”اردو میرے لیے طرز حیات ہے“
سہیل انجم
سوویر سرن شیف ہیں، مصنف ہیں، ایجوکیٹر ہیں اور عالمی سیاح ہیں۔ آٹھ فروری کو انگریزی روزنامہ ”انڈین ایکسپریس“ کے دہلی ایڈیشن میں اردو کے حوالے سے ان کا ایک خوبصورت کالم شائع ہوا تھا۔ اس کی زبان اتنی دلکش اور لطف انگیز ہے کہ اس کو پڑھ کر کافی دیر تک فرحت و انبساط کا احساس ہوا۔ اس کے ساتھ ہی اس خیال نے سکون و اطمینان کے لمحات بخشے کہ آج کے اردو مخالف ماحول میں بھی وہ لوگ اردو کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں جن کی اپنی مادری زبان اردو تو نہیں البتہ ان کے آبا و اجداد کی مادری زبان اردو ضرور رہی ہے۔ یہ بات قابل تحریر ہے کہ اس نسل کا تعلق غیر منقسم ہندوستان سے رہا ہے اور وہ موجودہ پاکستان کی باسی رہی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت وہی نسل جب ہندوستان منتقل ہوئی تو وہ اپنے ساتھ اردو کی خوشبو بھی لے کر آئی۔ اس کے بعد کی کم از کم ایک نسل اس خوشبو سے اپنے مشام جاں کو معطر کیے رہی۔ لیکن دوسری نسل یعنی ہندوستان آنے والوں کی بعد کی تیسری نسل اس زبان سے اسی طرح دور ہو گئی جس طرح موجودہ ہندوستان کے اردو مراکز کے اردو دانوں کی نسلیں دور ہو گئی ہیں۔ تاہم بعض اوقات کوئی نہ کوئی کرن پھوٹ پڑتی ہے جو کسی حد تک اردو کا اجالا پھیلا دیتی ہے۔ متعدد انگریزی اخبارات ایسے ہیں جو اس قسم کے کالم شائع کرتے ہیں۔ بالخصوص انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز میںگاہے بگاہے ایسی چیزیں شائع ہوتی رہتی ہیں جو ہمارے سامنے اردو کی اہمیت اجاگر کر دیتی ہیں۔ آئیے پہلے سوویر سرن کے کالم کی تلخیص ملاحظہ کر لیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
”میں نے اردو کسی سیاسی مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ طرز حیات کے طور پر سیکھی ہے۔ اس سے قبل کہ جب اردو کے ساتھ شناخت کا مسئلہ نہیں تھا، اس سے قبل جب لہجے کو ہتھیار نہیں بنایا گیا تھا، اس سے قبل جب الفاظ سے یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی وابستگی ثابت کریں (کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں) اردو میری زندگی میں خاموشی سے داخل ہو گئی بغیر کسی وضاحت کے، بغیر کسی دفاع کے۔ یہ میرے پاس وراثت کے طور پر آئی نہ کہ ہدایت کے طور پر۔ یہ اگر چہ رسمی آئی مگر لفاظی کے طور نہیں۔ میرے دادا ہر دسہرے پر ”قلم پوجا“ کیا کرتے تھے۔ سنسکرت کی دعاوں کے درمیان اردو خاموشی سے موجود رہتی۔ وہ ہر سال اردو میں چند سطور لکھتے جو دعا، اعتراف اور عکس ریزی کے لیے ہوتیں۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ زبان کس عقیدے سے تعلق رکھتی ہے۔ اردو میرے گھر میں مہمان کی حیثیت سے نہیں آئی بلکہ یہ پہلے سے موجود تھی۔ میرے بچپن میں اردو کچہری کی بھی زبان تھی۔ کس انداز سے شکایات درج کی جاتیں، کس طرح انصاف کی دہائی دی جاتی۔ درد کو وقار کے ساتھ کیسے بیان کیا جاتا۔“
اس کے بعد انھوں نے اردو کے ارتقاءپر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس تسلسل میں انھوں نے امیر خسرو، میر تقی میر، مرزا غالب اور محمد اقبال کی خدمات کا ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ امیر خسرو دنیاوں کے سنگم پر رہتے تھے لیکن انھوں نے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا۔ انھوں نے فارسی کو پراکرت میں گوندھا۔ گلی کے لیے شاعری کی تو درباروں کے لیے بھی کی۔ امیر خسرو نے اردو کو قہقہہ بخشا تو میر تقی میر نے اسے درد سے آشنا کیا۔ اردو نے میر سے سیکھا کہ دکھ کو اپنا دشمن بنائے بغیر سوگ و ماتم کیسے منایا جاتا ہے۔ پھر مرزا غالب آئے۔ انھوں نے زبان کو غور و فکر کرنا سکھایا۔ انھوں نے یقین پر اعتماد نہیں کیا۔ حیرت کو ترک کیے بغیر عقیدہ پر شک کیا۔ عقیدے کا مذاق اڑائے بغیر رسومات کا مذاق اڑایا۔ ان کی شاعری تضادات کا مجموعہ ہے۔ پھر محمد اقبال نے خودی، وقار اور بیداری پر زور دیا۔ وہ فلسفے کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری مابعد الطبیعاتی بھی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ تہذیبوں کو مسلسل اپنے بارے میں تحقیق و تفتیش کرنی چاہیے۔
سوویر سرن مزید آگے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اردو کی ان بڑی شخصیات کے بعد جن کی آوازیں دوسروں کی آوازوں پر چھا گئیں دیگر مزید تیز آوازیں سنائی دینے لگیں۔ خاموشی بھی تیز آوازوں میں تبدیل ہو گئی۔ فانی بدایونی کو لیجیے جن کی اداسی مایوسی نہیں گہرائی تھی۔ ان کی شاعری اس بات کاثبوت ہے کہ غم انسانی جذبات و خیالات کی وضاحت کی ایک شکل ہو سکتا ہے۔ اور پھر اکبر الہ آبادی کو دیکھیے جنہوں نے مزاح کو اخلاقی چھلنی کے طور پر استعمال کیا۔ وہ ایک ایسے دور میں آئے جب ہندوستان بدل رہا تھا۔ قوم انگریزی تعلیم و تہذیب کی دلدادہ ہو رہی تھی۔ ایسے میں اکبر نے اخلاقات کا درس دیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے دوران اپنی تہذیب کو مت بھول جانا۔ اپنی جڑوں سے مت کٹ جانا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ان تمام عناصر نے مل کر میرے لیے اردو کو ایک نایاب چیز میں تبدیل کر دیا۔ ایک نئی زبان میں تبدیل کر دیا۔ ایک ایسی زبان جو آپ سے وفاداری کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ صرف توجہ کی طالب ہے۔ میں نے یہ جو کچھ سیکھا صرف شاعری سے نہیں بلکہ لوگوں سے بھی سیکھا۔ میرے پھوپا جی ہرگوبند پرساد بھٹناگر لاہور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے غیر متزلزل عقیدت اور وابستگی کے ساتھ ہندوستان کی خدمت کی۔ وہ بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرل کے منصب پر فائز رہے۔ انہوں نے عزم اور تحمل کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کی۔ اس کے باوجود ان کی باطنی زندگی اردو کی طرف منتقل ہو گئی۔ یہ ان کی مادری زبان تھی۔ وہ زبان جس میں انھوں نے پڑھا، غور کیا اور نرم گوئی کی خصوصیات اختیار کیں۔ وہ صرف میرے والد اور میری پھوپھی کے ہی استاد نہیں بلکہ میرے بھی استاد تھے۔ انھوں نے مجھے نظموں اور غزلوں سے، میر کے غم و الم سے، غالب کی ستم ظریفی سے اور اقبال کی خودی و خود اعتمادی سے متعارف کرایا۔ اس زبان سے میں نے وہ کچھ سیکھا جسے جدید دنیا فراموش کر دینے کے لیے بے چین نظر آتی ہے۔اس زبان نے سکھایا کہ حب الوطنی اور تکثیریت ایک دوسرے کے متضاد نہیں، ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ اس نے بتایا کہ ایک شخص محاذ جنگ پر ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے اور وہ اپنی جیب میں شاعری بھی رکھ سکتا ہے۔ وہ اپنی گفتگو اس عظیم جملے پر ختم کرتے ہیں کہ زبان ملک سے وفاداری کو کمزور نہیں کرتی بلکہ اسے اور مضبوط بناتی ہے اور وفاداری میں انسانی جذبات کی آمیزش کرتی ہے۔
راقم الحروف ان کا کالم پڑھ کر کافی دیر تک سر جھکائے سوچتا رہا کہ کہاں ایک شیف، ایک سیاح، ایک ایجوکیٹر اور ایک مصنف کے خیالات اور کہاں اردو دشمنی کے جذبات رکھنے والے ان کے ہم مذہب۔ دونوں میں کتنا تضاد ہے۔ بہت زیادہ غور وفکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سوویر سرن کے ان خیالات کی بنیاد میں اردو زبان اور ا س کی شاعری کا مطالعہ ہے جو ان کی زبان سے یہ قیمتی باتیں کہلوا رہا ہے۔ اگر ان کے اہل خانہ اردو سے نابلد ہوتے، ان کے قریبی رشتے دار اردو تہذیب سے ناواقف ہوتے، ان کے پھوپھا جو کہ بی ایس ایف کے ڈائرکٹر جنرل تھے اگر اردو تہذیب سے لیس نہ ہوتے اور انھوں نے سوویر سرن اور ان کے اہل خانہ کو اردو تہذیب سے آشنا نہ کیا ہوتا، اگر ان کے دادا اردو داں نہ ہوتے، وہ سنسکرت کی دعاوں میں اردو کی محبت شامل نہ کرتے تو کیا سوویر سرن ان خیالات کے حامل ہو پاتے جن کا اظہار انھوں نے اس کالم میں کیا ہے۔
انھوں نے ایک اور بات لکھی ہے کہ ان کے دادا ہر دسہرے پر قلم پوجا کیا کرتے تھے۔ اسلام میں اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور کی پوجا کی اجازت نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جو کتاب نازل کی اس کی پہلے نازل ہونے والی آیات ہی میں قلم کی اہمیت جتائی گئی ہے۔ جب فرشتہ آپ کو سینے سے بھینچتا ہے تو کہتا ہے کہ ”اپنے رب کے نام سے پڑھوجس نے پیدا کیا۔ انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔پڑھواور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے۔جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔“ اس آیت میں جہاں اللہ کی خلاقیت کا بیان ہے وہیں قلم کی اہمیت کا بھی ذکر ہے۔ یعنی اللہ نے انسان کو قلم سے لکھنا سکھایا۔ میرا اپنا خیال ہے کہ سوویر سرن کے دادا کے مطالعے میں قرآن بھی رہا ہوگا اور انھوں نے ان آیتوں اور بالخصوص قلم سے متعلق آیت کا بار بار مطالعہ کیا ہوگا، اس کے مفہوم پر غور و خوض کیا ہوگا اور پھر قلم یعنی علم کی اہمیت ان پر مزید واضح ہو گئی ہوگی۔
لیکن ایک ہم ہیں جو نہ تو سب سے پہلے نازل ہونے والی ان آیات کی اہمیت سمجھتے ہیں اور نہ ہی قلم کی اہمیت محسوس کرتے ہیں۔ قلم ایک علامت ہے علم کی۔ مذکورہ آیات میں اللہ تعلی نے علم کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم علم کی اہمیت جانتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ نچھار کر دینے کے لیے تیار ہیں۔ رمضان میں ہم قرآن کی تلاوت زیادہ کرتے ہیں لیکن کیا اس کے معانی و مفاہیم کو بھی سمجھتے ہیں۔ ویسے تو مذکورہ کالم قلم اور علم کی اہمیت پر نہیں بلکہ اردو تہذیب پر روشنی ڈالتا ہے۔ لیکن اس کے بعض جملوں سے ان باتوں کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ آج کتنے ہیں جو سوویر سرن کی طرح سوچتے ہیں۔ ان کی طرح اردو شاعری اور اردو تہذیب کی اہمیت محسوس کرتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کی مادری زبان اردو ہے لیکن کیا وہ جن کی مادری زبان اردو ہے، اردو سے اپنے لگاو ¿ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ کالم صرف ہم اردو والوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اردود شمنوں کے لیے بھی ایک پیغام رکھتا ہے۔ جو لوگ اردو کی دشمنی میں مسلم دشمنی پر آمادہ رہتے ہیں کیا وہ اس کالم سے کوئی سبق سیکھ سکتے ہیں۔
موبائل: 9818195929