مولانا عبد النور (نور عظیم) ندوی ازہری کی صحافتی خدمات

5 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Sep 20, 2026, 4:23:26 AM (6 days ago) Sep 20
to bazme qalam, Dr. Naushad Usmani, Abdul Mateen Muniri, Abdur raheem Khan
مولانا عبد النور (نور عظیم) ندوی ازہری کی صحافتی خدمات
سہیل انجم
دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو نے بڑے بڑے اہل علم پیدا کیے جنھوں نے دنیا کو بیش بہا علمی خزانوں سے مزین کیا ہے۔ ندوہ سے فیض یافتہ اور پھر اسی درسگاہ میں تدریسی، تحقیقی، علمی و صحافتی خدمات انجام دینے والوں میں ایک نام مولانا عبدالنور (نور عظیم ندوی ازہری) کا بھی ہے۔ ندوہ کی ماضی قریب کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوگی۔ وہ 1942 میں اترپردیش کے سابق ضلع بستی اور موجودہ سدھارتھ نگر کے مردم خیز گاوں اکرہرا میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال 31 جنوری 1993 کو لکھنو میں ہوا۔ ان کے والد مولانا عبدالعظیم بستوی ایک بڑے عالم دین تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم اکرہرا، شمس العلوم سمرا اور جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ دارالعلوم ندوة العلماءگئے اور وہیں عا لمیت و فضیلت کی تکمیل ہوئی۔ ندوے کے علمی ماحول نے ان کی فکر و نظر کو جلا بخشی۔ ندوہ سے فراغت کے بعد ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی کی خواہش پر مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے۔ انھوں نے وہاں 1965 سے 1968 تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جامعہ کے ترجمان پندرہ روزہ ”الہدیٰ“ کی ادارتی ذمہ داری بھی سنبھالے رہے۔ جب وہ ندوة العلماءمیں زیر تعلیم تھے تو ان کی صلاحیتوں سے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی متاثر ہوئے تھے۔ لہٰذا انھوں نے مولانا عبد النور کو احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے ندوہ میں تدریسی خدمات کے لیے بلا لیا ان کی صحافیانہ صلاحیتوں کے پیش نظر ان کو 1969 میں لکھنو کے ہفت روزہ ”ندائے ملت“ کی ادارت سونپی گئی۔ ندائے ملت کا وہ دوسرا دور تھا جب یہ اخبار ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی نگرانی میں شروع ہوا۔ انھوں نے اس مجلے کی ادارت کی ذمہ داری مولانا سید رابع حسنی ندوی کی اجازت سے ان کے سپرد کی تھی۔ مولانا عبدالنور کو الہدیٰ کی ادارت کے وقت جو صحافتی تجربہ ہوا تھا، اس ذمہ داری کی ادائیگی میں انھوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس کی تفصیل ان کے رفیق خاص اور ندوہ کے استاد مولانا نذر الحفیظ ندوی نے مولانا کے فرزند ذکی نور عظیم ندوی کی ترتیب کردہ کتاب ”نقوش نور“ میں شامل اپنے مضمون ”میرے ساتھی میرے دوست“ میں یوں پیش کی ہے: ”ندائے ملت کی ذمہ داری ہم دونوں کے سپرد 1969 میں ہوئی تو اس وقت ہم دونوں روزانہ بعد نماز عصر دفتر ندائے ملت کوئن روڈ پر جاتے۔ روزانہ کی ڈاک دیکھتے۔ خطوط کے جواب دیتے اور پرچے کی ترتیب کی تیاری کرتے۔ آئندہ کے لیے مضامین طے ہوتے کہ کس کو کیا لکھنا ہے۔ مولانا محب اللہ اداریے لکھتے۔ نور صاحب عام طور پر سیاسی تبصرے تیسرے صفحہ پر لکھتے۔ ہمارے ذمہ عالم اسلام کا کالم تھا۔“
1974 میں مولانا عبدالنور کا داخلہ جامعہ ازہر مصر میں ہو گیا۔ قاہرہ ریڈیو کے شعبہ اردو میں مترجم اور اناونسر کی ایک جگہ خالی ہوئی۔ انھوں نے وقت گزاری کے لیے یہ ملازمت قبول کر لی اور انھوں نے چھ ماہ تک یہ ذمہ داری ادا کی۔ اسی درمیان جامعة الامام محمد بن سعود ریاض میں تعلیم اللغہ العربیہ للاجانب کی جگہ ان کو مل گئی اور وہ حجاز روانہ ہو گئے۔ ریاض میں ان کا معاہدہ ایک سال کے لیے تھا۔ اس کے بعد رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے وہ مبعوث ہو کر ندوہ میں آگئے۔ انھیں 1983 میں مجلس ”الصحافة الاسلامیہ“ کی ادارت سونپی گئی۔ اس کے علاوہ انھیں رابطہ ادب اسلامی کے لکھنو دفتر میں سکریٹری بھی مقرر کر دیا گیا۔ انھوں نے رابطہ ادب اسلامی کے ترجمان سہ ماہی ”الادب الاسلامی“ کی ادارت کی ذمہ داری نبھائی۔ صحافت سے ان کو دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے متعدد رسائل و جرائد میں صحافتی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ بے شمار مجلات میں مضامین بھی لکھے جن میں ماہنامہ البعث الاسلامی، الرائد، تعمیر حیات، معارف، صدق جدید، برہان، الہدیٰ، محدث اور قومی آواز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ندوہ میں ملک و بیرون ملک سے آنے والی شخصیات اور وفود کے استقبالیہ پروگراموں میں شرکت کرنا اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی تحریروں کا ترجمہ کرنا انہی کے ذمہ تھا۔ندوة العلماءمیں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے ان میں علمی پختگی پیدا ہوئی۔ جبکہ مصر میں طویل قیام کی وجہ سے عربی زبان پر عبور حاصل ہوا۔ ان کی غیر معمولی علمی صلاحیت سے جامعہ ازہر کے طلبا اور اساتذہ بھی متاثر تھے۔ ان کو عربی سے اردو میں ترجمہ کرنے پر بھی عبور حاصل تھا۔ عربی اخبارات کا مطالعہ اور ریڈیو پر عربی پروگرام سننا ان کے معمول میں شامل تھا۔ ان کو سیاسی و ثقافتی امور سے بھی بڑی گہری دلچسپی تھی۔ وہ ملکی و غیر ملکی حالات و واقعات کو جاننے کی بھی خواہش رکھتے تھے بلکہ اس کے لیے خاص اہتمام کرتے۔ وہ مطالعے کے بھی شوقین تھے۔ مصر اور دنیائے عرب میں جب بھی کوئی اہم کتاب شائع ہوتی تو اس کا علم ان کو ضرور ہوتا۔ وہ اسے حاصل کرنے اور اس کے مطالعے کی تگ و دو کرتے۔ وہ اپنی مجلسوں میں جہاں سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے وہیں نئی کتابوں کو بھی احاطہ گفتگو میں لاتے۔ ان کے انتقال پر مولانا سید ابوالحسن ندوی نے اپنے مضمون میں ان کی صلاحیتوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
 وہ ایک طنز و مزاح نگار بھی تھے اور فرضی ناموں سے طنزیہ و مزاحیہ کالم لکھتے۔ مطیع الرحمن عوف ندوی نے ”یہ وہ چراغ ہیں بجھ کر جو نور چھوڑ گئے“ کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مولانا نے جہاں علم و فن کے بہت سے میدانوں میں قدم رکھا اور ان میں ممتاز مقام حاصل کرکے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا وہیں انھوں نے طنز و ظرافت کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی۔ مولانا کی زبان نہایت سلیس اور شگفتہ تھی۔ وہ بیجا تکلفات، عبارت آرائی اور بھاری بھر کم الفاظ کے استعمال سے گریز کرتے۔ انھوں نے اپنے منفرد انداز بیان سے قارئین کے دلوں میں اپنا گھر بنا لیا تھا۔
مولانا عبد النور مسلکاً اہل حدیث تھے اور وہ پوری زندگی اسی پر قائم رہے۔ بلکہ وہ اہل حدیث ہونے پر فخر بھی کرتے تھے۔ لیکن ان کے اندر مسلکی تعصب یا تنگ نظری کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے ان کے قریبی مراسم رہے بلکہ دوسرے مکاتب فکر سے وابستہ متعدد افراد سے ان کے دوستانہ تعلقات رہے۔ ان کی عزت بھی تمام مکاتب فکر کے لوگ کرتے رہے ہیں۔ وہ کس قدر مقبول تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے انتقال پر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی سے لے کر درجنوں شخصیات نے اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ ان کے فرزند ذکی نور عظیم ندوی اپنے مضمون ”والد محترم: کچھ یادیں کچھ باتیں“ میں اپنے والد گرامی کی شخصیت کے مختلف الجہات پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ والد محترم نے مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کی مختلف کتابوں کے مقدمے اور اہم اجزاءخود مولانا مد ظلہ سے مختلف نشستوں میں سبقاً سبقاً پڑھے۔ فراغت کے کئی سال بعد چھ ماہ مستقل مولانا کی خدمت میں رہ کر ان کی مجالس سے فائدہ اٹھایا اور اخیر عمر تک ان کی مجلسوں اور عام گفتگو سے استفادہ کا سلسلہ جاری رہا۔ 1964 میں ندوے سے فراغت کے بعد گھر کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے دارالعلوم احمد یہ سلفیہ لہر یا سرائے دربھنگہ بہار چلے گئے اور وہاں دو سال تک عربی زبان وادب کی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور مدرسہ کے ترجمان ”الہدیٰ“ کو بھی اپنی قلمی کاوشوں سے چار چاند لگاتے رہے .... مولانا علی میاں نے ان کو مادر علمی ندوة العلماءکی خدمت کے لیے لکھنو بلا لیا۔ یہاں آپ کے جو ہر کھلے۔ دار العلوم میں عربی زبان و ادب کی تدریس کے علاوہ تعمیر حیات، ندائے ملت اور الرائد میں لکھنا شروع کیا۔انھوں نے ندائے ملت کا رسول نمبر اور تعلیم نمبر بڑی محنت اور سلیقہ سے مرتب کیا۔ مولانا علی میاں کے مشورہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ الازہر مصر چلے گئے.... وہاں پہلے قاہرہ ریڈیو کے شعبہ اردو میں چھ سات مہینہ تک اناو ¿نسری کے فرائض انجام دیے اور پھر وہاں سے جامعہ الامام محمد بن سعود میں عربی ادب و انشاءکی تدریس کے لیے چلے گئے۔ لیکن گھر پر اپنی ذمہ داریوں کے احساس اور بچوں کی تربیت کی بے قراری نے انھیں جلد ہی جامعہ الامام محمد بن سعود کی ذمہ داری چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور بالآخر 1982 میں عالم اسلام کے مشہور ادارہ رابطہ عالم اسلامی کے مبعوث مقرر ہوئے اور دار العلوم ندوة العلماءمیں آپ کا تقرر ہوا۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد اپنی علمی، ادبی، صحافتی اور انتظامی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور ندوة العلماءمیں عربی زبان و ادب کی معیاری کتابیں پڑھانے لگے ۔ ادب اسلامی کی عالمی تنظیم رابطہ ادب اسلامی کے قیام کے بعد آپ اس کے صدر دفتر کے ذمہ دار مقرر ہوئے اور آپ نے اپنے استاذ اور بعد کے رفیق مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے ساتھ مل کر اس نو خیز تحریک کو آگے بڑھایا۔ اس کے کامیاب سمیناروں میں والد صاحب کا نمایاں رول رہا۔ وہ تمام ادبی تحریکوں اور تنظیموں خصوصاً یورپ کے ادبی مکاتب فکر پر وسیع نظر رکھتے تھے اور اسلامی ادب اور باطل ادبی تنظیموں کا موازنہ دلچسپ انداز میں کرتے۔ ادب اسلامی کی ضرورت و اہمیت اور موجودہ زمانہ میں اس کی افادیت کو بیان فرماتے۔ ان کا ادبی نظریہ وہی تھا جس کا وہ ان الفاظ میں تذکرہ کیا کرتے تھے کہ ادب برائے ادب کا کوئی مطلب میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا۔ ادب برائے اصلاح فکر و نظر ، ادب برائے بلندی انسانیت، ایک شایان نصب العین ہے جس کے لیے ایک باہمت اور بلند حوصلہ انسان زندگی کے قیمتی اوقات بے دریغ قربان کر سکتا ہے۔
ان تفصیلات کی روشنی آسانی سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا عبدالنور (نور عظیم ندوی ازہری) ہمہ جہت خوبیوں کے مالک تھے۔ انھوں نے نسبتاً اپنی کم عمر میں ہی وہ علمی کارنامے انجام دیے جو ان کا نام تادیر زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ دارالعلوم ندوة العلماءکے اکابر کا جب بھی ذکر ہوگا تو ماضی قریب کی شخصیات کے ضمن میں ان کا ذکر بھی ضرور ہوگا۔
موبائل:9818195929

Ml Abdul Noor Nadvi.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages