my weekly Urdu Article

4 views
Skip to first unread message

Dr Tasleem Rehmani

unread,
Dec 30, 2025, 3:39:03 AM (10 days ago) 12/30/25
to bazmeqalam, bazmeqalam

ایٹمی توانائی قانون: کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

حال ہی میں  پارلیمانی اجلاس کے دونوں ایوانوں نے ایک نیا قانون پاس کر کے  ایٹمی توانائی کی زمرے میں سرمایہ کاری کے لیے دنیا بھر کے پرائیویٹ اداروں کو اجازت دے دی ہے۔ اس قانون کا نام’’ شانتی ‘‘   (Sustainable Harnessing & Advancement of Nuclear Energy Transforming India Act 2025,SHANTI )رکھا گیا ہے۔ ملک میں ایٹمی توانائی کے فروغ کا آغاز اگرچہ 1950 میں ہی بہت چھوٹے پیمانے پر ہو چکا تھا لیکن اس کے لیے قانون پہلی مرتبہ 1962 میں ایٹمی توانائی قانون کے نام سے بنایا گیا تھا ۔اس قانون کی رو سے یہ پروگرام مکمل طور پر رازداری کے ساتھ حکومت ہند کی نگرانی اور سرپرستی میں چلائے جانے کی بات کی گئی تھی۔ ملک میں 1948 میں ہی  ایٹمی توانائی کا قانون تو پاس ہو گیا تھا لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی تھی، 1954 میں پہلی بار ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے باقاعدہ ایٹمی توانائی کا ایک شعبہ وزیراعظم کے زیر نگرانی قائم کیا گیا تھا، نیز 1958 میں ایک دیگر صدارتی حکم نامے کے تحت ایٹمی توانائی کمیشن بھی قائم کر دیا گیا تھا۔ لیکن باقاعدہ ایکٹ 1962 میں پاس کیا گیا تھا۔ 2008 میں نیوکلیئر ڈیل ہونے تک اس قانون کا کہیں کوئی ذکر بھی نہیں تھا ،حکومت  رازداری کے ساتھ یہ پروگرام چلاتی رہی۔ 1974 میں پہلی بار’’ متبسم بدھا ‘‘کے نام سے اندرا گاندھی نے  پوکھران میں پہلا ایٹمی تجربہ کر کے ساری دنیا کو اچانک حیران کر دیا ۔اس کے بعد یہ پروگرام بتدریج آگے بڑھتا  رہا اور 1998 میں اٹل بہاری باجپئی کے دور میں ’’آپریشن شکتی ‘‘کے نام سے اسی  پوکھران میں ایٹم  بم کا تجربہ بھی کر دیا۔ یہ پروگرام اس وقت اے پی جے ابو الکلام کی زیر نگرانی چل رہا تھا جنہوں نے  ایٹمی میزائل بھی بنائے ،اسی لیے ان کو’’ میزائل مین‘‘ کہا جاتا ہے اور اسی اعزاز میں ان کو ملک کا صدر جمہوریہ( 2002 سے 2007 ) بھی بنایا گیا ۔

واضح رہے کہ ملک کی ایٹمی پالیسی کے ساتھ خارجہ پالیسی بھی عوامی طور پر کسی تذکرے کا حصہ نہیں بنتی جبکہ اکثر حالات میں تمام ہی عوام اس سے کسی نہ کسی طور پر متاثر ضرور ہوتے ہیں۔ ملک کے ارباب اقتدار اور کچھ مخصوص حلقے ہی اس بحث میں حصہ لیتے ہیں، خصوصا زمینی طبقات جو اپنی روزمرہ زندگی کی کشا کش میں  الجھے رہتے ہیں، ان کی نظر تو ان حالات پر بالکل نہیں جاتی۔ چنانچہ دلت، قبائلی، پس  ماندہ طبقات اور ان میں بھی اب حال ہی میں ایک نیا ’’مطعون طبقہ‘‘ تو بالکل کچھ جانتا ہی نہیں ،اسے اپنے احتجاج اور شکوے شکایت سے  ہی فرصت نہیں ملتی کہ ملک کے قومی معاملات اور مستقبل کو متاثر کرنے والے سرکاری فیصلوں کی خبر رکھے اور ان پر اپنی رائے بھی ظاہر کرے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس سنجیدہ معاملے پر بھی سب کی توجہ مبذول ہو۔

 

   دسمبر17-18کو پاس کیے گئے اس نئے شانتی قانون پر پارلیمنٹ میں بھی کوئی خاص بحث نہیں ہوئی۔ لوک سبھا اور راج سبھا میں کل ملا کر آٹھ، نو گھنٹے کی بحث ہوئی( جبکہ ایک غیرضروری وندے ماترم معاملے پر دونوں ایوانوں میں 20 گھنٹے سے زائد بحث کی گئی )۔اسی طرح میڈیا نے بھی اس قانون پر کوئی عوامی بحث نہیں کی، بلکہ محض ایک خبر کے طور پر اسے نشر کیا گیا ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کو پاس کرنے کا ایک تاریخی  منظر نامہ بھی ہے اور اس سے ملک کی  داخلی سلامتی کو شدید اندیشے بھی لاحق ہیں، نیز اس سے ملک کے خارجہ معاملات بھی براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔

 

 

۲۰۰۸ کی  امریکہ۔ بھارت نیو کلیئر ڈیل سب کو یاد ہوگی ۔حالانکہ اس ڈیل پر پارلیمنٹ میں کوئی باضابطہ بحث نہیں ہوئی، مگر اس کی مخالفت میں عوامی بحث اتنی زوردار ہوئی تھی کہ پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد  تحریک لائی گئی،جس سے  اس وقت کی منموہن سرکار  بڑی مشکل سے بچ پائی ۔الزام یہ تھا کہ اس ڈیل اور حکومت کو بچانے کے لیے ایک خطیر رقم خرچ کی گئی ۔ خود بی جے پی کے 10 ممبران پارلیمنٹ نے پالا بدل کر حکومت کے حق میں ووٹ ڈالا تھا ۔اس وقت بھی یہ معاملہ زیر بحث تھا کہ آخر امریکہ کو اس ڈیل میں اتنی دلچسپی کیوں ہے۔ اس ڈیل کے منظور ہوتے ہی ملک کو نیوکلیئر سپلائر گروپ میں  شامل کر لیا گیا جس سے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو یہ آزادی مل گئی کہ وہ اپنے نیوکلیئر ری  ایکٹراور خام مال بھارت کو بیچ سکتے ہیں۔  ایٹمی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نے بھی ہری جھنڈی دے دی۔   حالانکہ بھارت نے مہلک ہتھیاروں کے عدم تکاثر ( این پی ٹی)  پر کبھی دستخط نہیں کیے، اسی طرح اسرائیل ،پاکستان، جنوبی سوڈان نے بھی اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے۔ یعنی یہ ممالک ایٹمی بم بنانا چاہے تو اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ایشیا میں ان  ممالک کے سوا شمالی کوریا نے بعد میں خود کو اس سے الگ کر لیا اور ایران الگ ہونے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت اب ایک معلوم ایٹمی طاقت بن چکے ہیں، جبکہ اسرائیل ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اس کا باضابطہ اعلان نہیں کرتا ،اس صورتحال میں بھارت کے ایٹمی پروگرام کو جس طرح بین الاقوامی سطح پر قابل تعریف سمجھا جاتا ہے ایسا کسی اور ملک کو نہیں سمجھا جاتا، یہ 2008 کی ڈیل کے بعد ہی ممکن ہو سکا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 2010 میں بھارت نے قانون پاس کر کے ایٹمی تجربات کے دوران ہونے والے حادثات اور نقصانات کی پوری ذمہ داری ان اداروں پر ڈالی جو  یہ تجربات کر رہے ہوں گے۔ اسی طرح 2016 میں ایک اور قانون پاس کر کے امریکہ کو یہ آزادی دی گئی کہ وہ اپنی جنگی جہاز بھارت میں پارک بھی کر سکتا ہے، ان کی مرمت  ،پرزے،اور ان میں ایندھن بھی لے سکتا ہے ۔گو کہ اس پارکنگ کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے مگر شرط یہ ہے کہ امریکہ  ملک میں اپناکوئی مستقل فوجی اڈا نہیں بنا سکتا۔ دنیا کے دیگر ممالک کوبھارت میں یا تو یہ سہولت حاصل ہی نہیں ہے، یا بہت مشروط ہے۔  اس تازہ قانون میں 2010 کے قانون کو بالکل ختم کر دیا ہے۔ 1962 کے ابتدائی ایٹمی توانائی قانون کو بھی بے حد کمزور کر دیا ہے، ایٹمی توانائی کی نگرانی کرنے والے شعبے اور ایٹمی کمیشن کو بھی تقریبا بے اختیار کر دیا ہے۔ غیر ملکی اور دیسی کمپنیوں کو کھلی اجازت دی دی گئی ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہاؤس بنائیں اور ایٹمی توانائی پیدا کرکے حکومت کو اپنے داموں پر فروخت کر دیں ۔حکومت اس کے لیے ان کو چھوٹے رینج کے دیسی ری ایکٹر خود سپلائی کرے گی۔ مگر کسی بھی ناگہانی  حادثے یا تکنیکی خرابی کے نتیجے میں ہونے والے عوامی جان و مال کے نقصانات کی کوئی بڑی ذمہ داری ان نجی اداروں پر نہیں ہوگی۔ مثلا جس کمپنی کا کارخانہ جتنا بڑا ہے اسی حساب سے ان سے تاوان وصول کیا جا سکتا ہے جو زیادہ سے زیادہ تین ہزار کروڑ روپے ہی ہوگا  ۔یہاں یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ ایٹمی  حادثے عام طور پر بہت زیادہ مہلک اور ضرر رساں ہوتے ہیں۔ مثلا 1986 میں یوکرین کے چرنو بل شہر میں ہونے والے ایٹمی حادثے کے نتیجے میں کل ملا کر تقریبا 700 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا جو بھارتی روپے میں تقریبا چھ لاکھ 42 ہزار943 لاکھ کروڑ روپے بنتے ہیں۔ 30 کلومیٹر کی رینج میں تقریبا پانچ لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے ۔ایسے میں محض 3 ہزار کروڑ روپے اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں ہے۔ بھوپال گیس سانحے کے بعد بھی عوام کو اسی طرح بے یار و مددگار چھوڑ دیا دیا گیا تھا۔

 حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون بنانا اس لیے اہم ہے کہ ملک کو ایٹمی توانائی کی شدید ضرورت ہے فی الحال تقریبا نو گیگا واٹ توانائی بھارت خود بناتا ہے جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک اسے بڑھا کر سو گیگا واٹ کر دیا جائے۔ ملک میں ابھی بجلی کی کل ضرورت 476 گیگا واٹ ہے یعنی توانائی کے زمرے میں آج بھی ایٹمی توانائی دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ زیادہ تر بجلی کوئلے سے اور اس کے بعد پانی، سورج اور ہوا کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے ۔ایسے میں 2030 تک اسے پرائیویٹ غیر ملکی اداروں کے ذریعے سو میگا واٹ تک پہنچانا کس حد تک ممکن ہوگا یہ کہنا ابھی مشکل ہے، لیکن اگر ممکن ہو بھی گیا تب بھی کل توانائی کی ضرورت کا یہ 10 فیصد بھی نہیں ہوگا ۔کوئلے کی توانائی پر ہمارا نحصار کسی صورت کم ہونے والا نہیں ہے۔ جبکہ سورج، پانی اور ہوا کے ذریعے بجلی حاصل کرنے پر ملک میں ابھی تک زیادہ کام نہیں ہوا ہے ۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اتنی قیمتی توانائی حاصل کرنے کے لیے ملک کو 126 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی، کہا جاتا ہے کہ بدنام زمانہ  اڈانی گروپ اس میں سے 61 بلین ڈالر غیر ملکی شراکت داروں  کی مدد سے خرچ کرے گا جو زیادہ تر امریکی ہیں۔ جبکہ جندل اور ٹاٹا جیسی کمپنیاں بھی اپنے غیر ملکی دوستوں کے ذریعے یہ سرمایہ لگائیں گی۔

 

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم یہ سب صرف بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہی کر رہے ہیں ،  اس ایک ضرورت کی خاطر عوام کے بڑے طبقے کی زندگی کو معرض خطر میں ڈال رہے ہیں ،یا کوئی دیگر سیاسی عوامل بھی کار فرما ہیں۔ واضح رہے کہ ایشیائی خطے میں بھارت ہی امریکہ اور یورپ کا سب سے بڑا اتحادی ہے جغرافیائی طور پر اس کے ایک طرف چین اور روس جیسی بڑی امریکہ مخالف طاقتیں ہیں تو دوسری جانب پاکستان ،افغانستان، ایران، خلیجی و عرب ممالک اور ترکی جیسے مسلم ممالک ہیں۔ امریکی دفاعی ادارے پینٹانگن نے بہت عرصہ قبل بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ اسے اپنی داخلی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار بڑھانا چاہیے۔ 1990 کے بعد سے اس انحصار میں  اضافہ  ہوتا ہوا دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ ایسے میں ایشیا جیسے سب سے بڑے بر اعظم میں چین جیسی طاقتوں کے مد مقابل کھڑے ہو کر امریکی مفادات کا تحفظ کرنا بھارت کے لیے کتنا مفید ہو سکتا ہے، یہ سوال قابل غور ہے۔

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages