اُردو زبان وادب کی محبت سے سرشار قلم قافلہ سالار

0 views
Skip to first unread message

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 17, 2016, 7:16:14 PM7/17/16
to Aijaz .Shaheen
اُردو زبان وادب کی محبت سے سرشار قلم قافلہ سالار 
تسلیم الہٰی زلفی (کینیڈا)                                                                      


جس طرح دنیا کے ہر ملک میں تمام شہر ،مقامی ،ملک گیر یا عالمی سطح پر کسی نہ کسی حوالے سے اپنی ایک پہچان ضرور رکھتے ہیں بالکل اسی طرح پاکستان کاایک چھوٹا سا ترقی پذیر شہر کھاریاں بھی وہاں کے پروردہ اور اُردو زبان وادب کی محبت سے سرشار قلم قافلہ سالار گل بخشالوی کے حوالے سے اپنی ایک پہچان رکھتا ہے جس کا سرکاری سطح پر اعتراف اُس وقت سامنے آیا کہ جب ڈوگہ کالونی میں بخشالوی منزل کے سامنے والی گلی کو بلدیہ نے بخشالوی سٹریٹ کا نام دیا ۔1983ءمیں قائم ہونے والی کھاریاں کی پہلی بڑی اور اہم ادبی تنظیم بزم گل کے بانی سجیلے شاعر اور پختہ نثر نگار ،گل بخشالوی کو میں 1980ءکے اوائل سے جانتا ہوں جب یہ ہمارے پشتون بھائی اپنے نام کیساتھ حاجی بھی لکھا کرتے تھے اور 1980ءکی دھائی کے اواخر سے مجھے ”فنون “اور ”اوراق“ ،”سیب“،” افکار “،”ادب ِلطیف“اور ”نیرنگ خیال “وغیرہ میں پڑھتے رہنے کے تعلق سے اپنے ادبی مجلات ”خلش“اورپھر ”قلم قافلہ “کے علاوہ کتابی سلسلے ”سوچ رُت “،”بزم ِرسالت“،”پہچان “،”خود نوشت“وغیرہ کا ایک ایک حلقہ سعودری عرب میں آباد مجھ ”حجازی “کے پاﺅ ں میں پہنا کر اپنا اسیر بنالیا تھا لیکن سعودی عرب میں چالیس سال قیام کے بعد 1990ءمیں جب ہماری تیسری ہجرت کینیڈا ہوئی تب سے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا تھا مگر ابھی چند ماہ قبل کی بات ہے کہ ہم یہاں ٹورنٹو میں اپنے کلوقتی اور ٹی وی چینل کے کسی پروگرام کی ریکارڈنگ میں مصروف تھے کہ امریکی کی ریاست بوسٹن سے گل بخشالوی کا فون آیا کہ ”میں اپنے ادبی مجلہ ”قلم قافلہ “کی اشاعت بحال کر رہاہوں اور آپ جیسے اپنے پرانے قلمی معاونین کی تخلیقات کا طلبگار ہوں “۔بیس سال کے ایک طویل غیاب کے بعد یوں اچانک اُردو زبان وادب کے اس بے لوث خدمت گزار بخشالوی کی آوا سن کر ہم پر تو گویا حیرت ومسرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔۔۔۔اور پوچھا کہ ۔۔”امریکہ کب آئے !“بولے ۔۔۔۔”زلفیبھائی !یہ گذشتہ بارہ سال پر محیط ایک لمبی ارودکھ بھری داستان ہے سو پھر کبھی ۔۔۔فی الحال آپ جلدی سے مجھے ا پناکچھ تازہ کلام اور ایک تحقیقی وتنقیدی مضمون بھیج دیں اور ساتھ ہی مجھے اپنی تمام کتابیں بھی کسی آنے والے کے ہاتھ بھجوادیں ۔
ایک ادیب شاعر یا فنکار اگر اپنے موضوعات پر کوئی قدغن نہ لگائے اور وہ تمام داخلی اور خارجی موضوعات بغیر کسی تعصب کے بیان کرتا چلا جائے تو اس کے فن میں جہاں ذاتی ،داخلی تجربات ہوں گے وہاں معاشرے کے اجتماعی رویوں اور خارجی حقیقتوں کا تذکرہ بھی ہوگا اور ہم دیکھتے ہیں کہ گل بخشالوی اُردو ادب کے ان ہی زریں اصولوں پر کاربند ہیں انسان نے جب سے کرئہ ارض پر آنکھ کھولی ہے وہ ایک انجانے خوف ،احساسِ ناتوانی اور تشکک کا شکار رہا ہے اور غالباًاسی اندرونی واردات کو شکست دےنے کیلئے وہ اجتماعیت ،مشاہدہ اور تخلیقی صلاحیتیوں سے کام لیتارہا ہے نسل انسانی تاریخی کے کئی مرحلوں پر بے پناہ تشدد ،قتل ِعام اور احتسابی تحریکوں کا شکار رہی ہے لیکن اس نے ہمیشہ اپنے اجتماعی ،فلاحی اور ارتقائی وانقلابی جذبے سے کام لے کر اپنے احساسِ شکست کو احساسِ فتح میں تبدیل کر دیا ہے آج اگر استحصالی قوتوں ،تخریبی کاروائیوں اور مذہبی جنوں کا ریوں نے انسان کیلئے ان گنت خطرات پید ا کر دئےے ہیں تو کیا ان خطرات کا اجتماعی احساس وشعور سے مقابلہ کرکے عظمت ِانسانی پر مہرِ تصدیق ثبت کرنا بہتر ہے ؟یا جبر اور اندھیرے کی طاقتوں کا مقابلہ کےے بغیر پسپا ہونا بہتر ہے ؟وہ ادیب یا شاعر جو قاری میں یقین نہیں رکھتے ،طبقاتی تضادات میں یقین نہیں رکھتے ،آخر وہ ادب کس کیلئے تخلیق کر رہے ہیں؟کیوں تخلیق کر رہے ہیں اور ان کا منتہائے ادب کیا ہے ؟یہ وہ سوالات ہیں جو بخشالوی کیلئے سوہانِ روح بنے ہوئے ہیں جس کا اظہار وہ اپنی شاعری ،مضامین اور اپنے مجلات کے اداریوں میں کرتے رہتے ہیں ۔
کفن پہن کے میں گھر سے نہا کے نکلا ہوں 
میں سر کو شانے پہ اپنے اُٹھا کے نکلا ہوں رئیس شہر ہے قاتل ،یہ دیکھنا ہے گل 
میں اپنی قبر پہ تختی سجا کے نکلا ہوں 
............
واعظ توڈراتا ہے مری موت سے مجھ کو 
مقتل میں مجھے دیکھنا کیسے میں سجوں گا 
............
مزدور کی بس جان اڑی ہوتی ہے 
دہلیز پہ جب موت کھڑی ہوتی ہے 
............
لب پر جو کبھی بھوک تڑپ جائے گل 
زردار کو تکلیف بڑی ہوتی ہے 
............
دریاﺅں میں پانی بھی تو لاﺅ جاناں 
پانی سے تو بجلی بھی بناﺅ جاناں 
ہڑتال سے بجلی تو نہیں آئے گی 
خوں اپنا پسینے میں ملاﺅ جاناں 

ادب زادوں کی کرسی پر اگر تھا شوق جلوے کا 
توزرداروں سے پھر کیوں پاﺅں کی زنجیر مانگی تھی 
میں گل بخشالوی لکھتا ہوں تو بے خوف لکھتا ہوں 
سخن میں اپنے خالق سے یہی تاثیر مانگی تھی 
ہم دیکھتے ہیں کہ ہر معل کے پیچھے میلانات ،رجحانات اور ان سے پیدا شدہ روےے کار فرماہوتے ہیں اب اگر سماجی میلانات اور روےے موجود صورتحال کو برقرار رکھنے اور انہیں تبدیل نہ ہونے دینے کے ہوں تو تخلیق سے خوفزدگی فطری بات ہوگی لیکن گل بخشالوی کی خوبی یہ ہے کہ وہ سماجی رویوں سے کسی خوف کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تخلیقی عمل محض شعروادب یا فنونِ لطیفہ کی تخلیق تک محدود نہیں ہے تخلیقی رویوں کی کارفرمائی زندگی کے ہر شعبے اور عمل میں ہوسکتی ہے آپ کے چھوٹے سے چھوٹے اور معمولی کاموں میں بھی یہ روےے محسوس کےے جاسکتے ہیں بشرطیکہ وہ موجود کو بہتر اور خوبصورت بنا کر اس کی قلبی ماہیت کرنے اور زندگی کو خوبصورتی اور توانائی بخشنے کیلئے ہوں نیز یہ کہ زندگی کے فطری آہنگ کے مطابق ہوں اور بخشالوی تخلیقی رویوں کی اس کارفرمائی کے زیر اثر ہی شعر کہتے ہیں 
ذہن میں کیسے بتاﺅں روشنی ہونے لگی 
بھوک برسی صحن میں ،تو شاعری ہونے لگی 
کیا قلندر کے سخن میں بھی عجب پیغام تھا 
میرے خوابیدہ لہو میں روشنی ہونے لگی 

جودل میں ہو وہی لب پر انہیں اچھا نہیں لگتا 
جوانساں ہے مرے اندر انہیں اچھا نہیں لگتا 
انسان میں اگر ایمان ایقان کی کمی ہو تو اس کا خطاب ضرورت سے زیادہ بلند آہنگ ہوجاتا ہے آپ اپنے عہد کی مروج نعرے بازی کو لے لیجئے بلند اور خوش آہنگ نعرے ایمان اور یقین کی کمی اور بے مصرف توانائی کے بے معنی مصرف کو ظاہر کرتے ہیں اعلیٰ سے اعلیٰ صداقت جب نعرہ بنتی ہے تومسخ ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے گل بخشالوی جانتے ہیںکہ نعروں کے ذریعے جو صداقتیں دل میں اُترتی ہیں یا اُتار ی جاتی ہیں وہ صداقتیں نہیں ہوتیں صداقتوں کی مسخ شدہ صورتیں ہوتی ہیں ان کیلئے ذہنی کاوشیں نہیں کرنی پڑتیں غور وفکر کے تردد کے بغیر اگر صداقتیں نعروں کے ذریعے دل میں اُتر جائیں اور ایمان وایقان کا درجہ حاصل کرلیں تو زبانی جمع خرچ اور غور وفکر کی قوتوں کا کام میں لانا کیا ضروری ہے ۔
اسلام کی پہچان ،درخشاں تُوتھا 
تاریک تھی جب رات ،چراغاں تُو تھا 
اس خون کی ہولی سے تو پہلے گل دیس 
توحید ِگلستاں میں فروزاں تُو تھا 
............
وطن کی آن ہیں جو دل میں پاکستان رکھتے ہیں 
وہ امریکہ میں بھی پختونیت کی شان رکھتے ہیں 
سفیرانِ وطن ،پردیس میں اعزا ز ہے اپنا 
محمدمصطفےٰ کے دین میں پہچان رکھتے ہیں 
پاکستانی معاشرہ میں جہاں خواندگی کی شرح بہت کم ہے اور جہان کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد بھی کم ہے ایک ایسے معاشرہ میں کسی لکھنے والے کیلئے یہ ناممکن ہے کہ وہ لکھنے کو اپنا پیشہ بنائے اور اس کی آمدنی پر اپنا گزارا کر سکے اس لےے اکثر لکھنے والے لکھنے کو جزوقتی طور پر اختیار کرتے ہیں اور روزی کیلئے ملازمتیں کرتے ہیں اس تناظر میں اگر ہم گل بخشالوی کی عملی زندگی کا جائزہ لیں تو اُردو زبان وادب کے اس رضا کار پر رشک آتا ہے جس کے پاس کالج یا یونیورسٹی کی کوئی ڈگری نہیں ہے لیکن وہ چکی کی مشقت کے بعد ماضی میں پاکستان کے ایک چھوٹے سے ترقی پذیر شہر کھاریاں اور ابشمالی امریکہ میں آباد اہل قلم کے رشحات قلم کی اشاعت کیلئے قلم قافلہ کی سالاری کر رہا ہے ۔
٭٭٭


--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786

Khadim Ali Hashmi

unread,
Jul 18, 2016, 3:37:01 AM7/18/16
to BAZMe...@googlegroups.com
شکریہ۔ ایک اچھے ادیب، شاعر و صحافی کا عمدہ تعارف ہے۔
خادم علی ہاشمی 


Ibn-e-Azim Fatmi

unread,
Jul 18, 2016, 3:44:47 AM7/18/16
to BAZMe...@googlegroups.com, Gul Bakhshalvi
Bhai Gul Bakhshalwi G,
Masha Allah. Allah khush rakhay.
khair andesh,
ibn-e-azim fatmi

With all the best wishes,
Ibn-e-Azim Fatmi
Karachi
0333-2385477
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages