, 5BAZMeQALAM

محترم علوی صاحب، آداب

تاخیر سے جواب کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

بہت شکریہ۔ آپ کے مکتوب میں کئی اہم باتیں ہیں، یادیں ہیں۔ پڑھ کر لطف اندوز ہوا۔ اتفاق دیکھیے کہ عید سے دو روز قبل ایک کتاب کی تعارفی تقریب میں مکرمی شکیل عادل زادہ سے طویل ملاقات کا موقع میسر آیا۔ "ژینت" پر بات ہوئی، 25 برس پرانی یہ کہانی ان کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے۔

اسی طرح بیگم نیلوفر اقبال کی دو کہانیوں کی تلاش بھی ایک عرصے سے ہے جو اب امید ہے کہ بار آور ثابت ہوگی۔ دونوں کہانیاں سب رنگ میں نوے کی دہائی میں شائع ہوئی تھیں۔ ایک کا نام "آنٹٰی" ہے۔ شاید احباب میں سے کسی کو یاد ہو۔

خیر اندیش
راشد


2012/10/28 rehan alavi <rehan...@hotmail.com>
 
Dear Ashraf,
 
Qaser Tamkeen say mulaqat Wah mein hooee thee..Bohet chotee umer mein..Unkay Bhai Dr Sahbbir Alavi meray Phuppa Wah Cantt public school kay Princiapl thay. Unki Ek aur Markutalara Kitab "Ek Kahani Gnagna Jamni" Muktaba Hamnari Awaz Wah-Pakistan say 2001 chappi thee (Flap hazir hay)..Yeh bhi ghazab kee kahanian heyn...Unkee kai tehreerayn Lucknow aur London kay gird  "Tawaf-e Mazgan" kertee nazer aatee hayn..May' Lucknow aakhree baar 1984 mien gaya tha us waqt Qaiser tamkeen London mein thay unkay kai aziz rishatay daron say mulaqat hoee mager Unsay mulaqat na ho saki..Itna yaad hay Mera Engineering ka pehla saal tha aur  Karachi lotnay kee jaldee thee kay kaheen dusray semester ka exam na miss hoe jaaey..mager us waqt Adeb Adab kee tameez mein yeh kahan maloom tha kay Qaser chuccha itnay achay likhnay waley bhee hayn..Hum toe Qaser tamkeen Alavi ko shabbir phuppa kay bhai kee haysiat say hee jantay thay...Woh jo hum tum mein nahee khak mein pinha hoe ker...Ashraf Saheb..Yad dila ker ankhay num ker deen aapnay.


Regards
 
:Rehan Alavi

 

Date: Thu, 25 Oct 2012 09:37:49 +0500
Subject: {15468} ژینت-قیصر تمکین کی ایک یادگار کہانی
From: zest...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
--
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
 
 

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages